قرآنِ کریم ا س رب تبارک و تعالیٰ کا بے مثل کلام ہے جو اکیلا معبود، تنہا خالق اور ساری کائنات کا حقیقی مالک ہے، اللہ ارشادفرماتا ہے (مفہوم)اور اے سننے والے اگر تجھے کچھ شبہہ ہو اس میں (قرآن )جو ہم نے تیری طرف اتارا تو ان سے پوچھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا تو تو ہرگز شک والوں میں نہ ہو۔ اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے والوں میں ہوجائے گا(یونس:۹۴،۹۵)
اس نے اپنا یہ کلام رسولوں کے سردار حضور علیہِ السلام پر نازل فرمایا،تاکہ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور دینِ حق کی پیروی کرنے کی طرف بلائیں، اور شرک و کفر و نافرمانی کے انجام سے ڈرائیں ، لوگوں کو کفرو شرک اور گناہوں کے تاریک راستوں سے نکال کر ایمان و اسلام کے روشن اور مستقیم راستے کی طرف ہدایت دیں، اور ان کے لئے دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہیں آسان فرمائیں، اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتاہے۔(مفہوم)تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی، اس میں کوئی کجی نہیں رکھی۔لوگوں کی مصلحتوں کو قائم رکھنے والی نہایت معتدل کتاب، تاکہ اللہ کی طرف سے سخت عذاب سے ڈرائے اوراچھے اعمال کرنے والے مومنوں کو خوشخبری دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے۔(الکہف:1،2)
قرآن سے پہلے اللہ تعالیٰ نے توریت،زبور، انجیل، ان کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں اور صحائف نازل فرمائے لیکن وہ کتابیں جیسی اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھیں ویسی پوری دنیا میں کہیں موجود نہیں، کیونکہ ان کے متبعین نےان کو تسہیل بالعمل اور عام و خاص سے مال و دولت کے نذرانے حاصل کرنے کی غرض سے بدل ڈالا جس کا تذکرہ قرآن میں موجود ہے (مفہوم)بیشک وہ لوگ جو اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے ذلیل قیمت لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(البقرہ: ۱۷۴)
قرآن پاک واحد ایسی کتاب جیسی اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ پر نازل ہوئی آج تک ویسی ہی ہے،حالانکہ کفار و مشرکین و دشمنان اسلام و قرآن نے اس میں بہت رد و بدل کرنےاورمٹانے کی ناکام کوششیں کی جتنی انہوں نے اس کو مٹانے اور بدلنے کی کوششیں کی، وہ اتنا ہی تیز رفتاری کے ساتھ اپنی نورانیت و حقانیت سے لوگوں کے تاریک دلوں کو شرک و کفر کی غلاظت و خباثت سے پاک و صاف کرکے منور و روشن کرتا ہوا آگے بڑھتا گیا، اپناقائل و گرویدہ بناتا گیا آخر اس کی کیا وجہ تھی کہ منکر لوگوں نے اس کو مٹانے کی ناکام کوششیں کیں، کرتے ہیں،اور کرتے رہیں گے لیکن اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر پائے اور نہ کرسکتے ہیں، اس کا سبب یہی ہے کہ اس کی حفاظت و صیانت رب عالم کررہا ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد باری ہے (مفہوم)بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔(الحجر: ۹ )
قرآنِ مجید کے نازل ہونے کی ابتداء رمضان کے بابرکت ورحمت مہینے میں ہوئی اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔(مفہوم)رمضان کا یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں پر مشتمل ہے۔(البقرہ:۱۸۵)
قرآن کو نبی کریم کی بارگاہ میں لانے کا شرف روحُ الامین حضرت جبرئیل علیْہ السَّلَام کو حاصل ہوا۔
قرآنِ مجید کو دنیا کی فصیح ترین زبان یعنی عربی زبان میں نازل کیا گیا تاکہ لوگ اسے سمجھ سکیں اور عرب کے باشندگان اور کفارِ قریش کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اس کلام کو سن کر کیا کریں گے جسے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے …قرآن مجید کو تورات و انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ نہیں اتارا گیا بلکہ حالات و واقعات کے حساب سے تھوڑا تھوڑا کر کے تقریباً 23 سال کے عرصے میں نازل کیا گیا تاکہ اس کے احکام پر عمل کرنا مسلمانوں پر بھاری نہ پڑے اور نبی کریم کے قلب اطہر کو مضبوطی حاصل ہو، اور تمام عالم انسایت کی رہنمائی کرے ۔
قرآن کی لفظی تعریف
لفظ قرآن، قرآن مجید میں ساٹھ دفعہ استعمال ہواہے۔یہ خالص عربی لفظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسں کا اصل نام ہی قرآن ہے (تفسیر مصباحین : ج۱،ص۳۳)
قرآن و حدیث میں فرق
قرآن و حدیث دونوں ہی وحی الہی ہیں۔دونوں کی اطاعت لازم و ضروری ہے۔فرق اتناہےکہ قرآن کی عبارت اور مضمون خدا کی طرف سے ہے۔گویا جس طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے آ کر سنایا اسی طرح بلا کسی فرق کے حضور علیہ السلام نے بیان فرما دیا ۔حدیث یہ ہے کہ مضمون رب کی طرف سے ہوتا ہے اور الفاظ حضور علیہ السلام کے اپنے ہوتے ہیں اب اس مضمون کا آنا رب کی طرف سے بطور الہام ہوتا ہے یا فرشتہ ہی لےکر آتا ہے لیکن اس کی ادا حضور علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں ہوتی ہے۔اسی لئےاس کا ماننا اس پر عمل کرنا لازم و ضروری ہے۔(تفسیر نعیمی: ج1،ص،۸ تا ۷)۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کو جو عظمت و شان عطا فرمائی وہ کسی اور کلام کو حاصل نہیں ناہی کسی اور کتاب کو ہو سکتی ہے ۔قرآنی آیات سے اس کی عظمت و شان کو بیان کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۔(مفہوم)اے لوگوبیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا(النساء: ۱۷۵)
اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی اس کلام کو اپنی طرف سے نہیں بنا سکتا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(مفہوم)اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے، ہاں یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، یہ رب العالمین کی طرف سے ہے (یونس:۳۷)
تمام جن و اِنس مل کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے بھی قرآنِ عظیم جیسا کلام نہیں لا سکتے ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے۔(مفہوم)تم فرما دو:اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو۔(بنی اسرائیل:۸۸)
یہ انتہائی اثر آفرین کتاب ہے جسے سن کر خوف و خشیّت کے پیکر لوگوں کے دل دہل جاتے ہیں اور بدن پر بال کھڑے ہوجاتے ہیں ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، (مفہوم)اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے، باربار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتاہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔(الزمر:۲۳) الغرض یہ بڑی برکت والی کتاب ہے اس لئے سب مسلمانوں کو چاہئے کہ ا س کی پیروی کریں اور پرہیز گار بن جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(مفہوم)اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ، بڑی برکت والا ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاربنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ، بڑی برکت والا ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاربنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(انعام:۱۵۵) ان کے علاوہ بھی خدائے تعالیٰ نے اکثر جگہوں پر قرآن کی رفعت شان کا تذکرہ کیا۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے لئے ہدایت ،نور اور شفابنایا ہے، اس میں انسان کے لئے حق و باطل کے مابین تمیز کرنے کا طریقہ عطا کیا، اس میں انسان کو غور و فکراور تدبر کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگ اپنے زندگی کو کامیاب بنا سکے اور دارین میں فلاح وخیر حاصل کرسکیں ۔قرآن اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر مرحلہ و شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے چاہے وہ ان کی زندگی کے کسی گوشے سے تعلق رکھتے ہوں،ان کے روز مرہ کی پیش آمدہ مشکلوں،پریشانیوں اور دیگر مسائل کا حل عطا کرتا ہے۔جو مومنین قرآن کی تلاوت کرنے کے شائق ہیں قرآن میں انکی تعریف و توصیف بیان کی گئی،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(مفہوم) بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی۔تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔(الفاطر: ۲۹،۳۰)
اس کی تلاوت کرنےکے شائقین کی تعریف و توصیف کیوں نہ بیان کی جائے کیونکہ اس کا پڑھنا عبادت پڑھانا عبادت، دیکھنا عبادت چھونا عبادت، سمجھنا عبادت سمجھانا عبادت، سننا عبادت سناناعبادت، غور و فکر کرنا عبادت ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ اسکی تلاوت دلوں سے نجاست و غلاظت اورمعصیت کو صاف کرکے دلوں کوپاک و صاف کرتا ہے اور ان کی تاریکی کو دورکرکے ان کو پر نور کرتا ہے،اسکی تلاوت سے دلوں کو سکون ملتا ہے،آنکھوں کو ضیاء ملتی ہے،زبان کو لطافت و تلذذ، قیل و قال میں حلاوت و شیرینی، طبیعت میں لطف و بشاشت اور چاشنی پیدا ہوتی ہے ۔اس کی تلاوت عقل و خرد میں کثرت و اضافہ کا سبب بنتا ہے یہ سب تالئی قرآن کے لئے فوائدہیں اوراس سے بھی کہیں زیادہ، جس کو اس ناقص کا قلم بیان نہیں کرسکتا۔
فوائد قرآن احادیث کی روشنی میں
(۱)جس گھر میں روزانہ سورۂ بقرہ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔ لہذا جنات کے شر سے بھی محفوظ رہے گا ۔(۲)روز قیامت سورۂ بقرہ،ال عمران ان لوگوں پر سایہ کریں گی اور ان کی شفاعت کریں گی جو دنیا میں قرآن کی تلاوت کے عادی تھے ۔(۳)جو شخص آیة الکرسی صبح و شام اور سوتے وقت پڑھ لیا کرے تو اسکا گھر آگ سے جلنے اور چوری ہونے سے محفوظ رہے گا ۔ (۴) سورۂ اخلاص کا ثواب تہائی قرآن کے مساوی ہے اسی لئے ختم ، فاتحہ میں اس کو تین بار پڑھتے ہیں۔ (۵) حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھتا ہے اس کو دس نیکیاں ملتی ہیں ۔خیال رہے الم ایک حرف نہیں بلکہ الف ،لام ،میم ، تین حروف ہیں صرف اتنا پڑھنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔خیال رہے الم مقطعات میں سے ہے جس کا معنی اللہ و رسول کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (۶) جو شخص قرآن پڑھے اس پر عمل بھی کرے تو قیامت کے دن اس کے و الدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی آفتاب سے بھی زیادہ تیز ہوگی۔(۷)قرآن کو دیکھ کر پڑھنے میں دوگنا ثواب ہے اور بغیر دیکھے پڑھنے کا ایک ۔اس لئے کہ چند چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے۔قرآن ، کعبہ معظمہ اور و الدین کا چہرا محبت سے اور عالم دین کا چہرا عقیدت سے وغیرہ وغیرہ۔( ۸) قرآن کی تلاوت اور موت کی یاد دل کی غلاظت کو اس طرح صاف کردیتی ہے جیسے کہ زنگ آلود لوہےکو آگ ۔ (۹)جو شخص قرآن کی تلاوت میں اتنا مشغول ہو کہ کوئی دعا نہ مانگ سکے تو اللہ تعالی اسے مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہے۔ (۱۰)جو ہر رات سورۂ واقعہ پڑھا کرے اسے کبھی فاقہ نہ ہوگا۔ (۱۱) جو سورۂ یاسین اول دن میں نصف النھار سے پہلے پڑھنے کا عادی ہو تو اس کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔ (۱۲) سورۂ یاسین پڑھنے سے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں، مشکلیں آسان ہوتی ہیں لہذا اس کو مریضوں کے پاس پڑھو۔ (۱۳)سورۂ کافرون سوتے وقت پڑھنے والا کفر سے محفوظ رہےگا۔(۱۴) سورۂ فلق و ناس پڑھنے سے آندھی و اندھیری دور ہوتی ہے،پابندی سے پڑھنے و الا جادو سے محفوظ رہے گا۔(۱۵)، سورۂ فاتحہ جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔۔(تفسیر نعیمی ۔ج ۱، ص ۱۹)
قرآن کے فوائد صرف پڑھنے والے پر ہی ختم نہیں ہوتے بلکہ دوسروں تک بھی پہنچتے ہیں مثلا جہاں تک اس کی آواز پہنچے وہاں تک ملائکہ رحمت کا اجتماع ہوتا ہے۔ جب تالئ قرآن تلاوت کرتا ہے تو اس وقت اس پر رحمتوں کا نزول ہوتا ہے،اللہ کے مقدس فرشتے قرآن کو سننے کے لئےتشریف آور ہوتے ہیں اورتالئی قرآن سے قریب ہو کر قرآن سنتے ہیں،اس کے لئے دعائے خیر و عافیت اور مغفرت کرتے ہوئے واپس ہوجاتے۔ جیساکہ حدیث میں ہے، حضرت اسید بن حضیر رات کے وقت سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا،اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔انہوں نے تلاوت بند کردی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے ( تو بہتر تھا ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں نے سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔(بخاری شریف)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، رسول علیہ السلام نے فرمایا :ماہر قرآن ، اطاعت گزار معزز فرشتوں اور محترم و معظم نبیوں کے ساتھ ہو گا ، اور جو شخص اٹک اٹک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس پر دشوار ہوتا ہے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہو گا (مشکوۃ شریف)
ماہر قرآن ہر وہ عالم ہے جو الفاظ قرآن ،معانی، مسائل،اسرار و رموز قرآن کا واقف ہو۔ قرآن کا عالم انبیاء اور ملائکہ جیسا کام کرتا ہے اسلئے اسکا حشر بھی انہیں جماعتوں کے ساتھ ہوگا۔لیکن وہ جو کند ذہن موٹی زبان و الا جو قرآن سیکھ تو نہ سکے مگر کوشش میں لگا رہےکہ مرتے دم تک کوشش کئے جائے تو وہ ڈبل اجر کا مستحق ہے۔(مرأةالمناجيح۔ج۳ ، ص۲۳۷)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے ، وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن (کا علم) عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس (کی تلاوت و عمل) کا اہتمام کرتا ہو ، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس میں سے خرچ کرتا ہو۔(مشکوۃ شریف) رشک کے معنی ہیں دوسرے کی سی نعمت اپنے لئے بھی چاہنا دینی چیزوں میں رشک جائز ہے ۔ جس کو قرآن کا علم دیا گیا نمازیں پڑھتا ہو اس کے احکام پر عمل کرتا ہو ہروقت اس کے مسائل سوچھتا ہو اس میں غور و تامل کرتا ہو تو اسکی زندگی مبارک ہے۔اور مبارک ہے وہ موت جو قرآن و حدیث کی خدمت میں آئے اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسی موت نصیب فرمائے۔ آمین۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول علیہ السلام نے فرمایا : بے شک اللہ ، اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور کچھ لوگوں کو پستی کا شکار کر دیتا ہے ۔(مشکوۃ شریف) جومسلمان قرآن کو صحیح طرح سمجھیں اور صحیح طرح عمل کریں تو وہ دنیا میں بلند درجے پائیں گے ،جو اس سے غافل رہیں یا غلط طرح سمجھیں،غلظ طور پر عمل کریں وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے قرآن سے زندگی و موت طیب ہوتی ہےاور یہ محبوبین کے لئے رحمت ہے۔
قرآن عظیم کی تلاوت کرنا اور سننا اعجاز مسلمانی ہے اسلئے ہر مسلمان کو زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرکے رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنا چاہیے لیکن وہ لوگ جو قرآن پڑھنا نہیں جانتے تووہ دوسرے لوگوں سے قرآن پڑھوا کر سنیں،اسلئے کہ اللہ کے رسول علیہِ السلام کو دوسروں سے قرآن پڑھواکر سنا بہت محبوب تھا جس کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتےہیں کہ مجھ سے رسول علیہِ السلام نے فرمایا کہ قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا میں آپ کو قرآن سناؤں آپ پر تو قرآن نازل ہوتا ہے۔نبی کریم نے فرمایا کہ میں قرآن مجید دوسرے سے سننا محبوب رکھتا ہوں(مشکوة شریف)
ایک درد
آج مسلمان تعلیم قرآن وتلاوت سے بہت دور ہے نہ خود اسکی تعلیم حاصل کرتا اور نہ اپنے بچوں کو تعلیم دلاتا یہی وجہ آج ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔گھر بیماریوں سے تباہ و برباد اور ویران ہیں، ہم لوگ تنگ دست، بد اخلاق،بد تھذیب، بے ادب، ہوتے جارہےہیں۔اور اپنے خالق سے دور ہوکر بے راہروی کے شکار ہورہے ہیں۔کیونکہ ہم نے قرآن کی تلاوت اور اس کی تعلیم کا سلسلہ روا نہیں رکھا جس کی تعلیم کی ترغیب اور سرکار دو عالم نے اپنے الفاظ میں یوں فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم میں سب سے بہتر وہ شخص جو قرآن سیکھے اور دوسرے کو سکھائے۔(مشکوة حدیث ۲۱۰۹) قرآن زندگی کو بہتر بنانے کے اسرار و رموز بیان کرتا ہے ، انسان کے لیے کیا صحیح اور کیا غلط ہے ،اسکی تصریح کرتا ہے ،جو قرآن کی تعلیم سےصحیحا آراستہ ہیں انکے کردار و عمل سے اسلام کی حقانیت چمک اور دمک رہی ہے ذرا صحابہ، تابعین ، تبع تابعین کا دور دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے صرف قرآن سیکھا ہی نہیں بلکہ پورے عالم میں قرآن کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ،اور اس کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنی قیمتی جانوں کو بھی قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی لئے ان کی زندگیاں ہمارے لیے آئیڈیئل اور نمونۂ عمل ہیں
کاش ہم نے اس کی تعلیم پر دھیان دیا ہوتا تو زمانہ ہمارا دشمن نہ ہوتا کیونکہ یہ قرآن کا ہی فیضان تھا کہ جب ہمارے اسلاف کسی ملک و بلد قریہ سے گزرا کرتے تھے تو مشرکین و یہود نصاری کے کلیجے منہ کو آنے لگتے تھے اور اپنے بستیوں کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑ کر بھاگ جایا کرتے تھے اور بہت سے لوگ ان کے کردار و عمل سے متاثر ہوکر آغوش اسلام میں آجایا کرتے تھے، کوئی بھی باطل طاقت انکے سامنے سر اٹھانے کی جرأت نہیں کرتی تھی یہ سب کیا تھا بس قرآن کی تلاوت کرنےاور اس کی تعلیم و تعلم کا سلسلہ روا رکھنے اور اس پر عامل ہونے کا ہی ثمرہ تھا اس لئے کہ ان کے شب وروز ہمیشہ تلاوت قرآن کرتے ہوئے اور اس کے احکام پر کاربند ہوکر عبادت خدا میں گزرا کرتے تھیں۔لیکن آج ہم اپنی حالت زار کے خود ذمہ دار ہیں کسی اورسے کیا شکوۂ رنج و الم۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا ۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر۔
ہم خوار ہوئے ہیں تارک قرآں ہوکر ۔
درس قرآن اگر ہم نے نہ بھولایا ہوتا ۔
یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا ۔
اگر آج ہم نے قرآن کو برائے طاق نہ رکھا ہوتا تو آج ہم کسی کے ظلم و جبر کے شکار نہ ہوتےاور نا ہی کسی اور کے محتاج، اور نہ در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے اور نا ہی ہمارا جسم ہزارہا قسم کی بیماریوں کا مرکز بنتا کیونکہ اس کتاب میں اللہ تعالی نے صرف انسان کی ہدایت، اور آخرت میں جز ا و سزا کا ہی تذکرہ نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں انسان کیلئے شفاء اور دنیا میں پیش آمدہ تمام مصائب و مشکلات کے حل کا بھی تذکرہ کیاہے۔
ایک اہم پیغام مسلمانوں کے نام
آج اور ابھی سے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہر روز بعد نماز فجر یا دن کے کسی حصہ میں قرآن کی تلاوت کم از کم ایک رکوع تسلسل کے ساتھ ضرور کریں گے اور اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت سےشاد و آباد رکھیں گےاور گھر کے ہر چھوٹے بڑے افراد کو قرآن کی تعلیم کی ترغیب دیں گے۔ہرمسلمان بعد نماز عشاء سونے سے قبل سورۂ ملک اپنےگھر کے ہر چھوٹے بڑے افراد کے ساتھ پڑھنے کا خاص اہتمام کرے اگر پڑھنا نہیں جانتے تو قرآن خوانندہ سے پڑھواکر سنیں،سورۂ ملک پڑھنے کی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہیں۔اللہ تعالی ہمیں قرآن کی تلاوت اور اس کا ادب و احترام ، اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن کی تعلیم کو گھر گھر عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور فیضان قرآن سے تمام مومنین مومنات کو مستفیض فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
تحریر:مولانا محمد دانش رضا منظری ،پورنپور،پیلی بھیت، یوپی
استاذ: جامعہ احسن البرکات فتح پور،یوپی،ہند
سکونت:دھنیگا،پورنپور،پیلی بھیت
رابطہ نمبر: 8887506175
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

