ساحرؔ لدھیانوی کا شمار اُن ترقّی پسند شعرا میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی نگارشات کے ذریعہ اِس تحریک کے مقاصد کو فروغ دینے میں پوری عمر صَرف کر دی مگر وہ اُن ترقّی پسند شعرائ سے ذرا مختلف تھے جو نعرے بازی، پروپگنڈا اور گھن گرج کے ذریعہ فوری طور پر انقلاب برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظم ہو یا غزل وہ دھیمی لَے ، نرم لہجے ، عام فہم اندازِ بیان اور مانوس الفاظ کے شاعر ہیں۔انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزلیں بھی کہی ہیں مگر نظموں کی بہ نسبت اُن کی غزلوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اُن کی نظموں کی طرح غزلیں بھی مختلف موضوعات کی حامل ہیں مگر دیگر موضوعات کی بہ نسبت رومانیت ، سماجی مسائل اور ترقّی پسند عناصر سے مملو اشعار کی بہتات ہے۔
ساحرؔ لدھیانوی محض ایک رومانی مزاج اور احتجاجی قسم کے شاعر نہیں تھے۔ انہوں نے مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں اور ناداروں و مظلوم عوام کے حالات و مسائل کی عکّاسی اس طرح کی ہے کہ ہر باشعور شخص غور و فکر کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ اُس جذباتیت ، لمبی چوڑی باتوں، زمین و آسمان کے قُلابے ملانے اور ہوائی قلعے بنانے کے قائل نہیں تھے جسے صلاحیت یا قوّت کے بغیر انجام تک پہنچانے کی تمنّا کی جائے۔ وہ اُس آہ کو بھی بے سود و بے اثر سمجھتے تھے جسے بال و پر کے بغیر قوّتِ پرواز کا حامل سمجھ لیا گیا ہو۔ وہ کچھ کر گزرنے کے لیے صلاحیت کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ؎
قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پَر کیجئے
ساحرؔ انسانوں کی پامالی ، سماجی ناہمواری اور اقتصادی بد حالی کو قسمت کا کھیل نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی قوّت و صلاحیت کے ذریعہ ہر ٹوٹے ہوئے تارے کو مہِ کامل بن جانے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ تمام ناسازگار حالات کے باوجود ہمّت و حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتے رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہتے ہیں ؎
کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم
ساحرؔ کا تاریخی شعور بھی نہایت بالیدہ ہے۔ وہ ماضی کے اُن بدتر حالات کو عہدِ حاضر کے حالات سے مختلف نہیں سمجھتے جب حق گو اور امن پسند افراد کا مقدّر دار و رسن کے سِوا اور کچھ نہ تھا۔ ملاحظہ کیجئے ؎
ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے
جو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے
ساحرؔ لدھیانوی عہدِ حاضر کے حالات و مسائل پر پوری طرح نظر رکھتے ہوئے حضرتِ انسان کے مستقبل کو تابناک بنانے کے خواہاں ضرور ہیں مگر ماضی کا ادراک رکھتے ہوئے۔ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے حوصلہ شکن اور خوابیدہ انسان کو روحِ عصر کہتے ہوئے پیغمبروں کے ایثار کو یاد دلا کر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے ہیں جنہوں نے امن و آشتی اور انسانیت کی بقا کے لیے کسی بھی حالت میں اپنے زمانے کے مغرور اور طاقت ور ظالموں اور حکمرانوں کی جی حضوری نہیں کی اور صلیب و دار پر جھول گئے ؎
اے روحِ عصر جاگ، کہاں سو رہی ہے تو
آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے
وہ ظلم و جبر کی علامت پردۂ شب کو بھی پوری طرح چاک کرنے کی ترغیب ہی نہیں دیتے بلکہ عکسِ شام کو بھی ظلم و جبر کی نشانی تصوّر کرتے ہوئے اُسے ختم کر دینے کے خواہاں ہیں۔ وہ ایک ایسی صبح صادق کی تمنّا کرتے ہیں جہاں نہ تو شام کی پرچھائیاں ہوں اور نہ کسی قسم کی تلخیاں ہوں اور نہ سیاہیاں ہوں۔ ملاحظہ فرمائیے ؎
وہاں بھیجا گیا ہوں چاک کرنے پردۂ شب کو
جہاں ہر صبح کے دامن پہ عکسِ شام ہے ساقی
ساحرؔ چاہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو مایوسی یا قنوطیت کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ زندگی کو بامقصد اور خوش گوار بنانے کے لیے سختیاں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں اور مصیبتیں بھی جھیلنا پڑتی ہیں، تب کہیں جا کے انسان کو کسی حد تک کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ کس اعتماد سے کہہ رہے ہیں ؎
صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے
دُکھ کی دھوپ کے آگے سُکھ کا سایہ ہے
حقیقتیں ہیں سلامت تو خوان بہتیرے
ملول کیوں ہوں جو کچھ خواب رائیگاں نکلے
اُبھریں گے ایک بار ابھی دل کے ولولے
گو دب گئے ہیں بارِ غمِ زندگی سے ہم
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار توکم کر گئے گزرے جدھر سے ہم
ساحرؔ مجبور ، بے بس اور نادار افراد کو اُن کی حالتِ زار کی طرف متوجہ ہی نہیں کرتے بلکہ اُس کے سبب سے بھی آگاہ کرتے ہوئے اس طرح غیرت بھی دلاتے ہیں ؎
فقیرِ شہر کے تن پر لباس باقی ہے
امیرِ شہر کے ارماں ابھی نہیں نکلے
سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام کے سبب ہی ناداروں اور مفلسوں کو تن ڈھانپنے کے لیے معمولی کپڑا بھی میسر نہیں اور جو موٹا جھوٹا کپڑا نصیب بھی ہے وہ بھی امیرِ شہر اور سرمایہ داروں کو گوارا نہیں۔ ایسے ہی مفلسوں اور ناداروں کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے ساحرؔ اہلِ دَوَل یعنی سرمایہ داروں سے اس طرح دو ٹوک الفاظ میں گویا ہوتے ہیں ؎
لپکے گا گریباں پہ تو محسوس کروگے
اے اہلِ دَوَل دستِ گدا بھی ہے کوئی چیز
ساحرؔ اس قدر حوصلہ مند اور خوش فہم انسان و شاعر تھے جو یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ظلم و جبر ، تشدّد و بربریت اور استحصالی نظام کا بہت جلد خاتمہ ہو جائے گا اور چنگیز و دارا کی طرح ہر ظالم وجابر حکمراں بہت جلد نیست نابود ہوگا۔ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں ؎
عرصۂ ہستی میں تیشہ زنوں کا دَور ہے
رسمِ چنگیزی اُٹھی ، توقیرِ دارائی گئی
ساحرؔ لدھیانوی اسی پر ہی اِکتفا نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دار اور عیش پسند طبقہ جس فن کو محض دل بہلانے اور عیش و عشرت کی چیز سمجھ کر اپنا اِجارہ سمجھتا آرہا ہے وہ اسی فن کو بامقصد اور حوصلہ و جرأت بخشنے والا بنا کر کمزور طبقہ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی فنکار یا قلم کار افادی ادب کو عوام تک پہنچا کر اُن کی بھلائی و بہبودی کی کوشش نہیں کرتا تو وہ اس فنکار کو نہ تو فنکار تسلیم کرتے ہیں اور نہ اس کے فن کو معیاری و سودمند تصوّر کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے ؎
فن جو نادار تک نہیں پہنچا
ابھی معیار تک نہیں پہنچا
مختصر طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ساحرؔ لدھیانوی نے نظموں اور دیگر اصنافِ سخن کی طرح اپنی غزلیہ شاعری کے ذریعہ بھی ترقّی پسند نظریات کی اشاعت کے ذریعہ شکست خوردگی کے احساس سے نکل کر جمہوری قدروں کو برقرار رکھنے ، ظلم وجبر اور بربریت و تشدّد کو برداشت نہ کرنے نیز رجعت پسند و فرقہ پرست قوّتوں کے خلاف صف آرا ہونے کا عمر بھر پیغام دیا ہے۔
شہپر شریف
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اُردو
اُتراکھنڈ اوپن یونیورسٹی، ہلدوانی (نینی تال)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

