یوم اطفال یعنی بچوں کی عید کا جشن پوری دنیا میں پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے جس کا مقصد بچوں کی پرورش و پرداخت ، تربیت ، صحت ، فلاح و بہبود ، ان کوحقوق سے آگاہی اور حوصلہ افزائی وغیرہ کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد میں کامیابی کے لیے سب سے پہلے اقوام متحدہ کے ادارہ UNICEF نے 1953 میں اس دن کا انعقاد کیا۔ اور اس کو انٹرنیشنل یونین فار چلڈرن ویلفیئر کے تحت منایا گیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی سرکاری طور پر پہلی بار 1954 میں منایا۔اس کے بعد سے ہرسال 20 نومبر کو عالمی یوم اطفال کے طور پر منایا جانے لگا۔ اور پھر ہر ملک میں مختلف ایام میں یوم اطفال کا انعقاد ہونے لگا۔
ہندوستان میں 14 نومبر کو یوم اطفال یا بال دیوس منایا جاتا ہے جس کی نسبت پنڈت جواہر لعل نہرو کی یوم پیدائش سے کی جاتی ہے ۔ اس کی اصل وجہ جواہر لعل نہرو کی بچوں سے والہانہ محبت تھی جسے بطور یادگار یوم اطفال کے طور پر منایا جانے لگا تاکہ عوام اور بچوں کو ان کی اہمیت ، صحت ، تعلیم اور حقوق سے واقف کرایا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہندوستان کے آئین میں متعدد اصول وضع کئے گئے چنانچہ دفعہ 15 کی رو سے ریاست کو خواتین اور بچوں کے لئے خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ دفعہ 24 کی رو سے 14 سال سے کم عمر بچوں کو بھاری بھرکم کام پر ممانعت ہے۔ دفعہ 39 کے مطابق کم سنوں کے جسمانی و اخلاقی استحصال اور مادی محرومی پر روک ہے۔ دفعہ 45 کے مطابق 14 سال سے کم عمر بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی وکالت کی گئی ہے۔
ان تمام قوانین کا مقصد معصوم نونہالوں کی آبیاری کرنا ہے کیونکہ بچے ہی کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں جو بڑے ہو کر مستقبل کا معمار ثابت ہوں گے اور یہ بچے نرم و نازک پودوں کی مانند ہوتے ہیں جن کی اگر صحیح سینچائی کی گئی تو تناور درخت بن کر ابھریں گے جس کے سائے میں انسانیت سکھ کا سانس لے سکے گی اور اگر اس سے بے توجہی برتی گئی تو یہ مرجھا کر ختم ہو جائیں گے۔
مندرجہ بالا قوانین کے باوجود ملک ہندوستان اس ضمن میں ناکامی سے دوچار ہے چنانچہ ہم ملک کے ہر چوراہے پر معصوموں کے جسمانی و نفسیاتی استحصال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کہیں کوئی بچہ کسی کے گھر کا سودا سلف لانے کا کام کرتا دکھائی دیتا ہے تو کہیں بھاری بھرکم بوجھ اٹھائے ہوئے نظر آتا ہے۔ کہیں کسی گیرج میں گاڑیاں صاف کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے تو کہیں کسی ریسٹورنٹ میں جھوٹے برتن صاف کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہیں۔ اس کی اصل وجہ اس پر عمل سے بے نیازی ہے۔ چنانچہ قوانین وضع کرکے محض ایک دن یوم اطفال منا کر ان کے حقوق سے واقفیت کی کوشش رنگ نہ لا سکے گی جب تک کہ اس پر ہر دن اور ہمہ وقت توجہ نہ دی جائے۔
اس ضمن میں اگر بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کا موازنہ کیا جائے تو اسلام کے زریں اصول ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گے کیونکہ اسلام ہی واحد وہ مذہب ہے جو بچوں کی جسمانی و نفسیاتی استحصال کی ممانعت کرتے ہوئے ہمہ وقت اس کی نگہداشت کی تاکید کرتا ہے جسے تربیت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور صحیح طرز پر کی گئی تربیت کا مثبت اثر بچوں کی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ بچوں کی جسمانی استحصال کی ممانعت قرآن اس انداز میں کرتا ہے۔” لا تقتلوا أولادکم خشیۃ املاق ۔ نحن نرزقھم و ایاکم ” ۔( الاسراء : 31)( اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی).اور وقت سے پہلے کم عمری میں بچوں سے بھاری بھرکم کام کاج بچوں کے جسمانی استحصال کے زمرہ میں آتا ہے کیونکہ رزق کی تنگی کے خوف سے معصوم بچوں سے کام کاج ان کی صحت کی خرابی کا باعث بنتا ہے اور ساتھ ہی بچوں کی نفسیات پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
بچوں کی شخصیت سازی کے لیے اسلام بچوں کی تربیت کو واجب قرار دیتے ہوئے بچوں کا اولین حق گردانتا ہے کیونکہ تربیت ہی ایک ایسا فن ہے جو بچوں کی شخصیت کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :” يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا”( التحریم:6) ( اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ).
چنانچہ تربیت کا اصل مقصد اولاد کو گمراہی سے بچانا ہے جس کی مثبت شکل اولاد کے حقوق کی ادائیگی کی صورت میں سامنے آئے گی۔ مذہب اسلام میں اولاد کی تربیت کا آغاز نیک ماں کے انتخاب سے شروع ہو کر زندگی کی آخری سانس تک رہتا ہے جہاں پیدائش کے بعد اچھے نام کا انتخاب ، عقیقہ ، تحنیک ، کلمہ گوئی کی مشق ، کھیل کود کا مناسب انتظام ، پیارو شفقت کا اظہار ، بچوں کی بہترین نگہداشت ، اچھی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اچھی درسگاہ کی فراہمی ، ان کی عمر کے تناسب سے ان کے ساتھ تبادلہ خیال ، ان کی ہر چھوٹی بڑی کامیابی پر ان کی حوصلہ افزائی ، ان کے لئے نیک دوستوں کا انتخاب بلوغت کے بعد ان کا ہمراز ہونا اور نکاح میں جلدی کرنا وغیرہ اولاد کے حقوق ہیں جو والدین کے ذمہ ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا حقوق کی ادائیگی ہی صحت کی ضامن اور بچوں کی فلاح و بہبود کی راہ ہموار کرتی ہے اور مادی محرومی سے دور رکھتی ہے کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ اور ماحول ہی بچوں کی نفسیات پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اس ضمن میں بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشفقانہ سلوک قابل ذکر ہے جو چودہ صدی قبل ہی آپ نے امت کے سامنے پیش کیا جو ہمہ وقت یوم اطفال کی صحیح نمائندگی کرتا ہے۔
بچوں کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کا جائزہ لیں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہترین مربی ہیں، نیز آپ سے زیادہ کوئی بچوں پر رحم کرنے والا بھی نہ آیا آپ نے بچوں کے ساتھ نرمی، محبت، عاطفت، ملاطفت کا حسین درس نہ صرف اپنی تعلیمات کے ذریعہ دیا؛ بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت پیش کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں(سنن ابی داوٴد: باب فی الرحمة) اسی طرح آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم ہے وہ تمام ہی خیر سے محروم ہے (مسلم :۲۵۹۲ باب فضل الرفق)
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم کا جب انتقال ہوا تو آپ بڑے غمزدہ تھے، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، حضرت عبد الرحمن بن عوف نے تعجب خیز لہجہ میں استفسار کیا: آپ بھی رورہے ہیں؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جواب دیا، اے ابن عوف یہ رحمت ہے، بلا شبہ آنسو بہہ رہے ہیں، دل غم زدہ ہے؛ لیکن اس حالتِ غم میں بھی ہم وہی بات کہیں گے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو، پھر آپ نے فرمایا: اے ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے غم زدہ ہیں، (بخاری: ۱۳۰۳، باب قول النبی انا بک الخ) اس صورتِ حال کو دیکھ کر حضرت انس نے فرمایا: اہل وعیال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشفق میں نے کسی کو نہیں دیکھا (مسلم)
بچپن کے ایام بے شعوری و لاپرواہی کے ہوتے ہیں، اس زمانہ میں بچے بڑوں کے رحم وکرم کے محتاج ہوتے ہیں، بچے انھیں کو اپنا محسن سمجھتے ہیں جو انھیں اپنے قریب رکھتے ہیں، لہذا تربیت کا جو حسین موقع قربت وانسیت اور پیار و محبت سے ممکن ہے، ڈانٹ ڈپٹ اور زجرو توبیخ سے اس کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسنِ عمل یہی رہا کہ بچوں کو بالکل اپنے سے قریب رکھا حتی کہ بچوں کے کھیل کا بھی لحاظ کیا، اگر کسی موقع پر وہ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سوار ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کی تکمیل کا بھر پور خیال رکھا؛ چنانچہ اپنے نواسوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھر پور محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن شداد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں حضرت حسن یا حسین کو ساتھ لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، درمیان نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ طویل فرمایا: حضرت شداد فرماتے ہیں کہ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں، لہٰذا میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب نماز مکمل ہوگئی تو صحابہ کرام نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے دورانِ نماز سجدہ طویل فرمایا، ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ کوئی معاملہ پیش آیا ہے یا یہ کہ آپ پر وحی اتررہی ہے، آپ نے فرمایا:ان میں سے کوئی بات نہ تھی؛ بلکہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار تھا، میں نے مناسب نہ سمجھا کہ بچہ کی ضرورت کی تکمیل سے پہلے سجدہ ختم کروں (مسند احمد : حدیث شداد بن الہاد)
بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں کے پاس آتے، انھیں گود میں بٹھاتے، انھیں چومتے ان کے لیے دعا فرماتے، آپ نے اپنے نواسوں کے ساتھ اپنے حسن معاشرت کے ذریعے اپنی آل واولاد کے ساتھ رہنے کا طریقہ سکھلایا۔
آپ نے نہ صرف اپنے بچوں کے تئیں تعلق کا اظہار فرمایا، بلکہ دیگر صحابہٴ کرام کی اولاد پر بھی نگاہِ شفقت ڈالی۔
حضرات صحابہٴ کرام کی عادتِ طیبہ یہ تھی کہ کسی کے گھر بھی ولادت ہوتی تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آتے آپ بچے کو لیتے، اسے چومتے اس کے لیے برکت کی دعا کرتے، اسی طرح جب بعض دفعہ دورانِ نماز بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تخفیف فرمادیتے، (بخاری: ۷۰۷ باب من أخف الصلاة عند بکاء الصبی) ایک دفعہ آپ نے ایک بچے کو گود میں اٹھالیا، بچے نے کپڑے پر پیشاب کردیا، آپ نے اس پر پانی بہا کر صاف کرلیا، (بخاری: باب وضع الصبی فی الحجر) حضرت انس فرماتے ہیں کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، اس کانام ابو عمیر تھا، (اس کے پاس ایک چڑیا تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ابو عمیر سے فرمانے لگے: ”یَا أبَا عُمَیْر! مَا فَعَلَ الْنُغَیر؟“ یعنی اے ابو عمیر تمہاری چڑیا کیا ہوئی؟ (بخاری: باب الانبساط إلی الناس) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشغولیت ومصروفیت کے باوجود صحابہٴ کرام کی اولاد کے ساتھ نرمی، محبت، انسیت اور الفت کا معاملہ فرماتے، انھیں خوش کرنے کی ترکیبیں اپناتے، ان کے پرندوں کے تئیں استفسار کرتے۔
آپ نے نہ صرف اکابر کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی؛ بلکہ اصاغر کے حقوق تک کا لحاظ فرمایا، اور اصاغر کے حقوق ادا کرتے ہوئے امت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ہر ایک کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے اُسوہ سے کفار کے بچوں کے ساتھ بھی نرمی کی تلقین کی،ایک یہودی شخص کا لڑکا آپ کی خدمت میں تھا، وہ ایک دفعہ بیمار ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازخود تشریف لا کر اس کی عیادت فرمائی، اس بچے کے سرہانے بیٹھے، پھر اس بچے سے فرمایا: اسلام قبول کرو، اس بچے نے اپنے والد پر نظر ڈالی، والد نے بھی کہا: ابوالقاسم (ا) کی اطاعت کر! لہٰذا وہ بچہ مسلمان ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے نکلے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَنْقَذَہ مِنَ النَّار (بخاری: باب إذا أسلم الصبي فمات)کہ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے اس کو آگ سے بچالیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں میں نہ صرف لڑکوں کے ساتھ حسن سلوک کیا بلکہ لڑکیوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا، لڑکیوں کے اکرام کی تعلیم دی، اس کی تربیت پر خرچ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے جنت کی بشارت دی۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے معاشرہ کے ایک کمزور طبقہ پر رحم وکرم کے حسین و جمیل نمونے پیش فرمائے، آنے والی امت کو اس بات کی تلقین کی کہ اس طبقہ کا لحاظ کرو، ان کے حقوق کی ادائیگی میں بے اعتنائی سے پرہیز کرو کیونکہ یہی بچے قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں، لہذا ان کی صحیح انداز میں تربیت روشن وتابناک مستقبل کی ضامن ہوگی، اور اس سے ذرہ برابر بھی بے احتیاطی بھیانک نتائج سے دوچار کرے گی ۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بچوں کے تئیں ہر دن یوم اطفال اور ہر لمحہ عید ہے جسے بطور شکر خداوندی ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہیے جہاں ایک طرف بچوں کی معصوم کھلکھلاہٹ نشیمن کو آباد کرے تو دوسری جانب بچوں کی شرارت و ضد پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اس لائق بنائیں کہ وہ سرسبز و شاداب چمن بن کر سسکتی انسانیت کی آبیاری کریں اور ان کے طرز معاشرت میں محض ایک دن یوم اطفال نہ ہو بلکہ ہر لمحہ ، ہر پل یوم اطفال ہو۔ اور اگر ہم نے ان کے تئیں بے توجہی برتی تو یہ نازک کلیاں دم توڑ دیں گی اور ہم کہتے رہ جائیں گے ” وہ غنچے جو بن کھلے مرجھا گئے”.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

