Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

مولانامحمد قاسم نانو توی اور سرسید مرحوم کی اردو نثر:ایک تقابلی مطالعہ – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

by adbimiras اکتوبر 17, 2021
by adbimiras اکتوبر 17, 2021 3 comments

اس وقت مولانا نانوتوی اور ان کے افکار سے مجھے بحث نہیں ہے اور نہ ہی دونوں کے نظریاتی اختلافات میراموضوع ہیں۔سردست دونوں حضرات کے بیچ ہوئی مراسلت کی روشنی میں اردو نثر سے متعلق ایک جائزہ پیش کر نا مقصد ہے۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ نہ تو شاعر کی شاعری سے شخص کا پورا عکس ابھرتا ہے اور نہ ہی کوئی افسانوی صنف اپنے خالق کی واضح تصویر پیش کر نے پر قادر ہے۔فنکار کے شخص کا آئینہ اگر کوئی فن پارہ ہے تو وہ اس کی غیرافسانوی تخلیق ہے اور غیر افسانوی اصناف میں بھی سب سے سچی تصویر کشی کا ملکہ ’’خط نگاری‘‘کو حاصل ہے ،کیوں کہ مکتوباتی پیرایے میں جس قدربے ساختگی،بے تکلفی اور سادگی ہوتی ہے اس سے دیگر اصناف نثر محروم ہیں۔اس آئینۂ تحریرمیں صاحب تحریرکے اندرون و بیرون کو بے کم و کاست بڑی شفافیت کے ساتھ دیکھاجاسکتا ہے،کیوں کہ خط دو افراد کے بیچ ہوئی گفتگو کا نام ہے،بس ترسیل براہ راست کی بجائے بواسطۂ تحریر ہوتی ہے۔خط نگار کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی نجی اور قطعی رازدارانہ گفتگو بعد کو اجتماعی حیثیت حاصل کر لے گی۔

دبستان دیوبند نے اپنی دینی ،علمی،ملی اور سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ زبان و ادب اور لوح و قلم کی بھی پرورش کی ہے۔شاعری کی تقریباً تمام اصناف کوفکرو فن سے مالا مال کیا اور افسانوی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی تاہم دبستان دیوبند کی ادبی خدمات غیر افسانوی اصناف میں زیادہ نمایاں ہیں ۔مثلاً خاکہ،انشائیہ،سوانح،خودنوشت،سفر نامہ اور مکتوبات وغیرہ۔یہ صحیح ہے کہ اس دبستان میں ادب کی ترویج غیر شعوری ہے لیکن ملک و قوم کی علمی،دینی،ملی اور سماجی خدمات کی انجام دہی میں اردو زبان کا استعمال شعوری تھا اور عربی و فارسی کے مقابلے اردوزبان کو ہی اولیت حاصل رہی۔

دلّی کالج کے قیام کے بعد انگریزوں نے ۱۹؍ویں صدی کے تیسرے دہے یعنی ۱۸۳۷ء میں اردو زبان کو سرکاری حیثیت دے کراسے قومی درجہ دینے کی کوشش ضرور کی لیکن دبستان دیوبند نے اردو زبان کو بین الاقوامی حیثیت عطا کی۔مولانا محمد قاسم نانوتوی کے ہاتھوں ۱۸۶۶ء میں جب دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا تو دوتین برسو ں میں ہی دیوبند کا یہ مدرسہ برما،بخارا،ایران اور افریقہ وغیر ہ ممالک کا علمی اوراسلامی مرکز بن گیااور وہاں سے آئے تمام طلبا کے لیے اردو زبان تعلیمی ضرور ت ٹھہری ۔بقول پرو فیسر عبدالصمد صارم ازہری:

’’سب سے بڑی خدمت جو دارالعلوم نے اردو ادب کی کی ہے اور جو بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس نے بر ما، بنگال،دکن،رنگون،کابل،بخارا،ایران،سماٹرا،جاوا،کشمیراور نہ جانے کہاں کہاں دور دراز مقامات تک اردو زبان کو پھیلایا۔‘‘ (دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ۔ص:۸۷)

یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے بارے میں مولانا آزاد نے کہا تھا :’’صحیح معنی میں (یہ)اسلامی تعلیمات کی ایک بین الاقوامی یونیورسٹی ہے۔‘‘ (دارالعلوم دیوبند،ادبی شناخت نامہ۔ص:۳۲)

یہ حق ہے کہ اس دبستان کے خوشہ چینوں نے اپنے اپنے ممالک میں جا کر اس ادارے کے پیغام کو پھیلایاجس کا ثمرہ یوں ظاہر ہوا کہ دنیا بھر میں ارد و زبان کو اپنے بال و پر کو پھیلانے کا بھرپور موقع ملا۔مولانا نانوتوی کے شاگرد رشید حضرت شیخ الہند محمودحسنؒ کے دو شاگرد مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور مولانا محمد الیاس ؒنے اردو زبان کی جڑوں کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلادیا۔مولانا عبیداللہ سندھی آزادی وطن کی خاطر۲۴؍ سال جلا وطن رہے،اس دوران انھوں نے تحریک ریشمی رومال کے ذریعے انگریزوں کے خلاف کئی ممالک کو یکجاکرنے کی انتھک کوشش کی تھی ۔ریشمی رومال ایک خط تھا اور خط کی زبان اردو ہی تھی ۔ایسے ہی دیار غیر میں پہلی اردو یونیورسٹی بھی مولانا سندھی ہی کے ہاتھوں کابل میں قائم ہوئی۔مولانا الیاس کاندھلوی ؒنے تو اپنی عالمی تبلیغی تحریک کے ذریعے دنیا کے گاؤں گاؤں اور قریے قریے تک اردو زبان کی خوشبو پہنچادی۔ترویج زبان  کے حوالے سے ارد و زبان کی اتنی روشن خدمات دبستان دیوبند کے سواشاید کسی کا حصہ نہیں۔ایک سے زائد اہل وطن نے وسط ایشیا کے کئی ممالک میں دبستان دیوبند کی اس اردو روشنی کا بذات خود مشاہدہ کیا ہے بلکہ تاشقند میں ایک مرتبہ جواہر لعل نہرو کا استقبال اردو زبان میں ہی ہوا تھا۔تفصیل تاریخ دارالعلوم دیوبند کی جلد اول میں دیکھی جاسکتی ہے۔(یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )

اس طرح سے دبستان دیوبند سے وابستگان نے پوری دنیا کو اردو زبان سے روشناس کر انے کے لیے محض زبانی نہیں،عملی طور پر اقدام کیا۔

دبستان دیوبند کی دیگر خدمات کا تو پوری دنیا نے اعتراف کیامگر افسوس کہ اردوزبان کے مؤرخین نے دوفیصد بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔اردو زبان و ادب پر لکھی جانے والی مطولات ہوں یامختصرات، مؤرخین نے اس اعتراف حق کے بوجھ سے خود کو ہلکا ہی رکھا۔خدا بھلا کرے انور سدید کا کہ انھوں نے اپنی ’’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘‘ میں مختصراً ہی سہی،دبستان دیوبند کی لسانی وادبی خدمات کا ذکر کیاہے۔ لکھتے ہیں:

’’مولانا محمد قاسم کا اسلوب اگرچہ مناظرانہ ہے لیکن یہ تاثیر سے خالی نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔مدرسہ دیوبند کے علما کی تبلیغ کی زبان اردو تھی ،اس لیے ان کی تبلیغی مساعی سے فروغ اردو میں بھی معاونت ملی۔‘‘(اردو ادب کی مختصر تاریخ ۔ص:۹۲۔۲۹۱)

اس کے علاوہ دبستان دیوبند کی مجموعی ادبی خدمات پر تو اب تک کسی مؤرخ اردو نے باضابطہ قلم نہیں اٹھایا۔حقانی القاسمی کی کتاب ’’دارالعلوم :ادبی شناخت نامہ‘‘ کو اولیت حاصل ہے ۔اس کتاب کی حیثیت متن کی ہے تاہم اس کی شرح ہنوز باقی ہے۔

اسی کے ساتھ ضمناً اس دبستان کے خوشہ چینوں پر الگ الگ طورپر کچھ حضرات نے ضرور مضامین لکھے ہیں ۔اس سلسلے میں حسن عسکری کا نام سر فہرست ہے۔انھوں نے حضرت تھانوی پر کافی کچھ لکھا ہے۔اردو کے معروف معاصر نقاد شمس الر حمن فاروقی نے اپنی ایک تحریرمیں دبستان دیوبند کی اثر پذیری کا ذکر کیا ہے۔لکھتے ہیں:

’’سب سے پہلی کتا ب جو مجھے اپنے گھر میں نظر آئیں ،وہ مولانا تھانوی کے مواعظ،ان کا بہشتی زیور اور اقبال کا کلام تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا تھانوی کے مواعظ کی شگفتگی،ان کا انتہائی واضح اور دل نشیں اسلوب اور جگہ جگہ اشعار کی بر جستگی مجھے بہت اچھی لگی۔۔میرا خیال ہے کہ میں نثر میں وضاحت اور استدلال پر جو اس قدر زور دیتا ہوں تو اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی ہے کہ میں بچپن میں مولانا تھانوی کے اسلوب سے اثر پذیر ہوا ہوں۔ ‘‘(شعر غیر شعر اور نثر۔ص:۱۵)

مولا نا نانوتوی اپنی مختصر سی زندگی لے کر دنیا میں آئے تھے ، قول سے زیادہ عمل پر ان کاایقان تھا ۔اسلام کے خلاف ہندوئوں کی طرف سے الگ،عیسائیوں کی طرف سے علیحدہ حملے اور بھونڈے اعتراضات ہورہے تھے ،مولانا نانوتوی نے ہر اعتراض کا مسکت جواب دیا۔سچی بات یہ ہے کہ انھیں باضابطہ تصنیف و تالیف کے لیے زندگی نے موقع ہی نہ دیا۔ان کی بیشتر کتابیں یا تو مناظرانہ تقاریر کا مجموعہ ہے یا پھر مکتوباتی پیرایے میں مختلف سوالات کے جوابات کا مجموعہ۔

پیش نظر مولانا کے ایک مکتوب کی روشنی میں ان کی نثر کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔اب ذیل میں مولانا اور سید مرحوم کے خطوط کے اقتباسات درج کیے جاتے ہیں۔سیدصاحب لکھتے ہیں:

’’اگر جناب مولوی محمد قاسم صاحب تشریف لاویں تو میری سعادت ہے،میں ان کی کفش برداری کو اپنا فخر سمجھوں گا ،مگر اس وقت مرزا غالب کا ایک مشہور شعر مجھے یاد آیا ہے    ؎

حضرت ناصح گر آویںدیدۂ ودل فرش راہ

کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ وہ سمجھاویں گے کیا

جناب من!میری تمام تحریریں چند اصولوں پر مبنی ہیں ۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان اصولوں کو بزرگان سہارنپور کی خدمت میں بھیج دیں۔اگر ان میں کچھ غلطی ہے تو بلا شبہ نصیحت ناصح کارگر ہوگی ورنہ ایسا نہ ہو کہ نا صح ہی مجھ جیسے ہوجاویں۔‘‘(تصفیۃ العقائد۔ص:۸)

اب حضرت نانوتوی کے خط کا اقتباس ملاحظہ کیا جائے۔

’’سید صاحب کی ہاں میں ہاں ملاناہم سے جبھی متصور ہے کہ سید صاحب اپنے ان اقوال مشہورہ سے رجوع کر یں جو ا ن کی نسبت ہر کوئی گاتا پھرتا ہے اور سید صاحب ان پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں اور رجوع نہیں فرماتے۔۔۔۔۔۔آپ ہی فر مائیں کہ ہم سے گرفتاروں کی اتنی رہائی کہاں کہ بنارس،غازی پور اڑ جائیںاور ہم سے بے چارو ںکو اتنی رسائی کہاں کہ سید صاحب کے دردولت تک نوبت پہنچائیں۔اپنا مبلغ پر واز میرٹھ،حد نہایت دلّی ہے۔تسپر نقارخانے میں طوطے کی کون سنتا ہے۔۔۔۔۔۔!اجی حضرت!امیروں کے ذہن وفہم وعقل و ادراک کے ہزاروں گواہ ہوتے ہیں غریبوں کی فہم وفراست کا کہیں ایک بھی نہیں سنتا۔۔۔۔  ؎

کب وہ سنتے ہیں کہانی میری

اور پھر وہ بھی زبانی میری

ہم سے شکستہ حالوں کی باتو ںپر موافق مصرع غالب  ع

میں کہوں گا حال دل اور آپ فرماویں گے کیا

۔۔۔۔۔۔پیر جی صاحب !یہ گمنام کبھی کسی سے نہیں الجھتا او رالجھے بھی تو کیوں کر الجھے،وہ کون سی خوبی ہے جس پر کمر باندھ کر لڑنے کو تیارہو۔۔۔۔۔ہاں!اس میں کچھ شک نہیں کہ سنی سنائی سید صاحب کی اولوالعزمی اور دردمندی اہل اسلام کا معتقد ہوں اور اس وجہ سے ان کی نسبت اظہار محبت کر وں تو بجا ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ کو ان کی کمال دانش سے یہ امید تھی کہ میرے اس رنج کو ثمرۂ محبت سمجھ کر تہہ دل سے اپنے اقوال میں مجھ سے استفسار کر یںگے‘‘۔(تصفیۃ العقائد۔ص:۱۲۔۱۱ )

علمی انداز کے سوالات عموماً مختصر،جامع اور واضح ہوتے ہیں اور جوابات میں چوں کہ دلائل کی ضرور ت پڑتی ہے اس لیے سوالات کے مقابلے جوابات قدرے طویل ہوتے ہیں اور بسااوقا ت بہت طویل بھی۔

خط میں افتتاحیہ سمیت سید مرحوم کے سوالات کا حجم تین صفحات ہے اور مولانا مرحوم کے جوابات مع دلائل ۳۴؍صفحات پر مشتمل ہیں۔مولا نا نوتوی۱۸۳۲ء میں پیدا ہوئے تھے۔سرسید سے ۱۵؍سال چھوٹے تھے۔انبہٹہ سہارن پور کے باشندے پیر جی محمد عارف کے توسط سے سید صاحب نے اپنے دینی عقائد و افکار کے سلسلے میں ۱۵؍سوالات پرمشتمل ایک خط لکھا۔مولانا نوتوی نے بھی ان ہی کے واسطے سے سرسید مرحوم کو تفصیلی جوابات سے نوازا۔مرتب مجموعہ ’’مکتوبات سرسید‘‘شیخ محمد اسماعیل لکھتے ہیں:

’’خط و کتابت ۱۸۶۷ء میں اس وقت ہوئی جب سرسید بنارس میں صدرالصدور تھے اور سرسید کی مذہبی و قومی مشغولیتوں کا ابتدائی زمانہ تھا۔‘‘(مکتوبات سرسید ۔ص:۵۶۔۵۵)

مذکورہ بالا اقتباس کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں تو خود بخود یہ حقیقت واشگاف ہوجاتی ہے کہ دونوں حضرات کی زبان،بیان،اسلوب اور لفظیات و محاورات کا خوبصورت استعمال اور اشعار کے بر محل اور بے تکلفانہ استعمال میں کس قدر ہم آہنگی اور مماثلت ہے،یہاں پر یہ امتیاز کر نا دشوار ہوجاتاہے کہ کس کی نثر زیادہ عمدہ ،خوبصورت اورمضبوط ہے۔

اس خط میں سرسید نے غالب کے ایک شعر کا استعمال کیا ہے جواب میں مولانا نے بھی غالب کی اسی غزل کا ایک مناسب مصرع درج کیا اور ساتھ ہی غالب کا ایک دوسرا شعر بھی بطورحوالہ پیش کیا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر دونوں بزرگوں کے نام خط سے حذف کر دیے جائیں تو یہ شناخت مشکل ہوجائے کہ آیا یہ خط سرسید مرحوم کی تحریر ہے یا پھر مولانا کی ۔سید صاحب کی شخصیت کی جہات مولانا کی شخصیت کی جہات سے مختلف ہیں۔مولانا نے اپنا دائرہ عمل متعین کررکھا تھا اور وہ اسی کے مطابق سرگرم عمل رہے اور سید مرحوم کی منزل تو واضح تھی لیکن وہاں تک پہنچنے کے راستے بڑے پیچیدہ تھے۔مولانا کے پیش نظر ہندوستان کی آزادی بھی تھی اورقوم کے تشخص کا مسئلہ بھی درپیش تھا ۔جب جہاد بالسیف زیادہ کارگر ثابت نہ ہوا تو تعلیم کی ایک معمولی سی چھائونی قائم کر کے مولانا نانوتوی نے زبان و قلم کے ذریعے جہاد شروع کر دیا۔اس طرح مولانا لارڈ میکالے کی سوچ کونکار کر قوم کے تشخص دینی اور ملک کی سماجی شناخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکے۔

تصنیف و تالیف اور شاعری کے گیسو کو سنوارنے کا موقع مولانا کو اس طرح نہیں مل پایا جیسا کہ سرسید کو میسر تھا اس لیے مولانا کی بیشترتحریری سرمائے کا اسلوب مناظرانہ ہے۔تاہم مولانا کے مکتوبات کے دورنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔جب عمومی گفتگو کر تے ہیںاور ذاتی احوال کا بیان ہوتا ہے تو اس وقت ان کا اسلوب انتہائی سادہ،شستہ و شگفتہ ہوتا ہے لیکن جب علمی بحث کی باری آتی ہے تو پھر ان کا لہجہ خالص فلسفیانہ ہوجاتا ہے گویاان کا قلم علم کلام میں غوطہ زن ہے۔ہما شما سے اس کی تفہیم بھی بعید ہوجاتی ہے۔اس کے باوجود مولانا کے اسلوب نگارش کا اور آسان نثر کا اندازہ ا ن کے مذکورہ خط اور ان جیسے ذاتی خطوط سے لگایا جاسکتا ہے۔مولانانا نوتوی اردوکے علاوہ عربی و فارسی زبان میں بھی ماہر اور اس کے پارکھ تھے۔یہی وجہ ہے کہ تینوں زبانوں میں ان کے تحریری نمونے موجود ہیں۔بقول مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی:مولانا نانوتوی کے خطوط کی کل تعداد ۱۱۲؍ ہے جن میں ۵۶؍خطوط اردو میں ، ۵۴؍ فارسی میں اور دوخط عربی زبان میں ہیں۔ان خطوط کی مولانا کاندھلوی نے تین قسمیں کی ہیں:علمی ،ذاتی اور مشترک۔(امام محمد قاسم نانوتوی ، حیات،افکار،خدمات۔ص:۳۲۱)

مولانا مرحوم نے شاعر ی بہت کم کی تاہم ان کے کلام کے جو نمونے دستیاب ہیں وہ انھیں مستند شعرا کی صف میں لاکھڑا کرتے ہیں۔حقانی القاسمی کے مطابق:

’’مولانا کا ادبی ذوق نہایت بالیدہ تھااور تخلیقی عمل میں ان کے ذہن کی کئی سطحیں متحرک رہتی تھیں۔‘‘(دارالعلو م دیوبند:ادبی شناخت نامہ۔ص:۵۲)

علمی اصطلاحات سے قطع نظر مولانا کے اس پورے خط کا بغور مطالعہ کیا جائے اور سرسید مرحوم کے خط کو بھی پڑھ لیا جائے یا دونوں کے متون کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو میرے دعوے کی دلیل بآسانی مل جائے گی۔ (یہ بھی پڑھیں  افکارِسرسید کی معنویت- ڈاکٹر ابراررحمانی )

آج ضرورت ہے بالعموم تمام اردو دنیااور اس کے زبان و ادب پر تحقیق و تاریخ کا کام کر نے والے اردو کے اس طرح کے محسنین کو فراموش نہ کر کے اپنی تحقیق کا انھیں موضوع بنائیں اور اپنی تاریخ میں انھیں بھی جگہ دیں۔یہ مطالبہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کا تقاضاہے اور ان مخلصین کا ہمارے اوپر حق بھی ہے۔ بالخصوص مولانا مرحوم کے معنوی او رصلبی دونوں فرزندوں سے اپیل ہے کہ ان کے اس پہلو پربھی تو جہ دی جائے اور وسعت بھر عملی اقدام بھی کیے جائیں۔

مراجع:

اردوادب کی مختصر تاریخ ۔انور سدید ۔عالمی میڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ،دہلی۔2014ء

امام محمد قاسم نانوتوی ،حیات،افکار ،خدمات (مجموعۂ مقالات)۔تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند ،نئی دہلی2005ء

تصفیۃ العقائد ۔مولانا محمد قاسم نانوتوی۔شیخ الہند اکیڈمی،دارالعلوم دیوبند ۔2009ء

دارالعلوم دیوبند :ادبی شناخت نامہ۔حقانی القاسمی۔آل انڈیا تنظیم علمائے حق،نئی دہلی۔2006ء

دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ۔نایاب حسن قاسمی۔ادارہ تحقیق اسلامی، دیوبند۔2013ء

شعر ،غیر شعر اور نثر۔شمس الرحمن فاروقی ۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی۔2005ء دوسرا ایڈیشن

مکتوبات سرسید ۔جلددو م۔مرتب :شیح محمد اسماعیل پانی پتی۔مجلس ترقی ادب ،لاہور۔1985ء دو سرا ایڈیشن

 

9718921072

faqasmijnu@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

دار العلومدیوبندڈاکٹر محمد فاروق اعظمسرسیدقاسم نانوتوی
3 comments
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نذرِ اخلاق آہن – پروفیسر معین نظامی
اگلی پوسٹ
اقبال اور عشق رسولﷺ – کامران غنی صباؔ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

3 comments

مکاتیب سر سید کا اسلوب - محمد شاداب شمیم - Adbi Miras اکتوبر 17, 2021 - 8:05 صبح

[…] متفرقات […]

Reply
حیدرعلی صدّیقی اکتوبر 17, 2022 - 5:18 شام

ماشاءاللہ! بہت علمی اور تحقیق کاؤش۔ ادبی و علمی شہ پاروں سے مزین مضمون۔ پہلی بار اردو زبان و ادب کے ترویج میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم خدمات کا علم ہوا۔ اللہﷻ آپ کے قلم و فہم کو نکھار بخشے۔ آمین

Reply
حیدرعلی صدّیقی اکتوبر 18, 2022 - 3:07 صبح

ماشاءاللہ! بہت علمی اور تحقیق کاؤش۔ ادبی و علمی شہ پاروں سے مزین مضمون۔ پہلی بار اردو زبان و ادب کے ترویج میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم خدمات کا علم ہوا۔ اللہﷻ آپ کے قلم و فہم کو نکھار بخشے۔ آمین

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں