اردو ادب میں جہاں سنجیدہ شاعری کی فراوانی ہے وہاں مزاحیہ شاعری آٹے میں نمک کے برابر نظر آتی ہے۔اعلیٰ اور معیاری مزاحیہ شاعری مہذب صنف کی حیثیت سے طویل عرصے تک اردو ادب میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔سید ضمیر جعفری نے اس حقیقت کا ادراک کچھ یوں کیا ہے۔
"اس ادبی فقدان کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ایک تو یہ کہ اعلی درجے کا مزاح تخلیق کرنا بڑا مشکل کام ہے۔دوسری یہ کہ اس صنف سخن کو قابل لحاظ شعراء نے چنداں لائق توجہ نہیں سمجھا۔”
اس حقیقت کے باوجود اردو ادب میں مزاح کے حوالے سے جو کچھ بھی دستیاب ہے وہ قاری کے دل کو فرحت اور شگفتگی کے ساتھ ساتھ انس، محبت، نفس الا مری اور اپنائیت بھی عطا کرتا ہے۔اردوادب میں مزاحیہ شاعری کا آغاز اگرچہ جعفر زٹلی، ، سودا، نظیر اکبر آبادی اور انشاء سے شروع ہوتا ہے ۔اس فہرست میں ان کے علاوہ بھی کلی اور جزوی طور پر بہت سے نام ور شعراء موجود ہیں جنھوں نے مزاح گوئی کے فن کو فروغ دے کر قارئین کے لیے دلچسپی کا سامان فراہم کیا۔ان شعرا میں ایک اہم نام اکبر الہ آبادی کا بھی ہے جن کی دلآویز، رنگین اور روح فرسا شاعری نے ادب کی فضا کو مزاحیہ عطر سے معطر کردیا۔انھوں نے اپنے کلام میں مزاحیہ عنصر پیدا کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا۔ اس کوشش میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔انھوں نے اپنے دور کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل پر طنز ومزاح کے جو ظریفانہ نشتر چلائے یہ انھیں کا خاصا ہے۔اودھ پنچ کے فلیٹ فارم سے اکبر الہ آبادی وہ واحد شاعر تھے جس نے ظرافت کو فن کی حیثیت دے کر اردو ادب کے دامن کو مزاح کے مخصوص کینوس سے نکال کر عام قاری کی ذہنی سطح تک لے آئے ۔یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ طنز ومزاح کا ذکر آتے ہی ذہن میں اکبر الہ آبادی کا نام آتا ہے۔اکبر نے اپنی پچھتر سالہ زندگی میں ادب کو بہت کچھ دیا ان کے ہاں موضوعات کی کوئی کمی نہیں لیکن جہاں تک مزاحیہ شاعری کی بات ہے تو ان کی مزاحیہ شاعری ان کے سنجیدہ کلام پر بھاری نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھی ان کی طبعیت کی شوخی اور ظرافت ہے جس سے وہ کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے، اس بات کی سب سے بڑی دلیل سرسید جیسی بڑی شخصیت کے خلاف محاذ کھولنا بھی ہے ۔اکبر کو انگریز اور انگریز نوازوں سے سخت نفرت تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ 1857 کا ہنگامہ ان کے سامنے گزرا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ کالجوں اور سکولوں میں انگریزی تعلیم وتربیت کے سخت گیر نقاد تھے جب 1875 میں سر سید نے علی گڑھ سکول بنایا (جسے دو سال بعد کالج کی حیثیت دی گئی)تو اس پر اکبر نے برملا کہا،
ابتدا کی جناب سید نے
جن کے کالج کا اتنا نام ہوا
انتہا یونیورسٹی پر ہوئی
قوم کا کام اب تمام ہوا
ایک جگہ لکھا ہے
نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی فوائد پر
گرا کے چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر
اکبر کی مزاحیہ شاعری کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کی آخری دہائی سے ہوا تو یہ سلسلہ پھران کی وفات تک جاری رہا۔ یہ وہ دور تھا جس میں آزادی کی تحریک مسلمانوں اور ہندوؤں میں زوروشور سے جاری تھی۔اس دور میں ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی حالت زار زیادہ دگرگوں تھی۔سامراجی نظام برصغیر کے سینے پر اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑرہاتھا۔مسلمانوں کا استحصال، معاشی بحران، مذہب سے دوری، تعلیمی انحطاط، آپس کی نااتفاقی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی بے راہ روی وہ مسائل تھے جن سے کوئی ذی فہم انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا چہ جائیکہ ایک درد دل رکھنے والے شاعر۔تہذیب مغرب کی اس طوفان میں اکبر بلا جھجھک بول اٹھتے ہیں۔
"تہذیب مغربی کی بھی ہے وارنش غضب
ہم کیا جناب شیخ بھی چکنے گھڑے ہوئے
اکبر کے ہاں ظریفانہ شاعری کے سب نمونے پائے جاتے ہیں بلکہ ان کی ظرافت نے فن کی خدمت کے ساتھ تعمیری کام بھی سرانجام دیا۔انھوں نے اپنے مخصوص انداز بیاں سے مغربی ہوا کا رخ موڑنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اخری دم تک اس کا بر ملا اظہار کرتے رہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اکبر کی اس کاوش کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
"اکبر الہ آبادی کے عقائد اور نظریات چاہے کچھ بھی ہوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی طنز نے مغربی تقلید کی طوفانی رو میں دھیماپن ضرور پیدا کیا اور یوں اپنے ملک کی ادبی، تمدنی اور مذہبی روایات کا تحفظ کیا جو بصورت دیگر یکسر فنا ہو جاتیں ”
اسے اکبر کا کمال ہی کہنا چاہیے کہ انھوں نے طنزومزاح برائے تفریح کے ساتھ طنز ومزاح برائے فن منوایا۔انھوں نے زندگی کو ہر زاویہ سے دیکھا، پرکھا اور اپنے الگ رنگ روپ کا اظہار کیا وہ حادثاتی نہیں بلکہ طبعاً مزاح گو تھے، ساتھ ہی ان کو اردگرد کا ماحول بھی ایسا ملا تھا جو اس قسم کی شاعری کے لیے موزوں تھا چوں کہ ان کا زمانہ مشرق ومغرب کی متضاد تہذیبی قدروں کے ٹکراؤ کا زمانہ تھا، اس صورت حال سے اکبر نے بھر پور استفادہ کیا۔بقول ڈاکٹر فرمان فتح پوری
"انھوں نے عدم توازن ،عدم مطابقت، بے راہ روی اور ریا کاری کی شکار ہر سماجی روش اور شخصی منہاج کو ہدف ملامت بتایا۔حکومت ،حکومت کے اعضاء، سماج سماج کے مختلف شعبے اور ان کے نمائندے ان کے نشانے کے حدود میں آگئے۔موضوعات کے اس تنوع کے ساتھ انھوں نے اظہار خیال میں بھی زبان وبیان کا وہ معیار واسلوب قائم رکھا جو پورے معاشرے کا ترجمان اور پسندیدہ تھا ”
اکبر الہ آبادی 1857 کے زمانے کی ہولناکیوں میں اگرچہ کم عمر تھے مگر شعوری طور پر سب کچھ ان کے ذہن پر نقش ہورہا تھا ان کے ہاں جا بجا اس سانحے کا ذکر ملتا ہے ۔1857 کے عظیم سانحے کے بعد جب خون ریزی کا طوفان عارضی طور پر تھما اور بظاہر خوشحالی نظر آنے لگی تو اکبر کہ اٹھے
خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر
مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس
اکبر اسی زوال پذیر معاشرے کو ایک پرامن، اور بقائے باہمی پر یقین رکھنے والے معاشرے کی شکل میں بدلتا دیکھنے کے آرزومند تھے۔وہ عملی طور پر کم اور فنی اور فکری طور پر زیادہ سرگرم عمل تھے اپنے مقصد کے لیے انھوں نےطنزیہ اور مزاحیہ شاعری کے تمام مروجہ حربے اور اصناف یعنی ظرافت ،طنز، ہجو،پھبتی، تحریف، لفظی بازیگری اور انگریزی الفاظ کے برمحل استعمال کے ساتھ صنعت تجنیس کا استعمال خوب کیا۔ان کی نظر میں غضب کی وسعت تھی ان کی مقبولیت اور بڑائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقبال، ظریف لکھنوی جیسے اعلی پائے کے شعرا بھی ان کی ظریفانہ شاعری سے متاٖثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور برسوں ان کی تقلید میں طبع آزمائی کرتے رہے۔
عورتوں کی بے پردگی سے اکبر الہ آبادی کو سخت نفرت تھی ان کے نزدیک مغربی تہذیب کے اثرات نے عورتوں سے حیا کی چادر چھین لی ہے اور وہ خاتون خانہ کے بجائے رونق محفل بن گئ ہیں۔
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بی بیاں
اکبر زمین میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا
ایک جگہ یوں اظہارِ خیال کرتےہیں
تعلیم کی خرابی سے ہوگئ بالآخر
شوہر پرست بیوی پبلک پسند لیڈی
سرسیداور ان کے رفقا کے خیال میں اگر مسلمانوں نے جدید علوم وفنون نہ سیکھے تو وہ دوسری اقوام کے مقابلے میں پست اور ناکام رہ جائیں گےلیکن دوسری طرف ان کے مخالفین بھی موجود تھے جن میں اکبر سرفہرست تھے ۔اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہاکبر خود انگریزوں کی ملازمت میں رہے بلکہ اپنے بیٹے کو بھی ولایت سے تعلیم دلوائی۔ اس کھلے تضاد کی بنیادی وجہ دراصل مغربی تعلیم کی مخالفت نہیں بلکہ نوجوان اور عورتوں کی اخلاقی گراوٹ اور دین سے دوری تھی جن سے اکبر لاتعلق نہ تھے ان کی یہ مخالفت ذاتی نہیں بلکہ قومی خلوص پر مبنی تھی۔ان کا ہدف ملامت اکثرمغرب زدہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تھیں۔ذیل میں اس حوالے سے ان کےچند اشعار ملاحظہ ہوں،
ہم ایسی سب کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
ٹرخادیا مغرب ہراک کو مغرب نے پاس کردیا
سید بھی کورے کھسکے برسوں مساس کرکے
اکبر عورتوں کی تعلیم وتربیت کے مخالف نہیں بلکہ وہ اس مخصوص تربیت سے نفرت کرتے تھے جو انگریزی تعلیم حاصل کر کے عورتیں اپنالیتی ہیں۔اکبر کہتے ہیں.
تعلیم لڑکیوں کی ضرورت تو ہے مگر
خاتون خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں
ہمارے ملک میں ہونا ہے کیا تعلیم نسواں سے
بجز اس کے کہ باوا اور بھی گھبرائیں اماں سے
اکبر کی شاعری اپنے دور کی ترجمان ہے اپنی شاعری کو انھوں نے تصنع اور بناوٹ سے نہیں سجایا بلکہ عمومی مضامین سے اپنے کلام کو مزین کیا ان کے ہاں مخصوص الفاظ کی ایک فہرست ہےجن سے وہ براہ راست اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں ان میں شیخ، بدھو، اونٹ ٹٹو، گائے، پری، انجمن، بیبیاں وغیرہ کی اصطلاحوں میں انھوں نے معاشرے کی کمزوریوں کو ابھارا.
اکبر کو زبان وبیان اور اسلوب کا گہرا شعور تھا اسی شعور کے رچاو نے ان کی مزاحیہ شاعری میں شان پیدا کی اور انھیں ہر مکتب فکر میں مقبول خاص و عام بنادیا اکبر کی اس خصوصیت کا ذکر رشید احمد صدیقی نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
"اکبر نے زندگی کے ہر شعبے پر اپنے مخصوص رنگ میں اظہار خیال کیا ہے ان کے ہاں بعض الفاظ کے مخصوص معنی اور مفہوم ہیں جس کو وہ اس لطیف انداز سے ظاہر سے اپنے کلام میں لاتے ہیں کہ ان کا پورا مفہوم واضح ہو جاتا ہے حالانکہ اگر ان کی تشریح کی جائے تو ورق کے ورق سیاہ ہوجایئں ”
اکبر کو اسلام سے سچی محبت تھی وہ عام مسلمان کے ساتھ ملا کو بھی سچا مسلمان بنانا چاہتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ جس انداز سے بھی بات کرتے مذہب ہی کو مرکز ومحور خیال کرتے۔اسی لیےتو انھوں نے علی گڑھ کے بجائے ندوۃ العلماء کو زیادہ پسند کیا لیکن اس کے ساتھ ملائیت کی تنگ نظری کو بھی نہیں بخشا۔لکھتے ہیں۔
نفس کے تابع ہوئے ایمان رخصت ہو گیا
وہ زمانے میں گھسے ایمان رخصت ہو گیا
لامذہبی سے ہونہیں سکتی فلاح قوم
ہر گز گزرسکیں گے نہ ان منزلوں سے آپ
موضوعاتی تجزیے سے ہٹ کر اگر فنی اور ہئیتی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں بھی ہمیں مختلف النوع تجربات گلشن سخن میں رنگا رنگ پھولوں کی طرح جابجا کھلے نظر آتے ہیں مثال کے طور پر اکبر کے ہاں ہندی اور انگریزی کےالفاظ اور کہیں کہیں فارسی کے الفاظ کے ذریعے اردو مزاح کو ایک نئے مزاج سے روشناس کرایاگیا ہے۔
یہ لسان العصر اپنے فکر وفن کی کامل حیثیت کے سبب ادبیاتِ اردو کے آسمان پر ایک درخشندہ ستارہ کی طرح موجود ہیں جن کے کلام کی وجہ سے اردو مزاحیہ شاعری کو مستقل صنف سخن کی حیثیت مل گئی۔ان کے کلام سے ناقدین نے ان کی قادر الکلامی کا اندازہ لگایا ہے۔
اکبر کا فضل وکمال ضمنی اظہار وخیال نہیں چاہتا۔(مہدی افادی)
اکبر نیک نیت بھی تھے اور تھوڑے تنگ نظر بھی طوفان آتے دیکھا تو سمجھے کہ سب کچھ دفن ہو جائے گا یہ بھول گئے کہ اس کے اثر سے زمین زرخیز بھی ہوگی۔ (آل احمد سرور )
اکبر کی شاعری ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے حالی واکبر واقبال ایک سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور تینوں کی شاعری کو اردو میں قومی اور ملی شاعری کے ارتقا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ (ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی )
اکبر کے مزاح کا مطمع نظر اصلاح اور تہذیب اخلاق ہے فارسی کے شاعر سعدی کے بعد کسی شاعر نے یہ کام بایں شائستہ کیا ہے تو وہ اکبر ہے اسی خصوصیت کی وجہ سے اکبر کی شاعری ہر زمانے میں مقبول رہے گی۔
ناہید حسین، پشاور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

