پچھلی تین دہائی کے دوران یورپ بالخصوص امریکہ میں رومی کے تئیں غیر معمولی ،حیرت انگیز اور پر اسرار قسم کی دلچسپی سامنے آئی ہے،اس حد تک کہ چار سال قبل آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ فلم ’’گلیڈی ایٹر‘‘کے اسکرپٹ رائٹر ڈیوڈ فرانزونی (David Franzoni)نے مولانا رومی پر فلم بنانے کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد سے انھوں نے قونیہ کا دورہ بھی کیا تھا،مولانا کا کیرکٹر لیونارڈو ڈی کیپریو(Leonardo DiCaprio) کے اداکرنے کی باتیں سامنے آرہی تھیں ،مگر فرانزونی کے اعلان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ہنگامۂ رستاخیز برپا ہوگیا اوراس کے بعد غالباً یہ پروجیکٹ کھٹائی میں پڑگیا ہے۔2014میں ایرانی فلم ساز داریوش محروجی اور مجتبی رئیس بھی رومی کی بایو پک بنانے لگے تھے،مگر ایران پر اقتصادی پابندیوں اور فنڈز کی شدید کمی کی وجہ سے نہیں بناپائے ۔امریکہ میں البتہ 1998میں مولانا پر ایک دستاویزی فلم Rumi:Poet of the Heartکے نام سے بن چکی ہے۔
اِس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ انگریزی زبان سے واقف ہیں ،تو گوگل پر رومی لکھ کر سرچ کریں،چاروں طرف ڈھیروں زرق برق اقوال واقتباسات جگمگاتے نظر آئیں گے اوران کے نیچے ’’رومی‘‘ لکھا ہوگا، رومی کا عنکبوتی جہان آپ کی نگاہوں کو خیرہ کردے گا۔یہ اقتباسات عام طورپر مختصر اور بڑے معنی خیز ہوتے ہیں اور اگر ان میں کوئی معنی خیزی نہ بھی ہو ،تو رومی کا ٹیگ ہی دیکھنے والے کے لیے وجہِ کشش بن جاتا ہے؛چنانچہ سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً کئی عالمی سطح کے سیاسی رہنما،ایکٹرس یا دانشوران مختلف حوالوں سے ان اقتباسات کو کوٹ کرتے نظر آتے ہیں؛بلکہ عوامی زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی بڑے نام ہیں، جنھوں نے یہ اعتراف کیا کہ مشکل وقتوں میں رومی نے انھیں سہارا دیا،ان کے دل کو مضبوط کیایا ان کے ذہن میں چلنے والے خیال اور فکر کو دلیل و سند فراہم کی ہے۔اس حوالے سے معروف برطانوی راک بینڈColdplayکے بانیوں میں سے ایک کریس مارٹن کا نام اہمیت کا حامل ہے۔جب اداکارہ گوینتھ پالٹرو(Gwyneth Paltrow )سے ان کی طلاق ہوگئی،تو ان دنوں وہ سخت ذہنی و نفسیاتی کشمکش سے دوچار تھے،اس دوران ان کے ایک دوست نے انھیں رومی کی شاعری کا ترجمہ پڑھنے کو دیا،جس سے انھیں کافی سکون ملا،انھوں نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہاکہ’’اس کتاب نے میری زندگی میں ایک قسم کی تبدیلی پیدا کردی‘‘۔(روزینہ علی،دی نیویارکرمیگزین،5؍جنوری 2017)اس فہرست میں معروف امریکی پاپ سنگر میڈونا (Madonna )اوربرطانوی ایکٹر ٹلڈا سوِنٹن(Tilda Swinton) وغیرہ کے نام بھی آتے ہیں۔ 29؍اپریل2020کو وفات پانے والے بالی ووڈ اکار عرفان خان کے سوانح نگاراسیم چھابرا نے اپنی کتاب میں لکھاہے کہ ’’جب عرفان لندن میں زیر علاج تھے،تو ایک دن اداکار وپن شرماان سے ملنے کے لیے ہسپتال پہنچے،وہاں پہنچ کر ریسپشنسٹ سے انھیں معلوم ہوا کہ عرفان اپنی اہلیہ کے ساتھ کافی کے لیے باہر گئے ہیں۔وپن شرما ان کے روم میں داخل ہوئے توکہتے ہیں کہ ’’میں نے عرفان کے بستر پرایک کتاب دیکھی ،جو کھلی ہوئی اوندھی پڑی تھی،میں کبھی وہ اِمیج نہیں بھول سکتا،کاش میں اس کی تصویر کھینچ لیتا۔مجھے یہ دیکھ کربہت اچھا لگا،رومی کی کتاب عرفان کے بستر پررکھی تھی،مجھے محسوس ہوا کہ اصلی عرفان یہی ہے‘‘۔(عرفان خان:دی مین،دی ڈریمر،دی اسٹار،اسیم چھابرا) پچھلے دنوں سشانت سنگھ راجپوت کی موت ہوئی،تو سوشل میڈیا پر ان کا اکتوبر 2019کا ایک ٹوئٹ وائرل ہوا،جو زندگی کی بے ثباتی کے بارے میں رومی کے قول پر مشتمل تھا،انھوں نے اسے رومی کے نام کے ساتھ ٹوئٹ کیا تھا:Like the shadow,i am and i am notحد تو یہ ہے کہ 2018 کے وسط میں انوراگ کشیپ کی ایک فلم’’من مرضیاں‘‘آئی تھی،جس کے فیمیل کیرکٹر کا نام’’رومی‘‘تھا،پتانہیں کیوں؟حالاں کہ رومی اگر لوگ نام رکھتے بھی ہیں،تو لڑکوں کا رکھتے ہیں اور ذہنی پس منظر میں وہی مولانا رومی ہی ہوتے ہیں۔معلوم نہیں کسی فلم رپورٹر ،انٹرویور نے انوراگ کشیپ سے پوچھا یا نہیں کہ انھوں نے تاپسی پنو کا نام رومی کیوں رکھا تھا؟ (یہ بھی پڑھیں زندگی تیرے لبوں کا دل انگیز رقص ہے /سہراب سپہری – ترجمہ:نایاب حسن )
انگریزی میں رومی ،ان کی زندگی اور شاعری پر ’’دی ایسنشیئل رومی‘‘،’’لائک دِس‘‘،’’رومی-دی بک آف لو‘‘،’’دی سول آف رومی‘‘،’’اے ایئر وِد رومی‘‘،’’رومی-دی بگ ریڈبک‘‘،’’دی الیومنیٹڈ رومی‘‘،’’رومی-مسٹیکل صوفی پوئٹری‘‘،’’رومی-سول فیوری‘‘، ’’رومی-دی گلینس‘‘،’’اوپن سیکریٹس‘‘،’’رومی-بریج ٹو دی سول‘‘،’’برڈسونگ‘‘،’’رومیز لٹل بک آف لو اینڈ لافٹر‘‘، ’’رومی-پوئٹ آف دی ہارٹ‘‘،’’دِس لونگنگ‘‘،’’وی آر تھری‘‘ جیسی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔انٹرنیٹ پر انہی کتابوں کے اقتباسات گردش کرتے رہتے ہیں۔جیسا کہ میں نے لکھا عموماً ان میں اختصار کے ساتھ معنی خیزی بھی ہوتی ہے، جوانسان کو اٹریکٹ کرتی ہے،آپ کو کئی ایسی ویب سائٹس ملیں گی ،جو صرف رومی کے اقتباسات یا ان سے منسوب مختلف فلسفیانہ قسم کے مضامین شائع کرتی ہیں،مگر ان کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ رومی کی مسلم شناخت کہیں سے بھی ظاہر نہیں ہونے دی جاتی ـ ذاتی طورپر میں نے بارہا سوچا کہ رومی تو مسلم تاریخ کا ایک اہم اور نمایاں چہرہ ہیں اور ان کی پہچان ایک بڑے صوفی، عارف باللہ اور معلمِ اخلاق کی ہے،مگر انگریزی کے ان اقتباسات میں کہیں بھی کسی لفظ سے ایسا اشارہ بھی نہیں ملتا،عموماً ان اقتباسات کو پڑھ کر ایک رومانوی ہیومنسٹ اور سیکولر مفکروشاعر کی شبیہ ذہن کے پردے پر ابھرتی ہے۔
اسی وجہ سے جو لوگ رومی کی شخصیت اور ان کی زندگی سے واقف ہیں ان کے ذہن میں فطری طورپر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ بیس تیس سال کے دوران رومی کے جو انگریزی تراجم سامنے آئے ہیں،وہ مخلوط و محرَّف تو نہیں ہیں؟ان میں جعل سازی سے توکام نہیں لیاگیا ہے؟یہ سوال خودفارسی و مشرقی علوم کے کئی ماہرین کے ذہن میں پیدا ہوا اور انھوں نے اس پر تحقیق کی،تو پتا چلا کہ واقعی دال میں کالا ہے۔رومی کی دریافتِ نوکے نام پر عالمی سطح پر کچھ گول مال ہو رہا ہے۔ پچھلے مہینے @Persian Poeticsنامی ٹوئٹر ہینڈل پر اس تعلق سے متعدد ٹوئٹس نظر آئے،جن میں اختصار کے ساتھ رومی کے انگریزی اقتباسات کی اصلیت سے پردہ اٹھایا گیا تھا۔وہیں ایک مثال بھی پیش کی گئی تھی،جسے 27فروری 2020کوامریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے اپنے والد کے افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام ہونے کے بعد ٹوئٹ کیاتھا :
Out beyond ideas
of wrongdoing and rightdoing,
there is a field.
i’ll meet you there.
اوراس کی نسبت رومی کی طرف کی گئی تھی۔ مشہور ہالی ووڈ ایکٹر بریڈ پٹ نے اپنے بازو پر اس کا ٹیٹو بنوا رکھا ہے۔
یہ اقتباس کہاں سے ہے؟ یہ کولمین بارکس(Coleman Barks،پیدایش:1937) کی امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابThe Essential Rumiسے ہے ۔بارکس صاحب نے اپنا پورا کریئر رومی کی ترجمانی کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان صاحب نے نہ تو کبھی اسلام کا مطالعہ کیا ،نہ تصوف کی نظریاتی اَساس اوراس کی تعلیمات سے براہِ راست واقفیت رکھتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ فارسی زبان بھی نہیں جانتے،مگراس وقت دنیا بھر میں شارحِ رومی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں رومی سے منسوب مال دھڑادھڑسپلائی کرتے ہیں،اب تک ان کی لگ بھگ دودرجن کتابیں آچکی ہیں،جن میں انھوں نے رومی کی تشریحات پیش کی ہیں،اوپر جتنی کتابوں کا ذکر کیاگیا،سب انہی کی اکیلے کی یا کسی کے ساتھ مل کرلکھی ہوئی ہیں۔ یہ رومی کو انگریزی تراجم کی مدد سے سمجھتے ہیں اور پھر موجودہ امریکن انگریزی میں ان کی ترجمانی کرتے ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں جان موئن (John Moyne)اوررینالڈ نکلسن (Reynold A. Nicholson) وغیرہ پر انحصار کیا ہے۔یعنی کئی واسطوں سے یہ شارحِ رومی ہیں اور اپنے ذہن کی چکنی چپڑی خرافات رومی کی طرف منسوب کرکے ساری دنیا میں رومی کے رومانٹیسائزیشن وسیکولرائزیشن کا بیڑا اٹھایاہوا ہے۔ آج کے دور میں دنیا کے ہر خطے میں شعر و ادب پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہوتے ہیں ،مگر ان کی اب تک پانچ لاکھ سے زائد کتابیں بک چکی ہیں۔پتا نہیں یہ رومی کے نام کا کرشمہ ہے یا بارکس کے طرزِ پیش کش کا کمال ہے۔گزشتہ مسلسل تین دہائیوں سے یہ رومی کی’’بالواسطہ ترجمانی‘‘کررہے ہیں اور بڑی ہوشیاری و چالاکی کے ساتھ انھوں نے سارے عالم میں اپنے آپ کوماہرِرومیا ت منوالیا ہے۔ اپنے رومی کے ترجموں پروہ اپریل2013 میں Ted talk بھی پیش کرچکےہیں،حتی کہ اہلِ ایران نے بھی رومی پر انھیں اتھارٹی تسلیم کرلیا ہے اور2006میں انھیں ایران کی دانش گاہِ اعلیٰ تہران یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادب میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا جا چکا ہے۔گویا خود اہلِ زبان نے بارکس کو سرٹیفکٹ دے دیا ہے کہ تم جو کچھ کررہے ہو،بہت اچھا ہے،کرتے رہو۔
حالاں کہ ڈیوک یونیورسٹی میں ایشین ومڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر اوررومی کی تفہیم کے لیے illuminatedcourses.com پر آنلائن کورس کروانے والے ڈاکٹر امید صافی کاکہناہے کہ’’مجھے تو یہاں ایک قسم کی روحانی سامراجیت کام کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔یہ ایک ایسے روحانی منظرنامے کو بائی پاس کررہی،اسے مٹارہی اور اس پر اپنا تسلط جما تی جارہی ہے،جو بوسینیا سے استنبول، قونیہ سے ایران اور مرکزی و جنوبی ایشیا تک کے مسلمانوں کے درمیان مشترکہ وجود رکھتا ہے‘‘۔(روزینہ علی،دی نیویارکرمیگزین،5؍جنوری 2017)
بارکس کے کام کے جعلی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مثنوی کو اہلِ ایران، پہلوی زبان میں قرآن یعنی قرآنی مضامین کا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔پس اس کوبغیر قرآنی مضامین کو پڑھے اور سمجھے ہوئے کماحقہ نہیں سمجھا جاسکتا؛کیوں کہ رومی جگہ جگہ قرآنی آیات و احادیث کے اقتباسات استعمال کرتے ہیں ،دوسری طرف کو لمین کا خود بیان ہے کہ ان کے لیے قرآن کو پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے رومی کے ان تمام اشعار کے ترجموں میں غیر معمولی تحریف کی ہے،جن میں کسی قرآنی،مذہبی اصطلاح کا استعمال کیا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت – نایاب حسن )
اب ذرا ایوانکا ٹرمپ والے اقتباس کی بھی بات کرلیتے ہیں ، دیکھیں تو کہ رومی کیا کہتے ہیں اور بارکس صاحب نے ان کی ترجمانی کس طرح کی ہے۔اصل اشعار یوں ہیں:
ازکفر و زاسلام برون صحرا ئیست
مارا بہ میانِ آں فضا سودائیست
عارف چوبدان رسید سر رابنہد
نہ کفر و نہ اسلام و نہ آنجا جائیست
یہ اشعار ’’دیوانِ شمس تبریز ‘‘کے ہیں ،اردو ترجمہ ان اشعار کا یوں ہوگا:
کفر و اسلام سے پرے ایک صحرا ہے،اس درمیانی جگہ کے بارے میں ہم سب کے اپنے اپنے خیالات ہیں،جب ایک عارف وہاں پہنچتا ہے تو وہ سربسجود ہوجاتا ہے،نہ وہاں کفر ہے، نہ اسلام ہے اورنہ کوئی اور جگہ ہے۔
ان اشعار کا انگریزی ترجمہ،جو صحیح بھی ہے،پرشین پوئٹکس ٹوئٹر ہینڈل پر یہ کیاگیا ہے:
Beyond kufr and islam
there is a desert plain
in that middle space
our passion reign.
When the gnostic arrives there
he will prostrate himself,
not kufr not islam nor is there
any space in that domain.
اب آپ اس ترجمے اور اوپر مذکور(پچھلی قسط میں) کولمین بارکس کے ترجمے کے درمیان موازنہ کرکے دیکھ لیجیے،دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے؛بلکہ وہ تو سرے سے ان اشعار کا ترجمہ ہے ہی نہیں،ان کے اپنے دل میں جو بات تھی،اسے رومی کی طرف منسوب کردیا اور اشعار میں مذکور مخصوص علامات و اصطلاحات کولفظIdeasکے غلاف میں لپیٹ دیاہے ۔
ایک مثال اور لے لیجیے:
بازآ بازآ ہر آنچہ ہستی بازآ
ٓ گر کافر و گبر و بتپرستی بازآ
این درگه ما درگه نومیدی نیست
صد بار اگر توبه شکستی بازآ
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس رباعی کی نسبت مولانا کی طرف درست نہیں ہے،یہ چوں کہ مولانا کے مقبرے پر کندہ ہے ؛اس لیے بہت سے لوگوں کو یہ دھوکہ ہوگیا کہ یہ مولانا کی رباعی ہے۔یہ اصل میں پانچویں صدی کے ایک دوسرے صوفی شاعر ابوسعید ابوالخیر کی رباعی ہے۔اوریجنل فارسی رباعی انٹرنیٹ پر عموماً اصل شاعر کے نام سے ہی ملتی ہے،مگر انگریزی ترجمہ ہر جگہ مولانا رومی سے منسوب ملتا ہے اور یہ کارنامہ بارکس کا ہے۔ ریختہ کی ذیلی سائٹsufinama.orgپر اس رباعی کا انگریزی ترجمہ تو مولانا رومی سے منسوب کرکے نشر کیاگیا ہے،مگر فارسی رباعی ،اصل شاعر یعنی ابوسعید ابوالخیر کے نام اور ان کی کتاب کے حوالے کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔
اردوترجمہ ان اشعار کا یوں ہوگا:لوٹ آؤ،لوٹ آؤ تم جو کوئی بھی ہو لوٹ آؤ۔اگر کافر و آتش پرست اور بت پرست ہو تو بھی لوٹ آؤٔ۔ہماری درگاہ مقامِ ناامیدی نہیں ہے۔اگر تم نے سیکڑوں بار توبہ شکنی کی ہے، تو بھی لوٹ آؤ۔اس کا ترجمہ کولمین بارکس یوں کرتے ہیں:
Come,come
whoever you are.
wanderer,worshiper,lover of
leaving.It dosen’t matter.
Ours is not a carvan of despair
Come,even if you have broken
your vows a thousand times come,
yet again,come,come.
اس ترجمے کا اصل متن سے موازنہ کیجیے اور ایک دوسرا ترجمہ ملا حظہ فرمائیے:
Come again come again
whatever you are come again,
if you’re a kafir or idol-worshiper come again.
This home of ours is not
a home of hopelessness,
even if your’ve repented one
hundred times,come again.
ترجمہ کے بنیادی اصولوں میں دو چیزیں بہت اہم سمجھی جاتی ہیں،ایک تو یہ کہ مترجِم ،مترجَم الیہ اور مترجَم منہ دونوں زبانوں سے پوری طرح باخبر ہو،دونوں زبانوں کے لسانی و تہذیبی مزاج و مذاق سے کم ازکم اس حد تک تو واقف ہو کہ متن میں مذکور لفظوں کا درست متبادل پیش کرسکے اور دوسری اہم چیز ہے دیانت؛بلکہ کئی دفعہ ایک مترجم کے لیے دیانت داری زیادہ ضروری ہوجاتی ہے؛کیوں کہ ممکن ہے کہ بعض مرتبہ آپ کسی متن کا ترجمہ کرتے ہوئے صاحبِ متن کے کسی فکر و خیال سے متفق نہ ہوں،مگر اس کے باوجود آپ کے لیے یہ درست نہ ہوگا کہ آپ ان کے خیال کو ترجمے میں بدل دیں یا اس میں تحریف کردیں،اسی طرح یہ بھی ناجائز ہے کہ آپ ترجمےمیں صاحبِ متن کی باتوں کے علاوہ اپنی طرف سے کچھ باتیں داخل کردیں،چاہے وہ باتیں لسانی،ادبی یا فکری اعتبار سے درست اور کتنی ہی خوب صورت کیوں نہ ہوں۔معروف عراقی فکشن نگار اور ادبی مترجم اسنان انطون کہتے ہیں کہ’’زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی ؛بلکہ یہ یادوں کے ایک پورے خزانے،ایک تہذیب اور ایک ورثے کے تحفظ کا وسیلہ ہوتی ہے‘‘۔(روزینہ علی،دی نیویارکر میگزین)دوثقافتوں کے درمیان رابطہ کار کے طورپر مترجم ایک اہم اور اہم سیاسی منصوبے پر کام کرتا ہے۔پس اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ترجمے میں ایسا طریقہ اختیار کرے کہ تیرہویں صدی کی فارسی شاعری آج کے امریکی معاشرے کے لیے قابلِ فہم ہو سکے،مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کا متن کے تئیں دیانت دار ہونا اور اس دیانت کا عملی اظہار بھی ضروری ہے،مگر افسوس کہ کولمین بارکس نے رومی کا جتنا کچھ ترجمہ پیش کیا ہے،اس میں عموماً وہ ترجمہ کے بنیادی اصول سے منحرف نظر آتے ہیں۔اول تو وہ فارسی زبان سے ہی نابلد ہیں اور ثانی یہ کہ انھوں نے ترجمہ کرتے ہوئے رومی کے متون کے تئیں دیانت داری کا بھی مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا آزاد کی نابغیت کاایک اہم پہلو، جسے ہم بھولتے جارہے ہیں/تانوی پٹیل – ترجمہ:نایاب حسن )
دی نیویارکر میگزین کے5؍ جنوری2017کے شمارے میں روزینہ علی(رکن مجلسِ ادارت دی نیو یارکر میگزین) کا ایک مضمون The Erasure of Islam from the Poetry of Rumiکے عنوان سے شائع ہوا تھا(جس سے میں نے اپنے اِس مضمون میں کئی جگہ استفادہ کیا ہے)اس میں انھوں نے رومی کے انگریزی تراجم کی پوری تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کولمین بارکس کے تراجم کے مکمل اور چھوراورپس پردہ حقیقت پرمدلل گفتگو کی تھی۔یہ مضمون میگزین کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ وہاں بارکس کی لفظی و معنوی تحریفات کی مزید مثالیں بھی ملیں گی۔ موقع ملا تو ان شاء اللہ اس کا ترجمہ بھی کروں گا۔
ویسے انگریزی میں مولانا رومی کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے روٹگیرز یونیورسٹی ،نیوجرسی کے شعبۂ مذہبی مطالعات کے چیئرمین جاوید مجددی کے تراجم قابل اعتماد ہیں۔انھوں نے چار جلدوں میں مکمل مثنوی کا ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب اور ہےBeyond Dogma: Rumi’s Teachings on Friendship with God and Early Sufi Theoriesجس میں عشقِ حقیقی اور اس سلسلے میں صوفیا کے نظریات کا جائزہ لیا ہے۔اس سلسلے میں امید صافی اور اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی میں فارسی کے پروفیسر ڈِک ڈیوس(Dick Davis)کے تراجم بھی قابلِ اعتماد ہیں۔نادر خلیلی (1936-2008)نے بھی رومی کے فلسفہ و شاعری کا اچھا ترجمہ کیا ہے۔یہ ساری کتابیں آن لائن حاصل کی جاسکتی ہیں ،امیزون وغیرہ پر دستیاب ہیں۔اردو میں رومی کے تراجم و سوانح پر ایک مضمون میں اشارہ کرچکا ہوں۔انگریزی میں ڈاکٹر امید صافی lluminatedcourses.comنامی ویب سائٹ پر تفہیمِ رومی کا کورس کرواتے ہیں۔اردو میں ان کی شاعری کو کتاب کی جگہ ویڈیو؍آڈیو کے ذریعے سمجھنا چاہیں،تواحمد جاوید صاحب کے آفشیل یوٹیوب چینل پر جائیں،وہاں وہ اپنے مخصوص اسٹائل میں رومی کو سمجھاتے نظر آئیں گے ۔
(یہ مضمون جناب نایاب حسن کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

