by adbimiras
0 comment

’’شب آویز‘‘ کی دل آویزی/ ڈاکٹر قمر صدیقی – ڈاکٹر رشید اشرف خان

 

مشہور زمانہ مصنف اور انگریز دانشور ڈاکٹر Samuel Johnson(1709سے1784)کا انتباہ ہے کہ اپنے معاصرین کے بارے میں جو کچھ بھی لکھنا وہ بہت احتیاط سے لکھنا کیوں کہ اس راہ میں کچھ سخت مقام آتے ہیں۔

ہم عصروں پر قلم اٹھانے کا انجام اکثر و بیشتر کم علمی، جنبہ داری، افراط و تفریط اور مدلل مداحی کا الزام ہوتا ہے لیکن یہ سب امکانات اس وقت ہوتے ہیں جب خداناخواستہ حاملِ تذکرہ حقیقی فضائل سے دور ہو اور لکھنے والا اپنی کوتاہ نظری سے خواہ مخواہ غلو کا شکار ہوجائے یا اس کی رائے صائب و عمیق نہ ہو۔انصاف پسندی، حق گوئی اور نکتہ رسی ایک صحت مند تذکرے کا بنیادی اور لازمی جوہرہے۔

بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں کی ابتدا میں ممبئی کے اقلیم سخن پر اگر غیر جانب دارانہ نظر ڈالی جائے تو جو چند نوجوان شعرا کے نام آتے ہیں ان میں ڈاکٹر قمر صدیقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔قمر صدیقی کی تخلیقی قوتوں کی نشو و نما اس وقت جب وہ برہانی کالج (ممبئی) میں زیر تعلیم تھے اور آج تک یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

’’شب آویز‘‘ قمر صدیقی کے شعری انتخاب کا وہ اعلان نامہ ہے جس میں انھوں نے لفظ و معنی اور جدید شاعری کے مستحکم نظام کو تمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کیا ہے۔  انتخاب کلام کے بالاستیعاب مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے یہاں ارتقائی قوتیں بدرجۂ اتم موجود ہیں لہٰذا ان کا خلاق ذہن ایک نئی شعری جہات اور اختراعات کی تلاش میں سر گرم سفر رہتا ہے۔ان کا یہی رجحان انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے۔قمر صدیقی کے کلام کا مطالعہ کرتے وقت جو پہلی صفت ہمارے دامن دل کو اپنی جانب کھینچتی ہے وہ ان کی رنگا رنگی ہے جو یکسانیت یا یک نوائی و یک آہنگی (Monotonity)سے دور ہے یعنی اس میں تنوع اور تازہ کاری کا احساس ہے۔یہ شعر دیکھیے:

کون سی سوئی ہوئی پیاس کا رشتہ جاگا

آج کیوں مجھ کو یہ صحرائے نجف کھینچتا ہے

کبھی ہے گل ، کبھی شمشیر ساہے

وہ گویا وادیِ کشمیر سا ہے

قمر صدیقی کی شاعری انسانی شعبۂ حیات اور گرد ونواح میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور شکست وریخت کو ایک نئے زاویۂ نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ان کا یہی نقطۂ نگاہ ان کے بعض اشعار کو کثیر الابعاد بنادیتا ہے جس سے ان اشعار میں معنی کی کئی سطحیں پوشیدہ نظر آتی ہوئی معلوم ہوتی  ہیں لیکن اس کے باوجود قمر صدیقی کی شاعری کا اسلوب روزمرہ کے اسلوب سے قریب تر ہے۔غالباََ یہی وجہ ہے کہ ان کے شعری مکالمے اپنی برجستگی اور شستگیِ لطافت کی وجہ سے ایک الگ شان رکھتے ہیں۔ان کا یہی منفر د اسلوب ہے جس سے ایک طرف ان کی شاعری میں تغزل ایک نئے رنگ وآہنگ کے ساتھ جلوہ گر ہے تو دوسری طرف ان کی غزلیں حکایات بایار گفتن کی بہترین نمایندگی کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر قمر صدیقی نے اپنے مافی الضمیر کے بھر پور اظہار کے لیے دیگر زبانوں کے الفاظ وتراکیب کا استعمال بھی بے ساختہ کیا ہے اس سے ان کے عجز یا شاعرانہ استغراق وازخود وارفتگی کا نتیجہ ہرگز نہ سمجھنا چاہیے بلکہ ان کی الفاظ پر گرفت اور زبان پر دسترس کا ثبوت تصور کرنا چاہیے۔علاوہ ازیں انھوں نے اپنی قوت اجتہادی کے بنا پر اپنی شاعری میں ایک ایسی نئی فضا خلق کی ہے جس میں درد وکرب ، گہری اداسی کے ساتھ ساتھ ان کے جمالیاتی وجدان کا خوبصورت امتزاج بھی ملتا ہے۔یہ اشعار دیکھیے:

جھیلنا ہے ہمیں پھر کرب فراموشی کا

پھر وہی سلسلۂ یاد ہمارے لیے ہے

نیند کے شہر طلسمات مبارک ہو تمھیں

جاگنے رہنے کی افتاد ہمارے لیے ہے

قصہ یہ محدود نہ تھا کہ ہونٹوں کی خاموشی تک

کہنے کو تو کہتی تھیں ان آنکھوں کی تحریر بہت

مذکورہ اشعار میں قمر صدیقی نے جو استعارے استعمال کیے ہیں جو حسی سطح پر متحرک ہیں لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ اس ضمن کے اشعار قاری کے احساس جمال اور اس کے ماضی کی گمشدہ کڑیوں کے درمیان ایک پُر اسرار رشتہ قائم کراتا ہے جو شاعر کے جمالیاتی وجدان کی وحدت کے بہترین مظاہر ہیں۔ایک عام آدمی اور فن کار شاعر میں بنیادی فرق یہ بھی ہوتا ہے کہ دونوں سوچتے تو ایک ہی بات ہیں لیکن بیان کرنے کے پیرایے بالکل جدا گانہ ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر یہ دو اشعار ملاحظہ کریں:

برسا ہوں گھٹا بن کر میں یہاں اور دریا دریا رویا ہوں

یہ دکھ ہی یارو ایسے تھے سو اشک مرے پنجاب ہوئے

وہ قصۂ یاس وحسرت ہے ، رودادِ شبان ہجراں میں

وہ ساری عبارت آپ کی ٹھہری ہم تو فقط اعراب ہوئے

مذکورہ اشعار پڑھ کر یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ قمر صدیقی کو زندگی کی صداقتوں اور سچائیوں کو شعری پیکر میں ڈھالنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ غور کیجیے تو شعر گوئی بھی عجیب و غریب چیز ہے ۔ کوئی اسے تضیع اوقات کہتا ہے تو کوئی اسے دفع الوقتی کے نام سے گردانتا ہے ۔ بہت سے حضرات اسے سستی شہرت وناموری پانے کا آسان سا نسخہ سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی قمر صدیقی جیسا شاعر ہوتاہے تو وہ با شعور ، بالغ نظر ،حساس بے دار مغز اور ذمہ دار انسان ہوتا ہے اس کی انگلی ہمیشہ زمانے کی نبض پرہوتی ہے ۔ وہ سیاست داں نہیں ہوتا لیکن سیاست کے داؤ پیچ اور ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور شہریت کے اصولوں کو جانتا اور برتتا ہے ۔

قمر صدیقی کی شاعری کا سب سے خاص وصف یہ ہے کہ انھوں نے روایتی شاعری کو نئی لفظیات اور نئے معانی و مفاہیم سے آراستہ کیا ہے۔ الفاظ کی معنویت اور اس کی وسعت کو سمجھ لینے کے ہنر سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ان کی غزلوں میںلفظیات اور موضوعات کا ایسا معنیاتی نظام ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر نوع کے موضوعات کو برتنے اور پیرائے بیان کو دل آویز انداز میں پیش کرنے کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان کے طرز اظہار، محسوسات اور لب و لہجہ میں درد کی دھیمی دھیمی لہریں ڈوبتی ابھرتی محسوس ہوتی ہیں۔ جذبوں اور فکر سے آراستہ ان کی شاعری میں مسائل حیات سے انسان کے آنکھیں ملانے کی جرأت کا  برملااظہار ملتا ہے۔یہی چیزیںڈاکٹر قمر صدیقی کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہیں۔

٭٭٭

rakhan6958@gmail.com

You may also like

Leave a Comment