اردو ادب میں طنز و ظرافت کی تاریخی ترتیب و تدوین پر جب قلم اٹھاتے ہیں تو سب سے پہلے اس کا آغاز ہجویہ شاعری اور قدیم شعرا کے ان اشعار سے کرتے ہیں جس میں طنزو ظرافت کے ابتدائی نقوش زاہد، واعظ اور محتسب سے چھیڑ چھاڑ، ہدف ملامت اور تعن و تشنیع کی صورت میں ملتے ہیں. شاعری میں طنز و مزاح کی یہی روایت آگے چل کر ترقی یافتہ شکل میں ابھر کر سامنے سامنے آئی. جسے نظیر اکبر آبادی نے پہلی مرتبہ زیادہ تراش خراش کر عوام کے سامنے پیش کیا. یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نظیر واحد شاعر ہیں جنہوں نے اپنے دور میں طنز و ظرافت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا. نظیر کے بعد طنز و مزاح کے ارتقا میں غالب کا نام آتا ہے. غالب نے بہ یک وقت نثر و نظم دونوں میں طنز و ظرافت سے کام لیا. بلا شبہ غالب کی شوخ اور شگفتہ، بےباکانہ و فنکارانہ انداز بیان نے اردو ادب میں طنز و ظرافت کی نئی شاہراہ نکالی.غالب کے انتقال(1869) کے بعد 1877 میں لکھنؤ سے ‘اودھ پنج’ نکلا جو ایک مزاحیہ ہفت روزہ اخبار تھا. یہ پہلا اخبار تھا جس کے ذریعہ پہلی بار اجتماعی طور پر طنز و ظرافت سے معمور تخلیقات پیش کی گئیں.اس طور پر یہ اخبار اردو نثر میں مزاح نگاری کا سنگ میل ہے. ‘اودھ پنج ‘کے بارے میں ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں-
"اودھ پنج 1877 میں منظر عام پر آیا اور اشاعت پذیر ہوتے ہی فضا قہقہوں سے لبریز ہو گئی – طنز و مزاح کا ایک سیلاب تھا کہ مسکراہٹوں کو اپنے جلو میں لئے امڈااورچاروں طرف پھیل گیا. اور شاعروں اور مضمون نگاروں کا ایک پورا گروہ طنز و مزاح کے حربوں سے ناہمواریوں اور بے اعتدالیوں کو
نشانہ تمسخر بنانے لگا.”
(اردو ادب میں طنز و ظرافت – وزیر آغا – لکھنؤ – 1990 – صفحہ – 110)
اودھ پنج سے قبل ظرافت نگاری میں نہ تو توازن تھا اور نہ اس کا اپنا مزاج تھا. شگفتہ اور دلچسپ فقرے جو کبھی کبھی ابتذال کی سرحدوں کو چھو لیتے تھے، ان کی غرض و غایت صرف ہنسی اور گد گدی تک محدود تھی. گرچہ لکھنے والوں نے اپنے وقت کے سماجی مسائل پر توجہ دی تھی. ان پر تبصرے کئے تھے اور وقت اور ماحول کے تقاضوں کے سبب ان کے لہجے میں طنز کی تیزی بھی آ گئی تھی. لیکن مجموعی طور پر وہ ظرافت کے معیار و تصور سے بہت دور تھے. اچھی خاصی شعوری بیداری کے باوجود وہ مزاح کے امکانات کو وسیع نہ کر سکے تھے. یہ خدمت اودھ پنج نے انجام دی. اس نے جس قسم کی ظرافت کو رواج دیا وہ ظرافت کے قدیم تصور سے بالکل مختلف تھی. اس ظرافت میں طنزیہ لب و لہجہ بہت ہی نمایاں تھا. انداز بھی قدما سے مختلف تھا. وہ زیر لب مسکراہٹ کے قائل نہ تھے بلکہ وہ دل کھول کر خود قہقہہ لگاتے اور دوسروں کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتے تھے. ان کی شوخ و طرار طبیعتیں زندگی کے ہرگوشے سے ہنسی کا پہلو دریافت کر لیتیں تھیں. ان کی باتوں میں وزن تھااورتاثیر تھی. اس لئے ان کی ظرافت وسیع اور عمیق تھی. بقول کشن پرساد کول –
"اودھ پنج نے ہماری زبان میں طنز و ظرافت کی رنگینی سے مالا مال ادب میں ایسا طرز ادا نکھارا جس کی شوخی اور طراری ضرب المثل ہو گئی. اودھ پنج طنز و ظرافت کا سر چشمہ تھا. اس کے لطیفے چٹکلے اس کی بذلہ سنجی اور فقرہ بازی اپنی سوخی اور محاوروں کے لحاظ سے آج تک یاد گار ہے. جو پھبتی ایک بار پنج میں نکل گئی زبان خلق پر دنوں اور مہینوں اس کا چرچا رہتا. اس کی طنز و ظرافت کے نشتر اچھے اچھے دل گردوں کے کلیجے چھید دیتے تھے. ”
(علی گڑھ میگزین طنز و ظرافت نمبر – 1953 – صفحہ – 16)
اودھ پنج کی افادیت اور اس کی ادبی حیثیت کے تعلق سے ظہیر الدین صدیقی لکھتے ہیں –
” ہماری مزاح کا یہ دور اول سے بہتر ہے. چونکہ اس میں افادیت اور زندگی کا شعور پیدا ہو چکا تھا. حقیقت میں پنج نے زبان اور ظرافت کے چہرے سے نقاب اٹھائی اور صنف کو ادب کا مرکز بنایا.”
(علی گڑھ میگزین طنز و ظرافت نمبر – 1953 – صفحہ – 91)
گویا اودھ پنج کے لکھنے والوں نے طنز و ظرافت کے پیرایہ میں زندگی کے ہر پہلو پر کڑی تنقید کی. ادبی، سیاسی، سماجی، مذہبی غرض زندگی کا کوئی بھی پہلو اودھ پنج کے قلمکاروں کی دسترس سے نہ بچا. اودھ پنج کے شرکا، سامراجیت اور نئی روشنی کے سخت مخالف تھے. یہی وجہ ہے کہ نئی روشنی کے علمبرداروں سرسید احمد خاں اور ان کے رفقا کا اودھ پنج نے خوب مذاق اڑایا.
اودھ پنج کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین تھے جنہوں نے اپنی ذہانت سے طنز و مزاح کو بام عروج تک پہنچانے میں ایک اہم رول ادا کیا. ان کے علاوہ پنڈت رتن ناتھ سرشار، مرزا مچھو بیگ ستم ظریف، مولوی سید عبدالغفور شہباز، پنڈت تربھون ناتھ ہجر، منشی جوالا پرساد برق، منشی احمد علی شوق، نواب سید محمد آزاد اور اکبر الہ آبادی جیسے بڑے بڑے سحر کار اہل قلم شامل تھے.
اودھ پنج کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین بلا کے لکھنے والے تھے. انہوں نے اودھ پنج میں خطوط کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں انہوں نے انتہائی دلچسپ اور طنزیہ انداز میں ہندوستانی رؤساپر چوٹیں کیں. اس کے علاوہ ‘لوکل’ اور’موافقت زمانہ’ کے زیر عنوان ان کے جو مضامین چھپے ان میں بھی سیاسی اور سماجی حالات پر بے باک تبصرہ کیا. انہوں نے کم و بیش چھتیس سال اودھ پنج کے ذریعہ طنز و ظرافت کے گل کھلائے. پنڈت رتن ناتھ سرشار کا نام اودھ پنج کے لکھنے والوں میں خاصہ اہم ہے جن کی شہرت ان کی تصنیف ‘فسانہ آزاد’ سے ہے. اس ناول کے ذریعہ انہوں نے اپنے عہد کی تہذیب و معاشرت رسوم و رواج، تعلیم اور ادب سب پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا. اردو کو میاں خوجی جیسا مزاحیہ کردار ان ہی کے ذہن کی دین ہے.
مچھوبیگ ‘ستم ظریف’ کے فرضی نام سے اودھ پنج میں قریب دو سال تک لکھتے رہے. تربھون ناتھ نے مزاحیہ نثر نگاری میں فسانہ آزاد کا رنگ اختیار کیا اور اس وقت کے انحطاطی رحجانات کا مذاق اڑایا.. جوالا پرساد برق نے سیاسی اور ملکی مسائل پر کھل کر طنز کیا. احمد علی کسمنڈوی نے اودھ کی کھوکھلی معاشرت کو طنز کا موضوع بنایا. ان سب سے ہٹ کر نواب محمد آزاد نے اپنے مضامین میں مغربی تہذیب کے علاوہ مشرقی تہذیب پر بھی طنز کیا. شاعری میں بھی اودھ پنج نے ایک نئے طرز کی شاعری کو فروغ دیا جس کے تحت اکبر الہ آبادی نے بلا کی شاعری کی. اکبر الہ آبادی طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے خود مقبول ہوئے اور اودھ پنج کوبھی مقبولیت بخشی . انہوں نے پہلی مرتبہ طنز و ظرافت کو فن کی حیثیت سے شعر میں برتا اور اجتماعی اور سیاسی مسائل کو اپنے طنز کا موضوع بناتے ہوئے اس کا رشتہ زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی.اردو ادب کی فضا کو رنگینی اور خوشگواری عطا کی ساتھ ہی مقصدیت کو فروغ دینے کا کارنامہ انجام دیا.
اودھ پنج چھتیس برس کی مسلسل اشاعت کے بعد 1912 میں بند ہو گیا. اس سے وابستہ ادیبوں اور فنکاروں کی کوششوں کا نتیجہ یہ رہا کہ ان کی پیروی میں طنز و ظرافت کا قافلہ آگے بڑھتا چلا گیا. بلا شبہ اردو ادب میں طنز و مزاح کو رائج کرنے میں اس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں . تاہم بقول پنڈت برج نارائن چکبست "اودھ پنج کی یادگار خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس کا مصنوعی زیور اتار کر جس میں سوائے کاغذی پھولوں کے کچھ نہ تھا. ایسے پھولوں سے آراستہ کیا جن میں قدرتی لطافت کا رنگ موجود تھا.”
********** ختم شد ***********
Dr. Md.Shahnawaz Alam
Assistant Professor
Deptt.of Urdu
Millat College, Darbhanga
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

