زمیں سے آسماں تک کوئی استعارہ نہیں
کسی کے ہم نہیں ہیں اور کوئی ہمارا نہیں
بھنور بدن سےکچھ اس طرح ہم الجھ بیٹھے
نکل کے جائیں کدھر کوئی بھی کنارا نہیں
اسی کو خوابِ ہوس میں ہیں دیکھتی آنکھیں
ہما رے پاس کوئی اور ماہ پارہ نہیں
وہ چاہتا ہے کہ ہم دسترس میں اس کی رہیں
کسی کا ہو کے رہیں یہ اسے گوارا نہیں
وجودِ جاں کے سوا ملکیت نہیں کچھ بھی
اسی سبب سے مرا کوئی گو شوارا نہیں
چلو اب کرتے ہیں تخلیق اک نئی دنیا
کوئی نصیب کا اپنے یہاں ستارہ نہیں
09/09/2021
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

