’’ مکیش بھیا، کل فادرس ڈے تھا۔ آپ نے اپنے پاپا کو کیا دیا؟‘‘ میں نے اپنے ٹیوٹر سے پوچھا جو مجھے اور میری بہن رفعت کو ہندی اور حساب پڑھانے ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔
’’ زور کا ایک تمانچہ‘‘۔ مکیش بھیا نے تیز آواز میں کہا۔
مکیش بھیا سے اس قسم کی گفتگو کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ تو بڑے ہی خوش مزاج اور مہذب آدمی تھے۔ ان کا برتاؤ ہمارے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا۔ لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ درشت لہجہ، خشمگیں آنکھیں اور خشونت زدہ چہرہ۔ یہ ہمارے والے مکیش بھیا تو نہ تھے۔
اپنے اپنے خیالوں میں گم ہم دونوں بھائی بہن سہمے ہوئے اپنی اپنی کاپیوں کے صفحات کو یونہی الٹ پلٹ رہے تھے۔
’’کل میں نے اپنے پاپا کو ایک تمانچہ مار ا تھا۔‘‘ مکیش بھیا نے اپنی بات دہرائی۔
ہم تو سمجھے بیٹھے تھے کہ مکیش بھیا نے ہم لوگوں کے سوال سے چڑ کر اس طرح کی بات کہی تھی۔ اب جبکہ پتہ چلا کہ ایسا نہیں ہے تو ہمیں ذرا اطمینان ہوا۔ مگر ہمیں تعجب اس بات پرہو رہا تھا کہ ایسا شخص اپنے باپ پر ہاتھ کیسے اٹھا سکتا ہے۔
مکیش بھیا انوگرہ نارائن کالج سے گریجویشن کر رہے تھے۔ جس اسکول میں میرے والد پڑھاتے تھے وہیں مکیش بھیا طالب علم رہ چکے تھے۔ اسی بنا پر میرے والد سے ان کی مراسم تھے۔ میرے والد ان کی بڑی تعریفیں کیا کرتے تھے۔ اور ان کے لئے ہونہار اور خوددار جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔
’’میں اپنے دکھ تم لوگوں کے علاوہ کسی اور سے بیان نہیں کر سکتا ۔ لوگ تو مجھے ہی غلط سمجھتے ہیں ۔ مجھے پتہ ہے اس دفعہ بھی لوگ مجھے ہی لعنت ملامت کا نشانہ بنائیں گے۔‘‘ مکیش بھیا ایک مغموم لہجے میں بولے اور پھر اپنا قصہ یوں شروع کیا: ’’میں اپنے ماں باپ کے ساتھ نہیں رہتا ہوں۔ میرا باپ بری طرح شراب میں ڈوبا رہتا ہے۔ میرا پورا بچپن اپنے باپ کی مار کھاتے اور اپنی ماں کو پٹتے ہوئے دیکھتے گزرا ہے۔ آج سے دو سال پہلے کی بات ہے ایک روز میرا باپ نشہ میں دھت دیر رات گھر آیا۔ میری ماں نے اسے کھانے کو دیا تو اس نے کھانا پھینک دیا اور اسے گالی دینا اور مارنا شروع کردیا۔ وہ میری ماں کو مارتا رہا یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوگئی۔
اس دن میں نے اپنی ماں سے کہاکہ ’’پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔ اب ہم لوگوں کو پاپا سے الگ ہو جانا چاہیئے۔‘‘ ماں نے میری تجویز کو یکسر مسترد کردیا۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ’’تیرے نانا بھی خوب شراب پی کر آتے تھے اور تیری نانی کے ساتھ مارپیٹ کرتے تھے۔ تو کیا تیری نانی نے انہیں چھوڑ دیا؟‘‘
تعلقات کو بہر صورت استوار رکھنے کی اس روایت پر مجھے بڑا غصّہ آیا۔ میں نے چڑ کر اپنی ماں سے پوچھا: ’’آخر کتنی نسلوں تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟‘‘
میری ماں نے پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: ’’مجھے تو بس یہ یقین ہے کہ تو ایک اچھا شوہر ثابت ہوگا کیونکہ تو ایک برے شوہر سے متنفر ہے۔‘‘
میں نے کہا:’’ نہیں ماں ، ہونا تو یہی چاہئے لیکن اکثر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ مظلوم، ظالم کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اس کی روشن مثال ایک انتہائی ظالم ملک ہے جس کو تشکیل دینے والے اور وہاں آباد ہونے والے خود دوسرے ممالک میں بدترین قسم کے مظالم، نسلی عصبیت اور غیر انسانی سلوک کا شکار ہوئے تھے۔‘‘
ماں نے کہا کہ’’ تیری بھاری بھرکم باتیں میرے پلے تو نہ پڑے ہیں۔‘‘
میں نے عرض کیا’’ آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اپنے باپ سے مار کھانے والا ہر بچہ جب باپ بنتا ہے تو اپنے بچے کو اسی طرح مارتا ہے۔ کیا وجہ ہے ؟ دراصل اسے لگتا ہے کہ کام کروانے کا ، اپنی بات منوانے کا، ناراضگی ظاہر کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ ہاں، وہ لوگ اس مذموم سلسلہ کو توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف ظالم بن جانے سے، بلکہ مظلومیت کی حالت میں پہنچ جانے سے بھی پناہ مانگنی چاہئے۔‘‘
ہونا کیا تھا؟ میری ماں اپنے شوہر سے الگ رہنے پر رضامند نہیں ہوئی۔ لیکن میں الگ ہو گیا۔ میں نے چھوٹا سا ایک کمرہ کرایہ پر لے لیا اور ٹیوشن پڑھا کر اپنا گزارہ کرنے لگا۔ مجھے اپنے باپ سے ملاقات کرنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ، میں ہر ہفتہ ماں سے ملاقات کرنے جایاکرتا تھا۔
کل شام میں اپنی ماں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میرا باپ ہمیشہ کی طرح نشہ میں دھت گھر پہنچا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگا۔’’یہ حرامی کیا کر رہا ہے اس گھر میں؟‘‘
اُس نے میرے ماں کو گالی دینا شروع کردیا۔ اور پھر تڑاخ سے ایک طمانچہ جڑ دیا۔ اچانک میرا دماغ خراب ہوا او رمیں نے اپنے باپ کو ایک ہاتھ دے مارا۔ معاً میری ماں نے زور کا ایک تھپڑ مجھے رسید کیا اور کہا کہ ’’باپ پر ہاتھ اٹھاتا ہے، نالائق!‘‘
’’حامد ، تم مسکرا کیوں رہے ہو؟‘‘ مکیش بھیا نے مجھے ٹوکا۔
دراصل بھیا مجھے ملا نسیرالدین کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ اُس کی بیٹی کو ایک روز اس کے داماد نے ایک تھپڑ لگا دیا۔ وہ اپنے باپ کے پاس شکایت لے کر پہنچی تو اس کے باپ نے بھی اسے ایک طمانچہ رسید کیا او ربولا کہ اپنے شوہر سے جاکر کہہ دینا کہ’’ جب جب میری بیٹی پٹے گی، تب تب اس کی بیوی پٹے گی۔‘‘
مکیش بھیا مسکرا دیے اور پھر ہماری پڑھائی شروع ہو گئی۔
پندرہ سال بعد ابھی اچانک مجھے مکیش بھیا یاد آئے جب میں دہلی کے کستورباگاندھی مارگ پر واقع بریٹش کاؤنسل میں ایک ڈسکشن میں شامل ہوں جس کا موضوع ہے ’ڈو مسٹک وہاؤلنس‘ یا گھروں میں ہونے والا تشدد۔ انگریزی سیکھنے کی غرض سے میں نے یہاں ایک کورس میں داخلہ لیا ہے اور اس مباحثہ کا اہتمام اسی کورس کا ایک حصہ ہے۔
اس مباحثہ کی شروعات ہماری ٹیچر نے امریکی گلوکارٹریسی چیپمن کا گیت ’بیہائنڈ دی وال‘ (پسِ دیوار) سنوا کر کیا۔ اس گیت میں گھر یلو تشدد کی ایک واردات اور اس کے نتائج کے دل خراش مناظر بیان کئے گئے ہیں۔ اس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے:
’’کل رات پسِ دیوار ایک چیخ سنائی دی، اور تیز تیز آوازیں۔
اور یوں، مزید ایک رات بے خوابی کی نذر ہوگئی۔
پولس کو بلانالاحاصل تھا۔ اگر وہ آتے بھی ہیں، تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
[طرفہ یہ کہ ] جب وہ آتے ہیں توکہتے ہیں کہ میاں بیوی کے خانگی جھگڑے میں وہ دخیل ہونا نہیں چاہتے۔
اور جب وہ انہیں [یہ بول کر] دروازے سے باہر جاتے ہوئے دیکھتی ہے، تو اس کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔
گذشتہ شب مجھے اُس کی چیخ سنائی دی۔
چیخ کے بعد کی خاموشی نے میری روح کو منجمد کر دیا۔
میں دعا گو ہوئی میں کہ یہ سب خواب میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔
اسی لمحہ میری نظر ایمبولنس پر گئی۔
[دریں اثناء] ایک پولس والا کہہ رہا تھا: ’میں امن بحال کرنے آیا ہوں۔لوگ منتشر ہو جائیں۔ میرا خیال ہے ہم سب تھوڑی بہت نیند اور لے سکتے ہیں۔‘‘‘
یہ اندوہ ناک گیت اختتام کو پہنچا تو شرکاء نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مباحثے کا با ضابطہ آغاز ہوتے ہی ارنب بھومک حسب عادت میدان میں سب سے پہلے کود پڑے۔ ارنب ایک سرکاری ملازم تھے اور بڑی چابک دستی کے ساتھ ہندی الفاظ اور محاروں کو انگریزی کا جامہ پہناتے تھے اور اس روانی کے ساتھ انہیں بروئے اظہار لاتے تھے کہ برطانیہ سے تعلیم حاصل کرکے آئی ہوئی ہماری ٹیچر کے آنکھوں کے ڈھیلے باہر آجاتے اور منہ دیر تک پھٹا کا پھٹا رہتا۔ ارنب کی پر پیچ اور گنجلک باتیں سن کر میرے دماغ میں ٹی ایس ایلیٹ کی ایک لائن گردش کرنے لگتی: ’گلیاں یوں وارد ہوتی ہیں گویا دغابازی کی نیت سے شروع کی گئی کوئی تھکا دینے والی بحث ۔‘
ارنب نے منہ کھولتے ہی کہا کہ’’ گاؤں دیہات کے ان پڑھ اور اجڈ لوگ اپنی بیویوں کو مارا کرتے ہیں۔‘‘
یہ سنتے ہی تین شیرنیوں نے ان پر یلغار کر دیا اور وہ سٹپٹا کر بھیگی بلی بن گئے۔
تینوں میں سے ایک گرمہر غرائی: ’’کیا اناپ شناپ بول رہے ہیں آپ؟ میں چنڈی گڑھ کی رہنے والی ہوں۔ بنگلور اور مسوری میں بھی میرا قیام رہاہے۔ دو سال سے میں دلی میں مقیم ہوں۔ ہر جگہ میں نے اپنے اڑوس پڑوس میں اور اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں عورتوں کو پٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ اپنی بیویوں پر دست درازی کرنے والوں میں سول سروسیز کے ملازمین، پروفیسر صاحبان، ڈاکٹرز اور انجینئرز سب شامل ہیں۔ یہ ایک لغوبات ہے کہ صرف ان پڑھ اور دیہاتی لوگ اپنے گھر میں تشدد کرتے ہیں۔‘‘
ارنب کو کاٹو توخون نہیں۔ دوبارہ لب کشائی کے لئے وہ ہمت نہ جٹاپائے۔ نتھنے پھلائے، بت بنے بیٹھے رہے۔
تینوں لڑکیوں نے پورے جوش اور ولولہ کے ساتھ اپنی آپ بیتی، آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مشرق کے مذاہب اور فلسفے اور مغرب کی روشن خیالی اور عقلیت پرستی دونوں، انسان کو بحیثیت فرد اور اجتماعیت صحیح معنوں میں معتدل اور مہذب بنانے میں نا کام رہے ہیں۔
مباحثے میں شامل انکت نے بتایا کہ اس کے بہنوئی نے ایک مرتبہ اس کی بہن کو ایسا مارا کہ اس کے سر میں متعدد ٹانکے لگے۔ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اسے اتنی نقاہت ہو گئی تھی کہ ایک ہفتہ تک وہ بستر سے لگی رہی۔ ’’اس وقت ہم لوگوں کو پتہ چلا کہ اُسے برابر زد و کوب کیا جاتا تھا۔ میری بہن ہم لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی، لہٰذا وہ ہم لوگوں سے یہ بات چھپاتی رہی تھی۔ اُسے یہ توقع تھی کہ اس کا شوہر آج نہ کل اپنی حرکت سے باز آجائے گا۔ میری بہن کو اس بات نے بھی دبدھا میں ڈال رکھا تھا کہ اس کا شوہر اسے آئس کریم کھلانے اور فلم دکھانے بھی لے جاتا تھا اور ساتھ ہی اُسے سرِمحفل ذلیل اور اکیلے میں زدوکوب بھی کرتا تھا۔‘‘
شیفالی بولی: ’’ارے یہ ایک مکر جال ہے۔ وہ شخص پہلے اپنی بیوی کو مارے دھاڑے گا، اس کے جذبات اورنفسیات کو مجروح کرے گا اور اس کے بعد بڑا میٹھا اورلپوڑیا بن جائے گا۔ اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا تاوقتیکہ لڑکی بہادری کا ثبوت دے اور سختی کے ساتھ کہے کہ وہ اپنی حرکت سے باز آجائے ورنہ یہ رشتہ نہیں چل سکتا ہے۔‘‘
ابھی تک خاموش بیٹھی بہجت بول اٹھی: ’’سچ تو یہ ہے کہ ان باتوں کو عمل میں لانا نہایت مشکل ہے۔ وجہ صاف ہے۔ ہماری گھٹی میں یہ بات پلائی جاتی ہے کہ سسرال میں بہت ساری باتوں اور رویوں کو برداشت کرنا ہے تاکہ ہم اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکیں۔ شوہر سے علحدگی کی صورت میں دوسری شادی انتہائی مشکل امر ہے۔ مزید یہ کہ آج بھی اکثریت ایسی لڑکیوں پر مشتمل ہے جو شادی ختم ہونے کی صورت میں اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہیں۔ اچھی تعلیم جو اچھے روزگار کی ضمانت ہوتی ہے لڑکیوں کی پہنچ سے باہر ہے۔‘‘
شیفالی بولی:’’مگر مسئلہ یہ ہے کہ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں انہیں بھی یہی سب مسائل درپیش ہیں۔نوکری کرنے کے علاوہ وہ گھر کا کام بھی کرتی ہیں، اور تنخواہ اکثر اوقات شوہر یا سسرال والوں کے حوالے کر نی پڑتی ہے۔‘‘
بہجت بولی: ’’میں تو دیکھ رہی ہوں کہ لڑکیاں انجینئرنگ اور میڈیکل پڑھ رہی ہیں مگر سسرال والے ان کو اپنے پروفیشن کو برتنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہاں، محفل میں ـضرور لوگوں سے کہتی پھرتی ہیں کہ میری بہو ڈاکٹر ہے یا انجینئر ہے یا کانونٹ میں پڑھی ہوئی ہے۔‘‘
انکت نے کہا کہ ’’پدر سری ذہنیت اُس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ہم اپنی زبان کا تنقیدی جائزہ نہ لیں، جب تک ہم یہ نہ دیکھیں کہ عورتوں کے تعلق سے ہم کس قسم کے الفاظ اور محاورے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ دیکھئے کہ شادی کی تقریب کے دعوت نامے میں دلہا کو ہم ’ور‘ لکھتے ہیں اور دلہن کو ’کنیا‘ ۔ لفظ ’ور‘ ’ورشٹ‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے بر تر یا اعلیٰ۔ اور لفظ ’کنیا‘ ’کنشٹ‘ سے ہے جس کے معنی ہیں کمتریا ادنی۔ دراصل زبان ذہنیت کی آئینہ دار ہوتی ہے اور ہماری ذہنیت ہماری زبان کی مرہونِ منت۔‘‘
بہجت بولی:’’آج بھی ہمارے گھروں میں ’ساٹھا پاٹھا۔بیسی کھیسی‘ جیسے محاورے بولے جاتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات بتاؤں۔ چونکہ میرے والد اس دنیا میں نہیں ہیں، لہٰذا کسی کے یہاں سے میری امی کے نام شادی کا کارڈ آتا ہے تو اس پہ لکھا رہتا ہے ’اہلیہ جناب سلیم احمد مرحوم‘ یا ’والد ہ اسلم پرویز‘۔ کسی شادی کارڈ کے مضمون کو پڑھئے تو لڑکا اور لڑکی دونوں کے والد کا نام ہوتا ہے لیکن والدہ کا نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو اندیکھا کرنے کی ایک روایت چلی آرہی ہے۔ ہاں، یہ اور بات ہے کہ اس پر ملمع یہ چڑھایا گیا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورتوں کا نام لینا ایک معیوب بات ہے۔‘‘
شیفالی بولی:’’ذرا ہم اپنی زبان میں موجود گالیوں کا بھی معائنہ کریں۔ ہمارا سارا غصہ اور بھڑاس عورتوں کا کاندھا ، بلکہ اس کی شرم گاہ ، استعمال کر کے یا اسے اپنے تصور میں پامال کر کے نکلتا ہے۔ ہمارے یہاں عصمت دری، زنابالجبر، دختر کشی، جنین کشی وغیرہ کے واقعات کی کثرت کے پیچھے ہماری گندی زبان اور متعصب سوچ کا ہاتھ ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’جب تک لوگوں کا رویہ نہیں بدلے گا کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘
گرمہر کورنے کرخت آواز میں کہا:’’ غلط۔ جب تک عورت نہیں بدلے گی تب تک کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ اُسے دنیا کو بتانا ہو گا کہ وہ کیا چاہتی ہے اور کیا نہیں۔ اُسے اپنے حقوق بڑھ چڑھ کر لینے ہوں گے۔زندہ رہنے کا حق، اپنی پسند کالباس پہننے کا حق، اپنا جیون ساتھی چننے کا حق، پڑھنے کاحق ، کھیلنے کودنے کا حق، دیر رات تک لائبریری میں پڑھنے کا حق، نوکری کرنے کا حق، اپنی تنخواہ اپنے حساب سے خرچ کرنے کا حق، شادی کرنے کا حق، شادی نہ کرنے کا حق، بچے پیدا کرنے کا حق، بچے نہ پیدا کرنے کا حق، کتنے بچے پیدا کرنے ہیں یہ طے کرنے کا حق، شوہر کے جبراً ہم بستر ہونے پر احتجاج کرنے اور عدالت جانے کا حق، حکومتوں کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کا حق، باپ ، بیٹے اور شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے سیاسی اور اجتماعی نظریے سے اختلاف رکھنے کا حق۔‘‘
شیفالی بولی:’’ اگر ہم معاشی اعتبار سے مستحکم ہوں اور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب خود کریں تو بڑی حد تک یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘‘
گرمہر نے کہا: ’’لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں اتنے بڑے پیمانے پر غربت ہے، تعلیم کا نظام چوپٹ ہے اور حکومتوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں، تمہیں لگتا ہے کہ عورتوں کی اکثریت کا معاشی اعتبار سے مستحکم ہونے کا خواب مستقبل قریب میں شرمندئہ تعبیر ہوسکتا ہے؟ رہی یہ بات کہ اپنے جیون ساتھی کا خود انتخاب کر لیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا، ایسا بالکل نہیں ہے۔مرد اپنی پسند کا ہو یا باپ کی پسند کا، ہے تو وہی مرد الا یہ کہ کسی نے کوشش کرکے اپنے کو مہذب بنایا ہو۔‘‘
مباحثہ کا وقت ختم ہو ا۔ ٹیچر بولی: ’’وِل ڈَن! اب ہم لوگ آئندہ ہفتہ ملیں گے۔‘‘
میں کاؤنسل کے احاطہ سے باہر نکلا اور بس اسٹینڈ کی جانب قدم بڑھانے لگا۔ میں ابھی بیس پچیس قدم چلا تھا کہ میری نظر سات سے دس برس کے بیچ کی تین ایسی لڑکیوں پر پڑی جنہیں لوگ اسٹریٹ چلڈرن کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک کے گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا۔ ان بچیوں کے گرد سے اٹے اور یہاں وہاں سے پھٹے کپڑے، جھلسے ہوئے چہرے، چپل سے محروم پیر اور سینے کا غیر معمولی ابھار اس بات کا غماض تھا کہ وہ بیک وقت سخت موسم، گرسنہ جنسی بھیڑیئے اور بھوک کا شکار ہیں۔
اگلے موڑ پہ پہنچا تو چند عورتیں دھرنا دے کر بیٹھی ہوئی تھیں اور وقفہ وقفہ سے ’ناری شکتی زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہی تھیں۔ اُن کی مانگ تھی کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھنی چائیے۔ ان خواتین کے جلو میں دو چار مرد حضرات بھی تھے جن میں سے ایک ششی ٹھاکر تھے جن پر ایک عدالت میں اپنی گرل فرنڈ کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چل رہاہے۔

