ہندوستان اپنی آزادی کے پچھتر سال پورا کرنے کو ہے۔ حکومت اس آزادی کی پچھترویں سالگرہ کو امرت مہوتسو کی صورت منا رہا ہے۔ بےشک ازادی ہمارے لئے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں آزادی کا تحفہ دیا۔ اور ہمارے لئے ترقی کے وہ سارے دروازے جو کہ غلامی کی صورت میں بند تھے کھول دیئے۔ اور ہر طبقے کے لوگوں نے اپنے جان و مال کو قربان کر کے جنگ آزادی میں فتح حاصل کی۔ آزادی کے حصول میں اہم کردار ادا کرنے میں اردو زبان کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔
تحریک آزادی میں اردو ادب و صحافت نے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اردو کے ادیبوں اور شاعروں نے اور صحافیوں نے اپنے بےباک لفظوں کے ذریعے انگریز طاقتوں کو ناکوں چنے چبوائے انھوں نے اپنے زور قلم اور بےباکی، حق گوئی سے عوام کے اندر آزادی کی تڑپ پیدا کی اور اردو زبان کی اثریت و جامعیت نے تحریک آزادی میں روح پھونک دی۔ اول تا آخر اردو زبان نے اپنی قوت بیانی سے مجاہدین کے حوصلے بلند رکھے۔ اقبال حسرت، چکبست جوش، فیض، ساحر اور دیگر شعرا کے کلام تحریک آزادی کے مواد سے بھرے پڑے ہیں۔
مادر وطن کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لئے اردو ادیبوں ، شاعروں، صحافیوں نے قید و بند کی اذیت بھی جھیلی اور اپنی جانیں بھی قربان کیں ان اردو داں آزادی کے متوالوں میں سے جن کو سب سے پہلے تختہء دار پہ چڑھایا گیا وہ اردو ہی کے صحافی مولوی محمد باقر تھے۔ انھوں نے اپنی بےباک صحافت ، حق پرست نظریے اور جرآت مندانہ اقدام سے انگریز حکومت کو اس حد تک ہیبت زدہ کر دیا کہ وہ ان کی جان کے دشمن بن گئے اور ان کی آواز کو دبانے کے لئے اور دوسرے صحافیوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے انھوں نے ان کو سولی پہ چڑھا دیا لیکن انگریز حکومت کی یہ چال ناکامیاب ٹھہری اور آزادی کی طلب رکھنے والوں میں مزید ہمت و حوصلہ اور آزادی کے تئیں جنون میں شدت آ گئی اور دوسری طرف انگریزوں نے اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لئے طرح طرح کی چالیں چلیں اور ہندوستانی عوام میں پھوٹ ڈال کر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی جو کہ زیادہ وقت تک کارگر نہیں رہی فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کرنے کے لئے انھوں نے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی بھی کوشش کی غلط فہمیاں پھیلائیں عہدے کا لالچ اور رشوت کے ذریعے ان کے ضمیر کو خریدنے کی بھی کوشش کی معصوم ہندوستانی عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی لیکن ان سب مظالم کے بعد بھی مجاہدین آزادی کے جذبات سرد نہیں پڑے انھوں نے اپنی پیہم کوشش اور غیر معمولی جدو جہد کے ذریعے آزادی حاصل کر کے ہی دم لیا۔
تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اردو زبان جنگ آزادی کی پوری تاریخ میں ہر جگہ شامل رہی۔ کیوں کہ اس وقت اردو زبان فرقہ پرست مذہبی عناصر کی ذہنیت کی ساری حدوں سے آزاد تھی۔ اردو زبان ہندو مسلم سب کی مشترکہ زبان تھی انھیں وقتوں میں ملک میں اردو صحافت کا آغاز ہوا۔ اس وقت کے اردو صحافیوں نے پوری بےباکی اور بےخوفی کے ساتھ اخباروں کے ذریعے اپنے خیالات عوام تک پہنچائے کیوں کہ انھیں اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ اخبارات ہی ہیں جو عوام تک پہنچ کر ان کو ہماری طاقت بنا سکتا ہے۔ اور ان اخبارات کے قاری ہندو و مسلم دونوں ہی تھے۔ اس وقت کے کئی اردو اخبارات ہندو مجاہدین نے ہی نکالے تھے جیسے لالہ لاجپت رائے نے بندے ماترم ، پنڈت کشن چند موہن نے شانتی نامی اخبار نکال کر جنگ آزادی کے لئے کی جانی والی کوششوں میں مزید جوش بھر دیا۔ اور انگریزوں کے خلاف ہندی عوام کو متحد کرنے میں اردو اخبارات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اور ان اخبارات کو نکالنا اور اس میں انگریز حکومت کے خلاف آوازیں بلند کرنا اور آزادی کی مانگ کرنا قطعا آسان نہیں تھا۔ انگریز حکومت پوری قوت کے ساتھ ان آوازوں کی سرکوبی میں لگی ہوئی تھی لیکن مجاہدین آزادی کے حوصلوں کو شکست دینے میں ناکام رہے۔
اس وقت کے تمام اردو قلمکاروں نے اپنی اپنی صنف میں پوری بےباکی کے ساتھ اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے اور عوام کے اندر کے جذبات کو للکار کر بیدار کیا۔ کچھ صحافیوں نے طنز ومزاح کی صورت میں اپنا مدعا بیان کیا اور کچھ نے نظموں و شعروں کے ذریعے اپنا مافی الذہن بیان کیا اور باقاعدہ مضمون بھی لکھے گئے۔ اودھ پنچ کے ذریعے منشی سجاد حسین نے وہ کام کیا جو بہت سارے اخبارات اپنے ادارتی کالموں سے نہیں کر سکے تھے۔ اس اخبار نے اس پامردی اور استقلال کے ساتھ حق گوئی اور بےباکی کا مظاہرہ کیا کہ انگریز حکومت کے عہدیداروں کے اقتدار کا سینہ چھلنی ہو گیا۔ یہ سب کچھ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا کیوں کہ اس وقت ہندوستانی عوام انگریزوں کے ماتحت تھے۔ اور ان کے پاس وہ طاقت نہیں تھی کہ حکومت کے ساتھ اسلحوں کی جنگ چھیڑ سکیں ایسے میں انھوں نے توپ اور بندوق کا سامنا اخبار نکال کر کیا۔ سارے ہی اردو اخباروں نے عوام کو حکومت کی سازشوں سے آگاہ کیا اور ان کو متحد کر کے حکومت کے سامنے لا کھڑا کر دیا۔
ہندوستان کی تحریک آزادی میں اردو ادب و صحافت نے جو کردار ادا کیا ہے تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی 1857ء کی جنگ آزادی سے 1947ء کی حصول آزادی تک اردو ادب و صحافت نے محض آزادی ہی کے راگ الاپے ہیں۔ اور حکومت کی زیادتیوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی اور اس وقت کی حکومت کے سامنے کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا۔ انھیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ بےسروسامانی کے اس نازک دور میں قلم کی طاقت ہی ان کا اصل ہتھیار ہو سکتی ہے۔ ایک طرف انگریز حکومت کے ظلم و ستم کی حد بڑھتی جا رہی تھی وہیں دوسری طرف اخبارات اور میگزین اور بھی زیادہ تعداد میں شائع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ جس میں آزادی کا مطالبہ اور حکومت کے ظلم و ستم کی مذمت اور صاف گوئی و بغاوت کا رنگ صاف طور پر نظر آ رہا تھا جس کی پاداش میں بہت سے اخبارات پر پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں تھیں جو کہ بےاثر رہی ۔ اپنی جذباتی شاعری کے ذریعے شعراء نے آزادی کی شمع کی لو کو مزید بڑھا دیا جس کی وجہ سے انھیں جیل کی صعوبتوں اور مشقتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اردو کے جیالے شعرا اور مصنفین نے اس قید بامشقت کی سزا کے باوجود بھی اپنے مشن کو نہیں چھوڑا جہاں جہاں جیسے بھی ممکن ہوا انھوں نے اپنے کلام میں اپنے جذبات و احساسات کو بیان کرنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔
1857ء کی تحریک آزادی میں شعراء و ادباء کو غیر معمولی اذیت دی گئ اس کے باوجود ان کے اندر آزادی کی طلب کم نہیں ہوئی۔ تحریک آزادی سے وابستہ بیشتر شعراء نے اپنے وطن سے جڑے اپنے جذبات کو اس رقت و گریہ کے ساتھ پیش کیا ہے کہ آنکھیں نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ اپنی غزلوں اور نظموں میں انھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ رقم رہے گا
ساغر نظامی نے آزادی اور وطن سے محبت اور اس سے وابستہ اپنی عقیدت کو اپنی نظم میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔
جب طلائی رنگ سکوں کو نچایا جائے گا
جب مری غیرت کو دولت سے لڑایا جائے گا
جب رگ افلاس کو میری دبایا جائے گا
اے وطن اس وقت بھی میں تیرے نغمے گاؤں گا
اور اپنے پاؤں سے انباز زر ٹھکراؤں گا
چکبست نارائن آزادی کے وقت کی تصویر کشی کرتے ہوئے جوش حوافی کے عنوان سے بڑی بےباکی کے ساتھ لکھتے ہیں۔
جس میں سودائے محبت تھا وہ سر باقی ہے
رات اندھیری ہے مگر یاد سحر باقی ہے
دل کے ہر زخم میں فریاد کا در باقی ہے
قوم بیدار کے سینے میں جگر باقی ہے
دل دہلتے نہیں زنداں میں گرفتاروں کے
بیڑیاں ڈھونڈتے ہیں پاؤں وفا داروں کے
اکبر ال٘ہ آبادی نے برٹش راج کے عنوان سے ایک طنزیہ نظم لکھی ہے جس میں انھوں نے انگریز حکومت پر بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ طنز کیا ہے
بہت ہی عمدہ ہے اے ہمنشیں برٹش راج
کہ ہر طرح کے ضوابط بھی ہیں اصول بھی ہے
جو چاہے کھول لے دروازہء عدالت کا
کہ تیل پیچ میں ہے ڈھیلی اس کی چول بھی ہے
آخر میں لکھتے ہیں۔۔۔۔
جب اتنی نعمتیں موجود ہیں یہاں اکبر
تو ہرج کیا ہے جو ساتھ اس کے ڈیم فول بھی ہے
یہ ساری نظمیں آزادی کے متوالوں کے جذبوں کی عکاسی کر رہی ہیں۔ یہ ظاہر کررہی کہ وہ آزادی کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار تھے ۔ اردو زبان نے ان کے جذبہء حریت کی ترجمانی کرنے میں جس طرح کا کردار ادا کیا وہ اس دور میں لکھی جانے والی نظم و نثر سے صاف طور سے عیاں ہے۔
مولانا حسرت موہانی نے دوسرے مجاہدین آزادی کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف باقاعدہ تحریک چھیڑی۔ اور حکومت کے ظلم و ستم اور جبر و استبداد کے خلاف سڑک پر بھی اترے اور انھوں نے اردوئے معلی کے نام سے اخبار بھی نکالا جس میں انھوں نے آزادانہ صحافت کو اعلی مقام تک پہنچایا اور بنا ڈرے اس میں ہر موضوعات پہ کالم شائع کرتے تھے جس میں انگریز حکومت کے خلاف خوب خوب رائے زنی ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ انھیں ایک مضمون کے سلسلے میں عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑا جس میں انھیں جیل بھی ہوئی۔ جیل سے رہائی کے بعد پھر سے انھوں نے اردوئے معلی جاری کیا۔ اس میں نہ صرف انگریزوں کے خلاف تحریریں چھپتی تھیں بلکہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے تئیں بھی کافی سرگرم تھا۔ مثال کے طور پر اس کا ایک اقتباس یہ ہے۔
جزوی اختلافات کی بنا پر کلی اختلاف کی اصلاح کسی طرح دانشمندانہ نہیں کہی جا سکتی تاہم حتی الامکان غیر ضروری جزوی اختلافات کے مٹانے کی بھی کوشش ضرور کرنا چاہئے۔ یعنی اس طور پر کہ مثلاً لالہ لاجپت رائے اپنے مذہبی آریہ اخباروں کو مذہبی جنگ سے روکیں اور نرمی کا سبق دیں اور مثلاً منشی محبوب عالم مسلمان اخبار نویسوں کو سمجھائیں کہ محض۔۔۔۔ اختلاف کو نیکی کی غرض سے وہ سودیشی تحریک کی مفید اور چلتی ہوئی تحریک میں بعذر ہائے لنگ و نامعقول رکاوٹ پیدا کرنے سے باز آئیں ( اردوئے معلیٰ جنوری 1906 ص 16)
اس اقتباس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اردو زبان کے توسط سے کتنے بڑے محاذ کو سر کرنے کی کوشش کی گئ ہے۔ تحریک آزادی میں اردو زبان کو غالب بول چال کی زبان کی حیثیت حاصل تھی اس زبان کے اسالیب اور فکر وفن نے تاریخ کو ایک اہم موڑ عطا کیا تھا۔ برصغیر میں برپا اس وقت اردو تحریکوں کا واضح مقصد ملک کو غلامی کی زنجیر سے آزاد کرانا تھا اور اس وقت اردو زبان ہر طرح کے مذہبی تعصب سے پاک تھی۔ اس کا ثبوت مسلم اور غیر مسلم مجاہدین آزادی کا ایک آواز ہو کر اردو اخبارات کے نکالنے میں اپنا تعاون پیش کرنا تھا ۔ اس وقت اردو زبان محض ایک تحریک کی زبان نہیں تھی بلکہ مشترکہ تہذیب کی علمبردار بھی تھی۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کے مسائل کو شامل کیا جاتا تھا۔ غرضیکہ اس وقت اردو زبان کی نشوونما اپنے جوبن پہ تھی کیوں کہ اردو زبان جنگ آزادی کی تحریک کو ا مہمیز دینے میں پیش پیش تھی۔
علیزےنجف
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

