Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

فیض احمد فیض کی نظر میں کلچر کیا ہے۔۔۔؟ – ابراہیم اعظمی

by adbimiras جولائی 15, 2021
by adbimiras جولائی 15, 2021 0 comment

فیض احمد فیض کی ہستی بحیثیت شاعر کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ان کی انقلابی سوچ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔اور لکھا جارہا ہے اور آگے بھی لکھا جاتا رہے گا،فیض شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صحافی،مدرس  اور ٹریڈ یونین کے رہنما بھی رہے۔ان تما م امور میں بھی ان کے کا موں کا موضوع بحث  ہونا یہ ان کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ان پہلووں کے علاوہ بھی فیض کی شخصیت کا اہم پہلو سماجی دانشور کا تھا۔جو گردو پیش کے مسائل پر غور وفکر کرکے ان کے بارے میں حل تلاش کرتے تھے۔فیض کی فکر ایک خاص جہت پاکستانی ثقافت اور تشخیص کے حوالے سے تھی۔اس موضوع سے فیض کا تعلق علمی اور عملی دونوں سطحوں پر تھا۔وہ مختلف اوقات میں ایسی سرکاری کمیٹیوں سے بھی وابستہ رہے ہیں جن کا کام ملک کی ثقافتی پالیسیوں کا تعین اور پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لئے اقدامات کرنا تھا۔وہ بیک وقت کئی ادبی  ثقافتی اداروں کے بنانے والون میں شامل تھے۔ان تمام علمی اور عملی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ فیض احمد فیض نے علمی سطح پر تسلسل کے ساتھ ثقافتی مسائل کے بارے میں لکھا اور کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔

فیض احمد فیض ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں جن ہو ں نے ثقافت اور قومی تشخیص کے موجوع پر اپنے خیالات کا  اظہار کیا۔اور اپنی اپنی قیمتی آراء سے قوم کو مستفید کیا،عملی طور پر ان سارے معاملات کے حل کے لئے کوششیں بھی کیں۔چْافتی امور او ر وسائل سے فیض سے فیض صاحب کی دلشسپی و وابستگی بہت گھری رہی۔اس  سلسلے میں وہ ایک جگہ پر لکھتے ہیں۔

”عملی سیاست میں جب اظہار کے ذرائع بند ہوگئے میں ادب اور ثقافت کے حوالے سے بار کرنی شروع کی۔کیونکہ  میرے خیال میں عوام کی اپنی شناخت،اپنی ثقافت،اپنی قدروں کے حوالے سے  بہت ضورری ہے۔  اس کے بغیر ایک آزاد قوم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔“1

ثقافت کے میدان میں فیض احمد فیض کا سفر لاہور آٹس کونسل سے شروع ہو کر اسلام آباد کی کونسل آف آرٹس  پر  جاکر اختتام پذیر ہوا۔اس سفر مین میں کے چھوڑے ہوئے نقش قدم  پاکستانی ثقافت کے خدو خال کے تعین میں اہم رول ادا کرتی ہے۔1924ء سے1972ء تک فیض احمد فیض پاکستانی آرٹس کونسل سے وابستہ رہے سقوط ڈھاکہ کے فیض ملک سے بباہر جانا چاہتے تھے۔لیکن ذولفقار بھٹو کی  فرمائش پر وہ یہاں پر قیام کیا،مگر اس شرط کے ساتھ کہ جنرل ایوب خان کے دور میں جو رپورٹ مرتب کی گئی تھی،ان خطوط پر کام ہو تو ٹھیک ہے۔حکومت کی  طرف سے ان کی اس شرط کو قبو کرلیا گیا۔اور انہیں وزارت تعلیمات میں کلطر ڈویثزن کے مشیر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے لئے کہا گیا۔جس فیض نے بخوشی قبول کرلیا۔ (یہ بھی پڑھیں ’’اللہ کے نام پر دیدے بابا‘‘- ابراہیم اعظمی )

عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ فیض نے احمد فیض نے علمی نظریات سطح پر بھی ثقافت کے موضوع پر اظہار خیال کرتے رہے۔انہوں نے اپنی شاعری، نثر، خطوط،اور انٹر ویوز میں انیک مقامات پر نہ صرف ثقافتی امور کی طرف  اشارہ کیا ہے،بلکہ کھل کر گفتگو بھی کی ہے۔ان کے خیالات حقیقت پسندانہ اور تعصب سے پاک ہیں۔فیض نے کلطر اور تہذیب اور ثقافت جیسی تراکیب کا مفہوم بیان کرکے ان کے اجزائے ترکیبی اور باہمی تعلق پر بھی بحث کی ہے۔بالخصوص پاکستانی تاریخ،اس کے اجزاء اور فروغ موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے

فیض احمد فیض نے کلچر اور ثقافت و تہذیب جیسی تر کیبوں کی تعریف و اجزاء بھی بتائے ہیں۔ان کے نزدیک ہماری زبان اردو میں کلچر کا ہم معنی لفظ موجود نہیں ہے۔ثقافت کے لفظ کو وہ کلچر کا متبادل اور مترادف تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ان کے نزدیک کلچر ایک لطیف شئے ہے  اس کے لئے اتنا ثقیل لفظ نہیں ہو نا چاہئے۔وہ ثقافت کے بجائے تہذیب کے لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ وہ کلچر کی تعریف میں بیان کرتے ہیں کہ ”کہ ہر قوم کی ثقافت کے تین پہلو ہوتے ہیں۔۱) ایک قوم کی اقدار و روایات اور اعقائد جن میں وہ یقین رکھتی ہے۔۲)اس کے رہن سہن کے طریقے اور اداب و اخلاقیات۔۳)اس کے فنون۔ یہ تینوں ایک دسرے سے منسلک ہیں،اور ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔

قومی کلچر کیا ہے؟ اسے کیسے متوین کیا جائے؟اس بارے میں فیض کی رائے ہے کہ ”کہ قومی کلچر کے لئے سب سے پہلے وقم کا وجود بہت ضروری ہے۔کلچر کو تین حوالوں سے متعین کیا جاسکتا ہے،اس کا طول، اسکا  عروض، اس کی گہرائی،کلچر کا طول اس قوم کی گہائی ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ کو جس نقطے سے شروع کرتی ہے۔وہاں سے لیکر موجودہ وقت تک ا س کلچر کا طول ہے۔جبکہ کے کسی قوم کے کلچر کے عروض  سے مراد اس قوم کی جغرافیائی حدود ہیں۔کوئی قوم جب اپنے وطن کی حدود  متعین کرتی ہے وہی کلچر کا عروض ہے۔اور کلچر کی گہرائی سے،مراد،کلچر کی رسائی کن لوگوں تک ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عرفان صدیقی کی شاعری کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ- ابراہیم  نثار اعظمی

یہاں تک کلچر اور قومی کلچر کی بات ہوگئی،اب ہم پاکستانی ثقافت کی بات کرتے ہیں  تو ہمیں فیض احمد فیض کے بتائے ہوئے اصلولوں کے مطابق سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی تاریخ  کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس ضمن میں فیض احمد فیض کی کی رائے بہت واضح ہے۔ان کے نزدیک اس سر زمیں کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے۔یعنی موہن جوداڑو سے اب تک جتنا عرصہ گذرا ہے وہ سب ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ فیض احمد فیض کی رائے میں“

میرے ذہن میں تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ قومی ثقافت میں ہر وہ چیز شامل ہے   جو کسی سر زمین میں موجود ہے۔تاریخی اعتبار سے  جہاں سے اس سر زمین کی تاریخ  شروع ہو ہوتی ہے۔جو کچھ بھی فنون و علوم اور ثقافت کی صورت میں ہے۔اور جو اس یہاں پر موجود ہے  اس ملک کی قوم کا سرمایہ ہے۔اور تاریخی اعتبار سے اس ملک میں  جو کچھ بھی ہے  موہن جوداڑو سے لے کر اب تک  وہ سب کچھ ہمارا ہے۔“۲

پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کے طور  پر دنیا کے نقشے پر ابھرا ہے۔اس کا سرکاری مذہب  اسلام ہے۔اس مین رہنے والوں کی اکثریت مسلمان ہے۔پھر اس ملک کا کلچر اسلامی کلچر ہی ہونا چاہئے۔یہ وہ موقف تھا جو ملک  مین ایک کثیر تعداد  کی زبان پر تھا۔فیض احمد فیض سے یہ سوال بار بار کیا گیا  کہ  کیا پاکستان کا کلچر اسلامی کلچر نہیں ہو سکتا؟۔اس پر فیض کی رائے یہ تھی کہ ”مذہب ثقافت کا اہم جزو وروپ ہو سکتا ہے۔لیکن ثقافت کی اساس نہیں“ کیونکہ ثقافت صرف مذہب سے تشکیل نہیں پاتی  بلکہ اس میں اور بھی بہت سے عناصر شامل ہوتے ہیں۔جس میں تاریخ اور جغرافیائی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک جگہ پر لکھتے ہیں ”

”ہر مسلمان قوم کی تہذیب اسلامی تہذیب ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہر اسلامی  ملک کی ایک  قومی تہذیب بھی  ہے“۳

اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

پاکستان تو اسلام نہیں ہے،پاکستان تو ایک جغرافیہ ہے۔ملک کا نام ہے  دین کا نام   نہیں۔اگر آپ اپنے آپ کو پاکستانی نہ کہیں اور اپنی قومیت سے انکار کردیں  تو پھر  یہ ہو سکتا ہے۔لیکن اگر قومیت پر مضر ہیں تو پھر آپ کو قومی تہذیب پر  مضر ہونا پڑے گا۔ پھر آپ اس قومی تہذیب کو کسی دوسری قومی تہذیب کا حصہ نہیں سمجھ سکتے۔“۴

فیض احمد فیض کا خیال ہے کہ ہمارے کلچر کی بنیاد  دین کو سمجھنا غلط ہے۔دین باطنی چیز ہے، یہ بات درست ہے کہ دین کی وجہ سے زندگی کی بہت سی قدریں متعین ہوتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ کلچر کے بہت سے اجزاء ایسے ہیں جنکو مذہب یا دین متعین نہیں کرتا۔ایسی چیزون کی بات کرتے ہوئے ہمیں دین کی طرف لوٹنا پڑے گا۔۔پاکستانی تہذیب اسلامی تہذیب کیوں نہیں ہو سکتی؟ اس بارے میں فیض کی رائے  یہ ہے کہ   ”آپ صرف اسلامی تہذیب اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا اجارہ اسلام    پر  نہیں ہے اس پر دیگر اسلامی ممالک کا بھی حق ہے“۵

فیض  کا موقف تھا کہ اگر ہم اپنی قومیت کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر پاکستانی تہذیب  کے دو عناسر ہیں۔ایک اسلام اور دوسرا پاکستانیت۔

یہاں تک  تو مذہب کے مسلے تک بات تھی۔ایک دوسرا سوال پاکستان کے کلچر کے بارے میں یہ ہے کہ کہ پاکستان میں مختلف قومیں بستی ہیں،تقریبا طھ صوبے ہیں۔ہر ایک صوبے کی مخصوص طرز معاشرت ہے ان کے الگ الگ لسانی معاملات ہیں، تہذیبی زاریہ ہیں۔ایسے میں ایک کلچر کی بات کیسے کی جائے؟

فیض نے جب علاقائی  ثقافت کے موضوع پر اظہار خیال کیا تو اس  سے جڑے تمام  معاملات ان کی نگاہ میں تھے۔فیض کا موقف اس ضمن میں یہ ہے کہ ”مختلف علاقائی تہذیبوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے قبول کرنے کا رجحان پیدا کرنا چاہئے۔اور تہذیبی اختلافات کو مخالفت میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔ان سب اجزاء کے مشترک کرنے سے  پاکستانی کلچر کی تشکیل ہوگی۔فیض کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہر علاقے کا اپنا کلچر ہے اور خوبصورت کلچر ہے بجائے اس کے کہ ہم اسے نظر انداز کریں ہمیں چاہئے کہ علاقائی کلچروں کی خوبصورتی کو سمیٹ کر  پاکستانی کلچر تشکیل دیں۔

ہمارے یہاں ایک عام رویہ ہے کہ ہم کلچر کو محض  امراء کی عیاشی کی چیز تصور کرتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ عوام کا کلچر میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔یہ روساء کا معاملہ ہے۔فیض کا خیال اس بارے میں یہ ہے کہ

”ہمیں اپنے ذہنوں سے جالے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔کہ کلچر محض عیاشی  اور لہو لعیب کا  نام نہیں ہے۔اور نہ ہی ا سکا  تعلق امراء سے ہوتا ہے“ ۶

ایک جگہ پر وہ کہتے ہیں۔”

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کلچر یا ثقافت ،گانے بجانے یا لہو لعیب کا نام  نہیں ہے بلکہ یہ قومی اور معاشرتی زندگی کا بہت اہم شعبہ ہے۔کلچر معاشرتی زندگی کے جملہ کاروبار پر اثر انداز ہوتا ہے۔کسی بھی انسانی معاشرے کے پورے نظام یا طریقہ زندگی کو کلچر کہتے ہیں َ“۷

اس طرح سے فیض احمد فیض نے کلچر کو قوم کے ہر فرد سے جوڑدیا ہے۔ان کے نزدیک کلچر قوم کے افراد کے مجموعی رویہ سے تشکیل پاتا ہے۔ایک گروہ  یا ایک حلقہ کویہ کلچر نہیں بنا سکتا۔کلچر عوام الناس کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا امراء اور روساء کا ہوتا ہے۔ ثقافت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے فیض احمد فیض لسانی مسائل،اور لسانی گروہ بندیوں سے بھی مکمل طور پر آگاہ کیا ہے۔علاقائی زبانوں کی موجودگی کے باوجود ایک قومی زبان کی اہمیت  کیا ہوتی ہے اور قومی زبان کسے ہونا چاہئے،اس بارے میں فیض کی رائے یہ ہے کہ،اردو ہی وہ زبان ہے  جو پاکستان کے  تمام علاقوں میں  بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اور یہ زبان ہی رابطے کا کام دے سکتی ہے،مزید یہ کہ اردو کے فروغ سے علاقائی زبانوں کو کوئی لاحق نہیں ہے۔مزید ایک جگہ پر فیض لکھتے ہیں:

”میں نے زبان کو کلچر سے الگ نہیں کیا ہے،ہمارے ملک میں مخلف زبانیں ہیں اور سب کی سب ہماری زبانیں ہیں،اس میں کوئی بدیسی زبان نہیں ہے۔لیکن ان مختلف  زبانوں کی موجودگی  میں  بھی ہمیں ایک زبان کی ضرورت ہے جو رابطے کا  کام دے اور کاروباری  زندگی میں سب کا یکساں وسیلہ رہے۔اور وہ ایک ہی زبان  ہے اردو۔اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں دوسری زبانوں کے بولنے والے  بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اظہار خیال بھی کرسکتے ہیں۔جو بھی زبان یہاں بولی جاتی ہے  ان کا فروغ لازم ہے انہیں تسلیم کرنا لازم ہے، اس کے ساتھ ایک مشترک زبان کو تسلیم کرنا اور اسے بھی فروغ دینا ضروری ہے“۸

ہمارے یہاں کلچر کو کمتر سمجھنے کا  ایک عمومی رویہ پایا جاتا ہے۔ا سکی ایک وجہ مشرقی کلچر کی چکا چوند ہے۔اور وجہ ہماری قومی ثقافت کا منجمد ہو جانا  ہے،فیض احمد فیض اس سلسلے میں کہتے ہیں۔:

”خلاء تو فطرت میں ہوتا ہی نہیں ہے۔ کوئی نہ کوئی وجہ پر کرنے آجاتی ہے،ہم نے اپنے پیالے کو پوری طرح بھرا  نہیں ہے،جو اس میں کمی رہ گئی ہے۔سہ ساری چیزیں اس میں  شامل ہو گئیں ہیں اگر ہم نے اپنا ثقافتی پیالہ نہیں بھرا ہوتا  تو دوسری چیزوں کی گنجائش ان میں کم ہوتی۔۔10“

مزید یہ کہ حاکم قوم  محکوم قوم کی اقدارو روایات کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالتی۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا،انگریزوں نے ہماری صدیوں کی تہذیبی روایات کو ہماری نظروں میں کمتر کردیا اور اپنے کلچر کو متعارف کروایا۔فیج احمد فیض کے نزدیک اس مسلئے کا حل یہ ہے کہ،ہمارے پاس جو کچھ ہے،جتنا تاریخی و تہذیبی ورثہ ہے  ہمیں اس پر فخر کرنا چاہئے۔اور اس کے فروغ کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔مگر اس پر شرمندہ ہونے کی کویہ ضرورت نہیں ہے۔

فیض احمد فیض کی رائے میں ہمیں اپنے کلچر کو فروغ دینا چاہئے۔سوال  یہ اٹھتا ہے کہ کلچر کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے؟کیا شعری طور پر کلچر میں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں؟اس کے متعلق فیض کا خیال یہ ہے کہ کلچر کے دو پہلو ہیں۔ایک فنون اور دوسرا معاشرے کا مجموفی طرز زندگی۔ان کے نزدیک فنون کو ہم فروغ دے سکتے ہیں۔کیونکہ رواداری کو ہمیں شعوری طور پر فروغ دینا پڑتا ہے۔ورنہ ان میں خرابی کا عنصر پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔دوسرا عنصر کلچر کا طرز زندگی ہے۔ جو معاشرے کی پوری اجتماعی زندگی سے وابستہ  ہے۔اور وہ آسانی سے نہیں بدلتا اسے بدلنے کے لئے آپ کو معاشرے کی صورت بدلنی پڑتی ہے۔اس کے علاوہ آپ اسے بدل نہیں سکتے۔ (یہ بھی پڑھیں بد گمان – ابراہیم نثار اعظمی )

ہم دیکھتے  ہین کہ فیض احمد فیض نے فنون لطیفہ  کو کلچر کا ایک حصہ قراردیا  ہے۔فنون کیا کچھ شامل ہے؟فنون  کی اہنیت اور حقیقت کیا ہے؟اور یہ کہ اسلاسے متصادم فنون کون سے ہیں؟اس سلسلے میں فیض کا موقف یہ ہے کہ

”فن کلچر کا ایک مظہر ہوتا ہے،کلچر اور فن کو ایک دوسرے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔ فنون ادب،موسیقی،مصوری،اور فلم وغیرہ کلچر کے منجھے ہوئے ارادی اور تراشے ہوئے  اجزاء ہیں۔فیض کے نزدیک فن آزادی اظہار کی بنا پر پھلتا  پھولتا ہے۔ہمارے یہاں چند بزرگ ایسے ہیں جو فنون کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔اور فنون کو اسلام سے متصادم قرار دیتے ہیں۔فیض کے نزدیک ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی ہم ابھی تک فحاشی اور فنکاری کے درمیان فرق واضح نہیں کرسکتے“ ۱۱

فیض احمد فیض کے نزدیک  کلچر پورا طریقہ زندگی ہے۔ان کے مطابق کلچر کو طول،عروض، اور گہرائی سے ماپا جاسکتا ہے۔ان کے خیال میں علاقائی کلچروں اور تاریخی ورثے والے ملاپ سے ہی پاکستانی کلچر تشکیل دیا جاسکتا ہے۔مذہب کلچر کا حصہ ضرور ہے لیکن اس کی بنیاد نہیں ہوسکتا،ثقافت اور کلچر امراء کی عیاشی کی چہز نہیں،بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کی تشخٰیص کرنے کا نہایت ضروری آلہ کار ہے۔اور اس میں عوام کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔فیض کلچر کا جامد چیز نہین مانتے،بلکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ نئے زاویئے کلچر میں شامل ہوتے ہیں۔اور فرسودہ پہلووں کا اخراج ہوتا ہے۔فیض احمد فیض ادب کو کلچر کا ایک بہت اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک معاشرے کی تصویر ہوتا ہے۔اور جیسا معاشرہ ہوگا ویسا ہی ادب پروان چڑھے گا۔ایک جگہ پر فیض احمد فیض پاکستان پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”پاکستان ایک نیا ملک ہے یہاں کی قوم ایک نئی قوم ہے۔چنانچہ اس ملک مین رہنے والوں کو اس سر زمین سے محبت اور افتخار کرنا سیکھنا چاہیے۔یہاں جو کچھ ہمیں تاریخ کے توسط سے ملا ہے۔اسے اپنائیں اور باہر جو کچھ آیا ہے جوکہ ہماری تہذیب میں سرایت کرچکا ہے،اسے  بھی قبول کریں“12۔۔

آخر میں جو سب سے اہم بات جو فیض احمد فیض نے کہی جو کہ کلچر کے فروغ میں بہت اہم مقام رکھتی ہے وہ  یہ ہے کہ ”

”آرٹ اور کلچر تو کرنے کی چیزیں ہیں۔ان کے بارے میں ہم باتیں کم کریں اور کوشش کریں کی کام ہو“

فیض احمد فیض نے کلچر کے تعلق سے جو باتیں،اور جن ثقافتی مسائل کی نشان دہی کی ہے،آج بھی ہمارے معاشرے وہ سارے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔تھوڑی بہت بہتری آئی ہے۔لیکن بہر حال ابھی بہتری کی گنجائش موجود ہے ثقافتی معاملات کے حل کے لئے اگر فیج کے متعین کردہ راہوں پر چلا جائے تو خاطر خواہ نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ اور ہم ثقافی مسائل سے بآسانی  نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔مجموعی طور سے اگر دیکھا جائے تو فیض احمد فیض نے جس طرح سے کلچر اور ثقافت کے تعلق سے جو باتیں بتائیں ہیں وہ سب ہماری زندگی کیبہت کارآمد اور مفید ہیں

 

                                        ابراہیم اعظمی۔۔۔۔

شاہین اکیڈمی لکھنو

حواشی ۔
۱) (فیض احمد فیض کی شاعری میں اشتراکی رجحانات )ڈاکٹر عزیزہ بانو ،ص نمبر ۲۳)
۲) (فیض احمد فیض کی شاعری میں اشتراکی رجحانات )ڈاکٹر عزیزہ بانو ،ص نمبر ۳۰۲)
۳) ( فیض احمد فیض کی نظر میں کلچر کیا ہے ،شائشتہ نسرین مشمولہ ص نمبر ۹۸)
۴) ( فیض احمد فیض روایت اور انفرادیت۔ڈاکٹر نصرت چودھری،ص نمبر ۱۸۸)
۵) ( فیض احمد فیض کی نظر میں کلچر کیا ہے ،شائشتہ نسرین مشمولہ ص نمبر ۴۵)
۶) ( فیض احمد فیض کی نظر میں کلچر کیا ہے ،شائشتہ نسرین مشمولہ ص نمبر ۱۱۸)
۷) ( فیض احمد فیض کی نظر میں کلچر کیا ہے ،شائشتہ نسرین مشمولہ ص نمبر ۸۹)
۸) (دامن یوسف ،خالد شریف ،ص نمبر ۱۱۰)
۹) ( فیض کی شاعری اور پاکستانی کلچر ،ص نمبر ،۵۶)
۱۰) ( فیض کی شاعری اور پاکستانی کلچر ،ص نمبر ،۵۷)
۱۱) ( فیض کی شاعری اور پاکستانی کلچر ،ص نمبر ،۵۵)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ابراہیم اعظمیفیض احمد فیض
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
ادبی دنیا کا گمنام روشن ستارہ ’’قمرالدین قمرؔ ‘‘جرولی- محمد عبداللہ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں