6/جولائی 165 ویں یوم شہادت
کوئی بھی زندہ دل انسان اس حقیقت کا منکر نہیں ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی قربانیاں تحریک آزادی ہند کے صفحات پر آب زر سے لکھی ہوئی ہے۔ جنگ آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ آج ہم پاسبان حریت، راہ حق کے مسافر تحریک آزادی 1857 کے مایہ ناز مجاہد آزادی شہید وارث علی کی قربانی کی تاریخ سے روبرو ہوں گے۔اس سےقبل یہ ضروری ہے کہ ہم آزادی کی اہمیت کو ذہن نشیں کرلیں تاکہ اس عظیم مجاہد آزادی کی شہادت سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم بھی وقت کی فاشسٹ حکمرانوں سے صف بستہ ہوکر ان کا مقبالہ کر سکیں۔
آزادی کی اہمیت:
آزادی اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک ایسی نعمت عظمی ٰہے جس کے بغیر انسان ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کی زندگی ناقص ہے۔ اسلام آزادی کا حامی اور اس کا محافظ ہے۔امیر المومنین حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ:
تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟
آزادی کی اسی نظریہ کا اثر تھاکہ وطن عزیز کی آزادی کو سلب کرنے والے انگریزوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر آزادی کے متوالے،اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ (الصف:۴)کی عملی تفسیر بن کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف بستہ ہوکر شوق شہادت سے سرشار ہوکر جنگ آزادی کی لڑائی میں بے خطر کود پڑے۔ 1857 کی جنگ آزادی کی لڑائی میں ناکامی ہاتھ آئی تو انگریزوں نے،مجاہدین سے بدلہ لینے کے لئے ان پر ایسا ظلم و ستم کا پہاڑ ڈھایا جس نے چنگیز اور ہلاکو کی سفّاکیت کی یاد تازہ کر دی۔ قتل عام میں مسلمان خاص طور سے نشانہ بنائے گئے۔ خون ریزی قتل و غارتگری کا یہ سلسلہ مہینوں تک جاری رہا۔اس سفاکیت کے چشمدید مرزا اسد اللہ خاں غالب کہتے ہیں کہ:
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
1857 کا خونیں انقلاب اور شہید وارث علی
حریت کے متوالوں کی لہو سے لکھی گئی تحریک آزادی کی ناقابل فراموش داستاں اس بات کی گواہ ہے کہ 1857 کی تحریک آزادی کی چنگاری کو شعلہ بنانے میں غیر منقسم ہندوستان کے مختلف مختلف سطح کے لوگوں نے دامے درمے سخنے قدمے،قابل فخر قربانیاں پیش کیں،اس میں علماء، طلباء، صحافی، سپاہی، مقامی فوجی،مقامی حکمران، جاگیردار، کسان اور دیگر شہریوں نے انگیزیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اس خونیں انقلاب کی المناک داستاں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے محمد احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ:
1857سے 1947 تک کا زمانہ ہندوستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے یہ وہ زمانہ تھا جب تحریک جنگ آزادی شروع ہوئی پروان چڑھی اور اپنی منزل سے ہمکنار ہوئی۔وطن عزیز کو بیرونی تسلط سے آزاد کرانے کی پہلی باقاعدہ جدوجہد 1857 میں ہوئی۔ انگریزوں کے ظلم و ستم برداشت کرتے کرتے ہندوستانی عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ جب تک ملک آزاد نہیں ہوگا وہ اسی طرح ظلم و بربریت کے شکار ہوتے رہیں گے۔غلامی کے احساس سے ان کے دلوں میں آزادی کا جذبہ بیدار ہوا۔ایک عرصے سے ان کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف جو نفرت پروان چڑھ رہی تھی وہ 1857 کی بغاوت کی شکل میں ظاہر ہوئی۔انگریزوں نے اسے قومی بغاوت کانام دیا اور ہندوستانی اسے جنگ آزادی کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔
(آزادئ ہند اور مسلمان،ص:21)
اٹھومری دنیا کے غریبوں کو جگادو!
کاخ امراء کے درد دیوار ہلا دو!
تحریک کا آغاز:
انگریزوں کے خلاف اٹھنے والی چنگاریاں ریاست بہار کے مردم خیز خطہ ترہت(مظفرپور ) میں بھی ایک چنگاری گری یہاں وارث علی کی قیادت میں آزادی کی یہ چنگاری شعلہ بن کر بھڑک اٹھی۔
تحریک لوٹا بغاوت
جس طرح پورے ملک میں انگریز ،ہندوستانیوں پر مختلف طریقے سے ظلم و ستم ڈھارہے تھے جس سے دلبرداشتہ ہوکر لوگ ان کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے۔ میدان میں اترگئے تھے اسی طرح ترہت پر قابض انگریز جو یہاں نیل کی کاشتکاری کرواتے تھے اور انگریزی حکومت کے اشارے پر عام عوام پر ظالمانہ طریقے سے حکومت کرتے تھے۔ 1857 میں جب پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کا طوفان شروع ہوا تو۔ ترہت کے متعلق وارث علی پٹنہ کے عظیم مجاہد آزادی مولوی کریم کو خط لکھ کر یہاں کے حالات سے روبرو کراتے تھے۔ کیوں کہ انگریزوں کی ریشہ دوانیاں روز بروز بڑھتی ہی جارہی تھیں، شہید وارث علی نے مسلسل کئی مہینے خفیہ تیاری کے بعد سامراجی قوت کو صفحہ ہستی سے نست و نابود کرنے کے لیے ایک تحریک "لوٹا بغاوت "کے نام سے شروع کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبۂ تاریخ کے پروفیسر محمد سجاد لکھتے ہیں کہ:
مجاہدین آزادی کے بلند حوصلے سے خوف زدہ انگریزی حکومت نے 1853ء میں فیصلہ کیا کہ کہ جیلوں میں قیدیوں کو ملنے والے پیتل کے لوٹے ضبط کر لیے جائیں گے اور انہیں مٹی کے برتن لوٹے وغیرہ ہی استعمال کرنے ہوں گے۔ اس فیصلے نے آرہ اور مظفر پور کے جیلوں میں بند قیدیوں کے غصے میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ ہندو قیدیوں کو پیتل سے خاص مذہبی عقیدت تھی لہذا اس قدم کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف سمجھا -پیتل کے لوٹے کو ہٹانے کے فیصلے پر آرہ اور مظفر پور کے قیدی بھڑک اٹھے اس بغاوت میں عام لوگ بالخصوص کسان بھی بڑے پیمانے پر شامل ہوگئے۔مظفر پور کے سڑکوں پر رعیت اور شہر کی عام آبادی نکل آئی اور پورے خلقت جیل کی جانب بڑھنے لگی۔ جیل پر حملہ کرکے قیدیوں کو فرار کر دیا ۔اس تحریک کو "لوٹا بغاوت” کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کی تیاری خفیہ طورپر دراصل مظفرپور ضلع کے بڑوراج پولیس چوکی کے جمعدار وارث علی نے کی تھی۔
(ہندوستانی مسلمان، مسائل و امکانات،ص:120 )
گرفتاری :
لوٹا بغاوت تحریک برپا کرنے اور مجاہد آزادی مولوی علی کریم کے ساتھ مل کر بغاوت کرنے کی کوشش کے الزام میں انگریزوں نے شہید وارث علی کو ترہت حلقہ مظفرپور ضلع کے بڑوراج پولیس چوکی سے گرفتار کرلیا۔ معروف تاریخ داں،صاحب تاریخ مگدھ، مولوی فصیح الدین بلخی عظیم آبادی لکھتے ہیں کہ:
نیل کے تاجروں کی مددسے انگریزوں نے داروغہ وارث علی کو گرفتار کرلیا۔اس کے(وارث علی) کے پاس کوئی خط برآمد ہوا۔جو اس نے بغاوت کے بارے میں مولوی علی کریم زمین دار موضع ڈمری ضلع پٹنہ کو لکھا تھا۔اس خط کے سبب مولوی علی کریم کی بھی گرفتاری عمل میں آئی۔
(تاریخ مگدھ ص:345، شائع کردہ، انجمن ترقی اردو،ہند،دہلی)
شاد عظیم آبادی اپنی کتاب "پیر علی” میں رقمطراز ہیں کہ:
پیر علی 1857کی جنگ آزادی میں پٹنہ کے مجاہدین آزادی کے سربراہ تھے۔ان کے سب سے قریبی دوست وارث علی ترہت پولیس میں جمعدار تھے۔جو دہلی کے رہنے والے تھے۔انہیں بغاوت کے الزام میں(مظفرپور ضلع پارو تھانہ) اب بڑوراج پولیس چوکی کے سے 23 جولائی 1857 کو گرفتار کرکے داناپور چھاؤنی میں قید کردیاگیا۔
شہادت:
وارث علی کو 1857 تحریک آزادی میں بہار کے سب سے پہلے شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔تاریخ داں اشوک انشومن اور شری کانت نے اپنی کتاب "غدر ان ترہت ” میں وارث علی سے متعلق خطوط جو انہوں نے علی کریم کو لکھا تھا اور اس وقت پٹنہ کے کمشنر ولیم ٹیلر نے حکومت بنگال کے سکریٹری اے آر ینگ ،لیفٹنٹ گورنر آف بنگال ،فریڈ جیس ہیلیڈ کو ارسال کیے گئے خطوط کے مطابق وارث علی کو 06 جولائی 1857 کو(داناپور چھاؤنی میں) پھانسی دینے کی تصدیق کی ہے۔
بہار کے پہلے شہید مجاہد آزادی وارث علی
جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کو جان بوجھ کر چھپادیا گیا یا عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا گیا۔ انہیں میں سے ایک شہید وارث علی تھے جنہیں برطانوی راج کے خلاف سازش کے الزام میں پھانسی دی گئی۔ اس طرح وہ انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں پھانسی پر چڑھ جانے والے بہار کے پہلے مجاہد آزادی بن گئے۔ آخر کار ترہت بہار کے وارث علی کی قربانی کو تسلیم کرتے ہوئے 164 سال بعد 2021 میں وزارت ثقافت اور ہندوستانی تاریخی تحقیقاتی کونسل کے ذریعہ جاری کردہ ملک کے شہداء کی نئی فہرست میں وارث علی کا نام بہار کے شہدا میں پہلے نمبر پر شامل کیاگیا۔ اس فیصلےنے بہار کی تاریخ کو ایک نئی اونچائی دی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ شائع کتاب ڈکشنری مارٹیئرس (انڈیاس فریڈم اسٹرگل 1947-1857 ) کی چوتھی جلد میں وارث علی کو بہار کے اول شہید کے طورپر ذکر کرنے کے ساتھ ہی مرکز کی طرف سے بہار کے پہلے شہید وارث علی کی شہادت پر مرکز کی تصدیقی مہر لگ گئی ہے۔
"عزم” کے جہد مسلسل کو سلام
غیر منقسم بہار(ترہت) کے پہلے شہید مجاہد آزادی شہید وارث جو دارورسن کو آباد کرتے ہوئے قرآن کی مندرجہ ذیل فضیلت کے مستحق ہوگئے۔
ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ۔ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ
ترجمہ : اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (ان کی زندگی کا) شعور نہیں رکھتے۔۔ (البقرہ) زیر نظر آیت قرآنی کے مطابق انہیں حیات جاوداں میسر ہونے کے بعد بھی وارث علی جنگ آزادی کے دیگر گمنام مجاہدین اور شہداء کی طرح ہی فقط تاریخ کی کتابوں کی چند صفحات تک محدود تھے۔ان کو عوام الناس کے درمیان شناخت دلانے اور انہیں حکومتی سطح پر شہادت کا اعزاز دلانے میں مظفرپور کی ایک غیر سرکاری تنظیم عزم (سنکلپ) نے بڑی جدوجہد کی اور برسوں کی محنت کے بعد 2017 میں مظفرپور کے رخصت پذیر ڈی ایم دھرمندر، جنرل انتظامیہ شعبہ کو اپنی طرف سے سفارش بھیجی تھی۔ عزم تنظیم کے روح رواں رشحات قلم صحافی محمد آفاق اعظم نے ترہت کے شہیدوں پر مواد جمع کرکے وارث علی کو شناخت دلانے کا جو عزم مصمم کیا وہ شرمندہ تعبیر ہوا۔ اس کے لئے عزم کے سرپرست پروفیسر فاروق احمد صدیقی، پروفیسر ابوذر کمال الدین،ڈاکٹر سید علی مرتضی،صحافی سید محمد باقر،عزم کے صدر جناب جمیل اختر، حاجی امتیاز احمد، ڈا کٹر منصور معصوم، صحافی اخلاق احمد، صحافی سید ماجد حسین، فہد زماں، ظفر اعظم، آفتاب عالم، اکبر اعظم صدیقی، اعجاز احمد، کامران رحمانی، پروفیسر اروند کمار ڈے، کرشن موہن، سورج کمار سنگھ وغیرہ کے علاوہ متعدد شخصیت کا اہم کردار ہے۔ گمنام مجاہد آزادی کو شناخت دلانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے تمام لوگوں کے جہد مسلسل کو سلام۔انہیں جیسے مجاہدین آزادی کی شہادتوں کے نتیجے میں ہندوستان سامراجی قوتوں کے ناجائز قبضے سے آزاد ہوا۔امین سلونوی نے درست کہا ہے کہ:
خوں شہیدان وطن کا رنگ لا کر ہی رہا
آج یہ جنت نشاں ہندوستاں آزاد ہے
اسلم رحمانی
متعلم:شعبۂ اردو، نتیشور کالج، مظفرپور، بہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

