’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ انشا اللہ خان انشائ کی ایک اہم نثری تصنیف ہے۔ یہ ایک طبع زاد داستان ہے جو انشائ کی غیر معمولی زبان دانی اورذہانت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کاامتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ ہندی اوراردو دونوں زبان والے اس داستان کو اپنے ادب کا سرمایۂ افتخارسمجھتے ہیں۔اس لئے لسانی نقطۂ نظر سے دونوں زبانوں کے داستانوی ادب میں اس کواہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں زبانوں کے دانشوروں نے اس داستان کو اپنی زبان کی تخلیق ثابت کرنے کے لئے مختلف دلائل پیش کئے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر گیان چند جین نے اپنی کتاب’’اردوکی نثری داستانیں‘‘ میں جو ثبوت پیش کئے ہیں وہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے چند اہم نقطے یہ ہیں:
۱- اس کے تمام مخطوطے اردو رسم الحظ میں ملتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ مصنف نے اسے اردو کی تصنیف قرار دیاہے۔
۲- قصے کی ابتدا میں اردو کے ڈھنگ پر حمد و نعت اورمنقبت ہیں۔
۳- قصے میں جتنے اشعار ہیں وہ اردو اوزان میں ہیں۔
۴- انشا اردو ادیب ہیں۔ ہندی میںانہوں نے کوئی دوسری تصنیف نہیں کی۔
’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کے سن تاریخ میںاختلاف ہے۔ سعادت علی خان کے مطابق یہ داستان 1798 میں لکھی گئی جبکہ احسن مارہروی اور رام بابو سکسینہ نے اس کی تاریخ تصنیف 1803ئ بتائی ہے۔ مولانا امتیاز علی عرشی کاخیال ہے کہ یہ 1808ئ میں تحریر کی گئی۔ان تاریخوں پرنظر ڈالنے سے ایک بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس داستان کو فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد قلم بند کیاگیا۔ جس زمانے میں میرامن دہلوی کلکتہ میں فارسی زبان کی مشہور کتاب ’’قصہ چہاردرویش‘‘ کاترجمہ عام فہم، سلیس اور سادہ زبان میں کررہے تھے،ا سی دور میں انشا لکھنؤ میں ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ لکھ کر ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں مصروف تھے۔ اس وقت عربی اور فارسی سے بوجھل مقفیٰ و مسجع عبارتیں لکھنے کا دستور عام تھا۔ ایسے میں میر امن نے ’’باغ وبہار‘‘ لکھ کرسہل نگاری کی مستحکم بنیاد رکھی۔ اس کتاب کو کافی شہرت حاصل ہوئی اورآج بھی اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔
عام خیال یہ تھا کہ عربی و فارسی زبان کی مدد کے بغیر اردو میں تصنیف ممکن نہیں۔ انشا جیسے زبان وبیان پر قدرت رکھنے والے اختراعی ذہن کے قلم کار کے لئے یہ ایک بڑاچیلنج تھا۔ انہوں نے تہیہ کیا کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھیں گے جس میں عربی و فارسی کا ایک لفظ بھی نہ ہو اور ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ لکھ کرانہوں نے یہ ناقابل یقین کارنامہ انجام دیا۔
’’باغ وبہار‘‘ اور’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کی مشترکہ خوبی یہ ہے کہ دونوں آسان اور عام بول چال کی زبان میں تحریر کی گئی ہیں۔ دونوں کی لسانی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یکسانیت کے باوجود دونوں کے درمیان کچھ خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں جن میں سے چند ذیل میںدرج کئے گئے ہیں:
۱- ’’باغ وبہار‘‘ میں عربی اور فارسی کے الفاظ نہایت سلیقے سے استعمال کئے گئے ہیں جبکہ ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ خالص ہندوستانی زبان میں لکھی گئی ہے۔
۲- ’’باغ وبہار‘‘ فارسی کتاب کاترجمہ ہے جبکہ ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ طبع زاد داستان ہے۔
۳- ’’باغ وبہار‘‘ میں عہد مغلیہ کی معاشرت اورتہذیب و تمدن کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ اس کے برعکس ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ میں لکھنوی تہذیب کارنگ گہراہے۔
۴- ’’باغ وبہار‘‘ فورٹ ولیم کالج میں ڈاکٹر جان گل کرسٹ کی نگرانی میں اور ان کی ہدایت پر تحریر کی گئی۔ دوسری طرف ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کسی ادارے یاتنظیم کے زیر سرپرستی نہیں لکھی گئی۔
انشا اللہ خان انشا کی شخصیت جامع الکمالات تھی۔انہیں کئی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ وہ اردو، فارسی اورعربی زبان کے ماہر تھے۔ علاوہ ازیں ترکی، ہندی، پشتو، پنجابی وغیرہ سے اچھی خاصی آشنائی تھی۔ محمدحسین آزاد نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی زبانیں ان کے گھر کی لونڈی ہیں۔ انشائ جیسی ذہانت، قابلیت، تخلیقی صلاحیت، حاضر جوابی،بزلہ سنجی، قوت ایجاد اور علمیت رکھنے والی شخصیت چشم فلک نے کم دیکھی ہوگی۔ وہ فن شعر گوئی پر بلاکی مہارت رکھنے والے زود گوشاعر ہونے کے ساتھ ایک باکمال اور عدیم المثال نثرنگار گزرے ہیں۔ انشائ کی ولادت 1752 میں مرشد آباد میں ہوئی اور بنیادی تعلیم بھی اسی شہر میں حاصل کی۔احمد علی سندیلوی کے مطابق صرف سولہ برس کی عمر میںہی انشائ نے اپنا دیوان مکمل کرلیاتھا۔ ادبی دنیا کے لئے انہوں نے ایک بڑا شعری سرمایہ چھوڑا ہے۔ انشا بلاکے نثر نگار تھے۔ ’’لطائف السعادت‘‘، ’’دریائے لطافت‘‘، ’’سلک گوہر‘‘ اور ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ انشا کی نثری صلاحیت پر دال ہیں۔ آخری الذکر دونوں کتابوں کاتعلق داستان سے ہے۔ یہ دونوں داستانیں لسانی اعتبار سے تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔’’سلکِ گوہر‘‘ انشا کی جدت طبع کی عمدہ مثال ہے۔ یہ بغیر نقطے کی کتاب ہے۔’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ انشا کے ماہر زبان ہونے کی منہ بولتی تصویر ہے۔مذکورہ دونوں کہانیاں ایک مدت تک ہماری دسترس سے باہر تھیں۔بھلا ہو بابائے اردو مولوی عبدالحق اور امتیاز علی عرشی کاجن کی کوششوں سے بالترتیب ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ اور ’’سلکِ گوہر‘‘ منظر عام پر آئیں۔ دونوں داستانوں میں ایسی قابل رشک زبان کا استعمال ہواہے کہ پڑھنے والا عش عش کراٹھتا ہے۔
داستان لکھنے کااصل مقصد وقت گزاری اور تفریح کاسامان فراہم کرنا ہواکرتاتھا۔ داستان گو اپنی قوت متخیلہ کے سہارے قصہ میں مافوق الفطرت عناصر کی شمولیت سے حیرت واستعجاب کی ایسی خیالی دنیا کا نقشہ پیش کرتا ہے کہ سننے والا خود کو وہاں کاباشندہ تصورکرنے لگتاہے اور تھوڑی دیر کے لئے اس مادی دنیا کے آلام بھول جاتا ہے۔ اکثر لکھنے والوں نے ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس داستان کی وجۂ تخلیق تفریح کے ساتھ ہی ساتھ ایک مخصوص زبان پر قدرت رکھنے کااظہار اور طرز بیان کاجادو جگانا تھا۔ لیکن غور کرنے سے پتہ چلتاہے کہ اس کے معرض وجود میں آنے کے پیچھے ایک اور بڑی وجہ تھی۔ انشائ کے دورمیں عربی اورفارسی آمیز اردو بولنے اورلکھنے کاچلن عام تھا۔ خیال کے اظہار سے زیادہ جملوں کی سجاوٹ اوربناوٹ پر توجہ دی جاتی تھی۔ شعرا حضرات اس دوڑمیں کب پیچھے رہنے والے تھے۔ مشکل زمینوں میں شعرکہنے، علمیت کی دھاک جمانے کے لئے شعوری طور پر عربی، فارسی تراکیب استعمال کرنے اور سخت قوافی کو فنکارانہ طریقے سے شعر میں برتنے کو طرۂ امتیاز سمجھا جانے لگا تھا۔ یوں کہہ لیجئے کہ اردو کو عربی اورفارسی کاضمیمہ سمجھاجاتاتھا۔ سماجی طورپر یہ ذہنیت تیار ہوچکی تھی کہ مذکورہ دونوں بیرونی زبانوں کی مددکے بغیر اردو ایک قدم نہیں چل سکتی۔انشا اللہ خاں انشائ جیسا قوت ایجاد رکھنے والا شاعر اور ماہر نثر نگار اس کو کیسے قبول کرسکتاتھا۔ وہ اردوکوایک خودمختار زبان تصورکرتے تھے۔ان کاخیال تھا کہ یہ زبان دوسری زبانوں کی محتاج بالکل نہیں ہے۔ اسے بیساکھی کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں اپنے بل بوتے پرکھڑے رہنے اور پھولنے پھلنے کی پوری توانائی موجود ہے۔ اپنی اسی سوچ کے تحت انشائ نے اردو کی تاریخ میں پہلی بار اردو قواعد کی کتاب ’’دریائے لطافت‘‘ کے نام سے فارسی زبان میں لکھ کرثابت کرنے کی کوشش کی کہ اردو ایک زبان کی حیثیت سے اپنی انفرادی شناخت رکھتی ہے اور اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں انشا نے ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ تحریر فرمائی۔
’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کے تمام کرداروں کے نام وہ نام ہیں (سورج بھان، کنوراودے بھان، جگت پرکاش، کیتکی، مدن بان اور مہندر گر)جنہیں ہندومذہب اورہندوستانی روایت اورعقائد کے اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔اس تناظر میں ناموں پرنگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ کرداروں کے مزاج اور باہمی رشتے کی مناسبت سے ایسے نام وہی رکھ سکتا ہے جس کے اندر بلا کی تخلیقی قوت ہو، لفظیات کی معنویت پر گہری نظر ہو اور جو ہندوستانی تہذیب سے بھرپور آشنائی رکھتا ہو۔فارسی الاصل اور عربی الاصل الفاظ سے بچنے کے لئے انشا نے ایسی کہانی کا تانابانا بنا ہے جس کا تعلق ہندوسماج سے ہے۔ غالباً یہ اردو کی پہلی داستان ہے جو ہندوستانی رسم ورواج، معاشرت اور تہذیب کوبنیاد بناکر لکھی گئی ہے۔ ایسا کرنے سے انشا کو یہ فائدہ ہواکہ کرداروں کے سماجی، ثقافتی اور معاشرتی پس منظر کو بیان کرنے کے لئے انہیں اردو یاہندوستانی الفاظ دستیاب ہوگئے۔
داستان ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کو ادبی و لسانی اہمیت اور ضرورت کے مد نظر مختلف ادوار میں ترتیب کے مرحلے سے گزرناپڑا۔ مرتبین میں مولوی عبدالحق، سید سلیمان حسین، امتیاز علی عرشی، بابو شیام سندرداس، انتظار حسین،پروفیسر عبدالستار ردولوی، پروفیسر افغان اللہ خان اورپروفیسر صاحب علی کے نام قابل ذکر ہیں۔ مولوی عبدالحق نے ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کو ’’داستان رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں ان کادیباچہ، پیش لفظ، تجزیہ وتبصرہ اورانشا اللہ خاں انشا کے مختصر حالات زندگی وغیرہ شامل ہیں جن سے کتاب کی قدروقیمت پر روشنی پڑتی ہے۔ کتاب میں موجود دیباچے کے آخری حصے میں اس داستان کے نسخے کی دستیابی اور اسے ترتیب دینے کی ضرورت کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔مولوی عبدالحق لکھتے ہیں:
’’اس داستان کا ذکر مدت سے سنتے آئے تھے لیکن ملتی کہیںنہ تھی۔ آخر ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کی پرانی جلدوں میں اس کا پتا لگا۔ مسٹر کلنٹ پرنسپل لامارٹن کالج،لکھنؤ کو اس کاایک نسخہ دستیاب ہوا تھا جسے انہوں نے سوسائٹی کے رسالے میںطبع کرادیا۔ 1852ئ میں ایک حصہ طبع ہوا اور دوسرا حصہ 1855ئ میں لیکن بہت غلط چھیپی تھی۔ اردو میںشائع ہونے کے بعد میرے عنایت فرماجناب پنڈت منوہر لال زتشی ایم۔اے نے از راہ کرم اس کا ایک نسخہ جو کبھی لکھنؤ میں ناگری حروف میں چھپا تھا، عنایت فرمایا۔ اس نسخے سے مقابلہ کرکے اورجہاں تک مجھ سے ممکن ہوا اس کی تصحیح کی اور اب شاید ایک آدھ مقام کے سوا کہیں کوئی لفظ مشتبہ باقی نہیں رہا۔‘‘
اس داستان کو شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب علی نے 2011 میں مرتب کرکے شائع کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کی بازار میں دستیابی کے باوجود اسے ترتیب دینے کا خیال مرتب کے دماغ میں کیسے آیا؟ اس سوال کاجواب دیتے ہوئے خود مرتب نے اپنے دیباچے میں لکھا ہے کہ اسے طلبا کی ضرورت کے تحت ترتیب دینے کی غالباً یہ پہلی کوشش ہے۔
’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ اردو کی مختصر ترین داستانوں میں سے ایک ہے۔ یہ تقریباً پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے اختصار کی وجہ اس کا پلاٹ اوراس کی زبان ہے۔ اس کا قصہ بالکل روایتی ہے۔پلاٹ بالکل سادہ ہے یعنی اس میں کوئی پیچیدگی یاالجھاؤ نہیں ہے۔ پیچیدگی سے مراد یہ ہے کہ آغاز اورانجام کے درمیان میں ایک کہانی سے سیکڑوں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ ایسا ہونے سے داستان میں طوالت پیدا ہوتی ہے۔ یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پوری داستان خالص ہندوی یا ہندوستانی زبان میں لکھی گئی ہے۔ کردارفطری تقاضے کے تحت جملے اداکرتے ہیں۔ داستان کی طبیعت کے عَلَی الرّغم شعوری طورپر انشا نے طویل بیانات سے گریز کیا ہے۔ انشا نے اپنے عہد کے ہندوستانی سماج کامشاہدہ بڑی گہرائی سے کیا تھا۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے بڑی ہنر مندی سے معاشرے میں موجود ذات پات اوربھید بھاؤ کی برائی کا اظہار داستان میں کیا ہے۔فضا بندی یاجزیات نگاری میں الفاظ بہت صرف نہیں کئے گئے ہیں بلکہ قصے کے تقاضے کے تحت اس پر توجہ دی گئی ہے۔ اس داستان میں رانی کیتکی اورکنور اودے بھان کی شادی کے موقع کی مناسبت سے انشا نے جزیات نگاری کی ہے۔شادی کی تیاری، برات، رخصتی اوردیگر اخراجات وغیرہ کے رسم ورواج پرباریکی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ شادی کی تقریب کی تفصیلات بیان کرکے انشا نے اس زمانے کی ہندستانی معاشرت کی تصویر کشی کی ہے۔ دو اقتباسات دیکھیں:
’’دولہا اودے بھان سنگاسن پر بیٹھا، ادھر ادھر راجہ اندر اور جوگی مہندرگرجم گئے۔ دولہ کاباپ اپنے بیٹے کے پیچھے مالا لئے کچھ کچھ گنگنانے لگا اور ناچ لگاہونے اور ادھر میں جو اوڑن کھٹولے اندر کے اکھاڑے کے تھے سب کے سب رس روپ سے چھت باندھے ہوئے تھرکاکئے۔ مہارانیاں دونوں سمدھنیں آپس میں ملیاں جلیاں اور دیکھنے داکھنے کوکوٹھوں پر چندن کے کواڑوں کے اڑتلوں میں آبیٹھا……‘‘
’’اور سب راج بھر کی بیٹیاں سدا سہاگن بنی رہیں… سب کوٹھوں کے ماتھوں پر کیسر اورچندن کے ٹیکے لگے ہوں اور جتنے پہاڑ ہمارے دیس میں ہوں اتنی ہی روپے سونے کے پہاڑ آمنے سامنے کھڑے ہوجائیں اور سب ڈانکوں کی چوٹیاں موتیوں کی مانگ سے بن مانگے تانگے بھرجائیں۔اورپھولوں کے گہنے اوربندن واروں سے سب جھاڑ پہاڑ لدے پھندے رہیں اور اس راج سے لگا اوس راج تلک ادھر میں چھت سی باندھ دو……‘‘
’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘میں مختلف مقامات پر انشا اللہ خاں انشائ نے مقفیٰ اور مسجع عبارتیں تحریر کرکے اپنی استادانہ صلاحیت کا خوب خوب مظاہرہ کیا ہے۔ مثال کے طورپر یہ جملے ملاحظہ فرمائیں:
’’… وہ دونوں بھوؤں کی کھچاوٹ اورپتلیوں میں لاج کی سماوٹ اورنوکیلی پلکوں کی رونداہٹ اور ہنسی کی لگاوٹ دنتبریوں میں مسی کی اوداہٹ اور اتنی بات پر روکاوٹ سے ناک اور تیوی چڑھالینا…‘‘
’’… اون کے اوبھار کے دنوں کاسہاناپن اور چال ڈھال کااچھن پچھن اوٹھتی ہوئی کونپل کی پھبن اورمکھڑے کاگدرا یا ہواجوبن جیسے بڑے تڑکے ہرے بھرے پہاڑوں کی گود سے سورج کی کرن نکل آتی ہے…‘‘
مجموعی طورپر یہ کہاجاسکتاہے کہ ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ اپنے لسانی امتیازات اور خصوصیات کی بنا پر داستانوی ادب میں اپنی انفرادی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک غورطلب بات یہ بھی ہے کہ انشا نے اس داستان کو جس ہندوستانی تصور پر استوارکیاوہ قابل تقلید نہیں بن پایا۔ اگرانشا کی کوشش بارآور ہوتی تواردو میں دجلہ و فرات اورنسرین ونسترن کے تناظر میں جو اعتراضات کئے جاتے ہیں اس سے بھی عہدہ برآ ہونا ممکن ہوپاتا اورعین ممکن ہے کہ اس کے بعض خوشگوار نتائج بھی دیکھنے کوملتے۔
Dr. Ahmed Meraj
Kolkata
Mobile: 9681318473
E-mail: ahmedmeraj065@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

