اردو افسانے میں مہملیت/ڈاکٹر ابو بکر رضوی – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اردو میں افسانوی ادب نے کئی پڑاؤ دیکھے۔پہلا پڑاؤ ترقی پسندوں کا تھا جس میں عوامی جذبات و احساسات اور مسائل زندگی کو افسانوں کا موضوع بنایا گیا،اور یہ سلسلہ تقریباً بیسویں صدی کے نصف تک چلتا رہا مگر اس کے معاًبعد افسانوی ادب کا دوسرا پڑائو آیا جسے جدیدیت کا پڑائو کہہ سکتے ہیں ۔اس پڑاؤ میں افسانوی ادب خواب و خیال کی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا۔اس میں افسانے کی ہیئت بدل گئی،موضوعات بدل گئے ،تکنیک اور اسلوب میں تبدیلیاں رونما ہوئیں، کہانی سے کہانی پن ختم ہوگیا،مبہم علامتوں اور استعاروں کے پردے میں تیار کی گئی کہانی علامتوں اور استعاروں کے پردے میں دب کر رہ گئی۔قاری کو متاثر کرنے کے بجائے اس کو اس سے متنفر کر دیا۔ چنانچہ اس پڑائو میں جو افسانے خلق کئے گئے اس نے اپنا رشتہ قاری سے استوار کرنے کے بجائے اس سے منقطع کر لیا۔افہام و تفہیم کا مسئلہ در پیش ہوا یہی وجہ ہے کہ اس دور کو مہملیت،لایعنیت،لغویت، وجودیت یا جدیدیت سے تعبیر کرتے ہیں۔لیکن افسانوی ادب کا تیسرا پڑاؤ مابعد جدیدیت کا ہے جو تا حال جاری ہے۔ دوسرے پڑاؤ کے بر عکس اس میں وہ تمام فنی و فکری لوازمات عود کر آئے افسانوی ادب جن کا تقاضہ کرتی ہے۔ڈاکٹر ابو بکر رضوی کی حالیہ کتاب ’’اردو افسانے میں مہملیت‘‘افسانوی ادب کے دوسرے پڑاؤ یعنی جدیدیت کے زیر اثر پروان چڑھنے والی تحریروں میں مہملیت کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے مشرق و مغرب کے جدید افسانوں کے مابین رشتے قائم کرنے اور ان کے مزاج کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔
زیر نظر کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے باب میں مہملیت یا بے معنویت کی مختلف انگریزی اور اردو لغات کے حوالے سے تعریف متعین کرتے ہوئے اس کے ممکنہ پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے۔نیز مہملیت یا بے معنویت کی اصطلاح پر غور و فکر کرنے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ مہمل یا لغو سے مراد عقلیت یا دانش کے خلاف ہے۔در اصل مہمل یا لغو کہتے ہی اس کو ہیں جسے کسی قاعدے یا کلیے کا پابند نہیں بنایا جا سکے،یہ بات درست بھی ہے کیونکہ مہمل کا متضاد لفظ موضوع ہے اور موضوع اس تحریر ،گفتگو یا کلام کو کہتے ہیںجس سے بات واضح طور پر کھل کر قاری،سامع ،یا مخاطب کے سامنے آجائے ،اس کے تفہیم میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ مہمل ہوگا۔ چونکہ جدیدیت کے تحت جو تخلیقات وجود میں آئیںان میں افہام و تفہیم کا مسئلہ در پیش ہوا جس کی وجہ سے اسے مہملیت سے تعبیر کیا گیا چنانچہ مصنف کے لفظوں میں مہملیت در اصل ایک ادبی اصطلاح ہے جس کی رو سے وجودیت پسند مفکرین یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ زندگی ،یہ دنیا دونوں ہی لغو اور مہمل ہے،اس لئے کہ دنیا کی تمام چیزوں کے درمیا ن جو با ہمی رشتہ ہے اس کو فانی ذہن سے یعنی انسان نہیں سمجھ سکتا ۔ان کے مطابق انسانی عقل و دانش کے لئے حقیقت لغو اور مہمل ہے اس لئے کہ عقل حقیقت کی ابتدا اور انتہا کا سراغ نہیں لگا سکتی وغیرہ۔اس طرح مصنف نے دنیا اور زندگی کا فلسفہ پیش کر کے اسے مہملیت سے تعبیر کیا ہے۔نیز اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ اس فلسفے کا بانی اور شارح کون تھا؟ اس فلسفے کی اصطلاح سب سے پہلے کس نے رائج کی؟اس سلسلے میں مصنف کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
’’گو کہ کامیو اس فلسفے کا بانی اور شارح ہے لیکن جہاں تک تخلیقی ادب میں اس فلسفیانہ اصطلاح ’مہملیت یا بے معنویت‘ ( Absurdity) کو مشتمل کرنے کا سوال ہے تو یہ سہرا مارٹن ایسلن(Martin Esslin) کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی کتاب The Theatre of The Absurd (1961) کے ذریعہ مغربی ادب میں اس اصطلاح خاص کو مقبول عام کیا اور دیکھتے دیکھتے دنیائے ادب میں ’مہملیت‘ کی یہ اصطلاح کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ۔‘‘ص 17؎
اس طرح مصنف نے مغربی مفکرین کے حوالے سے افسانوں میں مہملیت کے رجحان کی نشاندہی کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ مہملیت کی ابتدا انسانی وجود کے دکھ درد، خوف و پریشانی، تنہائی، مایوسی و ناامیدی، کسمپر سی و بے چارگی کے احساس سے ہوتا ہے ۔اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ اس میں قنوطیت ملتی ہے۔مہملیت واضح اشارہ کرتی ہے کہ یہ دنیا لغو اور مہمل ہے،مستقبل لا معلوم ہے اور انتخاب ی آزادی بھی محدود ہے،انسان بے بس اور مجبور ہے یہی بے بسی اور مجبوری انسان کو خود بخود زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرا دیتی ہے۔اس طرح فلسفہ مہملیت ایک جدید روحانی تجربے کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے جسے ایسلن نےZenbuddismکے مماثل قرار دیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شموئل احمد کا ناول چمرا سر- وسیم احمد فدا )
اس کتاب کے دوسرے باب میں مغربی ادب کے نمائندہ فنکاروں میں سے آندرے مالراکس،امریکی افسانہ نگار آرنیسٹ ہمنگوے،فلسفہ مہملیت کے بانی اور شارح البیر کامو،فرانسیسی ناول نگار اور ڈرامہ نویس ژال پال سارتر،ادبی دنیا میں اسلوب وہیئت کے تجربے اور فکشن کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے والے جیمس جوائس،جرمن فکشن نگارفرینز کافکا،فرانسیسی افسانہ نگار و فلسفی سیمویل بیکٹ،اور پیرس کے جین جینے کی تخلیقات کی روشنی میں فلسفئہ مہملیت پر اجمالی گفتگو کرتے ہوئے اپنے موضوع سے متعلق نشاندہی کی ہے اور انھیں ادیبوں کا ذکر کیا گیاہے جن کے یہاں فلسفہ مہملیت کسی نہ کسی سطح پر پایا جاتا ہے۔جبکہ اس کتاب کے تیسرے باب میں 1960کے بعد اردو افسانوں میں مہملیت کے رجحان کی نشاندہی ان افسانہ نگاروں کے افسانوں کی روشنی میں کی گئی ہے جن کے یہاں مہملیت کا رجحان پایا گیا ہے۔مصنف نے زندگی کی بے معنویت یا مہملیت کے رجحان کی نشاندہی اردو کے اولین افسانہ نگار تصور کئے جانے والے پریم چند کے مشہور و مقبول افسانہ ’کفن‘میں کی ہے اور اسے ایک نئے ڈائمنشن میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔اس کے علاوہ اردو کے جن افسانہ نگاروں کے افسانوں میں بے معنویت یا مہملیت کا رجحان غالب ہے ان میں قرۃ العین حیدر،انتظار حسین،غیاث احمد گدی، سریندر پرکاش ، بلراج مینرا، کلام حیدری،جوگیندر پال، رشید امجد، کمار پاشے،خالدہ حسین،احمد یوسف،قمر احسن،اقبال مجید،شرون کمار ورما،شوکت حیات اور حسین الحق وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان کے متعدد افسانوں کی روشنی میں مذکورہ رضحان کے تلاش کی سعی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ چوتھے باب میںاردو افسانہ نگاروں پر مغربی فکر کے اثرات کس حد تک پائے جاتے ہیں اس کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو افسانہ چونکہ مغربی ادب کے بطن سے پیدا ہوالہذا فطری طور پر مغربی افکار کے نقوش اس کے خد و کال پر نمایاں رہے ہیں یہ اور بات ہے کہ ہمارے یہاں بعض مغربی اثرات پوری شدت کے ساتھ ابھر کر آئے اور بعض زیریں لہروں کے ساتھ۔بہر کیف اس میں مصنف نے مغربی افکار و نظریات کیا تھے؟کون سے افکارو نظریات کس تحریک کے تحت وجود میں آرہے تھے اور ان سب کا اثر اردو کے افسانہ نگاروں پر کس طرح ہو رہا تھا۔ان سب کا تفصیلی طور پر احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے،اور پانچویں باب میں ’محاکمے‘کے تحت اردو افسانے میں مہملیت کے رجحان کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ رجحان مغرب میں قصہ پارینہ بن چکا ہے،لیکن اس نظریے کا تعلق چونکہ زندگی اور اس کی بے معنویت سے ہے لہذا مغربی ادب ہو یا مشرقی کسی نہ کسی شکل ، کسی نہ کسی فارم میں ہر عہد میں اس کا اظہار ہوتا رہے گا کیونکہ ’حیات اورموت‘ ساری کہانیاں تو انھیں کے درمیان ہیں۔بلاشبہ یہ کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے جس کا سر ورق موضوع سے مطابقت رکھتا ہے۔اس میں املے اور پروف ریڈنگ کی غلطیاں نہ کے برابر ہیں۔طباعت اور بائنڈنگ بہتر ہے اور 150روپئے قیمت بھی مناسب ہے۔امید قوی ہے کہ باذوق قارئین کے حلقے میں اسے قبولیت حاصل ہوگی۔
(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

