قرۃ العین حیدر کی غیرافسانوی نثر:ڈاکٹر انوارالحق:(ایک مطالعہ)/ محترمہ سمیہ محمدی
قرۃ العین حیدر کا شمار اردو کی ان مایہ ناز شخصیات میں ہوتا ہے جن کی نگارشات کو بقائے دوام کا درجہ حاصل ہے۔ بلاشبہ قرۃ العین حیدر کو جو مقبولیت حاصل ہوئی، وہ انھیں فکشن کے میدان میں حاصل ہوئی۔ لیکن اردو ناول وافسانے کے علاوہ انھوں نے غیرافسانوی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی۔ یہ حقیقت ہے کہ قرۃ العین حیدر کے افسانوی اصناف کو جو مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی وہ غیر افسانوی نثر کو حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تسلیم کی جاسکتی ہے کہ ناقدین نے قرۃ العین حیدر کی افسانوی اصناف پر جس قدر توجہ دی اتنی توجہ غیرافسانوی اصناف کو حاصل نہیں ہوسکی۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک تخلیق کار کا بنیادی طور پر جو رشتہ تخلیق سے ہوتا ہے عموماً وہ اس کی دوسری تحریروں میں نظر نہیں آتا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تخلیق کار کی دیگر نگارشات کو نظر انداز کردیا جائے۔قرۃ العین حیدر کے ساتھ بھی بڑی حد تک یہی ہوا اور ان کی غیرافسانوی اصناف کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی جس کی وہ مستحق ہیں۔
ڈاکٹر انورالحق کی یہ کتاب ’’قرۃ العین حیدر کی غیر افسانوی نثر‘‘ دراصل اسی کاوش کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے انھوں نے قرۃ العین حیدر کی ان غیرافسانوی اصناف کا تجزیہ پیش کیا ہے جو اب تک عدم توجہی کا شکار رہی۔ ایک عرصے سے ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو قرۃ العین حیدر کی غیرافسانوی نثر کا احاطہ کرسکے اس لحاظ سے ڈاکٹر انوارالحق نے ’’قرۃ العین حیدر کی غیرافسانوی نثر‘‘ اہم ہے جو قرۃ العین حیدر کی غیر افسانوی نثر کا بڑی حد تک احاطہ کرتی ہے۔قرۃ العین حیدر کے کئی مضامین ایسے ہیں جو اپنے موضوع اور اسلوب نثر کے لحاظ سے کافی اہم ہے۔ڈاکٹر انوار الحق نے کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلا حصہ’’ قرۃ العین حیدر کے مضامین‘‘ دوسرا ’’ قرۃ العین حیدر کی رپرتاژ‘‘ تیسرا حصہ ’’ قرۃ العین حیدر کے تراجم‘‘ اور چوتھا حصہ ’’دامانِ باغباں‘‘ کے نام سے شامل ہے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کتاب کا پہلا حصہ’’ قرۃ العین حیدر کے مضامین‘‘ہے مصنف نے چند اہم مضامین کا تجزیاتی مطالعہ اپنی اس کتاب میں پیش کیا ہے۔اس ضمن میں قرۃ العین اور آصف فرخی کے درمیان ہوئی گفتگوسے بھی لگایا جاسکتا ہے جسے مصنف نے اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔
’’آصف فرخی: اس طرح آپ نے مضامین بھی لکھے ہیں۔ فکشن کے ساتھ ساتھ یہ فکشن پر مقالے بھی بہت اہم ہیں۔ کچھ مقالے سفر کے حوالے سے ہیں، اور بعض مضامین فکشن کی تنقید پر ہیں جن کو پڑھ کر مجھے لگتا ہے کہ جتنی بڑی آپ فکشن رائٹر ہیں، اسی حساب سے فکشن کی بہت اہم ناقدبھی ہیں۔‘‘
(قرۃ العین کی غیر افسانوی نثر ۔ص۔25)
یہ حقیقت ہے کہ قرۃ العین حیدر واحد ایسی فکشن رائٹر نہیں تھیں جنھوں نے مضامین لکھے اور یہ مضامین کتابی شکل میں منظر عام پر بھی آئے۔ ان کے بعض معاصرین نے ادبی مضامین لکھے لیکن ان میں بہت کم مضامین کتابی صورت میں سامنے آئے اور وہ مقام حاصل کیا جو ان کے فکشن میں بھی پائے جاتے ہیں۔کتاب کے اس حصے میں مصنف ڈاکٹر انوارالحق ابتدا میں فکشن اور غیرفکشن کا ویژن اور نظریہ مثالوںکے ساتھ بیان کیا ہے۔انوارالحق نے اس سلسلے میں اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے قرۃ العین حیدر کے مضامین اور انٹرویو کے مجموعے ’’داستان عہدگل‘‘ کو موضوع بحث رکھا ہے۔ مصنف نے اپنے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ ہرصنف کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں اس لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ جو خوبیاں قرۃ العین حیدرکی افسانوی تحریروں میں پائی جاتی ہیں وہی خوبیاں غیر افسانوی نثر میں بھی موجود ہوں،لیکن ویژن یا نظریہ عام طور پر ہر تخلیق میں یکساں ہوتا ہے۔ جس تہذیب، آب وہوا، ماحول یا سیاسی وسماجی تبدیلی میں کوئی تخلیق کار پیدا ہوتا ہے، اس کا اثر براہ راست اس کی تحریر میں بھی عیاں ہو جاتا ہے۔ اس بات کی تائید خود قرۃ العین حیدر نے بھی کی اور یہ تسلیم کیا کہ کوئی بھی ادیب اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات سے اچھوتانہیں رہ سکتا۔ روزنامہ ’عالمی سہارا‘ کے پہلے شمارے کا حوالہ دیتے ہوئے مصنف نے قرۃ العین حیدر سے اس سلسلے میں ہوئی گفتگو کا ایک حصہ بھی قلمند کیا ہے۔
’’ہر ملک کے ادب کا منظر اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات سے جڑا ہوتا ہے بلکہ یہ کہیے کہ اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ملک کے حالات کا اثر پڑتا ہے ادب پر۔ جس طرح کی سیاست کا غلبہ ہوگا، اس کا اثر ادیب پر ضرور پڑے گاچاہے ادیب کسی بھی فریم ورک میں اپنی تخلیقات تحریر کرے، سیاسی، معاشی، سماجی اثرات کا اثرضرور لے گا۔‘‘ (صفحہ30)
یہی وجہ تھی کہ قرۃ العین حیدر کی زندگی میں ہندوستان میں جو سیاسی ومعاشی تبدیلیاں ہورہی تھیں، اس کا اثر ان کی تخلیق نے بھی قبول کیا، چاہے ان کی افسانوی اصناف ہوں یا غیرافسانوی تخلیقات۔ ’’داستان عہد گل ‘‘کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے انوارالحق نے متعلقہ کتاب میں شامل اقتباسات کو پیش کرکے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دراصل مصنفہ ان مضامین میں گزرے ہوئے عہد اور قدروں کے زوال کی نوحہ خواں ہیں جو ایک سنہرا اخلاقی وادبی دور تھا۔انوارالحق لکھتے ہیں:
’’چوالیس صفحات پر پھیلے اس مضمون داستان عہد گل میں 13صفحات صفحہ نمبر 23سے 35تک مصنفہ نے یوروپ، ترکی، یونان، فرانس اور ہندوستان کی سیاسی وتہذیبی تاریخ کے بیان میں صرف کیا ہے۔ (صفحہ34)
جب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے تو محض اس زمانے کے سیاسی ومعاشی حالات کا اثر ہی نہیں بلکہ اس کے آس پاس کے عہد کا اثر بھی ایک ادیب اپنے ادب پارے میں قبول کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرۃ العین داستان عہد گل میں یوروپ،ترکی اور یونان وغیرہ کی سیاسی ، تہذیبی اور تاریخی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔مصنف نے اس مجموعے میں شامل دیگر مضامین پر بھی مفصل گفتگو کی ہے، جس میں آرٹ کی کہانی، دیکھ کبیرہ رویا‘ادب اور خواتین اور کچھ عزیز احمد کے بارے میں وغیرہ۔ اہم مضامین ہیں، اس کے علاوہ ایک علامتی مضمون ’’طوطا کہانی‘‘ کا بھی تجزیاتی مطالعہ کیاہے، جہاں طوطے سے مراد دراصل ایسی ذہنیت کے لوگ ہیں جن کا اپنا کوئی خیال و فکر نہیں ہوتا۔مصنف نے اپنے مضمون کے آخرمیں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ قرۃ العین اپنی مضامین لکھتے وقت افسانوی اسلوب کو اختیار کرجاتی ہیں لیکن اس سے ان کے غیرافسانوی تحریر کی اہمیت یا فن میں کوئی کمی یا خامی محسوس نہیں ہوتی۔ بلکہ یہی ان کی انفرادیت بن کر سامنے آتی ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ ’’قرۃ العین حیدر کے رپورتاژ‘‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ ابتدا میں رپورتاژ اور سفرنامے کے باریک فرق کو بیان کرنے کے بعد مصنف نے قرۃ العین حیدر کے پہلے رپورتاژ ’’لندن لیٹر‘‘ کا جائزہ لیاہے۔ یہاں بھی مصنف نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ رپورتاژ چونکہ ادب اور صحافت دونوں کے درمیان کی چیزہے، اس لیے یہاں بھی قرۃ العین حیدر کے یہاں افسانوی رنگ غالب ہے۔ مصنفہ جب کسی فرد یا کسی واقعے کا بیان کرتی ہیںتو اس کا پورا تاریخی وتہذیبی پس منظر بھی بیان کرتی ہے۔ اس ضمن میں انوارالحق اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’محض یہی نہیں کہ وہ فرد ،واقعہ یا منظر کو دیکھتی ہیں اور اس کی تاریخی و تہذیبی پس منظر کو زیریں بیان کرتی ہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تشبیہات، تلمیحات نہ جانے کیا کیا۔ ہر جملہ خود میں فلسفہ معلوم ہوتا ہے… جس کو پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں رپورتاژ کی ایک نئی شکل سامنے آتی ہے۔
سلام میم صاحب … وہ سامنے آکر کہتا ہے۔
میرے دوست فیروز جیسی اس سے پوچھتی ہے۔ ’’کیا تم بھی کبھی ہندوستان میں رہے ہو۔‘‘
’’نہیں… میں ڈنکرک فتح کرنے میں مصروف تھا اس لیے نہ جاسکا! وہ مسکراکر کہتاہے…‘‘ (صفحہ174-)
مذکورہ اقتباسات کے علاوہ کئی اور حوالے ڈاکٹر انوارالحق نے پیش کر کے قرۃ العین حیدر کے رپورتاژ اور ان کی خصوصیات کا تجزیہ پیش کیا ہے۔قرۃ العین حیدر کا مشہور رپورتاژ ’’ستمبر کا چاند‘‘، درچمن ہر وقتی حال دگرست‘‘ جیسے رپورتاژ بھی موضوع بحث ہیں۔’’ درچمن ہر وقتی حال دگرست‘‘ دراصل ایک تاریخی رپورتاژ ہے، جس میں قرۃ العین نے بنی اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ لیا ہے، جو ان کی علم اور تاریخ بیانی میں مہارت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ فرشتوں کی ملکہ مریم کا شہر، ’’تنہا ستارہ‘‘، ’’انعا اور اومیگا‘‘ وغیرہ مضامین جو موصوفہ کے رپورتاژ ’جہانِ دیگر‘ کا حصہ ہیں، پر بھی مختصراً گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی قرۃ العین حیدر کے دیگر رپورتاژ کے مجموعے اور ان کے مضامین پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
قرۃ العین حیدر کو ترجمہ نگاری کے میدان میں جو مہارت حاصل تھی، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کے تراجم ایک الگ تخلیق کا درجہ رکھتے ہیں، خود قرۃ العین حیدر نے بھی ’’آگ کا دریا‘‘ کا جو انگریزی ترجمہ ’’River of Fire‘‘ کے نام سے کیا اسے Translation نہیں بلکہ (Recreation) کا نام دیا۔ ڈاکٹر انوارالحق نے بھی ترجمہ نگاری کوTrancretaionکا نام دیا ہے، اس سلسلے میں مصنف نے کتاب کے تیسرے حصے ’’قرۃ العین حیدر کے تراجم‘‘ میں لکھا ہے:
’’…ترجمے میں جو خوبی غورکرنے کی ہے وہ ہے ان کی وہ تکنیک جو انھوں نے ترجمے میں استعمال کی ہے۔ انھوں نے لفظی ترجمہ نہیں کیا اور نہ ہی متن کے اصل مطلب سے انحراف کیا ہے۔ معنوی سطح پر ترجمہ اصل کے بالکل ہم پلہ ہے مگر متن کی سطح پر اگر دیکھا جائے تو اس سے پہلے کے اقتباسات کے مقابلے میں الفاظ اپنے اصل الفاظ کے بالکل بدل نہیں ہیں۔‘‘ (صفحہ421-)
غرض یہ کہ قرۃ العین حیدر نے جس فنکاری سے ترجمہ نگاری کے کام کو انجام دیاہے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے محض لغوی معنی کے مطابق دوسری زبان کے الفاظ سے تبدیلی کی تکنیک کو ہی استعمال نہیں کیا بلکہ جس زبان میں ترجمے کیا اس زبان کے تقاضے کا بھی خیال رکھا یہی نہیں بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے دیگر زبانوں کی کہاوتوں اور مہاورات کا استعمال بھی کیاہے۔
’’دامانِ باغبان‘‘ دراصل قرۃ العین حیدر کے خطوط کے مجموعے کا نام ہے۔ کتاب کا چوتھا حصہ ’’دامانِ باغباں‘‘ہے، جہاں مصنف نے قرۃ العین حیدر کی خطوط نگاری پر بھی تبصرہ کیا ہے اور ساتھ ہی ان مختلف خطوط کے اقتباسات کو بھی پیش کیاہے۔ یہ وہ خطوط ہیں جو مشاہیر وقت نے قرۃ العین حیدر کے والد والدہ کے نام لکھے یا انھوں نے دوسرے اہم لوگوں کو لکھے۔ مصنف نے چند اہم اور نامور شخصیات کے خطوط بھی کتاب کے آخر میں شامل کیے ہیں۔ہرحصے کے اختتام پر حواشی کا استعمال کیا گیا ہے جو تحقیقی نقطۂ نظر سے نہایت اہم ہیں۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر انوارالحق کی یہ کتاب ان معنوں میں اولیت کا درجہ رکھتی ہے کہ قرۃ العین حیدر کی غیرافسانوی تحریروں پر اس جواں سال ناقد نے جس گہرائی وگیرائی اور تفصیل کے ساتھ مطالعہ پیش کیا ہے اس کی مثال بڑی مشکل سے مل پائے گی۔ حالانکہ قرۃ العین کے غیرافسانوی نثر کے متعلق ادب کا ہر طالب علم واقفیت رکھتا ہے باوجود اس کے قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں پر جس توجہ کے ساتھ کام ہوا، اتنی توجہ ظاہر ہے ان کے غیرافسانوی نثر کو نہیں ملی تھی۔ لہٰذا میں ڈاکٹر انوارالحق کو مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ انھوں نے اس موضوع کی طرف نہ صرف یہ کہ خود کو راغب کیا بلکہ ایک اچھی اور تفصیلی کتاب تحریر کی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

