Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

سفر نامۂ بہرائچ – پروفیسر طاہر محمود

by adbimiras جولائی 4, 2021
by adbimiras جولائی 4, 2021 0 comment

شمالی ہندکا بہرائچ نامی تاریخی شہرریاست اترپردیش کے صدر مقام لکھنؤ سے تقریباً سواسو کلومیٹر دور ملک نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر سے یہ شہر میرے اسلاف پدری کا مسکن رہا ہے جب میرے پردادا سید ہادی حسن مرحوم و مغفورضلع رائے بریلی کے مردم خیزخطۂ جائس سے بہ سلسلۂ ملازمت وہاں جا بسے تھے۔ میرے دادا سیّد احمد حسن علیہ الرحمۃ اس شہر کے ایک نامور حکیم اور والد مرحوم جناب سید محمود حسن ضلع کے ایک ممتاز قانون داں اور ملّی رہنما تھے۔ میری والدہ محترمہ منور جہاں بیگم صوبائی حکومت میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز اور لکھنؤ میں رہائش پذیرخان بہادر سید احسان عظیم مرحوم کی بیٹی تھیں۔ انکے ایک ماموں مرادآباد کے مفتی محمد عطا مرحوم ضلع بہرائچ کی ریاست نانپارہ میں سرکاری افسر تھے اور میرے والدین انھیں کے توسط سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔ میری پیدائش لکھنؤ میں اپنے ننھیال میں ہوئی تھی اور میری عمر کا ایک غالب حصہ تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں بہرائچ سے دور دوسر ے متعدد شہروں میں گزرا ہے۔ بہرائچ میں میرا قیام تو بہت کم رہا مگر آنا جانا ہوتا رہا، اور اسی مناسبت سے میں نے اس مضمون کا عنوان سفرنامۂ بہرائچ رکھا ہے۔

۱۹۲۷ءمیں علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہوکر بہرائچ لوٹنے کے بعد میرے والد مرحوم محلّہ قاضی پورہ میں اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ ہی رہ رہے تھے۔   چند سال بعد انھوں نے آبائی گھر کے قریب ہی ایک بڑا پلاٹ خرید کے اس پر ایک وسیع و عریض رہائشی عمارت کی تعمیر شروع کروائی تھی۔ ۱۹۳۴ء میں انکی شادی کے بعد والدہ مرحومہ کے مشورے سے اسکے نقشے میں کافی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اگلے سال جب عمارت کسی قدر مکمّل ہوئی تو انھوں نے اسکی پیشانی پر قرآن مجید کی آیت کریمہ کُلّ مَن عَلیھا فانِ ویبقی وَجہِ رَبّکٰ ذُو الجَلالِ وَالِاکرامکا کتبہ لگوایا تھا ۔عہد طفولیت میں جب مجھے لکھنؤ سے بہرائچ لے جایا گیا تھا تب شہر میں بجلی کا نظام نہیں تھا اور اس کوٹھی میں بھی روشنی مٹی کے تیل کے لیمپ اور لالٹین وغیرہ سے ہوتی تھی، بجلی کے قمقمے میرے ہوش سنبھالنے کے کافی بعد روشن ہوئے تھے اور لکھنؤ سے بلوائے گئے ایک الکٹریشین کا وہیں سے لائے گئے سازوسامان سے گھر کی چھتوں اور دیواروں کو بجلی کے پنکھوں اور لیمپوں سے مزین کرنا مجھے ا چھی طرح یاد ہے۔ پانی کے نل اسکے بھی بعد لگے تھے ورنہ پہلے تو صحن مین لگے ہینڈ پمپ اور بہشتی صاحبان کے کنووں سے بڑی بڑی مشکوں میں بھر کر لائے ہوئے پانی سے ہی کام چلتا تھا۔

میری ابتدائی تعلیم والدین کی آغوش شفقت میں اسی کوٹھی میں ہوئی تھی اور اس میں اردو، فارسی، عربی، انگریزی، قرآن و حدیث اور اردو نثر و نظم سبھی کچھ شامل تھا۔ اسکے بعد میں نے شہر کے متعدد اداروں میں پڑھائی کی جسکی شروعات مسعودیہ جناح ہائی اسکول سے ہوئی تھی۔ یہ اسکول والد ماجد مرحوم نے جو اس وقت ضلع مسلم لیگ کے صدر تھے بعض معززین شہر کی اعانت سے ایک قلعے نما عمارت میں قائم کیا تھا اور مقامی روایت کے مطابق شہر میں واقع درگاہ سیّد سالار مسعود غازی کی نسبت سے اسکے نام میں لفظ ’’مسعودیہ‘‘ بھی شامل کیا تھا۔ جلد ہی ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعدمسلم لیگ کے سبھی ارکان گرفتار کر لئے گئے تھے اور یہ اسکول ایک عرصہ بند پڑا رہا تھا۔ بالآخرشہر کے نامور عالم دین مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؔ نے جنکا تعلق کانگریس پارٹی سے تھا اپنے سیاسی رسوخ کا استعمال کرکے اسے اپنی تحویل میں لیا تھا اور اسکا نام مولانا ابو الکلام آزاد کے نام پر آزاد کالج رکھا تھا۔ سابقہ اسکول کے طالبعلم نئے ادارے میںمنتقل ہو گئے اور انکی پڑھائی جامعہ مسعودیہ نور العلوم کی عمارت میں شروع ہوئی تھی جہاں سے میں نے بھی درجہ پنجم مکمل کیا۔ ایک عرصے بعد یہ ادارہ شہر کے مضافات میں واقع راجہ نانپارہ کی ایک کوٹھی میں منتقل ہو گیا تھا جہاں میں ڈیڑھ سال تک زیر تعلیم رہا۔ وہاں میرے خاص معلم مرزا حامد علی بیگ صاحب تھے جن کے ساتھ میں ادارے کے احاطے میں موجود مسجد میں پابندی سے ظہر کی نماز پڑھتا تھا، جبکہ جمعہ کے دن وہاں نماز سے پہلے چھٹی ہوجایا کرتی تھی۔  ۱۹۵۲ءمیں درجہششم کا امتحان میں نے آزادکالج سے ہی پاس کیا ۔

اگلے سال ساتویں کلاس کے وسط میں مجھے وہاں سے گورنمنٹ انٹر کالج میں شفٹ کردیا گیا جسکی عمارت شہر کے ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع تھی اور جہاں مدتوں پہلے خود والد مرحوم اور انکے سبھی بھائیوں نے دسویں تک کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہاں کے اس وقت کے پرنسپل مسٹر ایمرسن ینگ سے والد مرحوم کے اچھے مراسم تھے اس لئے وہ مجھ پر خاص شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ وہاںمیرے خاص اساتذہ میں ماسٹر سورج نرائن آرزوؔ تھے جو اردو کے اچھے شاعر تھے اور برسوں پہلے اسی ادارے میں والد مرحوم کے ہم جماعت رہ چکے تھے، دوسرے اردو کے استاد مولوی محمد حسن جو فیض آباد کے تھے ، اور تیسرے مولوی سیّد حامد حسین جو محلّہ سیّد واڑہ میں رہتے تھے اور فارسی پڑھاتے تھے۔ اس کالج سے متصل ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں میں مولوی محمد حسن صاحب کے ساتھ ظہر اور جمعے کی نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ مولوی حامد حسین صاحب بھی اگرچہ شیعہ مسلک کے تھے مگر اسی مسجد میں علیحدہ نماز پڑھتے تھے۔ مولانا محفوظ الرحمٰن مرحوم کے بھانجے مولوی جنید بنارسی جو مدرسے کے طالبعلم اور میرے قریبی دوست تھے مجھ سے ملنے گاہے بہ گاہے وہاں آیا کرتے تھے۔ کالج کے کئی اساتذہ مجھے گھر پر ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے۔ کیونکہ آزادی کے بعد ذریعۂ تعلیم اردو کے بجائے ہندی ہوچکا تھا اس لئے والد مرحوم نے اسی کالج میں اپنے سابق استاد پنڈت رام بھروسے ترپاٹھی جی کو بلاکرمجھے گھر پر ہندی اور سنسکرت پڑھانے کی زحمت دی تھی۔ جون ۱۹۵۳ءمیں جب میری والدہ کا اچانک انتقال ہوا تب میں نویں کلاس کا امتحان دے چکا تھا اور نتیجے کا انتظار تھا۔ انھیںکالج سے تھوڑا ساآگے اسٹیشن روڈ کے کنارے قدیمی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا اور میںان کی نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ میںکم عمری کے باوجود والد مرحوم کے ساتھ قدم بہ قدم شریک تھا۔ اس حادثۂ جانکاہ کے بعد گھر کا ماحول سوگوار رہنے کے باعث مجھے کالج کے ہوسٹل میں منتقل کردیا گیا تھا اور میں نے آئندہ سال ہائی اسکول کا امتحان وہیں رہ کر پاس کیا تھا۔(یہ بھی پڑھیں مجاہد جمہوریہ حکیم محمد سلیمان صدیقی – جنید احمد نور )

گیارھویں کلاس کی تعلیم کیلئے مجھے لکھنؤ کے کرسچین کالج بھیجا گیا تھا مگر وہاں کا ماحول راس نہ آنے پر سال کے بیچ ہی میں واپس بہرائچ بلالیا گیا تھا جہاں میں نے گیارھویں کی کلاسیں کچھ دن گورنمنٹ انٹر کالج اور بعد میں شہر کے دوسرے کونے میں واقع مہاراج سنگھ کالج میں اٹنڈ کی تھیں ۔ وہیں میری دوستی اپنے ہم جماعتوں ساغرؔ مہدی، اظہارؔ وارثی اور شاعرؔ جمالی مرحومین سے ہوئی تھی جو آگے چل کر اردو کے قادرالکلام شاعر بنے تھے اور جن سے میرے دوستانہ تعلقات تینوں کی زندگی بھر قائم رہے۔بہرائچ میں طالبعلمی کے زمانے میں میری تگ و دو بیحد محدود تھی، گھر سے اسکول اور واپس گھرعموماً پیدل آتے جاتے شہر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے اندر سے گزر ہوتا تھا۔ والد مرحوم علیٰ الصباح ہواخوری کیلئے جھینگا گھاٹ جایا کرتے تھے جس میں کبھی کبھی میں بھی انکے ساتھ ہوتا تھا۔ ہمارے گھر کے  ایک طرف جامع مسجد تھی اور دوسری طرف ایک چھوٹی سی مسجد فاطمہ، روزانہ فجر اور مغرب کی نمازوں کیلئے اس چھوٹی مسجد اور جمعے کی نماز کیلئے جامع مسجد جانا ہوتا تھا۔ کبھی کبھار والدبزرگوار کے ساتھ غازی میاں کی درگاہ سیّد سالار مسعود غازی جانا ہوتا تھا اگرچہ انھیں اس سے کوئی عقیدت نہیں تھی، اور مجھے تو بالکل ہی نہیں تھی۔ گورنمنٹ انٹر کالج کے سامنے ایک وسیع میدان تھا جہاں کبھی کبھی نمائش لگاکرتی تھی اور مشاعرے بھی منعقد ہوا کرتے تھے، وہاں بھی والد صاحب کے ساتھ ہی جانا ہوا کرتا تھا۔ مجھے خود شعروشاعری سے دلچسپیبچپن ہی سے تھی اور والدہ کے انتقال پر میں نے اپنی پہلی نظم کہی تھی۔ شہر کے معروف مزاح نگار شاعر سیّد ریاست حسین شوقؔ بہرائچی ایک عرصہ تک میرے والد کے محرر رہے تھے اور ایک خوش کلام اور مترنم شاعر محمد سعید خاں شفیقؔ بریلوی آزاد کالج کے پرنسپل تھے جبکہ والد مرحوم اس کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر تھے۔  ان دونوں بزرگوں کی صحبت نے میرے ادبی رجحان اور شاعرانہ ذوق کو بہت متاثر کیا تھا۔

گیارھویں کلاس کے بعد میں اپنے تایا مرحوم سیّد مرتضیٰ حسن صاحب کے ساتھ جونپور چلا گیا تھا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان میں نے وہیں سے پاس کیا تھا۔

اسکے آگے میری تعلیم گورکھپور اور لکھنئؤ میں ہوئی تھی۔ ۱۹۶۰ءمیں لکھنؤ یونیورسٹی سے وکالت کا امتحان پاس کرکے میں پھربہرائچ آیا تھا اور تقریباً ایک سال اس پیشے میں طبع آزمائی کی تھی۔ وکالت کی پیشہ ورانہ تربیت پہلے شہر کے ناموروکیل آنجہانی بسنت رائے بھنڈاری سے اور بعد میں والد ماجد سے حاصل کی تھی۔ان دنوں میں بھی میری آمد و رفت بس گھر اور کچہری  کے درمیان ہی رہتی تھی،ہاںتہواروں پروالد صاحب کے ساتھ کئی معزز وکلاء کے گھروں پر جانا رہتا تھا۔  لیکن میری دلچسپی وکالت سے کہیں زیادہ شعر و ادب میں تھی اور میںنے انھیں دنوں ایک مرکزی مسجد میں منعقدہ ایک بڑے نعتیہ مشاعرے کی نظامت کی تھی۔ ستمبر ۱۹۶۰ءمیں حضرت جگرؔمرادآبادی کے انتقال  کے موقعے پر میں نے سید واڑے میں واقع امام باڑے میں ’’شام جگر‘‘ کے نام سے ایک محفل منعقد کی تھی اور اسکی نظامت بھی خود ہی کی تھی۔

وکالت کا پیشہ میرے مزاج اور رجحان سے متصادم تھا اور  مجھے جلد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ میں اس میں زندگی نہیں گزار سکتا تھا۔ چنانچہ بہت سوچ بچار کے بعد قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرکے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا  ۔ دوسال بعد وہاں سے فراغت ہوئی اور پھرمعلمی کیلئے میرا قیام جونپور، بلرامپور، علی گڑھ اور دہلی میں رہا لیکن میںپابندی سے بہرائچ جاکر والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔۱۹۶۹ء میں قانون میں مزید تعلیم و تحقیق کیلئے لندن جانا ہوا تو اس درمیان یہ سلسلہ منقطع رہا مگر واپسی کے بعدپھر شروع ہوا۔ والد مرحوم کی زندگی میں آخری بار میں دسمبر ۱۹۷۳ءمیں بہرائچ گیا تھا۔ میرے بڑے بھائی مرحوم سید اختر محمود کی شادی کے سلسلے میں وہ لکھنؤ میں مقیم تھے اور میں بھی اہلیہ کے ساتھ اس میں شرکت کیلئے گیا تھا، وہیں سے وہ ہم دونوں کو اپنے ساتھ چند روز کیلئے بہرائچ لے گئے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں – جنید احمد نور )

دسمبر۱۹۷۵ءمیں والد صاحب نے فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد مکہ معظمہ میں انتقال فرمایا تو خبر پاکر میں دہلی سے بھاگم بھاگ بہرائچ پہونچا۔ اس حادثے کے بعد بہرائچ سے دل اچاٹ سا ہوگیا اور آنے والے برسوں میں میرا وہاں جانا کم ہی رہا ، بس خاندان کے بچوں کی شادیوں یا دیگر خصوصی مواقع پر مختصر قیام کیلئے جانا ہوتا تھا۔ دسمبر ۱۹۹۶ءمیں قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے بہرائچ کے سرکاری دورے کے دوران میں نے شہر کے متعدد اداروں میں منعقدہ تہنیتی جلسوں میں شرکت کی تھی ۔

۲۰۰۴ءکے بعد اب تک کے تقریباً۱۷  سالوں میں بعض ناخوشگوارحالات کی وجہ سے میں صرف دوبار بہرائچ گیا ہوں، اور دونوں بار صرف چند گھنٹوں کیلئے، ایک بارستمبر ۲۰۱۳ءمیں چھوٹے بھائی خالد محمود کی عیادت اور دوسر ی بار دسمبر۲۰۱۸ءمیں انکی تدفین میں شرکت کیلئے۔ اور اب اس سال اپریل میں میرے ایک اور چھوٹے بھائی راشد محمود کی اچانک وفات کے بعد تو بہرائچ میں میرے لئے کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے۔ اب تو وہاں سے ربط بس بعض مخلص اصحاب کے فون پر پیغامات کے ذریعے ہی رہتا ہے جن میں وہاں کے ایک نوجوان اسکالر میاں جنید احمد نور کا نام سر فہرست ہے جنھیں وہاں کی تاریخ اور مشاہیر کے حالات سے خاص دلچسپی ہے اور ان موضوعات پرتصنیف و تالیف کرتے رہتے ہیں۔

میرے بچپن میں بہرائچ ایک مختصر سا  پس ماندہ شہر تھا،اسکی وسعت اور ترقی دونوں میں تیزی سے اضافہ بعد کے سالوں میں ہوا ۔  لیکن میں نے اپنے وطن پدری کو نہ بچپن میں وہاں قیام کے زمانے میں پوری طرح دیکھا تھا اور نہ بعد میں وہاں کے مسافرانہ اسفار میں اسکی نوبت آئی۔ عقیدت اس شہر سے بہرحال ہمیشہ رہی جسکا اظہار وقتاً فوقتاً نثر و نظم میں ہوتا رہا۔ میں نے اپنی ایک نظم میںبچپن میں اپنے گھر کے ماحول کی تصویر کشی کی ہے اور دو نظموں میں وطن پدری کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان تینوں نظموں کے اقتباسات ذیل میں نقل کئے جا رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں  بادشاہِ طنز و ظرافت جناب شوقؔ بہرائچی – پروفیسر طاہرمحمود )

(۱)

  چلتی  پھرتی  مجسّم  دعا  یاد  ہے
گھر میں اک مرد درویش تھا یاد ہے
 
زندگی کے ترانوں میں شعرو ادب        بندگی کے تقاضوں میں غیض و غضب
غنچۂ  و گل کی  توقیر بھی ما  وجب   علم کی پیاس بجھتی تھی واں بے طلب
  چشم بینا کی فہم و ذکا یاد ہے  
علم و حکمت کی چھٹکی ہوئی چاندنی   فہم و دانش کی  بجتی ہوئی  راگنی

 

درد دل پند  و تادیب کی چاشنی   خفگیاں  ظاہری  شفقتیں باطنی

 

  تربیت کی انوکھی ادا یاد ہے  
دین و دل کی کہانی کہی جاتی تھی   گفتگو دوستانہ سی کی جاتی تھی
رائے چھوٹے بڑے سب کی لی جاتی تھی   حسب موقع جو کلیوں کو دی جاتی تھی
  وہ دعا یاد ہے وہ دوا یاد ہے  
سایۂ عاطفت میں تھیں کلیاں مگن   دین و دنیا بنانے کی ہر دم لگن
    جشن رمضان کا  عید کا  بانکپن   بیت بازی کی لے درس قرآں کا فن
  نور افشاں چمن کی فضا یاد ہے  
مشکلوں میں بھی ہنسنے ہنسانے کی دھن   کھیل ہی کھیل میں کچھ سکھانے کی دھن
سیّدہ فاطمہ کے ترانے کی دھن   لحن بانگ درا شاہنامے کی دھن
  گونجتی گھر میں حمد و ثنا یاد ہے  

 

(۲)

مری حیات کا ہر پل عطائے بہرائچ     مرے دکھوں کا مداوا دوائے بہرائچ
       اودھ کی شام بنارس کی صبح ہو صدقے   کہ اک جہاں سے جدا ہے ادائے بہرائچ
       قدوم  سیّد سالار  کا  خزینہ ہے   ہے نور حق سے منوّر فضائے بہرائچ
ہے علم و فن کی روایات کا امیں یہ شہر   ادب نواز ہے یارو ہوائے بہرائچ
     یہ شہر الفت باہم کا درس دیتا ہے   مروّتوں کے سبق بھی سکھائے بہرائچ
حیات بخش فضایں ہوایں پاکیزہ   ہے پاس وضع کا گڑھ آبنائے بہرائچ
میں راجدھانی میں رہ کر یہیں تو سوتا ہوں   ہے روز لوری سناتی نوائے بہرائچ

 

(۳)

علم کا خزینہ ہے سرزمین بہرائچ
 فضل کا نگینہ ہے سرزمین بہرائچ
حسن ساری دنیا کا اس کے حسن پر قرباں
ایسا آبگینہ ہے سرزمین بہرائچ
جس نے بھی اسے دیکھا ہوگیا فدا اس پر
دلربا حسینہ ہے سرزمین بہرائچ
صورتیں یہاں کیا کیا خاک میں ہیں خوابیدہ
   علم کا دفینہ ہے سرزمین بہرائچ
علم کے سمندر میں خوشہ چینی کرنے کو
 گویا ایک سفینہ ہے سرزمین بہرائچ
کسب علم کے جذبے آکے یاں نکھرتے ہیں
بام فن کا زینہ ہے سرزمین بہرائچ
زندگی نبھانے کے گر بھی یہ سکھاتی ہے
   جینے کا قرینہ ہے سرزمین بہرائچ
بہرائچطاہر محمود
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ممبئی کے نام – ڈاکٹر قمر جہاں
اگلی پوسٹ
بے حسی یا کہ ہے آگہی – پروفیسر غضنفر

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں