اے مرے شہر دل آویز
تیرے شریانوں میں بہتا ہے لہو کی صورت
آہنی لاریوں کا سیل ہجوم
اور نگاہوں میں ترے
سنگ خارا کا جہاں ہے آباد
اک طرف بحر عرب
جیسے درماندہ و افتادہ پڑا، اپنے صدیوں کے سفر سے بیزار
عارض سیمیں ہتھیلی پہ رکھے
مہر بہ لب چاند جھکا ہے اس پر
اس کی آنکھوں میں ابھرتا ہے سوالوں کا ہجوم
لب پہ دم توڑتی سرگوشیاں ہیں
سنگ و آہن کا جو یہ شہر ہے
اب اس میں کہیں
کوئی ہمزاد نظر آتا نہیں
دور تلک
شہر گویائی سے محروم ہوا
اور سمندر وہ جو ہمراز تھا بیزار بنا پھرتا ہے
اے مرے شہر دل آویز
کسی آسیب کا سایہ تجھ پر
یا گھٹی جاتی ہیں سانسیں تیری
کسی عفریت کے پنجوں میں دبی
یا کسی سامری کے سبز قدم
تیری دھرتی پہ پڑے
بس طلسمات کی زد سے باہر
ہسپتالوں کی عمارات
زندگی جن میں سسکتی ہر پل
کاش آجائے مسیحا کوئی
اے مرے شہر دل آویز
کیوں لب لعلیں مقفل تیرے
تیری پیشانی پہ جگمگ تھے ستارے کتنے
تیری پہچان تھے جو
تیرے ہی عارض تاباں کے حضور
ہاتھ میں کاسہ گدائی کا لیے
شاہ خاور کا جلال
منچلے دل کو ہتھیلی پہ لیے
شاہراہوں پہ ترے
تھے پری چہروں کی دھن میں رقصاں
اے مرے شہر دل آویز بتا
کیوں ترا حسن تری روح رواں
عہد رفتہ کے ہیں اوراق میں گم
کہیں ایسا تو نہیں ہےکہ مرے دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ اداسی کا زہر
تیرے شریانوں میں بھی پھیل گیا

