by adbimiras
0 comment
 نقوش معنی / پروفیسر خالد محمود – رضـــــوان الدین فاروقی
پروفیسر خالد محمود ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ خوش شکل، خوش فکر، شریف النفس منکسر المزاج، وضع دار،روا دار، وسیع القلب،نہایت مخلص اور خلیق، تہذیب و تمدن سے بھرپور، ماہر تعلیم، بہترین ناقد، عمدہ محقق، باصلاحیت شائستہ معلم اور کہنہ مشق شاعر جیسی مجموعی صفات کو یکجا کردیا جائے تو خالد محمود کا پیکر بنتا ہے۔ خالد محمود کو کسی ایک ادبی خانے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا ہے کہ ان کی زنبیل ِ لفظ و معنی میں شگفتہ نثر نگاری کا خزانہ بھی ہے، تحقیق و تنقید کے جواہر بھی ہیں اور شعر و سخن کا خوش رنگ اثاثہ بھی۔دراصل ان کی شخصیت میں جو بانک پن اور فطرت میں جو شوخی ہے وہی ان کے قلم کی گویا شناخت بھی ہے۔ ان کی شگفتہ مزاجی اور شگفتہ بیانی کا ایک زمانہ قائل ہے۔
ڈاکٹرخالد محمود کی تحریریں جن میں ان کے تنقیدی مضامین بھی شامل ہیں، زبان کے تخلیقی استعمال پر ان کی قدرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ خالد محمود کے خاکوں،انشائیوں اور تنقیدی مضامین میں خاص طور پر خیال افروز تراکیب و تماثیل کا خلاقانہ استعمال دیکھنے کو ملتا ہے، لفظوں کے انتخاب، مناسبتوں کے اہتمام، استعاراتی نظام کی ترکیب میں انھوں نے قابل توجہ فنکارانہ شعور کا ثبوت فراہم کیا ہے۔اس وقت میرے پیش نظر ان کی تازہ کتاب”نقوش معنی“ ہے۔ واضح رہے کہ یہ ان کی ستائیسویں کتاب ہے اس سے پہلے ان کی چھپیں کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ پیش نظر کتاب میں دس مضامین فن و شخصیت کے حوالے سے روشن ہیں جن کا ایک اجمالی تعارف پیش کرنے کی میں سعادت حاصل کررہا ہوں۔متذکرہ مجموعے میں ڈاکٹر خالد محمود نے جو خاکے، انشائیے اور مضامین لکھے ہیں ان میں برجستگی، بے ساختگی، شوخی اور ممدوح کے تئیں بے پناہیت کاایک سیلِ پناہ نظر آتا ہے۔ مثلاً رشید احمد صدیقی کے خاکے میں وہ لکھتے ہیں کہ:
”مجھے اس بات کا اندازہ بہت بعد میں ہوا کہ رشید صاحب کا طنز و مزاح بالغوں سے زیادہ بالغ نظروں کے لیے ہے اور ان کے مخاطب صحیح ادب کا بالیدہ مذاق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ جس کا جتنا وسیع مطالعہ ہوگا وہ اسی مناسبت سے فیض یاب ہوسکتا ہے۔ ان کے اسلوب کا اشاراتی نظام ہر ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ ان کے انداز بیان میں کچھ ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ سید حامد صاحب نے اسے پرفریب سادگی سے تعبیر کیا ہے۔ وہ الفاظ میں اسراف بے جا کے قائل نہ تھے۔ ایجاز و اختصار ان کا ترجیحی انداز بیان ہے۔ جس طرح بعض حضرات ہاتھ روک کر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ قلم روک کر الفاظ خرچ کرتے تھے کہیں کہیں بخیل ہوجاتے۔ چوں کہ چنانچہ اگر مگر اور حالاں کہ جیسی لفظی بیساکھیوں کا ان کے یہاں بہت کم استعمال ہوا ہے۔ جملوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے یہ الفاظ وہیں کام میں لاتے جہاں مفہوم خبط ہونے کا اندیشہ لاحق ہوتا وہ ایک ہی جملے میں بڑی سے بڑی شخصیت کا جامع اور بھرپور تعارف کرا دیتے۔ مولانا آزا د کے تعارف میں یہ جملہ ”مولانا عزلت پسند، دیر آشنا اور کم آمیز تھے۔“ اس خوبی کی بہترین مثال ہے۔“
اسی طرح کتاب کا دوسرا مضمون ”حکیم ظل الرحمن اور بھوپال کاعلمی و ادبی کارواں“ کے عنوان سے ہے جس میں انھوں نے جہاں حکیم صاحب کی تازہ تصنیف پر بلیغ تبصرہ کیا ہے وہیں پروفیسر حکیم ظل الرحمن پر دلچسپ خاکہ بھی تحریر کیا ہے۔ اس خاکے میں وہ اپنے مخصوص انداز میں حکیم صاحب جیسی نستعلیق شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں:
”حکیم صاحب بہر آئینہ عدیم النظیر ہیں۔ شخصی اعتبار سے مرنجاں مرنج اور نستعلیق ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خلیق، ملنسار، کشادہ ذہن، شگفتہ فطرت، وسیع القلب، حکیم الطبع، حق پسند، متواضع، مہذب اور شائستہ انسان ہیں۔ یہ تما خوبیاں بہت کم افراد میں یکجا ہوتی ہیں، جو ان سے ملتا ہے خوشی محسوس کرتا ہے۔ حسن سیرت کی ان صفاتِ عالیہ کے شانہ بہ شانہ موصوف صاحبِ حسن و جمال بھی ہیں۔میانہ قد (نہ نکلا ہوا، نہ دبتا ہوا) دلکش خال و خد، خالص سونے جیسا چمکدار بے ریش گول چہرہ، چہرے سے ہم طرح بینی، حق نیوش گوش، ریشم جیسے بال جن پر سپیدہئ سحر کی چاندنی جیسی نمود، سنہری چشمے سے جھانکتی ہوئی ذہین آنکھیں، شگفتہ پیشانی، تبسم شعار ہونٹ، متناسب الاعضا بدن، آواز میں گونج، ہنسی میں بے ساختگی، لہجے میں ہلکی سی موسوی لکنت جو روانی کو مہمیز کرتی ہے اور گفتگو کو شادابی بخشتی ہے۔ خوش لباسی اور جامہ زیبی میں یکتا۔ عموماً چست پاجامہ اور ہلکے رنگ کی شیروانی زیب کرتے ہیں جو ان پر خوب سجتی ہے۔ بہ طریق طبقہء اشرافیہ گلے تک بٹن لگاتے ہیں۔موسم سرما میں گہرے رنگ کی شیروانی پہنتے ہیں۔ تاہم اس شیروانی کی بات ہی او ر ہے جس کا رنگ خود ان کے رنگ میں اس طرح سے جذب ہوجائے کہ کسی کے ذہن میں دوئی کا خیال تک نہ آئے ؎
تا کس نہ گوید بعد اذاں من دیگرم تو دیگری
اس سج دھج کے ساتھ کسی محفل میں قدم رنجہ فرماتے ہیں تو مرکز قلب و نظر بن جاتے ہیں۔
اسی طرح حکیم صاحب کے مزاج کی نفاست کو بیان کرنے کے لیے انھوں نے یہ انداز اختیار کیا ہے:
حکیم صاحب کی عمر عزیز ٨٠سے کسی طور پر کم نہ ہوگی۔ اس عمر میں ان کی صحت لائق رشک و حسد ہے۔ وہ اپنی صحت کے معاملے میں کبھی کوئی سمجھوتہ یا مروت نہیں کرتے۔ ان کے مزاج میں بڑی نفاست ہے۔ خاص طور پر خورد و نوش کے معاملات میں طبی تقاضوں کی تکمیل کے دوران احتیاط کی روش کو انھوں نے انتہائے کمال تک پہنچا دیا ہے۔ مثلاً ماسک اور دستانوں کا چلن کرونا وائرس کے زیر اثر دنیا میں اب عام ہوا ہے۔ حکیم صاحب عرصۂ دراز سے اس کے پابند ہیں۔ہمیشہ سے خیالی ماسک اور تصوراتی دستانے استعمال کرتے آرہے ہیں تاکہ ہر قبیل اور ہر قبیلے کے جراثیم زدگان کے اثر سے محفوظ و مامون رہ سکیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے گھر سے باہر کبھی کہیں کچھ کھاتے پیتے نہیں دیکھے گئے۔مجھے اس شدت ِ احتیاط کا اندازہ نہیں تھا۔ چنانچہ ایک دو مرتبہ جب غریب خانے پر تشریف لائے اور اپنی عادت کے مطابق اکل و شرب کے نصاب میں شامل کسی شئے کو شرف قبولیت نہیں بخشا اور میرے اصرار کے سارے داؤ پیچ رائگاں ہوگئے تو مجھے تشویش ہوئی کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو قہر درویش برجان درویش کے مصداق صبر کا دامن تھاما، مگر تواضع کا موروثی شوق مجروح ہوکر رہ گیا۔
نقوش معنی میں ایک اہم مضمون اردو طنز ومزاح کے حوالے سے بھی موجود ہے جس میں انھوں نے طنزو مزاح کے پس منظر میں مرزا عظیم بیگ چغتائی کی فکری کاوشوں کا جائزہ لیا ہے۔ اپنے اس مضمون میں انھوں نے طنزو مزاح کی روایت کا احاطہ کرتے ہوئے ان تما م مباحث کو اٹھایا ہے جس کے سلسلے جعفر زٹلی، اودھ پنچ، نظیر اکبر آبادی، غالبؔ اور اکبر الہ آبادی سے لے کر مرزا عظیم بیگ چغتائی تک جاتے ہیں۔
پروفیسر خالد محمود نے یہی نہیں کہ اپنے ہم عصروں کے ہی فکر وفن کو الفاظ میں سمیٹا ہے بلکہ اردو زبان و ادب کے قدیم کلاسیکی شعراء بھی ان کے زیر قلم آئے ہیں اور یہاں بھی حق تو یہ ہے کہ انھوں نے انشا پردازی کا حق ادا کردیا ہے۔چنانچہ ولی ؔدکنی کے باب میں رقمطراز ہیں:
ولیؔ کے فن کی ندرت اور لطافت، ان کے لہجے کی رنگینی اور شیفتگی اور داخلی اور خارجی خصوصیات کی عملی شناخت بہت ضروری ہے کیونکہ یہی وہ کمالات ہیں جنھوں نے ولی کو ”جہانِ سخن کے بیچ“ ولی بنایا ہے اور جن کی وجہ سے صاحبانِ تحقیق ولی کی پیدایش اور وفات کی تواریخ کے تعین اور ان کی شاعری کے محرکات پر صفحے کے صفحے سیاہ کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ تاہم ولی نے اپنی شاعری میں لفظی اور معنوی صناعی کا جیسا حیرت انگیز، بے ساختہ برجستہ اور بھرپور استعمال کیا ہے۔ ولی کے اس اہم پہلو کی جانب ناقدین ولی نے اشعاروں پر اکتفا کیا ہے۔ اسی خیال کے پیشِ نظر میں نے بدیع و بیان بالخصوص ولی کی تشبیہات کو ان کے فکر وفن کی روشنی میں سمجھنے کی ایک طالب علمانہ کوشش کی ہے۔ ولی نے اپنی شاعری میں تمام صنعتوں کا خوب استعمال کیا ہے اور ہر صنعت کو خوش اسلوبی اور خوش سلیقگی سے نبھایا ہے۔ ایہام، حسنِ تعلیل، تضاد، استعارہ، تلمیح، تجاہل عارفانہ اور مراعات النظیر ہر صنعت کی ولی کے کلام میں اپنی الگ بہار ہے۔
’نقوش معنی‘کا پانچواں مضمون شاہ مبارک آبرو اور ان کا رنگ سخن کے نام سے ہے۔شاہ مبارک آبرو پر ڈاکٹر خالد محمود کا مونوگراف بھی دہلی اردو اکادمی نے شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے شاہ مبارک آبرو کے احوال و آثار اور ان کے رنگ سخن پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
چھٹا مضمون اردو فارسی کے قادرالکلام شاعر، بلند پایہ مورخ، باریک بیں نقاد، صاحب طرز تذکرہ نویس اور عربی زبان کے عالم عبد الغفور نساخ اور ان کی ”خود نوشت سوانح حیاتِ نسّاخ“ کے حوالے سے ہے۔ جس میں انھوں نے باریک بینی سے نساخ کی خودنوشت سوانح حیات کا جائزہ لیا ہے۔ساتواں مضمون اقبال کی نظم ”مکالمہئ جبریل و ابلیس“ کا تجزیاتی مطالعہ ہے۔
آٹھواں مضمون فراق کی رباعیاں (”روپ“ کے حوالے سے) بھی شامل کتاب ہے۔ جس میں انھوں نے فراق گورکھپوری کی جمالیاتی رباعیات پر پرمغز گفتگو کی ہے۔ نواں مضمون ”فیض کی غزلوں میں طنزیہ عناصر“ کے عنوان سے ہے جس میں انھوں نے فیض کی طنزیہ شاعری کا جائزہ لیا ہے۔
دسواں اور آخری مضمون ”میری حیات مستعار میں درس و تدریس کے رنگ“ عنوان سے ہے جس میں انھوں نے اپنی چالیس سالہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ یادوں کو سمیٹاہے۔ اس معزز پیشے سے ان کی عقیدت قابلِ دید ہے۔ انھوں نے اس پیشے سے روایتی طور پر پیسہ کمانے کو کبھی اپنا مقصد نہیں بنایا بلکہ بطور خدمت اسے انجام دیا۔ خدمت سے عظمت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان خدمات کے صلہ میں جامعہ ملیہ جیسے ملک کے مایہء ناز اور مقتدر ادارے کے شعبہءِ اردو کی صدارت بھی عطا کی۔اپنی اس کتاب میں تدریس کے مقدس پیشے کے متعلق وہ رقمطراز ہیں:
”تدریس، میرے نزدیک نہایت پاکیزہ، شریفانہ اور شا ہانہ عمل ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کی عمل آوری میں مطلوبہ شرائط کو ملحوظ رکھا جائے۔ تدریس کا مقصد طالب علم کو محض مختلف علوم سے متعارف کرانا یا صرف معلومات فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ محبت کی راہ سے اس کے دل و دماغ تک پہنچنا ہے۔ تدریس کا مرکزی کردار استاد ہوتاہے اس لیے ایک اچھے استاد میں بہت سی خوبیاں تلاش کی جاتی ہیں۔استاد اردو کا ہو تو اس کی ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اردو کے اچھے استاد کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنی زبان سے اگر محبت نہیں تو کم از کم دلچسپی ضرور ہونی تاکہ وہ پڑھنے پڑھانے میں اکتاہٹ، مایوسی، بد دلی یا احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔
بہرحال ڈھائی سو صفحات پر مشتمل’نقوش معنی‘ کا مطالعہ جہاں اہلِ ذوق اور اہلِ ادب کو فرحت بخشتا ہے وہیں طالب علموں کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ ہے۔

 

(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment