"تحریک نسواں کے پس منظر میں اردو شاعری کا مطالعہ” ایک تاثر – کامران غنی صباؔ
"تحریک نسواں کے پس منظر میں اردو شاعری ایک مطالعہ” زیر نظر کتاب ڈاکٹر جاوید اختر کا تحقیقی مقالہ ہے۔جسے انھوں نے ڈاکٹر ایس کے جبیں سابق پرو وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی پٹنہ کی نگرانی میں مکمل کیا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اختر کا تعلق صوبۂ بہار کی مردم خیز بستی سہسرام سے ہے۔ آپ کی شخصیت ادبی اور سیاسی و سماجی اعتبار سے انتہائی فعال ہے۔ مختلف ادبی، سیاسی، سماجی و فلاحی انجمنوں سے آپ کی وابستگی ہے۔ لکھنے پڑھنے کا سنجیدہ ذوق رکھتے ہیں۔
مصنف نے کتاب کوپانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلا باب "ہندوستانی معاشرت میں عورت”کے عنوان سے ہے۔اس باب میں تاریخی نقطۂ نظر سے ہندوستان میں عورتوں کے مقام کا جائزہ لیا گیا ہے۔مصنف نے ہندوستانی تہذیب کے ارتقا سے ہی سماج میں عورتوں کے مقام کے تعین کی کوشش کی ہے۔ "ویدک عہد”، "مابعد ویدک عہد” ،”عہد وسطیٰ”،”برٹش عہد” ،”آزادی کے بعد عورت” اور "اسلام میں عورتوں کا مقام” جیسے ذیلی عنوانات قائم کر کے مختلف عہد، تہذیب اور مذاہب میں عورتوں کے حقوق، ان کے اختیارات اور سماج میں ان کی اہمیت پر تاریخی حقائق و شواہد کی روشنی میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔اس باب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے پوری محنت اور ایمانداری کے ساتھ نہ صرف تاریخ کے صفحات کھنگالے ہیں بلکہ معروضیت کے ساتھ مختلف عہد اور تہذیبوں میں عورتوں کو دئیے گئے اختیارات اور ان کے مسائل کا محاکمہ بھی کیا ہے۔ اس باب میں "اسلام میں عورت کا مقام” عنوان کو نسبتاً زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس عنوان کے لیے مصنف نے بیس صفحات مختص کیے ہیں جس سے مصنف کے فکری رجحان کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عبادت کا جامع تصور اور ہمارا طرز عمل – کامران غنی صبا )
پہلے باب میں "ہندوستانی شاعری میں عورت کی پیش کش” کے عنوان سے ایک ضمنی باب قائم کیا گیا ہے۔یہ حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حصے میں ویدک عہد سے ہندوستانی شاعری میں عورت کو کس کس روپ میں پیش کیا گیا ہے، اور اسے کن کن نظریات سے دیکھا گیا ہے؛ سے بحث کی گئی ہے۔اس باب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کی ہندی ادب بالخصوص ویدک عہد میں تخلیق کیے گئے ادب پر بھی گہری نظر ہے۔
دوسرے باب کے تحت "دکنی شاعری میں عورت” اور "اردو غزل میں عورت” دو ضمنی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ دکنی شاعری میں عورت کی پیش کش کوئی نیا عنوان نہیں ہے۔ اس عنوان پر بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح اردو غزل میں عورت کا تصور بھی ایک ایسا عوان ہے جس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مجھے اس باب میں کوئی انوکھا پہلو نظر نہیں آیا۔
تیسرے باب میں "اردو مثنویوں میں عورتوں کا کردار” موضوع بحث ہے۔ مثنوی اردو کی قدیم اور پسندیدہ صنف رہی ہے۔ اس صنف میں عام طور سے عشقیہ داستان کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ بات عشق کی ہو اور عورتوں کا ذکر نہ آئے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اردو کی تقریباً تمام مثنیوں میں کسی نہ کسی روپ میں عورت اپنے وجود کا احساس ضرور دلاتی ہے۔اس باب میں مصنف نے ارد و کی شاہکار مثنویوں(سحر البیان، گلزار نسیم،زہر عشق، سوز و گداز) کے نسائی کرداروں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
"اردو کی عشقیہ نظموں میں عورت” اس کتاب کا چوتھا باب ہے۔ اس باب میں بطور خاص اختر شیرانی، جمیل مظہری اور فراق گورکھپوری کی شاعری میں عورت کے خد و خال ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ باب اپنے موضوع کے اعتبار سے کافی مختصر ہے۔ اس باب میں جہاں اسرار الحق مجاز،ن م راشد، میرا جی،فیض احمد فیض جیسے اہم شعرا کی شمولیت نہیں ہو سکی ہے وہیں شاعرات کی نمائندگی بھی صفر ہے حالانکہ کم از کم پروین شاکر، ادا جعفری، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، کی کچھ نظموں کو تو شامل کیا ہی جا سکتا تھا۔ (یہ بھی پڑھیں کربِ ذات کا شاعر: ساحرؔ لدھیانوی – کامران غنی صباؔ )
پانچویں باب میں ساحر لدھیانوی کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ساحرؔ کے عہد سے اردو شاعری میں عورت کا بدلاہواروپ ہمارے سامنے آتا ہے۔حالانکہ عورت کے مختلف روپ اردو شاعری کے مختلف ادوار میں اپنی بھر پور انفرادیت کے ساتھ ہمارے سامنے آتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اختر نے اپنے تحقیقی مقالے میں تحقیق کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت حد تک موضوع سے انصاف کیا ہے لیکن ابتدائی تین ابواب میں انہوں نے جتنی تفصیلات پیش کی ہیں، آخر الذکر دو ابواب میں نسبتاً اختصار سے کام لیا گیا ہےجس کی وجہ سے بعض اہم شعرا وشاعرات کا ذکر نہیں ہو سکا ہے۔تحریک نسواں کی بات ہو اور شاعرات کا ذکر نہ ہو تو گفتگو ادھوری لگتی ہے۔ میں یہاں بطور مثال کشور ناہید کی ایک نظم پیش کر رہا ہوں جس سے اردو شاعری میں نسائی لہجے کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ؎
ہم گنہگار عورتیں ہیں /جو اہل جبّہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں /نہ جان بیچیں /نہ سر جھکائیں /نہ ہاتھ جوڑیں /یہ ہم گنہگار عورتیں ہیں /کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ/وہ سر فراز ٹھہریں /نیابت امتیاز ٹھہریں /وہ داورِ اہل ساز ٹھہریں /یہ ہم گنہگار عورتیں ہیں /کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں /تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملے ہیں /ہر ایک دہلیز پہ سزاؤں کی داستانیں رکھی ملے ہیں /جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملے ہیں /یہ ہم گنہگار عورتیں ہیں /کہ اب تعاقب میں رات بھی آئے /تو یہ آنکھیں نہیں بجھیں گی/کہ اب جو دیوار گر چکی ہے /اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا/یہ ہم گنہگار عورتیں ہیں /جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں /نہ جان بیچیں /نہ سر جھکائیں /نہ ہاتھ جوڑیں
مجموعی حیثیت سے ڈاکٹر جاوید اختر کا تحقیقی مقالہ "تحریک نسواں کے پس منظر میں اردو شاعری کا مطالعہ” ایک معیاری تحقیقی کاوش ہے۔ اس کی اشاعت پر میں ڈاکٹر جاوید اختر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ کتاب اپلائڈ بکس نئی دہلی نے شائع کی ہے۔ 256 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 400 روپے ہے۔پٹنہ میں بک امپوریم سبزی باغ سے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
Kamran Ghani Saba
Assistant Professor
Department of Urdu, Nitishwar College, Muzaffarpur
Honorary Editor Urdu Net Japan
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

