پیدائش۔9 مارچ 1951۔۔وفات۔22 جولائی2020
نصرت ظہیر صاحب سے پہلی ملاقات 12 دسمبر2011 کو ہوئی تھی۔یہی وہ دن تھا جب میں نے قومی اردو کونسل میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر جوائن کیا تھا۔میں جب جوائننگ کی کارروائیوں سے فارغ ہوا تو مجھے کونسل میں پہلے سے کام کر رہیں محترمہ آبگینہ صاحبہ ایڈیٹوریل سیکشن میں لے کر گئیں اور وہاں کام کرنے والے سبھی لوگوں سے میرا تعارف کرایا۔میں نے نصرت صاحب کا نام تو پہلے سے سن رکھا تھا لیکن ملاقات پہلی دفعہ قومی اردو کونسل میں ہی ہوئی۔وہ مدیر کے چیمبر میں بڑی سی کرسی پر بیٹھے اپنے کام میں منہمک تھے۔میرے بارے میں سنتے ہی کرسی سے کھڑے ہوئے اور مجھے خوش آمدید کہا اور یہ بھی بولے کہ آپ تو بہت کم عمر کے لگتے ہیں۔ پہلے کیا کام کیا ہے اور اس فیلڈ میں آپ کا کتنا تجربہ ہے۔ میں نے مختصرا انھیں اپنے بارے میں بتایا کہ ابھی تک کہاں کہاں کام کیا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو کا سن کر وہ چونکے،کیوں کہ وہ بھی وہاں جایا کرتے تھے۔ بولے کہ اوہ اچھا اچھا آپ کے بارے میں مجھے سلیم اخترصاحب نے بھی(آل انڈیا ریڈیو اردو نیوژ کے اس وقت انچارج)بتایا تھا کہ وہاں کیزوئل نیوژ ریڈر کا جو نیا پینل بنا تھا اس میں آپ بھی شامل ہیں۔چلیں ! اچھا ہے اب یہاں آپ کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا، ابھی آپ کی عمر کم ہے تو آپ مزید ترقی کریں گے۔اس دن انھوں نے مجھے کوئی خاص کام نہیں کرنے دیا۔ دوسرے دن فکر وتحقیق کا کچھ مواد مجھے دیا گیا کہ اس کی ایڈیٹنگ کردیں اور پروف بھی دیکھ لیں۔ میں نے اپنے طور پر اسے کر کے ان کے حوالے کیا۔ میرا کام دیکھ کر وہ بولے کہ آپ کو اردو مناسب حد تک آتی ہے۔تھوڑا مشق کی ضرورت ہے۔اس طرح ان کے ساتھ کام کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک روز انھوں نے مجھے کہا کپل سبل کی انگریزی تقریر کا ترجمہ کرنا ہے۔میں نے انھیں جلدی ہی کر کے دے دیا، ترجمہ دیکھ کر وہ بولے کہ ترجمے کے میدان میں آپ بہتر کام کرسکتے ہیں، میں نے کہا کہ جناب یہ سب میں نے آل انڈیا ریڈیو اور پی آئی بی میں کام کرتے ہوئے سیکھا ہے۔ اسی طرح مجھے اردو دنیا کے کسی شمارے کے لیے مخدوم پر مضمون لکھنا تھا، میں نے دو دنوں میں ہی لکھ کر ان کے حوالے کردیا۔ مضمون پڑھ کر ان کاجو جملہ تھا وہ میں من و عن یہاں لکھ رہا ہوں۔’’ آپ اپنے ہم عصروں میں سب سے اچھی اردو لکھتے ہیں‘‘۔ اس جملے نے میرا پاؤ بھر خون تو ضروربڑھا دیا ہوگا،(ویسے پہلے سے بھی پاؤ بھر ہی ہوگا)۔اس طرح کی حوصلہ افزا باتیں وہ سبھی سے کرتے رہتے تھے۔ مزاج میں تھوڑی ترشی تو تھی، چھوٹی سی بات پر غصہ ہوجانا اور پھر مان جانا۔ کبھی اپنی انا کو درمیان میں نہ لانا۔نصرت صاحب بڑے ہی صاف دل انسان تھے۔ دل میں کوئی بات ہے وہ ان کے چہرے سے جھلک جاتی تھی۔ان کا موڈ اگر خراب ہے تو وہ دفتر میں آتے ہی ہمارے کئی ساتھیوں سے سخت لہجے میں کوئی کام کرنے کو کہتے۔ جس سے ہم سب کو معلوم ہوجاتا کہ آج کچھ ٹینشن میں ہیں۔ ہم آپس میں بات کرتے کہ آج ان سے کم گفتگو کی جائے۔لیکن کچھ دیر بعد وہ خود کہتے کہ عبدالحی صاحب چائے منگواؤ یار۔پھر میرا جواب ہوتا کہ سب خیریت تو ہے، تب وہ بتاتے کہ ارے کیا بتائیں، آج کالم بھیجنا تھا اور ابھی ابھی بہت مشکل سے پورا کیا ہے۔پھر ہم سب کو پتہ چلتا کہ اوہ تو یہ کالم کی ٹینشن تھی۔ہمارے دفتر میں میرے جوائن کرنے کے شاید دو برسوں کے بعد ایک اور باغ و بہار شخصیت ڈاکٹر شاہد اختر صاحب کی بھی آمد ہوئی۔ وہ بھی عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے لیکن ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ دوستوں جیسے تھے، ان کے آنے کے بعد سے نصرت صاحب بھی بہت خوش ہوئے، کیوں کہ ان کا بہت سارا کام شاہد صاحب میں تقسیم ہوگیا اور ان دونوں کی بھی آپس میں گاڑھی چھننے لگی۔دفتر کا ماحول کبھی کبھی کام کی وجہ سے تو کبھی نصرت صاحب کا موڈ خراب ہونے سے تھوڑا کشیدہ ہو بھی جاتا تو شاہد صاحب انھیں کہتے کہ کیا ہوا ہے آپ کچھ رنجیدہ ہیں آج؟ چائے منگائی جائے کیا۔ یہ سنتے ہی نصرت صاحب کہتے کہ ہاں یار چائے منگواؤ اور آؤ ادھر بیٹھو، پھر وہ اپنے گھر کی باتیں یا طبیعت کی خرابی یا جو بھی بات ہوتی وہ سب شیئر کرتے۔اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے بہت دنوں تک پریشان رہے، پھر جب رشتہ ہوگیا تو مٹھائی کا پیکٹ لے کر دفتر آئے اور سب کو مٹھائی کھلائی، ساتھ ہی شادی میں شریک ہونے کا سب سے وعدہ لیا۔وہ بڑے مہمان نواز شخص تھے۔ ہم سب کو گاہے بگاہے ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوتا رہتا تھا۔ میں اور شاہد اختر صاحب ان کے زیادہ قریب تھے اور ان کے گھر جاتے رہتے تھے۔گھر میں وہ اور ان کی بیگم دونوں ہمیں اپنے گھر کا فرد تصور کرتیں اور قسم قسم کی چیزیں ہمیں کھانے کو ملتی رہتی تھیں۔نصرت صاحب کی شخصیت پر معروف صحافی سراج نقوی نے بڑا سچا تبصرہ کیا ہے کیوں کہ کبھی کبھی قومی اردو کونسل کے دفتر میں بھی یہی سچویشن ہوجاتی تھی۔ ( یہ بھی پڑھیں حیدرآباد تہذیب و معاشرت کے آئینے میں – ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی)
جس روز ہفت روزہ عالمی سہارا کے آخری صفحات پریس میں بھجوانے کا دن ہوتا، نصرت ظہیر کا چہرہ، ان کی بوکھلاہٹ، گھبراہٹ، بات بات میں چڑچڑاپن اور ساتھیوں کے ساتھ تیز تیز لہجے میں بات کرنا قابل دید ہوتا تھا۔ سچ یہ ہے کہ نصرت ظہیر کے طنزیہ مضامین کا کوئی قاری اس اس موڈ میں نصرت ظہیر کو دیکھ لیتا تو شاید اس بات یقین نہ کرتا کہ ان میں حس مزاح جیسی بھی کوئی چیز پائی جاتی ہے۔لیکن بہرحال یہ سچ ہے کہ بظاہر کڑوا، کسیلا، بد دماغ اور short tempered نظر آنے والا یہ شخص ایک اعلیٰ پائے کا طنز و مزاح نگار بھی ہے۔(بحوالہ شگوفہ، نصرت ظہیر نمبر)
میرے قومی اردو کونسل میں آنے اور مستقل پوسٹ پر ہونے کی وجہ سے مجھے ہی دفتر اور رابطہ عامہ سیل کا انچارج بنا دیا گیا۔ اس بات سے نصرت صاحب تھوڑا اپ سیٹ تھے اور انھیں لگنے لگا کہ اب مجھے اپنے سے کم عمر کے ماتحت کام کرنا پڑے گا، لیکن میں نے کبھی انھیں یہ احساس نہیں ہونے دیا اور ان کا جو احترام تھا وہ پہلے جیسا ہی رہا ۔ جہاں میرا دستخط ضروری ہوتا تھا وہ خود ہی فائل آگے کردیتے تھے۔ کام کے تئیں انھیں میں نے ہمیشہ پابند پایا، وہ اردو دنیا کو پریس میں بھیجنے سے پہلے ہی سارے ضروری کام کردیتے تھے۔ ہاں کبھی کبھی تاخیر بھی ہوجاتی تھی۔جب بچوں کی دنیا کا آغاز ہوا تو انھیں ڈائرکٹر صاحب نے کہا کہ آپ بچوں کی دنیا کے کام بھی دیکھ لیں۔ انھوں نے حامی بھر لی، پہلے بچوں کے لیے کچھ مضامین لکھے تھے لیکن ایک پورا رسالہ ترتیب دینا جو کھم بھرا کام تھا،لیکن نصرت صاحب نے اسے ایک چیلنج کی طرح قبول کیا اور تقریبا دو برسوں تک وہ یہ کام کرتے رہے۔اس دوران اردو دنیا اور فکر وتحقیق سے متعلق زیادہ تر کام دفتر کے باقی ساتھیوں کے ساتھ میرے ذمے تھا۔بچوں کی دنیا میں کئی کالم انھوں نے خود سے شروع کیے اور کئی چیزیں وہ خود ہی لکھتے تھے۔کبھی کبھی رسالے میں مذہب سے متعلق کچھ ایسی باتیں چھپ گئیں جن سے کئی لوگ اتفاق نہیں رکھتے تھے اور انھوں نے باضابطہ شکایت کی اور بات ڈائرکٹر تک پہنچی۔پھر بچوں کی دنیا کا سارا کام مجھے دے دیا گیا اور انھیں کہا گیا کہ آپ پہلے کی طرح دفتر میں کام کرتے رہیں۔ لیکن نصرت صاحب نے معذرت کرلی اورپھر قومی اردو کونسل سے ان کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔لیکن مجھ سے ان کی راہ و رسم پہلے جیسی ہی تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے۔میں دفتر سے سیدھا ایسکارٹ ہارٹ ہسپتال پہنچا،وہاں جاکر معلوم ہوا کہ ابھی کچھ دیر قبل ہی انھیں ڈسچارج کردیا گیا ہے۔پھر میں شاہین باغ میں ان کی رہائش پر پہنچا تو وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔تھوڑا کمزور ہوگئے تھے لیکن بات چیت اچھی طرح کر رہے تھے۔مجھے دیکھ کر خوش ہوگئے۔ کافی دیر تک گفتگو رہی۔ابھی پچھلے سال عید کے دن اچانک ان کا فون آیا کہ آپ شاید میرے فلیٹ کے قریب میں ہی کہیں رہتے ہیں، مجھے۔ آپ سے عید ملنے آنا ہے،میںبہت خوش ہوا اور وہ مشکل سے 5,7 منٹ بعد میرے فلیٹ پر موجود تھے۔ہم گلے ملے اور پھر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی۔ میرے فلیٹ پر پہلے سے ہی دفتر کے کئی ساتھی موجود تھے، وہ سبھی سے مل کر بہت خوش ہوئے اور قومی اردو کونسل سے جڑی ڈھیر ساری یادیں شیئر کیں۔جب وہ جانے لگے تو میری اہلیہ کو تاکید کی کہ بیٹی آج شام میں آپ سب کو ہمارے یہاں آنا ہے۔میری بیگم نے یہ سوچ کر ہاں کہہ دیا کہ شام ہوگی تو دیکھا جائے گا۔ ابھی شام ہوئی بھی نہیں تھی کہ ان کا فون آگیا، کہاں ہیں بھئی، ابھی تک آئے نہیں، اب کسی بہانے کی کوئی گنجائش تھی نہیں سو ہم چاروں(بیگم،بیٹا، بیٹی اور میں)ان کے گھر کے لیے نکل پڑے۔ وہاں جاکر اندازہ ہوا کہ انھوں نے تو کافی انتظامات کر رکھے تھے اور سوئیوں کے ساتھ ساتھ رات کا کھانا بھی وہیں کھانا پڑا۔نصرت صاحب کی بیگم اور ان کی بیٹی بھی ہم سب سے بہت محبت سے ملے اور ایسا لگا ہی نہیں کہ ہم لوگ پہلی دفعہ مل رہے ہوں۔ وہاں سے آتے ہوئے میری بیگم کو انھوں نے شگون کے طور پر پیسے بھی دیے اور کہا کہ سمجھو دہلی میں یہ تمہارا مائیکا ہے۔جب دل کرے یہاں آجانا۔اسی دوران انھوں نے اپنا شعری مجموعہ’’ دریں اثنا‘‘ بھی عنایت کیا اور اس پر یہ بھی لکھا کہ اس شعری مجموعے کی پہلی کاپی آپ کو دے رہا ہوں۔۔۔نصرت صاحب سے جڑی بہت ساری یادیں ہیں جنھیں یہاں لکھنے بیٹھوں تو یہ مضمون طویل ہوتا چلا جائے گا۔
نصرت ظہیر ایک لا ابالی مزاج کے مالک تھے۔ لکھتے ہوئے بھی ان کا قلم کئی دفعہ کچھ ایسا لکھ جاتا تھا جس سے کئی لوگوں کی ناراضگی بھی انھیں جھیلنی پڑی۔ ان کی مزاحیہ برچھیوں سے کئی اہم شخصیات گھائل ہوئی ہیں اور پھر انھیں صفائیاں بھی دینی پڑی ہیں۔ نصرت ظہیر زندگی بھر زندگی کے لیے سرگرداں رہے۔ وہ ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی تلاش میں تھے۔ شاید ان کی اسی خوبی کے لیے برسوں پہلے موہن چراغی نے کہا تھا:
نصرت ظہیر ایک ایسا بچہ ہے جس کا کھلونا کسی نے چھین لیا ہے اور اس کھلونے کو حاصل کرنے کی کوشش میں آج تک لگا ہوا ہے۔(بحوالہ شگوفہ، نصرت ظہیر نمبر)
نصرت ظہیر کی زندگی کو قریب سے دیکھنے سے احساس ہوگا کہ وہ سچ مچ کسی کھلونے کی تلاش میں تھے۔موت سے محض ایک ہفتہ قبل ان کا فون آیا تھا۔ میں نے فون ریسیو کیا تو انھوں نے خیریت دریافت کی اور اپنی بیماری کا بتایا ۔ یہ بھی کہا کہ وہ ان دنوں سہارنپور میں ہیں۔ مجھے بہت اچھا لگا کہ انھوں نے میری خیریت جاننے کے لیے فون کیا تھا۔ پوچھنے لگے کہ اتنے دنوں بعد بہار جاکر کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔بات کرتے ہوئے میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ آخری گفتگو ہے۔
نصرت ظہیر نہ صرف یہ کہ ایک بہترین طنز و مزاح نگار تھے بلکہ وہ ایک اچھے شاعر،بہترین کارٹون نگار، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ مترجم،اسکرپٹ رائٹر،کالم نگار، مبصر، صحافی اور نہ جانے کیا کیا تھے۔انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کی اردو خبروں سے مکھیہ منتری،پردھان منتری ، شری اور شریمتی جیسے الفاظ ہٹا کر ان کے اردو متبادل کے استعمال کے لیے کوششیں کیں اور کامیاب بھی ہوئے۔
ان کی مزاحیہ تحریریں آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ اپنی تحریروں میں اپنی اصل زندگی سے زیادہ ظریف واقع ہوئے ہیں۔ان کی مزاحیہ تحریروں میں مزاح کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی پوشیدہ ہے۔کچھ نمونے دیکھیں۔
٭ اردو کے ہر ادیب کی ادبی ولادت کم از کم پندرہ سال بعد عمل میں آتی ہے۔
٭ دو ہی جگہیں ہیں جہاں خفیہ کیمرے لگانے سے سماج اور انسان کو فائدہ ہوسکتا ہے یا تو کیمرہ آدمی کی پیشانی پر لگادیا جائے تاکہ سماج کو پتہ چلتا رہے کہ وہ کس کو کس طرح اپنا شکار بنانے جارہا ہے یا پھر کیمرہ انسان کے باطن میں نصب ہونا چاہئے تاکہ اسے یہ پتہ چلتا رہے کہ اس وقت وہ کیا کر رہا ہے۔
٭ اسپتال سے مطمئن ہونے کے بعد وہ ایک پولس تھانے کی طرف چل دیا کہ زندگی وہاں اسپتالوں سے بھی زیادہ علیل پائی جاتی ہے۔
٭ اوکھلا کی یہ بستی کبھی جمنا کے کنارے ہوا کرتی تھی، آج کل جمنا خود اس کے کنارے بہتی ہے۔
٭ شاعری، شاہی امام اور شاہی دسترخوان یہی ہماری کمزوریاں ہیں۔
٭ ہر پارٹی اپنی سیاست اور چنائو کی ہانڈی میں مسلمانوں کا بگھار لگانے کے چکر میں ہے۔ دیکھناصرف یہ ہے کہ اس بگھار کی سوگندھ روح میں اترتی ہے یا کرسی اقتدار پر جلوہ افروز ہونے والوں کے شکم میں۔اللہ خیر۔۔۔
اردو ادب میں کا میدان نصرت ظہیر کے جانے سے بالکل سونا ہوگیا ہے۔ سال2020 بھی عجیب ہے کہ اس نے اردو زبان و ادب کی نامور ہستیوں کو نہیں بخشا اور ایک کے بعد ادیب و شاعر ہم سے جدا ہوتا چلاجاتا ہے۔ اردو طنز ومزاح کے لیے تو یہ سال اور بھی بھاری ہے کہ دنیائے طنز ومزاح کے شہنشاہ مجتبیٰ حسین بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور طنز ومزاح کے آخری چراغ نصرت ظہیر بھی ہم سے رخصت ہوئے۔انھیں پرانے ریکارڈس، پرانے نغموں،تاریخی ،قدیم اور نایاب چیزوں سے بہت دلچسپی تھی اور بہت ساری ایسی چیزیں بھی انھوں نے جمع کر رکھی تھیں۔نصرت ظہیر ایک کھرے آدمی تھے اور ان کی شخصیت جو تھی سامنے تھی۔ جس سے ناراض ہوتے اس کے سامنے ہی ظاہر کردیتے، دل میں کچھ نہیں رکھتے تھے۔ شاید ان کی انھیں خوبیوں کی وجہ سے معروف ناقد حقانی القاسمی نے انھیں ایک چہرے والا آدمی کہا ہے اور لکھا ہے کہ ان کی شخصیت میں کبھی دوئی نہیں نظر آئے گی۔نصرت ظہیر کے مضامین اور انشائیے پڑھتے جائیں آپ کو اندازہ ہوگا کہ موجودہ اردو ادب اور حالات حاضرہ پر کیسی گہری نظر اور پکڑ ہے۔ انھیں اردو ادب میں کچھ لوگوں نے جراح کہا ہے۔میں انھیں طنز و مزاح کا منٹو کہتا ہوں۔ ان کی تحریروں میں آپ کو منٹو کی طرح ہی تلخی و ترشی نظر آئے گی۔ ان کی تحریروں میں ظرافت تو ہے ہی لیکن طنز کا گہرا عکس دکھائی دیتا ہے۔ان کے کالم اور تحریریں پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بدن پر تیز خارش ہو اور آپ نے اسے اپنے ناخنوں سے کھجلادیا ہو۔ خارش کے بعد ایک سکون تو محسوس ہوتا ہے لیکن جلن بڑھ جاتی ہے۔ یہی نصرت ظہیر کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ مزاح کا ایک احساس تو ہے لیکن گہرا طنز جیسے آپ کے باطن میں اتر جاتا ہے اور آپ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے زندگی میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ جو بھی حاصل کیا وہ اپنے دم پر حاصل کیا۔اپنے کالموں کے لیے مرزا، میاں عبدالقدوس اور بقراطی جیسے کردار تخلیق کیے۔ مرزا اور میاں عبدالقدوس پرانے کردار ہیں اورنصرت صاحب سے قبل رشید احمد صدیقی اور مشتاق یوسفی نے ان کرداروں کو مشق سخن بنایا تھا۔نصرت ظہیرکے اپنے کردار بقراطی اور خان صاحب ہیں اور ان کے کئی مضامین میں نظر آجاتے ہیں۔ان کی مزاح نگاری کے نمونے تو سبھی نے دیکھے ہوں گے۔ لیکن وہ بہت اچھے شاعر تھے ،یہ کم لوگوں کو علم ہوگا۔ ان کے کچھ بہترین اشعار پرمیں اپنی باتیں ختم کرتا ہوں۔
شاخوں پر درختوں کو قربان نہیں کرتے۔ انسان جو کرتے ہیں حیوان نہیں کرتے
جو جسم سے مرتے ہیں وہ شور مچاتے ہیں۔جو جان سے جاتے ہیں کبھی اعلان نہیں کرتے
خاموش ہے وہ اور ہمیں چپ سی لگی ہے۔ایک شور ہے اور کچھ بھی سنائی نہیں دیتا
سجدے یوں ہی بے کار پڑے رہتے ہیں۔بندوں کو یہاں کوئی خدائی نہیں دیتا
٭٭٭
ڈاکٹر عبدالحی، شعبہ اردو، سی ایم کالج، دربھنگہ، بہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

