موبائل کی گھنٹی بجی ۔۔۔اسلم نے موبائل اٹھایا تو دیکھا کہ کوئی نا معلوم نمبر ہے ۔اس نے کال ریسیو کرکے موبائل کو کان سے لگایا ۔ہیلو کون ۔۔۔اسلم نے پوچھا ۔۔۔ادھر سے کوئی آواز نہ آئی ۔۔۔اسلم نے پہر کہا۔۔۔ہیلو کون ۔۔۔ادھر سے آواز آئی ۔۔۔ہیلو میں آپ کا فکرمند دوست بول رہا ہوں ۔۔۔جی آپ کا نام ۔۔۔اسلم نے کہا۔۔۔ادھر سے آواز آئی نام میں کیا رکھا ہے، کام کی بات کی جائے ۔۔۔جی میں کچھ سمجھا نہیں ۔۔۔اسلم نے کہا ۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ تمہیں نوکری بہت ہی مشکل سے ملی ہے اور تمہیں اپنی ماں کے علاج اور بہن کی شادی کے لیے رپیوں کی اشد ضرورت ہے ۔اسلۓ تمھارے لیۓ ایک آفر ہے ۔۔۔ادھر سے آواز آئی ۔۔۔۔۔
جی آفر۔۔۔کیسا آفر ۔۔۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں صاف صاف بولۓ۔۔۔اسلم نے کہا ۔۔۔
آفر یہ ہے کہ تم جس کوئلے کی کان میں منشی مقرر ہوۓ ہو اس کان سے تم مجھے ہر ہفتے اگر ایک ٹرک کوئلہ میسر کروا دو تو میں تمہیں چالیس ہزار روپے جو مارکیٹ ریٹ کی دوگنی ہے ۔۔۔تمہیں مل جایا کرے گی ۔۔۔تمھارے پاس روپیوں کی بھرمار ہوجائے گی اور تمہاری ساری کی ساری پریشانیاں بھی دور ہو جائینگی ۔۔۔دوسری طرف سے آواز آئی ۔۔۔
بکواس بند کرو تم ۔۔۔میں اپنا کام محنت اور ایمانداری کے ساتھ انجام دیتا ہوں ۔۔۔اپنے مالک کو دھوکا نہیں دے سکتا، ان کا بھروسہ نہیں توڑ سکتا ۔۔۔آخرت میں اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا، خدا کا خوف کھاؤ، دوبارہ مجھے کال مت کرنا ۔۔۔اسلم نے کہا ۔۔۔
ہیلو ہیلو ۔۔۔اسلم نے کہا، مگر کال کٹ چکاتہھا ۔۔۔
اسلم ایک نہایت ہی غریب کسان کے گھر پیدا ہوا تھا ۔اسکی پڑھائی کے اخراجات کو پورا کرنے میں اسکی ساری کھیتی والی زمینیں بک گئ تھیں۔ایک چھوٹی سی جھونپڑی کے علاوہ ان کے پاس اور کچھ بھی نہ تھا ۔جب اسلم کی عمر دس سال ہوئ اسی وقت ایک سڑک حادثے میں والد اور چھوٹے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا ۔بہت محنت مشقت سے اسکی ماں نے دسویں تک کی تعلیم مکمل کروائ تھی ۔لیکن حالات جوں کے توں ہی رے ۔اسلم کی ماں ہمیشہ بیمار رہا کرتی تھیں اور ایک کنواری بہن کا بوجھ بہی اسلم کے کاندھوں پر تھا ۔۔۔۔
لیکن حالات بدلے اور آخر کار قریب کے ہی ایک کوئلے کی کان میں اسلم کو منشی کی نوکری مل گئی ۔۔۔۔
ایک ہفتے بعد اسلم کو دوبارہ فون آیا اور فون کرنے والے شخص نے پھر سے وہی بات دہرائی ۔اسلم نے غصے میں آکر فون کاٹ دیا اور سوچنے لگا کہ اگر میں یہ آفر قبول کرلوں تو میری ساری پریشانیاں دور ہو سکتی ہیں لیکن میں اپنے مالک کے ساتھ غداری نہیں کرسکتا ۔اسلم کو اپنے والد کی دی ہوئی نصیحت یاد آگئی کہ "پیسوں کی خاطر کبھی اپنے ضمیر کا سودا مت کرنا، کامیابی تمہیں ایمانداری اور حق کے راستے پر چل کر ہی ملے گی”۔۔۔۔
اتنا کچھ سوچنے کے بعد اسلم نے فیصلہ کیا کہ وہ ساری بات خان صاحب(اسلم کے مالک) کو بتاۓ گا۔۔۔وہ شام ہوتے ہی خان صاحب کی حویلی پر پہنچا اور سارا ماجرا بتایا ۔۔۔خان صاحب بولے اچھا ٹھیک ہے میں اس شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں اور اسے سبق سکھاتا ہوں جو تمہیں باربار پریشان کر رہاہے ۔۔۔۔
دوسرے دن اسلم جب کام پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ خان صاحب کارخانے کے دروازے پر کھڑے ہیں ۔اسلم نے قریب جاکر کہا آپ اتنی کڑی دھوپ میں یہاں کھڑے کیوں ہیں، اندر چلۓ ۔اسلم کو دیکھ خان صاحب کے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی بکھر گئ اور کہا بہئ اسلم تمکو بہت بہت مبارکباد ۔۔۔۔تم اپنے امتحان میں پاس ہوگۓ ہو۔آج سے میری پوری کان(کوئلے کی کان) سنبھالنے کی ذمےداری تمہاری، اور میری کرسی پر بھی تم ہی بیٹھو گے ۔۔۔۔
جی میں کچھ سمجھا نہیں،کیسا امتحان ؟کونسا امتحان؟میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا ۔۔۔اسلم نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔۔
خان صاحب بولے ۔۔۔۔تمہاری ایمانداری کا امتحان ۔۔۔اسلم میں ہی تمہیں فون کروایا کرتا تھا، میں تمہیں پیسوں کا لالچ دیکر پرکھنا چاہتا تھا کہ تم پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے یا پھر تم بھی اوروں کی طرح ہی لالچی ہو۔مجھے تمہارے جیسے ہی ایک معتبر شخصیت کی برسوں سے تلاش تھی جو میرے کام کو سنبھال سکے ۔اسلۓ فون کر کے پیسوں کا لالچ دے کر میں نے تمہارا امتحان لیا، تم سے پہلے بھی میں نے بہت سارے لوگوں کی اس طریقے سے ان کے ضمیر کو پرکھنے کی کوشش کی تھی لیکن سب کے سب پیسوں کی لالچ میں آگۓ ۔میں کچھ دنوں کے لئے شہر جارہا ہوں ۔آج سے میری کرسی پر بیٹھنے کے بعد ساری ذمےدار تمہاری ۔۔۔۔۔۔سارا کام تم سنبھالوگے، ایک بات اور آج سے تم اپنی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی میں نہیں رہوگے ۔۔۔یہ میرے پرانے مکان کی چابی تمہاری ۔اسکے علاوہ تمہاری تنخواہ بھی آج سے ڈبل کردی گئی ہے جس سے تمہاری مالی پریشانی بھی بہت حد تک دور ہوجائے گی۔ان پیسوں سے تم اپنی ماں کا خیال آسانی سے رکھ سکتے ہو ۔۔۔ہاں، ایک بات اور شہر سے لوٹتے ہی تمہاری بہن کی شادی میں کسی اچھے لڑکے کو ڈھونڈ کر کروادونگا۔۔۔۔شادی کا سارا خرچ میرا ۔۔۔۔۔۔
خان صاحب کی باتیں سن، اسلم کی پلکیں آنسوؤں سے بوجھل ہوگئیں ۔اس کے نظروں کے سامنے اسکے والد صاحب کی دی ہوئی نصیحت پہر سے گردش کرنے لگی کہ "پیسوں کی خاطر کبھی اپنے ضمیر کا سودا مت کرنا، کامیابی تمہیں ایمانداری اور حق کے راستے پر چل کر ہی ملے گی”۔۔۔۔۔۔
"کن خیالات میں کھوگۓ اسلم” یہ کہتے ہوئے خان صاحب آگے بڑھے اور اسلم کو اپنے گلے سے لگالیا ۔
محمد نفیس انصاری
۔۔۔اینٹابھٹہ،کلٹی
ریاست: مغربی بنگال
ایم اے سیکنڈ سیم
موبائل نمبر۔ 7679031938
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

