اردو ادب کی تاریخ میں سہیل عظیم آبادی کی شناخت افسانہ نگار کی حیثیت سے مستحکم ہے، مگر سہیل عظیم آبادی کی خدمات کا دائرہ زبان و ادب کے سلسلے میں وسیع تر ہے۔ سہیل صاحب ایک فکشن نگار کے ساتھ ساتھ شاعر اور نامور صحافی بھی تھے، انہوں نے مختلف رسائل و جرائد اور روزنامے جاری کئے، ملک کے مؤقر رسائل اور روزنامہ کے مدیر بھی رہے،گویا آپ کی صحافتی خدمات ا ردو صحافت کی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ سہیل صاحب کو شاعری سے بھی شغف تھا، طالب علمی کے زمانے میں ہی شاعری کا شغف بڑھا تو سہیل جمیلیؔ کے نام سے کلام کہنے لگے۔یہ سلسلہ دراز نہ ہو سکا، علامہ جمیل مظہری کے مشورے پر شاعری ترک کر کے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوئے اور سہیل عظیم آبادی کے نام سے مشہور ہوئے۔افسانہ ہی آپ کی اصل پہچان بنااس لئے گزشتہ سالوں میں سہیل صاحب کی ادبی خدمات کو موضوعِ تحقیق بنا کر جتنے بھی کام ہوئے ہیں ان میں ہماری توجہ کا مرکز ان کی افسانہ نگاری ہی رہی، جبکہ سہیل صاحب نے افسانوں کے علاوہ ناول، ناولٹ، ڈرامے، مکتوبات، خاکے اور بچوں کی کہانیاں بھی لکھی ہیں، مگر افسوس کہ ان کی دوسری تخلیقات عدم توجہی کا شکار رہی ہیں جس سے سہیل صاحب کی تخلیقیت کے کئی اہم گوشے نمایاں نہیں ہو سکے ہیں۔ پروفیسر علیم اللہ حالی بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”افسانہ نگاری کے علاوہ سہیل عظیم آبادی کی کئی دوسری ادبی شقیں بھی روشن اور قابل ذکر ہیں“(1)۔ ان شقوں پرخاطر خواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سہیل عظیم آبادی کی انہیں روشن ادبی شقوں میں ایک اہم شق ان کے ادبی خاکے ہیں۔سہیل عظیم آبادی نے کئی ادبی شخصیات کے خاکے لکھے ہیں۔ تعداد کا تعین کرتے ہوئے پروفیسر اعجاز علی ارشد نے سہیل صاحب کے خاکوں کی تعداد اٹھارہ]18[ بتائی ہے، جن میں چودہ]14[ مطبوعہ ہیں جو مختلف رسائل میں شائع ہوچکے ہیں اور چار]4[ایسے خاکے ہیں جو ریڈیو پر نشر ہوئے یا لکھے گئے مگر شائع نہ ہو سکے، اس طرح پروفیسر اعجاز علی ارشد کی تحقیق کے مطابق سہیل صاحب نے اٹھارہ خاکے لکھے ہیں (2)۔ابھی چند سال قبل 2015 میں پٹنہ یونیورسٹی کی طالبہ شہناز بانو نے سہیل عظیم آبادی کے سترہ]17[خاکوں کوجمع کیا اور انہیں بڑے سلیقے سے ترتیب دے کر شائع کیا ہے۔
خاکہ کے لئے انگریزی میں Sketchکالفظ مستعمل ہے، جس کے لغوی معنی ڈھانچا بنانا یا مسودہ تیار کرنا ہے، جبکہ ادبی نقطۂ نظر سے خاکہ کسی شخصیت کی ہو بہو عکاسی کا نام ہے،اس میں شخصیت کی خوبیوں یا خامیوں کا بیان اس طرح کیا جاتاہے کہ پڑھنے والے کے سامنے اس شخصیت کی قلمی تصویر ابھر آئے۔ خاکہ نگار اپنے ذاتی روابط اور تعلقات کی بنیاد پر شخصیت کی زندگی کے منفرد پہلوؤں، انوکھے اور اہم واقعات، ظاہری اور باطنی اوصاف، عادات و اطوار،سیرت و لباس، افکار و نظریات اور نفسیات وغیرہ پراس طرح روشنی ڈالتا ہے کہ شخصیت کی جیتی جاگتی تصویر قاری کے سامنے جلوہ گر ہوجاتی ہے۔ خاکہ نگار کرادار کی شخصیت اور اس سے وابستہ ذاتی معلومات سے ہی سروکار رکھتا ہے،ایسے واقعات منتخب کرتا ہے جن سے شخصیت پر روشنی پڑ سکے۔
اردو میں خاکہ نگاری کا فن بہت قدیم نہیں ہے،انیسویں صدی میں اردو شعراء کا تذکرہ لکھنا عام روش تھا، انہیں تذکروں میں ہمیں خاکہ کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں،جن میں سب سے اہم محمد حسین آزاد کی تصنیف”آب حیات“ کو مانا جاتاہے۔ جہاں تک ہمارے یہاں بہار میں خاکہ نگاری کا تعلق ہے تو متفقہ طور پر پروفیسرسید محمد حسنین کی تخلیق ”بہار کے نو چراغ“ مطبوعہ 1952 کو بہار میں خاکہ نگاری کا اولین نمونہ قرار دیاجاتا ہے۔ سید محمد حسنین نے اپنے عہد کی سات معروف شخصیات (محمد مسلم عظیم آبادی، انجم مانپوری، محمد محسن عظیم آبادی، اختر اورینوی، شکیلہ اختر، سہیل عظیم آبادی، ح۔م۔اسلم)کا تعارفی خاکہ پیش کر کے بہار میں ادبی خاکہ نگاری آغاز کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب خاکہ نگاری کو ایک فن کے طور پر کافی مقبولیت حاصل ہو رہی تھی اورتمام نامور ادیب(رشید احمد صدیقی، عصمت چغتائی،کرشن چندر، قراۃالعین حیدروغیرہ) خاکہ لکھ رہے تھے جن کا خاکہ نگاری کے فن کو فروغ دینے میں اہم کردار رہا ہے، بلکہ اس ابتدائی دور میں ہی کئی ایسے خاکے لکھے گئے جو اردو ادب کا لازوال حصہ بن چکے ہیں۔ اسی زمانے میں اردو کے نامور افسانہ نگار،جنہیں اردو افسانہ نگاری میں پریم چند کی روایت کا امین کہا جاتا ہے، سہیل عظیم آبادی اپنے منفرد رنگ و آہنگ اور اسلوب کے ساتھ خاکہ لکھنے کی طرف مائل ہوئے اور افسانوی طرز کے چند بہترین خاکے لکھے ہیں۔
سہیل عظیم آبادی نے خاکہ بہت زیادہ تو نہیں لکھا ہے مگر جتنے بھی خاکے آپ نے تحریر کئے ہیں ان کی بنیادذاتی تعلقات اورمخصوص ملاقاتیں ہی ہیں، بلکہ انہوں نے خاکوں میں جابجا شخصیت سے اپنے تعلقات کی وضاحت بھی کی ہے، مثلاً جگر مرادآبادی کے خاکہ کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں:-
”جگر صاحب سے میری ملاقات ڈاکٹر سید اختر امام کی وساطت سے ہوئی تھی۔ ڈاکٹر اختر امام کولمبو یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے اور اب وہیں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد بار بار ملاقاتیں ہوتی رہیں پٹنہ، دہلی اور سری نگر میں۔“(3)
اور جن سے ملاقاتیں کم ہوتیں ان سے خط و کتابت کے ذریعہ مراسم گہرے رہے،مثلاً خلیل الرحمن اعظمی، سلام مچھلی شہری وغیرہ سے آپ کے تعلقات۔ گو یا کہ سہیل عظیم آبادی کے خاکے رسمی تعلقات کی بنا پر تحریر نہیں کئے گئے ہیں بلکہ شخصیت سے دیرینہ مراسم کی بنیاد پر یہ تحریریں وجود میں آئیں، جس کی وضاحت عظیم آباد کے معروف ناقد و محقق پروفیسر اعجاز علی ارشد نے بھی کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:-
”سہیل عظیم آبادی نے شخصی خاکے بھی کامیابی کے ساتھ لکھے ہیں، جن شخصیتوں پر انہوں نے قلم اٹھایا ان میں سے اکثر کے ساتھ ان کے دیرینہ مراسم رہے ہیں۔ کسی کے ساتھ بزرگانہ، کسی کے ساتھ دوستانہ اور کسی کے ساتھ مشفقانہ تعلقات کی جھلک ان کے خاکوں میں نمایاں ہے۔“ (4)
سہیل عظیم آبادی نے جگر، مجاز، بسمل عظیم آبادی، جمیل مظہری اور پرویز شاہدی جیسے شعرا ء کا خاکہ لکھاہے تو کرشن چندر،اختر اورینوی، خلیل الرحمن اعظمی، سجاد ظہیر جیسے نامور ادیبوں کی مرقع کشی بھی کی ہے۔ ایک خاکہ ڈاکٹر نذر امام جیسے گمنام ادب نوازکا بھی ہے جس میں انہوں نے دوستی کا بہترین حق ادا کیاہے۔اپنے خاکوں میں سہیل عظیم آبادی نے چند شخصیات کو اسم با مسمٰی بنا کر پیش بھی کیا ہے۔ اپنے رہنما اور اردو کے عظیم خدمت گار مولوی عبدالحق کو ”شرافت کا آئینہ“ تو اپنے عزیز دوست محمد احمد ہنر کو ”مخلص دوست“ کے وصف سے نوازا ہے۔سب سے طویل خاکہ اپنے ایک عزیز معاون کا لکھا جسے آپ نے جس قدر چھوٹا بھائی سمجھا اس سے کہیں زیادہ اس نے آپ کو بڑے بھائی جیسی عقیدت اور عزت دیا، میں بات کر رہا ہوں ’زکی انور کی‘۔ زکی انور کی بے وقت موت کے بعد زکی انور کا لکھا گیا یہ خاکہ زکی انور کی زندگی، ان کے جدو جہد اور حوصلے کی کہانی ہے تو ملک کی سا لمیت کی شہادت کا نوحہ بھی ہے۔ زکی انور کا خاکہ یقیناً پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، بقول سہیل صاحب ”زکی کی زندگی بھی ایک سبق تھی اور موت بھی ایک سبق ہے“۔
سہیل صاحب کی زندگی میں جس نے بھی کبھی کسی طرح سے ان کی مدد کی ہوانہوں نے اسے کبھی فراموش نہیں کیا۔ آپ کی ذات اور کردار کی تعمیرو تشکیل اور ادبی پرورش وپرداخت میں جس کسی کا بھی عمل دخل رہا ہے آپ نے دل کھول کر واضح انداز میں اعتراف کیا ہے اور شخصیت سے اپنی عقیدت کے اظہار میں آپ کے یہاں مبالغہ آرائی بالکل نہیں بلکہ یہ سچ ہے کہ ایسے مواقع پر آپ کی زبان اور بیان میں عاجزی اور انکساری کا جذبہ غالب نظر آتا ہے، خاکہ ”علامہ بھائی“ کا یہ اقتباس دیکھیں:-
”برادر مکرم حضرت علامہ جمیل مظہری کی ذات گرامی سے اپنی عقیدت اور ارادت کا اظہار کروں تو سوچنا پڑتا ہے کہ کیا لکھوں، آفتاب کی کرنیں ذروں پر پڑتی ہیں تو چمکنے لگتے ہیں، لیکن ہزاروں ذرے چمک کر بھی آفتاب کو کیا دے سکتے ہیں، برادرمکرم علامہ جمیل مظہری عظیم ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ بہتوں نے ان سے فیض حاصل کیاہے۔ یہ واقعہ ہے کہ وہ شاد عظیم آبادی کے بعد تنہا ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے یہاں کے ادبی ماحول کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ ان کے بعد آنے والا شاعر ہو یا افسانہ نگار بالواسطہ یا بلا واسطہ ان سے متاثر ضرور ہوا ہے۔ اس کے برعکس میری ادبی شخصیت بہت چھوٹی ہے، اور اس چھوٹی سی ادبی شخصیت کی تعمیر میں بھی ان کی شفقتوں کو اتنا زیادہ دخل رہا ہے کہ اگر ان کو الگ کر دیا جائے تو کچھ بھی باقی نہ رہ جائے۔ یہ اقرار توصیفی مبالغہ نہیں بلکہ ایک بڑی حقیقت کا اعتراف اور اظہار ہے۔ اگر ابتدا میں ہی برادر مکرم علامہ جمیل مظہری کی قربت نصیب نہ ہوتی تو میں کچھ اور ہوتا لیکن ادیب اور افسانہ نگار نہیں ہوتا، میرے گھر میں علم تھا لیکن ماحول ادبی نہ تھا، اس لئے اس کی امید نہیں تھی کہ میں ادب کی طرف مائل بھی ہوتا۔ بچپن سے پڑھنے کا شوق تھا، پڑھتا رہتا اور زندگی کے دھندوں میں لگ جاتا، ادیب اور افسانہ نگارنہ بن پاتا۔“ (5)
ان کی زندگی میں ایسا ہی ایک نام ’مسز سوباستی ٹوپو‘ کا ہے، مسز ٹوپو وہ آدی باسی خاتون ہیں جنہوں نے چھوٹا ناگپور کے آدی باسی علاقے میں اردو تحریک کو مستحکم کرنے اوراردو زبان کے فروغ میں سہیل صاحب کا بھرپور ساتھ دیا۔ ”سوباستی ٹوپو“۔محب اردو آدی باسی خاتون“ کے عنوان سے چھوٹا ناگپور اور رانچی کے مشکل ماحول میں اردو کے مشن کو فروغ دینے والی ایک بے لوث خدمات گار کا مختصر مگر جامع اور خوبصورت خاکہ ہے۔اس بلند حوصلہ خاتون کے کارناموں اور اردو خدمات کو سہیل صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:-
”مسز ٹوپو گھر گھر جا کر لڑکوں اور لڑکیوں کو اردو پڑھنے پر آمادہ کرتی تھیں۔ ان کی کوششوں سے آدی باسی لڑکے اور لڑکیوں کی کافی تعداد ان دنوں مدرسوں میں اردو پڑھنے لگی۔“ (6)
رانچی میں ہی سہیل صاحب کے ایک صحافی دوست تھے’رادھا کرشنن‘، جو کہانیاں بھی لکھا کرتے تھے۔ آپ کاخاکہ ”رادھا کرشنن“ اسی دوست کو پیش کیا گیا بہترین خراج عقیدت ہے جس میں قدرے تفصیل سے ان کے حالات زندگی کو رقم کیا گیاہے۔رادھا کرشننن سے آپ کی اچھی ملاقاتیں رہی تھیں، رانچی قیام کے دوران مراسم اور گہرے ہوئے۔رادھا کرشنن کی زندگی، معاشی اور خانگی حالات،ان کے افکار و نظریات کو نہایت سلیقے سے بیان کیا گیاہے۔ ایک بلند حوصلہ عام آدمی کو سہیل صاحب نے بڑا انسان بنا کر پیش کیاہے، جس نے کبھی حالات سے سمجھوتا نہیں کیا۔ خاکہ ”رادھا کرشنن“سے یہ اقتباس دیکھیں:-
”1940 سے 1945 تک دوسری جنگ عظیم کی گرما گرمی رہی اور رانچی بڑا فوجی مرکز بنا رہا۔ یہ زمانہ تھا جب رانچی میں روپے کی بارش ہو رہی تھی۔ کام کرنے والوں اور روپے بٹورنے والوں کی ضرورت تھی لیکن رادھا کرشنن سخت کانگریسی تھے۔ وہ جنگ میں انگریزوں کی کسی قسم کی بھی مدد کرنے کو گناہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے کچھ کام نہیں کیا۔ حالانکہ ان کے بعض خوشحال دوستوں نے کچھ کام کرنے پر آمادہ کرنا چاہااور مالی امداد کا وعدہ بھی کیا لیکن و ہ اپنی جگہ رہے اور کبھی انگریزوں کی مدد کرکے روپے کمانے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ ان کی مالی حالت جیسی غیر اطمینان بخش پہلے تھی ویسی ہی رہی اور جن حالات سے وہ گزر رہے تھے اس کی بھی کبھی شکایت نہیں کی۔ پڑھتے رہے اور لکھتے رہے اور اخباروں اور رسالوں سے جو کچھ مل جاتا اسی پر قانع رہے۔“(7)
چونکہ ذاتی تعلقات سہیل عظیم آبادی کے خاکوں کا نمایاں پہلو ہے،آپ نے جن شخصیات کے خاکے لکھے ہیں ان سے آپ کی قربت خاص اور دیرینہ مراسم رہے ہیں،لہذاسہیل صاحب کے خاکے منفی نہیں ہیں، نہ ہی کوئی منفی بات ہوتی ہے اور نہ ہی منفی واقعات، شخصیت کی برائی کہیں کسی بھی خاکہ میں نظر نہیں آتی، آپ نہ ہی شخصیت کی تنقید کرتے ہیں اور نہ نقائص کی تلاش و جستجو میں اپنی قوت صرف کرتے ہیں۔دراصل سہیل صاحب کی شحصیت بھی ایسی ہی تھی کہ انہوں نے سب سے صرف محبت ہی کی تھی، اس لئے خاکوں میں بھی آپ شخصیت کی تعریف و توصیف ہی کرتے نظر آتے ہیں اوراس کی انفرادیت مسلم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پراپنے دوست اختر اورینوی کا خاکہ کچھ اس طرح ختم کرتے ہیں:-
”اختر کی ذات قدیم و جدید اعلی قدروں سے مرکب ہے۔ بزرگوں کا احترام، دوستوں سے محبت اور خلوص، عزیزوں کے ساتھ شفقت، ہر لمحہ دوسروں کے جذبات کا خیال۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں جو مٹتی جارہی ہیں لیکن اختر کی ذات میں بھرپور ہیں، اور شاید ہر روز ان خوبیوں میں عمر کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جو لوگ اختر سے ملے ہیں ان کو اندازہ ہے کہ اختر کی ذات میں کتنی محبوبیت ہے۔ جتنا زیادہ ملئے اتنی زیادہ ان کی محبوبیت نکھر تی نظر آئے گی۔ میں تو جب بھی اختر کی شخصیت کے بارے میں سوچتا ہوں تو حافظ شیرازی کا شعر دماغ میں گونجنے لگتا ہے:
من نمی یا بم مجال اے دوستاں گرچہ او، دار د جمال بس جمیل “ (8)
یہاں تک کہ اگر کسی ادیب اور فنکا ر کے فن پر باتیں کی تو اس میں بھی نمایاں اوصاف کی نشاندہی کرتے ہوئے شخصیت کے فن اور ذات کی اہمیت کا اعتراف زیادہ کیا ہے،کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی با لکل نہیں کی ہے۔ خاکہ ”سلام مچھلی شہری“ کا یہ اقتباس دیکھیں:-
”سلام کی نظموں میں نیا پن ہوتا تھا، کبھی کبھی تو اتنا زیادہ نیا پن ہوتا تھا کہ قدامت پسند لوگ منہ لٹکا لیتے تھے۔ لیکن ان نظموں میں رس ہوتا تھا، شگفتگی ہوتی تھی، غنائیت ہوتی تھی، شعریت ہوتی تھی اور شاعری کے سارے لوازمات ہوتے تھے۔ سلام کی شاعری کی ایسی خوبیوں نے جلد ہی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اور وہ کم عمری ہی میں ملک گیر شہرت کے مالک ہو گئے تھے۔“ (9)
خاکہ حقیقت نگاری کا متقاضی ہوتا ہے، شخصیت کی عادات و اطوار،خصلت و فطرت، افکار ونظریات، ذاتی یا ادبی تعلقات وغیرہم کے ذکر میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی کو خاکہ کے لئے فنی خامی تصور کیا جاتا ہے۔ سہیل صاحب حقیقت پسند ادیب تھے،حقیقت بیانی ان کا نمایاں وصف ہے، انہوں نے خاکہ نگاری میں بھی واقعات کی پیشکش اور شخصیت کے کردار کی عکاسی میں بناؤٹی باتوں اور مبالغہ آرائی سے گریز کیاہے،سادہ اور عام فہم انداز میں خاکے لکھے ہیں جن کے واقعات حقیقی اورکردار غیر مصنوعی ہیں۔انہوں نے شخصیت کی ہو بہو،من و عن، جیسا دیکھا، جیسا سمجھا، جیسا پایا ویسی ہی تصویر کشی کی ہے۔ آپ خود اردو تحریک کا اہم حصہ رہے، بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور معاون تھے، بابائے اردو کا جو خاکہ آپ نے پیش کیا ہے اس سے کسی صاحب اردو کو انکار نہیں ہو سکتا:-
”بابائے اردو نے اردو کے لیے سب کچھ کیا، ان سے جو بھی ممکن تھا۔وہ جن لوگوں میں اردو کی خدمت کا جذبہ پاتے تھے ان کے لیے آنکھیں بچھا دیتے تھے،خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا آدمی کیوں نہ ہوتا لیکن اگر کوئی اردو کے معاملے میں ان کے نقطہئ نظر کی مخالفت کرتا(خواہ اردو زبان کا مخالف نہ بھی ہو) تو اس سے ٹکر لینے کو تیار رہتے تھے۔ راشٹر بھاشا پریشد کے اجلاس ناگپور کے بعد مہاتما گاندھی سے ان کا اختلاف مشہور ہے۔ حالانکہ وہ مہاتماگاندھی کے بڑے مداح تھے۔ انہوں نے اپنے خرچ سے مہاتمہ گاندھی کے سوانح حیات لکھوائے تھے۔ لیکن جب اردو کے معاملے میں اختلاف ہوا تومہاتما گاندھی سے دور ہوتے چلے گئے۔…………………………….. یعنی بابائے اردو کی محبت اور نفرت کی بنیاد بھی اردو تھی۔ جو اردو کا حامی بابائے اردو اس کے حامی اور مداح، جو اردو کا مخالف اس کے وہ مخالف۔ جو اردو کی طرف سے بے پروا اس کی طرح سے وہ بے پروااور اس معاملے میں وہ بڑی سے بڑی شخصیت کی بھی پروا نہیں کرتے تھے۔“ (10)
سہیل عظیم آبادی کے خاکوں کے اسلوب پر نظر ڈالیں تو افسانوی رنگ ان کے خاکوں پر غالب نظر آتا ہے، اختصار میں جامعیت ان کا اہم وصف ہے، زبان عام فہم سادہ اور سلیس ہے، واقعات کو نپے تلے الفاظ میں ربط و تسلسل کے ساتھ دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ حقیقت اور اختصار کا امتزاج سہیل صاحب کے خاکوں کو پر لطف بنا دیتا ہے، مثلاً جگر مرادآبادی کے خاکہ کے یہ جملے دیکھیں:-
”لیکن وہ بڑی بے نیاز طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی کہ ان کو کون (مشاعروں میں) بلاتا ہے اور کون نہیں بلاتا۔حالانکہ ان کا ذریعہ معاش مشاعروں سے ملنے والی رقم کے سوا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ شروع میں وہ عینک کی تجارت کرتے تھے لیکن وہ بھی رندی اور شاعری کی نذر ہو گئی تھی۔
میں نے سنا ہے کہ کئی ایسے لوگ بھی تھے جو حد درجہ دیندار اور محتاط زندگی گزارتے تھے، لیکن جب جگر صاحب ان کے یہاں قیام کرتے تھے تو وہ جگر صاحب کے لیے شراب کا انتظام بھی کرتے تھے۔“ (11)
سہیل عظیم آبادی کے افسانوی طرز کے چھوٹے چھوٹے خاکے شخصیت کے امتیازی اوصاف اور کارہائے نمایاں پر مبنی بے حد جامع ہیں۔ زندگی کے اہم واقعات اور یادگار کے توسط سے سہیل صاحب نے نہایت سلیقے سے ہر شخصیت کا جامع اور متحرک خاکہ تحریر کیا ہے، جن میں کہیں کہیں پر لطف لطیفے بھی ہیں، تاریخی واقعات بھی ہیں اور کردار کی خوبصورت پیکر تراشی بھی ہے۔خاکہ”میرا دوست مجاز“ میں ایک جگہ مجاز کے لطیف انداز کا ذکر ایک پر لطف لطیفے سے کچھ اس طرح کرتے ہیں:-
”روش صدیقی مرحوم اچھے شاعر اور بے حد شریف طبیعت انسان تھے۔ ان کا شمار بھی مقبول شاعروں میں تھا۔مجاز مرحوم کے بھی دوستوں میں تھے۔ ایک بار ملاقات ہوئی تو مجاز نے ان سے کہا:روش صاحب اب شادی کر لیجئے۔ کب تک لنڈورے پھریے گا۔ روش مرحوم نے بڑی سنجیدگے کے ساتھ جواب دیا: بھائی میں بھی سوچ رہا ہوں۔ لیکن اب عمر زیادہ ہو چکی ہے۔ کسی کم عمر لڑکی سے شادی کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ سوچ رہا ہوں کسی بیوہ سے شادی کر وں۔ مجاز نے چھوٹتے ہی کہا: آپ فکر نہ کیجیے۔ شادی کر لیجیے وہ بیوہ ہو جائے گی۔“ (12)
شخصیت کی پیکر تراشی میں بھی آپ نہایت اختصار سے کام لیتے ہیں، چند خاکوں میں ہی آپ نے شخصیت کے عادات و اطوار اور مزاج کی خصوصیت کے ساتھ شخصیت کا پیکر بیان کیا ہے، ان مخصوص خاکوں میں ہی ایک خاکہ معروف ترقی پسند ادیب کرشن چندر کا ہے۔ خاکہ ”کرشن چندر: ایک محبوب شخصیت“ میں مختصر جملوں میں خوبصورتی سے کرشن چندر کے پیکر کو یوں تراشا گیاہے کہ ان کے ظاہر و باطن کی ایک مکمل تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے، اقتباس دیکھیں:-
”کرشن چندر کے بارے میں ایک ہی بات کہی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ بہت ہی پیاری شخصیت کے مالک ہیں۔ مسکراتا ہوا چہرہ، متین اور سنجیدہ، نہایت دلآویز انداز گفتگو، پلکیں جھکی ہوئی، جیسے رات بھر کی جاگی ہوئی آنکھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خشک آدمی ہیں۔ شوخی اور شرارت بھی کرشن چندر میں موجود ہے۔“ (13)
مجموعی طور پر سہیل عظیم آبادے کے خاکوں کے تعلق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خاکہ نما یادگاری مضامین ہیں جو شخصیت سے ذاتی روابط اور رشتے کی بنیاد پر ان کے خصائص اور نمایاں کارناموں کو یاد کرتے ہوئے لکھے گئے ہیں۔ جن میں افسانے کی لذت بھی ہے اور انشایے کی لطافت بھی۔سہیل عظیم آبادی بنیادی طور افسانہ نگار ہیں جن کی فکر اور فن دونوں پریم چند سے متاثر ہے، وہ حقیقت کی ترجمانی کے لئے شستہ، سلیس اور عام فہم زبان کو ترجیح دیتے ہیں، غیر مانوس الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں، محاورے اور ضرب الامثال بھی روز مرہ کے ہوتے ہیں،لہذاآپ کے خاکوں کی زبان بھی بالکل صاف اور رواں دواں ہے،جہاں قاری کو بے جا الجھن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا،یعنی آپ کا افسانوی اسلوب خاکوں میں بھی نمایاں ہے۔ بقول سہیل صاحب:-
”بیتے دنوں کی یاد عجیب ہوتی ہے، جب آتی ہے تو دل کو تڑپا جاتی ہے اور کبھی کبھی تو کسی پیاری اور خوشگوار یاد کے آتے ہی دل اقبال کے لفظوں میں بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
لیکن گردش ایام کی رفتار مقرر ہے، وہ پیچھے کی طرف کبھی نہیں لوٹتی، ماضی کی طرف اپنا رخ کبھی نہیں کرتی۔“ (۴۱)
بے شک وقت پیچھے کی طرف کبھی نہیں لوٹتا مگر جس خوبصورتی سے آپ نے اپنے نہا ں خانے میں محفوظ صحیفے کی ورق گردانی کر کے اسے صفحۂ قرطاس پر بکھیرا ہے وہ قابل صد احترام ہے۔صاحب علم و فن میری اس بات سے قطعاً انکار نہیں کر سکتے کہ سہیل عظیم آبادی کے خاکے اگرچہ اردو خاکہ نگاری میں اضافہ نہ ہوں مگر اردو خاکہ نگاری کا اہم حصہ ضرور ہیں۔
٭٭٭٭٭
حواشی:-
(۱) ”سہیل عظیم آبادی اور ان کے خاکے“؛ شہناز بانو؛ناشر۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی؛ م۔ 2015ء؛ ص۔۷.
(۲) ایضاً؛ ص۔20.
(۳) ایضاً؛ ص۔24.
(۴) مضمون:سہیل عظیم آبادی اور ان کی تحریریں:ایک تحقیقی جائزہ؛ از پروفیسر اعجاز علی ارشد؛ ماہنامہ ”آج کل“؛شمارہ: نومبر 1981ء؛ص۔36
(۵) ”سہیل عظیم آبادی اور ان کے خاکے“؛ شہناز بانو؛ ناشر۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی؛ م۔ 2015؛ ص۔37، 38. (۶) ایضاً؛ص۔166.
(۷) ایضاً؛ص۔159.
(۸) ایضاً؛ص۔124-125
(۹) ایضاً؛ص۔49-50
(10) ایضاً؛ص۔91.
(۱۱) ایضاً؛ ص۔25.
(12) ایضاً؛ص۔3.
(13) ایضاً؛ص۔58.
(14) ایضاً؛ص۔31.
MD MINHAJUDDIN
Department of Urdu, Patna University, Patna.
email: khanminhaj762@gmail.com, Mob: 9304720184
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

