لفظ’ صدمہ‘ کا ذہنی اثر دیکھئے ہوگئی ’موت‘ کس کی خبر دیکھئے
موت کے واسطے بس یہی ہے بسا! اور کتنے ہیں مطلب نہیں ہے پتہ؟
جب لغت میں تلاشیں گے مل جائے گا ہے جو مفہوم و مطلب نکل آئے گا
رنج و غم، فکر، اندیشہ،آزار ہے یہ ہے آسیب، تکلیف اور چوٹ ہے
زور، دھکا و ٹکر، تصادم بھی ہے ضرب، ٹھوکر، وقوعہ، مصیبت بھی ہے
ٹھیس ،نقصان،اذیت یہ شدت بھی ہے یہ مِکانک میں معیارِ حقیقت بھی ہے
طِب میں قلبی و دماغی جھٹک صدمہ ہے سب ہی صدمو ں میں اک’ موت‘ بھی صدمہ ہے
پر یہ مفہوم سے ’موت‘ واضح نہیں پھر بھی کہنا نہیں موت ’صدمہ‘ نہیں
اتنے معنوں میں اک موت ہی معنٰی ہے! موت ہی صدمہ ہے بس یہی جانا ہے!
ہے حقیقت اسے حادثہ جان لے فلسفہ زندگی کا یہ بھی مان لے
زندگی کی حقیقت یہی ’موت‘ ہے موت ہے زندگی، زندگی موت ہے
(فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
خطاب عالم شاذؔ،
کانکی نارہ ، شمالی ۲۴ پرگنہ،
مغربی بنگال

