رفیق العارفین: پند و نصائح کا ایک بحر بیکراں – وزیر احمد مصباحی
آج بھی فرصت کی گھڑی میں بیٹھ کر جب کبھی حال کے جھروکوں سے ماضی میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہوں تو مادر علمی، چمنستان حافظ ملت” جامعہ اشرفیہ مبارک پور” میں گزارے ہوئے آٹھ/ نو سالہ مدتوں پہ محیط یادوں کی سنہری پرتیں ایک ایک کر کھلنے لگتی ہیں اور یہ احساس ہر لمحہ ایقان کا روپ دھار لیتا ہے کہ نہیں! یہ یادیں راقم الحروف کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ واقعی! یہ یادیں فرزندانِ اشرفیہ کے لیے بہت معنی رکھتی ہیں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ جب میں اشرفیہ میں جماعت خامسہ/ سادسہ کا ایک ادنی سا طالب علم ہوا کرتا تھا تو ان دنوں جامعہ ہی کے احاطے میں طلبۂ جماعت سابعہ کی طرف سے بنام” جشن یومِ مفتی اعظم” ایک پروگرام کا انعقاد نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا تھا اور اس میں بحیثیتِ رأس الخطبا ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی[ شعبۂ تاریخ، پریسیڈینسی یونیورسٹی، کولکاتہ] مدعو تھے۔ غالباً پہلی مرتبہ جامعہ ہی میں ڈاکٹر موصوف کا پرمغز تاریخی خطاب سننے کا شرف حاصل ہوا تھا اور آج یہ دوسرا موقع ہے کہ ناچیز ان کے اہم علمی گلدستہ "رفیق العارفین” سے آنکھیں دوچار کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
ڈاکٹر موصوف ایک سنجیدہ عالم دین، ذہن رسا محقق، بہترین استاد، مخلص مشیر اور عمدہ ترجمہ نگار ہیں۔ مختلف سیمیناروں و علمی نشستوں کے لیے تحقیقی مقالے لکھنا، تنظیمی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور تصنیف و تالیف کی رو سے دوسری زبانوں کی نادر و نایاب کتابوں کا سلیس اردو/ انگریزی ترجمہ اور تدوین کرکے منظر عام پہ لانا آپ کا محبوب مشغلہ ہے۔ شاید یہ اسی جنونِ پیہم کا حصہ ہے کہ آج "رفیق العارفین علی ارشاد الطرق و مقصد العاشقین” کا نفیس اردو ترجمہ راقم الحروف کے مطالعاتی میز کی زینت بنا ہوا ہے۔
زیر نظر کتاب” رفیق العارفین” نویں صدی ہجری کے مستند عالم شریعت و عارف طریقت، ملک المشائخ، اکسیر عشق حضرت مخدوم شیخ حسام الدین مانک پوری قدس سرہٗ العزیز کے ارشاداتِ عالیہ اور ملفوظاتِ کریمہ کا وقیع مجموعہ ہے۔ جسے آپ کے مرید و خلیفہ مولانا شیخ فرید بن سالار عراقی نے خلقِ خدا کی صلاح و فلاح کے لیے فارسی زبان میں مرتب فرمایا تھا۔
یہ حقیقت ہے کہ ملفوظات کی وقعت و حیثیت صاحب ملفوظ کے علمی و فکری قد پر منحصر ہوتی ہے، اور زیرِ نظر ملفوظات کے قائل حضرت مخدوم شیخ حسام الدین مانک پوری قدس سرہٗ العزیز کس پائے کے بزرگ تھے؟ یہ خوب عیاں ہے۔ سلسلہ رشیدیہ جونپور کے اکابر مشائخ اور پیرانِ طریقت میں آنے کے ساتھ آپ کا خانوادہ بھی علمی، ادبی و روحانی وغیرہ ہر اعتبار سے بڑا تاریخی رہا ہے۔ آپ نے تاحیات بیعت و ارشاد کے توسط سے بھٹکے ہوئے آہؤوں کو حرم کا پتہ بتانے اور آیات الہیٰ کی نگہبانی کے گن سکھانے کا کام کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہی چیزیں دیکھ کر شیخ فرید بن سالار عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے ان گراں قدر ارشادات کو محنت و لگن کے ساتھ آگے بڑھانے کا کام سر انجام دیا اور انھوں نے دیباچہ میں اس طرح کی باتوں کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
"آپ کے خوش بیان کلمات اور دل آویز الفاظ جو حلاوت و شیرینی کے بحر ناپیدا کنار ہیں، ان کو ہوشِ جان اور گوشِ دل سے سنا اور روح کو طمانیت و سکون اور دل کو فرحت و سرور حاصل ہوا تو میں نے چند گراں قدر موتیوں اور بیش بہا گوہروں کو جمع کرکے زیورِ خاص اور آرائش عام کے لیے تحریر کی لڑی میں پرو دیا اور” رفیق العارفین علی ارشاد الطرق و مقصد العاشقین” کے نام سے اس کو چالیس فصلوں پر مرتب کر دیا۔” [دیباچہ، صفحہ: ۳۴]
"رفیق العارفین” یقیناً ایک قدیم اور مستند کتاب ہے، مختلف زمانے کے علما و محققین نے اس سے استفادہ کیا ہے اور اربابِ فکر و قلم نے اپنی تصانیف میں جابجا اس کے اقتباسات نقل کیے ہیں۔ جیسے: ثمرات القدس من شجرات الانس، اخبار الاخیار،مرأۃ الاسرار اور گنج ارشدی و وسیلۃ النجاۃ وغیرہ میں اس کے حوالے بکثرت ملتے ہیں۔ اس کے قلمی نسخے کے بارے میں مترجم موصوف لکھتے ہیں کہ:
"مجھے رفیق العارفین کے دو قلمی نسخے دیے گیے تھے جن میں ایک نسخہ خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف بہار کا ہے جو ۷۴/ اوراق پر مشتمل ہے اور دوسرا نسخہ جامعہ ہمدرد، دہلی کا ہے جو ۷۱/ اوراق پر مبنی ہے۔ قلت وقت کی بنا پر ان دونوں نسخوں کے تقابلی مطالعے کا موقع نہیں ہے البتہ یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ میں نے نسخۂ پھلواری کے مطابق ہی ترجمہ کا کام کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مکمل نسخہ ہے جس میں ترقیمہ بھی موجود ہے اور کتابت کی غلطیاں بھی اس میں کم نظر آئیں۔” [ عرض مترجم، ص: ۱۳]
لیکن "عرض مترجم” کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ مترجم موصوف کے ساتھ ایک دوسرا نام[ مولانا ابرار رضا مصباحی: ڈائریکٹر آسی فاؤنڈیشن،نئی دہلی] بھی ہے جنھوں نے اصل مخطوطے سے اردو ترجمہ کو حرف بحرف ملا کر تصحیح و پروف ریڈنگ کی اہم ذمہ داری نبھائی ہے اور مترجم کتاب نے بھی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف تحریری شکل میں کر دی ہے۔
علم و ادب کی خاک چھاننے والے، خصوصاً ترجمہ نگاری سے خاصا شغف رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ دوسری زبان میں کسی قدیم اور بوسیدہ نسخہ/ مخطوطہ کی منتقلی کا کام کس طرح مغز ماری اور جوکھم سے بھرا ہوا ہے؟ یہاں اصل عبارت کو بغور پڑھنا، حاشیہ پہ سنجیدگی سے نظر ڈالنا، بین السطور کا مطالعہ کرنا اور مصنف کی زبان اور ان کے عہد میں رائج محاورے و اصطلاحات سے واقفیت حاصل کرنا وغیرہ انتہائی صبر آزما امور ہیں۔ یہ اتنا خشک موضوع ہوتا ہے کہ بڑے دھانسو اور صلاحیت مند قسم کے انسان بھی جلد اس عمل سے اپنا رشتہ ناطہ نہیں جوڑنا چاہتے۔ مگر زیر نظر گلدستہ کے مطالعہ کے بعد یہ یقین ہو جاتا ہے کہ مترجم موصوف کو انتہائی خشک موضوع/ میدان میں بھی گلِ لالہ و سمن کھلانے کا ہنر خوب آتا ہے۔ یہاں سادہ و سلیس زبان کا استعمال واقعی خوب ہے، ابتدا تا انتہا مشکل و گنجلک عبارات و اصطلاحات سے بچتے ہوئے عمدگی و نفاست کا اتنا بھرپور خیال رکھا گیا ہے کہ قاری کہیں بھی الجھنوں کا شکار نہیں ہوتا اور وہ ایک رَو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ ہاں! یہ حقیقت ہے کہ کسی فارسی مخطوطے کے ترجمے کے اعتبار سے مترجم موصوف کا یہ پہلا سفر ہے، مگر موضوع کے ساتھ عدل و انصاف اور تحقیق و تفکیر کے مابین توازن کی ایسی خوبصورتی رچ بس گئی ہے کہ منزل مقصود تک رسائی حاصل کرنے میں وہ مکمل طور پہ کامیاب نظر آتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب” رفیق العارفین” چالیس مختلف فصلوں [ارادت، مشاہدۂ حق، منازلِ سلوک، مراقبہ، عشق و شوق، توحید و معرفت، ذکر، توبہ، سماع، یقین، توکل، قناعت، نفاق، تقدیر پر ایمان و یقین، ترک دنیا، انکسارِ نفس، ایمان، خوف و رجا، غیرت، تقوی و ورع، شب بیداری، روزہ، اوراد، شب جمعہ کی نماز، قضاے حاجات و کفایت مہمات، نماز معکوس، ستر عورت، تحمل و تواضع، محبت و مدارات، لباس، فتوح، اعراس، صدقہ، رضا و تسلیم، انسیت و محبت، وصال، آداب وغیرہ] پر مشتمل ہے اور ہر ایک فصل میں انتہائی پرمغز رہنما اقوال اور بصیرت افروز ارشادات شامل ہیں۔ ساتھ ہی مولانا عمیر حسامی[ خانقاہ حسامیہ گڑھی مانک پور] ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی اور ابرار رضا مصباحی [ڈائرکٹر: آسی فاؤنڈیشن،نئی دہلی] نے بالترتیب ” پیش لفظ، عرضِ مترجم” اور "مقدمہ” کے تحت بنیادی و قیمتی باتیں تحریر کی ہیں، بالخصوص مقدمہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، کیوں کہ اس میں کتاب، صاحب کتاب، مرتب اور مترجم سے منسلک ایسی اہم چیزیں درج ہیں کہ اصل کتاب/ نفسِ مضمون کا مطالعہ کرنے سے قبل ہی قاری کے ذہنی اسکرین پہ تمام تر مشمولات کی ایک تسلی بخش شکل مرتسم ہو جاتی ہے اور اس طرح قاری کی دلچسپی مزید کھاد پانی کشید کرکے انھیں آگے بڑھنے میں زبردست تحریک فراہم کرتی ہے۔
چونکہ مخدوم شیخ حسام الدین مانک پوری قدس سرہٗ العزیز جس عہد کے عالم دین ہیں اس وقت فارسی ہی بولی ٹھولی کی زبان تھی۔ اس لیے شیخ فرید بن سالار عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں اپنے پیر و مرشد کے اقوال و ارشادات عالیہ ہو بہو نقل فرمائے وہیں گفتگو کے درمیان کثرت سے استعمال کیے گیے فارسی کے ایسے قیمتی اشعار بھی نقل کر دیے ہیں جو اپنے اندر فکر و نظر کے دسیوں معانی رکھتے ہیں۔ یہ امر اس حقیقت کی طرف بھی مشیر ہے کہ مخدوم شیخ حسام الدین مانک پوری کو جہاں کثرت سے فارسی کے اشعار ازبر تھے وہیں وہ ان کے بر محل استعمال کا بھی ملکہ رکھتے تھے۔ بطور مثال یہ چند اشعار دیکھیں کہ یہ کتنے بامعنی اور جامعیت سے پُر ہیں:
❀قناعت کے حوالے سے؛
رہ قناعت گزیں و شاہی کن
آن او باش و ہرچہ خواہی کن [ص:۱۱۰]
❀تقدیر کے حوالے سے؛
آن چہ مقدر است نہ شود بیش و کم
گر برسد خورمی ور نہ رسد باک نیست[ص:۱۱۶]
❀زندگی کے قیمتی ہونے کے حوالے سے؛
ہر یک نفس کہ می رود از عمر گوہری
کہ آن را خراج ملک دو عالم بود بہا
مپسند کاین خزانہ دہی رایگان بہ باد
وآن کہ روی بخاک تہی دست و بے نوا[ص:۱۴۲]
❀آدابِ رشد و ہدایت سے متعلق؛
ادب تاجی است از لطف الہی
بنہ بر سر برو ہر جا کہ خواہی[ص:۱۹۷]
اس طرح پوری کتاب میں کل ملا کر جہاں ایک سو چار/۱۰۴ اشعار شامل اشاعت ہیں وہیں اکیس/۲۱ رباعیات، مختلف جگہوں پر متعدد مصرعے اور کچھ عربی اشعار بھی مرقوم ہیں۔ مترجم موصوف نے ان تمام اشعار کا ترجمہ اس طرح پُر دم انداز میں کیا ہے کہ پڑھ کر ذہن و دماغ پہ ایک خوشگوار حیرت طاری ہو جاتی ہے، ابتدا تا انتہا متعدد واقعات بھی مذکور ہیں اور ان تمام واقعات کے ترجمے کے کام بھی بڑی روانی کے ساتھ سر انجام دیے گیے ہیں۔ موصوف کی سلسبیلی نثر کا یہ نمونہ دیکھیں کہ انھوں نے کس طرح ترجمے میں سادگی کا حسن برقرار رکھا ہے اور اہل ذوق قارئین کی تسکین کے لیے دل آویزی کا کیسا سامان مہیا فرما دیا ہے۔ گیارہویں فصل کے ارشاد اول کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
"یقین میں تین مراتب ہیں:
[۱] علم الیقین
[۲]عین الیقین
[۳]حق الیقین
جیسا کہ یہ مثل بیان کی جاتی ہے کہ سمندر میں پانی بہت زیادہ ہے، اس سے علم یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ بات سچی ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ لیکن جب دور سے دیکھتا ہے تو اسے عین الیقین رونما ہوتا ہے اور کوئی شک نہیں رہتا۔ لیکن جب اس میں غوطہ لگاتا ہے اور اسے پیتا ہے تو اسے حق الیقین ثابت ہوتا ہے۔
ایسے ہی سالک کے دل میں سب سے پہلے یقین ہونا چاہیے کہ ذات کے اعتبار سے خدا وند قدوس ایک ہی ہے اور صفات کمالیہ کے ساتھ متصف ہے تو یہ کمالِ یقین ہے اور جب وہ زیادہ کوشش کرتا ہے تو اس کے ذوق کو شہود الیقین حاصل ہوتا ہے جو عین الیقین ہے اور اگر اس سے بھی زیادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے کمال سے حق الیقین حاصل ہوتا ہے۔”[ ص:۱۰۴]
قارئین! آج جس طرح انسان ترقی کر رہا ہے وہ اتنی ہی رفتار میں صبر و قناعت سے بھی دور ہوتا چلا جا رہا ہے، ہر طرف مادہ پرستی کا دور دورہ ہے اور جسے دیکھیے وہی مال و دولت کی نہ ختم ہونے والی بھوک لیے اپنے روز و شب سے نالاں ہے، دور دور تلک صبر و شکر کا کوئی بھی نشان نظر نہیں آتا اور ہر طرف ہاہاکار کی کثیف فضا قائم ہے۔ ایسے وقت میں یہ نکتہ عوام و خواص کے لیے کتنا مفید ہے؟ ہم اور آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ:
"القناعۃ مملکۃ و صاحب المملکۃ سلطان و السلطان لا یحتاج الی احد”
ترجمہ: "قناعت ایک بادشاہت ہے اور سلطنت کا مالک ایک سلطان ہے اور سلطان کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔”
اور پھر لگے ہاتھوں سلطان محمود غزنوی سے متعلق حکمت بھری نصیحتوں پہ مشتمل یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ:
"سلطان محمود غزنوی شاہانہ کروفر کے ساتھ ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک دیوانہ پاؤں لمبا کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ کسی نے کہا: اے دیوانے! بادشاہ آ رہے ہیں۔ پاؤں سمیٹ لو۔ دیوانے نے کہا: میں نے ہاتھ سمیٹ لیا۔ جب دیوانے کی نظر بادشاہ پر پڑی تو اس نے ہاتھ کو بلند کرتے ہوئے ہلایا۔ سلطان نے دو انگلیاں دکھائیں اور دیوانے نے چار انگلیاں دکھائیں اور پھر سلطان روانہ ہو گیے۔ کسی نے بادشاہ سے پوچھا کہ یہ کیا راز تھا؟ بادشاہ نے فرمایا کہ دیوانے نے ہاتھ ہلا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس قدر کروفر اور رعب و دبدبہ کس وجہ سے ہے؟ میں نے دو انگلیاں دکھائیں جو دو روٹیوں کے لیے ہیں۔ اس نے چار انگلیاں دکھائیں کہ مجھے بیٹھے بیٹھے چار روٹیاں مل جاتی ہیں۔” [ص: ۱۱۱،۱۱۰]
یعنی ہر جگہ [ص: ۳۲ تا ۲۳۲] پند و نصائح کا ایک ایسا جال پھیلا ہوا ہے کہ قاری اس میں قدم رکھنے کے بعد اس وقت وقت تک آسودہ نہیں ہوتا ہے جب تک کہ وہ صفحات میں منتشر تمام لعل و سمن ایک ایک کرکے نہ چن لے۔ کتاب کی اہمیت اس جہت سے بھی دوبالا ہو جاتی ہے کہ مترجم نے احادیث و آیات کریمہ کی تخریج و تحقیق کا خاصا کام بھی کر دیا ہے۔ ہاں! اگر تمام احادیث کی تخریج کا کام مکمل کر لیا گیا ہوتا تو یہ نہلے پہ دہلا ہوتا۔ یہاں مترجم موصوف کی بارگاہ میں یہ ایک مؤدبانہ عریضہ ہے کہ اگر آئندہ ایڈیشن میں تمام فصلوں میں مذکور ارشادات، شمارزد کرکے ” ارشاد فرمان ہوا” کے فونٹ کو بڑا کر دیا جائے تو ملفوظات کے مابین امتیاز کی کراہتی ہوئیں لکیریں مزید ہویدا ہو کر قاری کے لیے باصرہ نواز ہو سکتی ہیں۔
کتاب کی ابتدا ہی میں دونوں نسخوں [نسخۂ خانقاہ مجیبیہ، پھلواری و نسخۂ جامعہ ہمدرد، نئی دہلی] کے درمیانی صفحے کا عکس موجود ہے، ساتھ ہی صفحات کی عمدگی، جدید اردو املا کی رعایت اور ٹائٹل پیج کی دلکشی و جاذبیت وغیرہ ایسے لوازمات بھی ہیں جو کسی بھی کتاب دوست قاری کی نفیس طبیعت سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ خانقاہ حسامیہ، گڑھی مانک پور ضلع پرتاپ گڑھ، یوپی کے زیر اہتمام ۲۳۲/ صفحات پر مشتمل گلدستۂ ہذا کی اشاعت شاہ عبد العلیم آسی فاؤنڈیشن، نئی دہلی نے سن ۲۰۲۲ء/ ۱۴۴۳ھ میں کی ہے۔
کتاب دوست احباب اگر چاہیں تو وہ خانقاہ حسامیہ پرتاپ گڑھ، خانقاہ طیبیہ معینیہ بنارس، خانقاہ رشیدیہ جونپور [یوپی] خانقاہ مصطفائیہ چمنی بازار پورنیہ سیٹی[بہار] اور خانقاہ علائیہ پنڈوہ شریف، مالدہ [بنگال] سے ۳۰۰/ رقم کی ادائیگی کے ساتھ خرید سکتے ہیں۔
کتاب، صاحب کتاب، مرتب اور مترجم کے حوالے سے اتنی طویل گفتگو ہو جانے کے بعد میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اب بھی شناسائی کے باب میں کسی قاری کے لیے تشنگی کا احساس پریشان کن ہوگا۔ کتاب ہذا کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے مزید کسی اور گفتگو کا تار چھیڑنے کی بجائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خود مترجم کتاب کا وہ اقتباس یہاں نقل کر دوں جو انھوں نے "عرض مترجم” کے تحت تحریر فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
"مطالعے کے دوران جو کتاب ذہن و فکر کو متاثر اور قلب و روح کو معطر کر دے تو اس کی اہمیت و معنویت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ترجمہ کرتے وقت بسا اوقات میرا ذہن اس کے ترجمے کی بجائے اس کے بصیرت افروز ارشادات میں موجود علمی نکات، اسلوب بیان کی جامعیت، مسائل تصوف کی عمدہ تشریحات وغیرہ کی طرف چلا جاتا اور کچھ دیر اسی میں گم ہوکر رہ جاتا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ طالبین معرفت و حقیقت کے لیے یہ کتاب ایک دولت بیش بہا ہے۔ اس میں راہ طریقت کے آداب و اصول اور مشائخ و صوفیہ کے ادب و احترام کا جو خاصا اور گراں قدر مواد ہے، وہ دیگر کتابوں میں کم ملتا ہے۔ آپ کا ہر ارشاد عشق و معرفت سے لبریز ہے اور فکر و عمل کے ساتھ اخلاق و محبت کی ترغیب دیتا ہے۔” [ ایضاً، ص: ۱۲]
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

