Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خاکہ

اردو کا خوش پوش ناقد: ڈاکٹر عتیق اللہ – پروفیسر ابن کنول

by adbimiras نومبر 8, 2021
by adbimiras نومبر 8, 2021 1 comment

انیسویں صدی عیسوی میں جب اردو کو سرکاری حیثیت حاصل ہوئی تو اردو والے سڑک پر بھی سر اُٹھا کر چلنے لگے ورنہ اپنے گھر میں بھی سر جھکا کر رہتے تھے اس لیے کہ پڑھا لکھا اسی کو سمجھا جاتا تھا جو فارسی پڑھتا تھا اور فارسی اگلتا تھا۔ ہر بوالہوس فارسی بولنے کی کوشش سرکاری مراعات حاصل کرنے کے لیے کرتا تھا جس طرح آجکل اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے لیے ایسے لوگوں کے سامنے بعض لوگ انگریزی بولتے ہیں جو انگریزی نہیں سمجھ سکتے۔ سرکاری زبان بننے کا فائدہ یہ ہوا کہ انگریزی حکومت میں اردو کے شاعر اور ادیب بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچ کر ’’عشرت منزل‘‘ میں رہنے لگے ورنہ عموماً اردو کے شاعر دہلی کے گلی کوچوں میں کرایے کے مکانوں میں انتقال کرگئے۔ لیکن چرخ ستمگار کو اردو اور اردو والوں کی خوشحالی اور خوش پوشی پسند نہیں آئی۔ اردو جو اپنی بدحالی کی وجہ سے اٹھارہویں صدی میں ریختہ یعنی گری پڑی زبان کہلاتی تھی اور اردو والے اپنے حلیے سے گرے پڑے لگتے تھے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پھر وہی حال ہوگیا، سڑک پر یا محفلوں میں بدحال اور بے ہنگم شخص کو دیکھ کر اندازہ ہوجاتا تھا کہ یہ اردو کا ادیب یا شاعر ہے۔ لیکن بعض لعل گودڑوں میں بھی دمکتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک پروفیسر عتیق اللہ ہیں۔ جو اردو کے ادیب اور شاعر ہوکر اردو والے نہیں لگتے۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کو ہم اس وقت سے جانتے ہیںجب وہ دہلی میں بے روزگار تھے اور دہلی کے چائے خانوں اور کافی ہاؤس میں اپنی علمیت اور ادبیت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہماری ان سے پہلی ملاقات دہلی کے ایک چائے خانہ ہی میں ہوئی۔ غالباً 1976 کی بات ہے، علی گڑھ میں ہمارے ایک دوست تھے ،جب تک وہ علی گڑھ میں رہے اپنی ذہانت کا استعمال تعمیری کاموں میں کیا، لیکن تلاشِ روزگار میں جب دہلی آگئے تو اور بھی بہت سے ہنر سیکھ لیے جو وقت ضرورت کام آتے ہیں۔ ان کا نام تھا شارق ادیب۔ جب تک علی گڑھ میں رہے واقعی اسم بامسمّیٰ یعنی شارق ادیب ہی رہے۔ لیکن دہلی میں غمِ روزگار کی دلفریبی کے سبب ادب کی شارقیت ماند پڑگئی۔

ہماری پہلی ملاقات ڈاکٹر عتیق اللہ سے شارق ادیب کے ساتھ ہی ہوئی، ہم علی گڑھ سے ریڈیو کے ایک پروگرام کے لیے دہلی آئے تھے۔ پروگرام زبیر رضوی کا تھا جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس میںکام کرتے تھے۔ شام کو جب ہماری ملاقات شارق ادیب سے ہوئی تو وہ ہمیں ضیافت کے لیے بلی ماران کی اس گلی قاسم جان میں لے گئے جہاں مرزا غالب کرایے کے مکان میں رہا کرتے تھے۔ شاید پریشان حالوں کو پناہ دینے کی روایت اس گلی کی کافی پرانی تھی۔ اسی روایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکیم عبدالحمید مرحوم نے ہمدرد طبیہ کالج قائم کیا تاکہ اس گلی میں مسلسل ہمدردی کا سلسلہ جاری رہے۔ ہمدرد کی عمارت میں ایک چائے خانہ تھا۔ عموماً غیرتعلیم یافتہ طبقہ غم روزگار سے تنگ آکر شراب خانوں میں جاتا ہے اور تعلیم یافتہ حضرات چائے خانوں یا کافی ہاؤسوں میں غم غلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ غم نہ شراب سے دور ہوتا ہے اور نہ چائے یا کافی سے۔ جب ہم شارق ادیب کے ساتھ چائے خانے میں پہنچے تو ایک دراز قد، سیاہ گھنے بالوں والا خوش لباس شخص ہاتھ میں سگریٹ لیے کرسی پر بیٹھا دکھائی دیا۔ قد کی درازی ہمارے لیے کمتری کے احساس کی وجہ بنی تھی، لیکن بالوں کی سیاہی اور خوش لباسی میں ہم بھی کمتر نہیں تھے۔ ہمارے موجودہ فارغ البال سر پر اس زمانے میں کچھ زیادہ ہی بال تھے۔ شارق ادیب نے تعارف کراتے ہوئے کہاکہ یہ ڈاکٹر عتیق اللہ تابش ہیں۔ نام کے ساتھ ڈاکٹر کا لفظ سن کر مرعوب ہونا فطری بات تھی، سو ہم بھی ہوئے۔ ویسے بھی وہ زمانہ ہمارا طالب علمی کا تھا۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کی نقل و حرکت سے دانشوری ٹپک رہی تھی جو اس عمر کے ادیبوں اور شاعروں میں پیدا ہوجاتی ہے جس سے ڈاکٹر عتیق اللہ گزر رہے تھے۔ پہلی ہی ملاقات میں عتیق اللہ صاحب کی خوش لباسی اور خوش گفتاری نے متاثر کیا۔ پرانی دہلی جیسی تنگ گلیوں میں وہ بے داغ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جن گلیوں سے گزر کر لوگوں کی زبان کیا ایمان بھی داغدار ہوجاتا ہے، اب ان گلیوں میں میر، غالب، ذوق یا داغ کی زبان یا لہجہ نہیں بلکہ کرخنداروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کی اصطلاحاتی گفتگو مرزا غالب کی گلی کی آبرو کی حفاظت کرتی ہوئی معلوم ہورہی تھی۔ جس کی وجہ سے ہم مسلسل مرعوب ہوتے چلے جارہے تھے۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کی خوش لباسی دیکھ کر یہ احساس ہی نہیں ہورہا تھا کہ یہ شخص تلاشِ معاش میں سرگرداں و پریشان ہے۔ شارق ادیب سے ڈاکٹر عتیق اللہ کی قربت کی ایک وجہ دونوں کی بے روزگاری بھی تھی۔ ایک اجین سے قسمت آزمانے آئے تھے اور دوسرے علی گڑھ سے۔ دہلی کی صدیوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ دور دراز سے لوگ یہاں آئے اور یہیں کے ہو رہے۔ یہاں لوگ کشتیاں جلاکر آتے ہیں یا آکر جلا دیتے ہیں۔ اس وقت میں اردو کا طالب علم تھا۔ ابھی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تھی، بس کچھ افسانے اور کچھ مضامین کچھ رسائل میں شائع ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ جانتے تھے۔ جب شارق ادیب نے ڈاکٹر عتیق اللہ کا مکمل تعارف کرایا، ان کی علمی و ادبی فتوحات کے بارے میں بتایا اور پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی قسمت آزمائی کے دور سے گزر رہے ہیں تو مجھے اپنے مستقبل کی فکر ہوئی کہ جب ایسا دانشور اور ادیب مستقل روزگار کے لیے سرگرداں ہے تو ہمارے مستقبل کا تو اللہ ہی مالک ہے۔ ہماری تعلیم مکمل ہونے تک تو اردو اور اردو والوں کا اور برا حال ہوجائے گا۔ اس وقت تک ہمیں عتیق اللہ صاحب سے زیادہ واقفیت نہیں تھی، البتہ باتوں ہی باتوں میں اتنا ضرور معلوم ہوا کہ یہ بھی براہ راست ترقی پسند نہ ہوتے ہوئے بھی ترقی پسندوں سے قریب ہیں اور شاعر ہونے کے باوجود ان کی قربت افسانہ نگاروں سے زیادہ ہے۔ شاعر بہت اچھے ہیں، لیکن مشاعروں کے نہیں۔ آج کل شاعر اسی کو سمجھا جاتا ہے جو مشاعروں میں جاتے ہیں اور مشاعروں میں بھی وہ شہرت پاتے ہیں جو ترنم سے اپنا یا کسی کا کلام پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر عتیق اللہ اس صلاحیت سے محروم ہیں، جبکہ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

دہلی میں اس وقت ترقی پسندوں میں اہم نام پروفیسر قمر رئیس کا تھا۔ قمر صاحب بڑے مردم شناس یا ادیب شناس تھے۔ ویسے تو خاتون شناسی میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ نوجوان ادیبوں کو عموماً پہچان لیتے تھے کہ وہ ادب اور اس کے فروغ میں کب تک اور کہاں تک چلے گا بس ایک دو بار ہی ان کا اندازہ غلط نکلا اور وہ دھوکہ کھا گئے۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کی قمر صاحب سے قربت نے ہمیں حوصلہ بخشا اس لیے کہ ہم علی گڑھ میں رہنے کے باوجود بھی قمر رئیس صاحب سے قریب تھے۔ ہمیں قمر صاحب سے جوڑنے کے لیے پروفیسرقاضی عبدالستار اور والد مرحوم کنولؔ ڈبائیوی پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ قاضی عبدالستار اور قمر رئیس میں برس پندرہ یا کہ سولہ کے سن کے زمانے سے دوستی تھی۔ قمر صاحب فکشن کے ترقی پسند نقاد تھے۔ شاعری انھوں نے بھی کی تھی لیکن شاعر وہ بھی عہد جوانی کے یا ذاتی محفلوں کے تھے، لیکن نقاد مستند تھے۔ خدا جانے بیشتر اردو کے ناقدین کی ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے ہوکر تنقید پر کیوں ختم ہوتی ہے۔ احتشام حسین ہوں یا آل احمد سرور، کلیم الدین احمد ہوں یا شمس الرحمن فاروقی، بلکہ حالی ہوں یا شبلی۔ سب ہی شاعری کرتے کرتے نامور نقاد بن گئے۔ میرا خیال ہے عتیق اللہ صاحب نے بھی اسی روایت کو قائم رکھتے ہوئے شاعری کو دوسرا مقام دے کر تنقید کا دامن تھام لیا۔ تنقید بھی افسانوی ادب کی کی۔ میں سمجھتا ہوں یہ ان کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی اچھا ہی ہوا، ان کے لیے اس لیے کہ وہ شاعر تو اچھے ہیں، لیکن مشاعرے باز نہیں ہیں اس لیے انھیں بحیثیت شاعر کوئی تسلیم نہیں کرے گا اور ہمارے لیے اس وجہ سے بہترہوا کہ تنقید میں انھوں نے افسانوی ادب پر خصوصی توجہ دی اور ہم اس امید پر ان سے تعلقات نبھاتے رہے کہ ایک نہ ایک دن تو ہمارا کوئی افسانہ انھیں لکھنے کے لیے مجبور کرے گا۔ ہمدرد کالج کی ملاقات کو ہم نے کبھی فراموش بھی نہیں کیا۔ تخلیق کاروں کے لیے لازمی ہے کہ ہر حال میں ناقدین سے تعلقات نبھاتے رہیں۔ اگر چہ ہم قاضی عبدالستار کے شاگرد رہے جو بھری محفل میں ناقدین کی آبروریزی سے گریز نہیں کرتے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ ہر ناول پر ناقدین کی رائے کا انتظار بھی رہتا تھا۔ عتیق اللہ صاحب کی قدر و قیمت ہماری نظر میں اس لیے بھی تھی کہ وہ آٹھویں دہائی میں آٹھویں دہائی کے افسانہ نگاروں کے نقاد بن کر ابھرے۔

علی گڑھ جانے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عتیق اللہ کی وابستگی دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے ہوگئی۔ ہمارا بھی دہلی ہجرت کرنے کا ارادہ تھا۔ جب 1978 میں دہلی آئے تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عتیق اللہ جو دھواں اڑاتے ہوئے گلی قاسم جان کے ایک چائے خانہ میں ملے تھے اب تلاش معاش کی جدوجہد سے آزاد ہوگئے۔ آخر قمر رئیس صاحب کی دور اندیشی اور دور بینی کو یہ خوف ہواکہ یہ اجین کا باشندہ جس میں کالی داس کی سی ذہانت ہے کہیں حالات سے مجبور ہوکر گھر واپسی نہ کرلے، اس لیے دہلی میں ہی اس خوش شکل، خوش پوش اور خوش گفتار نوجوان کو کسی نہ کسی طرح رہنے کا پابند کیا جائے۔ دراصل جس زمانے میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی ذمہ داریوں کا بوجھ پوری طرح سے قمر صاحب کے کاندھوں پر آگیاتھا اس وقت انھیں تلاش رہی ایسے جانباز اور جانثار نوجوان ادیبوں کی جو تحریک کو دوبارہ تحریک دے سکیں۔ ویسے تو قمر صاحب خود بھی جوان ہی تھے۔ وہ پچہتر کے ہوکر بھی جوان رہے، ڈاکٹر عتیق اللہ نے تو عمر کی چار دہائیاں بھی پوری نہیں کی تھیں۔ ویسے دیکھنے میں نوجوان تو وہ آج بھی نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں اجین سے لے کر اورنگ آباد تک اور اورنگ آباد سے دہلی تک کسی نے آج تک ان کے سفید بال نہیں دیکھے، بالوں کی سیاہی ان کی جوانی یا نوجوانی کی گواہی دیتی ہے۔ بالوں کی سیاہی کے علاوہ عمر کی آٹھ دہائی مکمل ہونے کے بعد بھی ان کاطرز زندگی مابعد جدید ہے۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کو اپنے بال اور ان کی سیاہ رنگت بے حد پسند ہے۔ جب فریضۂ حج ادا کرنے گئے تو حج کے ایک رکن کی ادائیگی کے لیے نائی کو سرمونڈھنے کی نہ اجازت دی اور نہ زحمت۔ خود ہی بادل نخواستہ عزیز از جان بالوں میں سے چند بال کاٹ کر فرض ادا کیا، اس طرح حج بھی ہوگیا اور بال بھی سلامت رہے۔ خوبصورتی جو بالوں کی وجہ سے بھی ہوتی ہے باقی رہی۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کا جب دہلی یونیورسٹی میں تقرر ہوا تو انھیں اردو سرٹی فکٹ کورس کی کلاس بھی پڑھانے کو دی گئی، جس میں شامل نصاب کی کتاب میں ایک سبق مولانا ابوالکلام آزاد کا ’’کامرانیوں کا راز‘‘ تھا۔ اس سبق میں مولانا نے لکھا تھا:

’’میں دل کو مرنے نہیں دیتا، کوئی حالت ہو، کوئی جگہ ہو، اس کی تڑپ کبھی دھیمی نہیں پڑے گی، میں جانتا ہوں کہ جہانِ زندگانی کی ساری رونقیں اسی میکدۂ خلوت کے دم سے ہیں، یہ اجڑا اور ساری دنیا اجڑ گئی۔‘‘

یہ سبق پڑھاتے پڑھاتے ڈاکٹر عتیق اللہ نے جینے کا ہنر سیکھ لیا۔ وہ خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی میں رہ کر میں نے سکھانے سے زیادہ سیکھا ہے۔ 1978 میں جب میں بھی دہلی آگیا تو اس دراز قد ادیب کی قد و قامت اور ادبی فتوحات کا راز کھلا۔ دراصل ڈاکٹر عتیق اللہ کا تعلق اس سرزمین سے ہے جس میں امیر تیمور اور بابر جیسے فاتحین کے علاوہ امام بخاری، ابو عیسیٰ محمد ترمذی اور مرزا الغ بیگ جیسے محدث اور عالم پیدا ہوئے۔ گزشتہ صدیوں میں سرحدوں پر اتنی قید و بند نہیں تھی، جو اب ہے۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کے اجداد نے بھی خدا جانے کیوں وطن کو خیرباد کہا اور افغانستان کے جلال آباد میں آکر بس گے۔ لیکن خوب سے خوب ترکی تلاش میں پہلے سوات آئے اور پھر ہندوستان کا رخ کیا۔ اچھا ہی ہوا ورنہ افغانستان یا سوات میں ڈاکٹر عتیق اللہ کی شاعری اور تنقید سمجھنے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ کہتے ہیں کہ سوات کا علاقہ علم بشریات اور آثار قدیمہ کے لیے مشہور ہے۔ گوتم بدھ کے زمانہ میں اس خطہ کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ آج بھی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے پاکستان کا سوئزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ سوات میں حسین مرغزار اور شفاف پانی کے چشمے اور دریا بہتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر عتیق اللہ کو تو اجین کے کنارے بہتی ہوئی شپرا ندی میں صادق مولا کے ساتھ نہانا تھا۔ بھرتری ہری اور کالی داس کی نگری میں ادب سیکھنا تھا۔ کالی داس کی روایت کو آگے بڑھانا تھا۔ کالی داس نے سنسکرت میں شاعری کی، ڈاکٹر عتیق اللہ نے اردو کو اختیار کیا۔ کالی داس نے شکنتلا ڈرامہ لکھا، ڈاکٹر عتیق اللہ نے ’’پیچھے کوئی ہے‘‘ لکھ دیا۔ اس لیے ان کے والد مرحوم نے سوات کے دلفریب نظاروں کو چھوڑ کر لاہور اور دہلی کو نظرانداز کرکے اجین کو آباد کیا، شاید مالوہ میں ان کا کوئی منتظر تھا۔ نقل مکانی کی روایت ڈاکٹر عتیق اللہ کو وراثت میں ملی، جب ان کے بزرگ ایک مقام پر نہیں بیٹھے یا ٹھہرے تو وہ کیوں بیٹھتے۔ لیکن اس نقل مکانی کا فائدہ بھی ہوا، دادا پردادا کو جلال آباد اور سوات میں شریک حیات ملیں۔ والد نے مالوہ میں تلاش کرلیا اور ڈاکٹر عتیق اللہ نے شاہزادہ جان عالم کی طرح ملکہ انجمن آرا کی تلاش میں خلدآباد یعنی اورنگ آباد کا سفر اختیارکیاجبکہ ملکہ ماہ طلعت پہلے سے گھر میں رونق افراز تھیں، لیکن ان کی وہی خواہش تھی جو روم کے بادشاہ آزاد بخت کی تھی۔ اور پھر بعد حاصل کرنے انجمن آرا کے انھوں نے دارالخلافہ دہلی کی جانب کوچ کیا، جو ہمارے لیے سود مند ثابت ہوا، نہ وہ دہلی آتے اور نہ ہم سے ملاقات ہوتی۔

ایک ہی شعبہ میں ہونے کی وجہ سے اب ڈاکٹر عتیق اللہ سے ملاقات کے لیے کسی شارق ادیب کی ضرورت نہیں تھی۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کا شمار اس وقت نوجوان اساتذہ میں تھا ویسے تو آج بھی انھوں نے خود کو ایسا سنبھال کر رکھا ہے کہ لوگ انھیں سینئر سٹیزن کہتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ شعبۂ اردو کے اس وقت کے اساتذہ میں پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کے علاوہ پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر ظہیر احمد صدیقی، پروفیسر فضل الحق، پروفیسر امیر عارفی، پروفیسر شمیم نکہت، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ڈاکٹر شریف احمد، پروفیسر عبدالحق، ڈاکٹر مغیث الدین فریدی،ڈاکٹرفرحت فاطمہ،ڈاکٹرعابدہ بیگم اور ڈاکٹر عبدالحئی شامل تھے۔ بعدمیں پروفیسر گوپی چند نارنگ اور پروفیسر صادق بھی آگئے۔ مذکورہ تمام اساتذہ اس لیے ڈاکٹر عتیق اللہ کی نہ صرف قدر کرتے تھے بلکہ گفتگو کرتے وقت زبان و بیان کا خیال بھی رکھتے کہ ان کی تحریر کے علاوہ گفتگو بھی نوطرز مرصع اور فسانۂ عجائب کے انداز کی ہوتی تھی۔ دراصل ان کی پرورش ایسے گھر میں ہوئی جہاں فارسی، عربی اور اردو کے علاوہ پشتو بھی بول چال میں شریک ہوتی تھی۔ ان کے والد خود تو مدرسے کے مولوی کے مظالم سے تنگ آکر نوجوانی میں گھربار چھوڑ کر نکل پڑے تھے، لیکن جب اپنے بیٹے کی تربیت کی نوبت آئی تو معصوم عتیق اللہ سید کو چھ برس کی عمر میں ہی فجر کی نماز میں مسجد میں تفسیر سنانے کے لیے لے جانے لگے۔ عتیق اللہ صاحب والد کا احترام کرتے ہوئے مسجد سے تو فرار نہیں ہوتے لیکن زبان و بیان پر قدرت حاصل کرنے کے بعد مسجد میں کبھی تقریر کرنے نہیں گئے۔ دراصل ڈاکٹر عتیق اللہ کی والدہ بھی درس و تدریس سے وابستہ تھیں، اس لیے وہ گھر کے علمائ کے بیچ رہ کر کندن بن گئے اور اب صورت حال یہ ہے کہ ان کی تقریر و تحریر کی زبان غالب اور اقبال کے کلام کی طرح تشریح طلب ہوگئی ہے۔ ممکن ہے اکیسویں صدی کے نصف آخر میں ’’شرح تنقید عتیق اللہ‘‘ شائع ہوجائے کیونکہ اس وقت تک ان کے مضامین کی زبان سمجھنے والے باقی نہیں رہیں گے، ویسے تو اب بھی کمیاب ہیں۔ شعبۂ اردو میں بیشتر اساتذہ ڈاکٹر عتیق اللہ کی بعض دوسری وجوہات کی بنا پر بھی بہت قدر کرتے تھے۔ دراصل اردو کے اساتذہ دیگر زبانوں اور علوم سے کم ہی واقفیت رکھتے ہیں بلکہ بعض تو اردو سے بھی کم ہی واقف ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عتیق اللہ کو انگریزی اور علم ریاضی میں بھی مہارت حاصل ہے۔ اس لیے انگریزی میں خط و کتابت کے علاوہ تنخواہ اور دیگر  حساب کتاب کے معاملات میں بزرگ اساتذہ بھی ان کا تعاون حاصل کرتے تھے۔

میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جوانی یا نوجوانی میں عموماً سب کے فن کو شاعری بھاتی ہے سوڈاکٹر عتیق اللہ کو بھی نوجوانی سے پہلے ہی شاعری بھاگئی۔ ابھی سولہ کا سن بھی پار نہ کیا تھا کہ شعر کہنے لگے۔ دراصل ان کے گھر اور باہر، مرد اور خواتین سب ہی شعر گوئی کو نہ صرف پسند کرتے تھے بلکہ شعر گو بھی تھے۔ اس لیے ان کی شعر گوئی کی طرف رغبت قابل گرفت نہیں تھی اور نہ قابل سزا۔ جب ایسا ماحول خاندان ہی میں مل جائے تو پرواز بلند ہوہی جاتی ہے، جس گھر کی خواتین شعر کہتی ہوں اس کے گھر کے مردوں کو کون روک یا ٹوک سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کبھی ’’ایک سو غزلیں‘‘ منظر عام پر آگئیں، کبھی ’’بین کرتے ہوئے شہر‘‘ میں داخل ہوگئے۔ ڈاکٹر عتیق اللہ نے شاعری میں وہ کمال حاصل کیاکہ ان کی ’’عبارت‘‘ اور ان کا ’’تکلم‘‘ معاصرین سے مختلف ہوگیا۔ شاعری کے بعد جب تنقید کی ’’قدرشناسی‘‘ کی طرف طبیعت مائل ہوئی تو ’’تنقید کی جمالیات‘‘ سے متاثر ہوکر ’’تنقید کا نیا محاورہ‘‘ لکھ ڈالا۔ اپنے تنقیدی ’’بیانات‘‘ کو ’’تعصبات‘‘ سے علاحدہ رکھ کر ’’ترجیحات‘‘ کو ترجیح دی۔ والد کے ساتھ رہ کر نئی اصطلاحات اور تراکیب گڑھنے کا فن کیا سیکھا کہ ’’ادبی اصطلاحات کی فرہنگ‘‘ تیار کردی۔

پروفیسر عتیق اللہ کے اجداد کا تعلق سمرقند و بخارا سے تھا سو انھوں نے احادیث اور فقہ کی تعلیم و تدریس پر توجہ دی۔ ڈاکٹر عتیق اللہ اجین میں پیدا ہوئے، اس لیے انھوں نے کالی داس اور بھرتری ہری کی روایت کو آگے بڑھایا اور خوب بڑھایا۔ ہماری ڈاکٹر عتیق اللہ سے براہ راست ملاقات اور تعلقات کو 45 سال گزر گئے وہ شعبہ سے سبکدوش ہوگئے اور ہم رخصت ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن رشتوں میں کبھی اسپیڈ بریکر بھی نہیں آیا۔ رشتے کی جو ہمواری ابتدا میں تھی آج بھی ہے۔ دراصل وہ تعلقات میں عمر کے فرق کو حائل نہیں ہونے دیتے۔ وہ پروفیسر قمر رئیس اور پروفیسر گوپی چند نارنگ کے ساتھ ان کے ہم عمر ہوجاتے ہیں اور نوجوانوں کے ساتھ اپنی عمر بھول جاتے ہیں۔ شعبۂ اردو میں قمر صاحب کے بعد ڈاکٹر عتیق اللہ نوجوانی میں بلاتفریق مرد و زن مقبول تھے۔ کلاس ختم ہونے کے بعد کبھی کینٹین میں اور کبھی گھاس کے میدان میں چائے بھی پیتے تھے اور خوش گپیاں بھی کرتے تھے۔ یہ جوان عادتیں آج بھی ان میں موجود ہیں، اسی لیے وہ آج بھی خوش اسلوبی، خوش گفتاری اور خوش پوشی میں پچیس تیس سال کی عمر کو تجاوز نہیں کرپائے ہیں۔ اردو میں ایسے خوش پوش اور نستعلیق ادیب وہ بھی نقاد کم نظر آئیں گے کیونکہ محقق اور ناقد اپنی تحقیق اور تنقید کو مستند ثابت کرنے کے لیے کم عمری میں بھی بزرگانہ حلیہ اور اطوار دکھانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کے بیان کو کوئی طفلانہ نہ سمجھے۔ صحت مند ادب تخلیق کرنے کے لیے صحت مند ماحول اور صحت مند فکر ضروری ہے جو پروفیسر عتیق اللہ کے یہاں نظر آتی ہے۔ ان کی نستعلیقیت ان کی پوری زندگی پر حاوی ہے، ان کے لباس پر شکن اور گھر میں تنکا نظر نہیں آتا البتہ دسترخوان پر سمرقند و بخارا کے علاوہ افغانستان اور ہندوستان بھی دکھائی دیتا ہے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہے وہ شاہ دل بھی ہیں اور شاہ خرچ بھی، اس لیے ان کے دوست زیادہ ہیںدشمنوں کامجھے علم نہیں۔جنھوں نے پروفیسر عتیق اللہ کو نہیں دیکھا وہ دیکھ لیں اور نہیں ملے ہیں تو ملاقات کرلیں تاکہ میرے بیانات کی تصدیق ہوسکے، اس لیے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں سچ کہتا ہوں سچ کے سوا کچھ اور کہنے کی کوشش نہیں کرتا۔

 

پروفیسر ابن کنول

شعبۂ اردو،

دہلی یونیورسٹی، دہلی- 110007


 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

ateequllahibn e kanwalابن کنولعتیق اللہمعاصر خاکہ
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بیٹی بچاؤ – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
اگلی پوسٹ
اقبال : جہان نو کاشاعر – عمیر محمد خان

یہ بھی پڑھیں

اسحاق وردگ:کھیلن کو مانگے چاند – پروفیسر خالد...

دسمبر 12, 2023

کلکتے کا جو ذکر کیا – پروفیسر غضنفر

اگست 9, 2023

اجتماعیت میں انفرادیت: دبیر احمد – نسیم اشک

مئی 26, 2023

زندگی کے طوفان میں پرواز کناں: ڈاکٹر محمد...

اپریل 1, 2023

اخلاق،محبت اور جنون کی تثلیث : ڈاکٹر تسلیم...

فروری 16, 2023

خاقانیٔ جامعہ پروفیسر خالد محمود – پروفیسر ابن...

نومبر 15, 2022

خاتون مشرق: پروفیسر شمیم نکہت – پروفیسر ابن...

اگست 1, 2022

ماہراقبالیات پروفیسر عبدالحق – پروفیسر ابن کنول  

جولائی 21, 2022

مولانا ابو االبقا ندوی – ڈاکٹر عمیر منظر

جولائی 11, 2022

سدا بہار پروفیسر اختر الواسع – پروفیسرابن کنول  

اپریل 25, 2022

1 comment

یعقوب یاور نومبر 9, 2021 - 7:14 صبح

بہت خوب ابن کنول صاحب۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں