درس و تدریس کے پیشہ کو دنیا کے دیگر پیشوں پر افضلیت اور تقدس حاصل ہے، اس لئے اس شعبے سے وابستہ افراد یعنی ’اساتذہ‘ کو انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر مذہب نے معلمی کو معزز قرار دیا ہے۔ ہمارے مذہب میں تو استاد کا درجہ والد سے بھی برتر بتایاگیا ہے۔ ایک طالب علم کو ابتدائی درجات سے لے کر اعلیٰ تعلیم کے حصول تک کئی اساتذہ کی سرپرستی نصیب ہوتی ہے لیکن اُن میں چند ہی اساتذہ ایسے ہوتے ہیں، جو طالب علموں کے ذہن و دل پر اپنا گہرا نقش ثبت کر تے ہیں۔ استاد کا مشفقانہ رویہ، عمدہ طریقہ تدریس، انداز تخاطب، پُرکشش شخصیت، مضمون پر قدرت یہ وہ صفات ہیں، جن سے اگر کوئی استاد بہرہ ور ہوتا ہے تو وہ یقینا اپنے شاگردوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔ اس مختصر سے مضمون میں، میں اپنے ایک ایسے ہی استاد پر چند سطریں بطور ہدیہ تہنیت رقم کررہا ہوں، جن کی شخصیت مذکورہ بالا اوصاف سے متصف ہے۔
1996 کا زمانہ، جب میں نے درجہ دواز دہم میں اُمیش چندرا کالج (کامرس) میں داخلہ لیا۔ میری فرسٹ لینگوئج اردو تھی اور استاد محترم جناب محمد ناصر ہمیں اردو پڑھانے پر مامور تھے۔ پہلی ہی کلاس میں ناصر سر نے اپنی شیریں بیانی، فصاحت اور خوش مزاجی سے کلاس کے بیشتر طلبہ کے دلوں کو فتح کرلیا تھا۔ ہفتے میں تین روز صبح سات بجے سر کا کلاس رہتا تھا اور وہ قبل از وقت کالج اور بروقت کلاس میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ہم لوگوں نے دو برس کالج میں گزارا لیکن شاذ و نادر ہی ناصر سر کو کلاس میں تاخیر سے پہنچتے یا ناغہ کرتے دیکھا ہوگا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1997 میں جب اُمیش چندرا کالج کا سالانہ میگزین منظر عام پر آنے والا تھا جس میں اردو کے لئے بھی چند صفحات مختص تھے، سر نے کلاس میں اعلان کیا کہ اگر کوئی طالب علم شعر کہتا ہے یا مضمون لکھتا ہے تو وہ میگزین میں اشاعت کے لئے دے سکتا ہے ۔ شرط اتنی ہے کہ وہ تحریر اُس کی اپنی ہو۔اگر اس میں کوئی خامی ہوگی تو وہ میں درست کردوں گا۔ اس یادگار میگزین میں میرا پہلا مضمون ’مغربی بنگال میں اردو کا مستقبل‘ شائع ہوا۔ بعد میں ، میں نے وہی مضمون ایک مقامی اخبار میں اشاعت کے لئے بھیج دیا جس کے شائع ہونے کے چند دنوں بعد ہی سرخوں کی علاقائی پارٹی آفس میں مجھے طلب کیا گیا اور اُس مضمون کے متعلق باز پرس کی گئی کیوں کہ میں نے مضمون میں محاذی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ کاش کہ میری وہ تحریر یا کالج کا وہ رسالہ ا ب بھی میرے پاس ہوتا۔
اُمیش چندرا کالج سے ہائر سکنڈری مکمل کرنے کے بعد بھی میں ناصر سر سے رابطے میں رہا۔ اگر میں بی کام آنرز میں داخلہ لیتا تو ماڈرن انڈین لینگوئج اردو کی وجہ سے مزید ایک سال تک سر کی سرپرستی مجھے نصیب ہوتی لیکن میں نے اپنا اسٹریم تبدیل کرلیا اور مولانا آزاد کالج میں اردو آنرز کرنے چلا گیا۔ چونکہ اس وقت موبائل دستیاب نہیں تھا، اس لئے سر نے مجھے اپنے گھر کا لینڈ لائن نمبر دیا تھا جس پر میں وقتاً فوقتاً کال کرکے ان سے خیریت دریافت کرتا رہتا تھا۔ سر نے اپنی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے ایک روز اپنے گھر پر آنے کی دعوت دی اور میں بھٹکتے بھٹکتے ان کے ہاں پہنچ گیا۔ دیکھا کہ طالب علموں کا ایک ہجوم سر کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ ٹیوشن پڑھانے میں منہمک ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی ناصرسر خوش ہوگئے اور وہاں موجود طلبہ سے میرا تعارف کرایا۔ اس وقت مجھ پر منکشف ہوا کہ سر دراصل سی ایم او ہائی اسکول میں لائف سائنس کے کُل وقتی ٹیچر ہیں اور اُمیش چندرا کالج میں مہمان ٹیچر کی حیثیت سے اردو پڑھا رہے ہیں۔
ناصر سر کی شخصیت اخلاص و اخلاق، شرافت و نجابت، وضع داری و ایمانداری اور رفاقت و محبت سے مملو ہے۔ وہ اسم بامسمٰی ہیں۔ اپنے ہر طالبعلم کی مدد اور سرپرستی کے لئے وہ ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ میں نے انہیں آج تک کسی بھی شاگرد کو اونچی آواز یا بھونڈے انداز سے مخاطب کرتے نہیں دیکھا۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالج کے زمانے میں اسٹوڈنٹس کس قدر غیر سنجیدہ اور لا اُبالی ہوا کرتے ہیں۔ ایسے طلبہ پر قابو پانا اور انہیں اُن کے دائرے میں مقید رکھنا ہر استاد کے بس میں نہیں ہوتا لیکن یہ صلاحیت ناصر سر میں بدرجہِ اتم موجود تھی۔ وہ غیر سنجیدہ اور جماعت میں خلل و خرابی پیدا کرنے والے طلبہ کو بھی بآسانی رام کرلیا کرتے تھے، وہیں کامرس کے دوسرے اساتذہ اکثر طلبہ پر رعب گانٹھنے کے چکّر میں اپنے ہی کلاس کا نقصان کر بیٹھتے تھے۔
وقت پَر لگا کر اُڑتا رہا اور میں اپنے تعلیمی مراحل طے کرتا رہا اور سر اپنے فرائض ادا کرتے رہے۔ میں نے کالج کے بعد پوسٹ گریجویشن کے لئے کلکتہ یونیورسٹی کا رُخ کیا اور پھر جب روزی روٹی کی فکر دامن گیر ہوئی تو ڈی ٹی پی کے پیشے سے منسلک ہوگیا۔ اپنی ہر کارکردگی کی خبر استاد محترم کو بالمشافہ یا پھر فون پر دیتا رہتا تھا۔ میری کامیابی پر وہ بہت خوش ہوتے اور ڈھیروں دعائیںدیتے۔ جدو جہد کرتے کرتے جب میرا مومن ہائی اسکول میں بحیثیت اسسٹنٹ ٹیچر تقرر ہوا تو سر کو بے انتہا خوشی ہوئی۔ انہوں نے دعائیہ کلمات سے نوازتے ہوئے کہا کہ: ”بابو تسلیم! یہ تو ابھی آپ کی شروعات ہے، دیکھنا ایک دن آپ کالج اور پھر یونیورسٹی تک ضرور پہنچیں گے۔“ اس وقت مجھے لگا کہ سر مجھ نااہل کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں لیکن اگر کوئی نیک اور مخلص انسان کسی کوصدق دل سے دعا دیتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کرلیتا ہے۔ آج اگر میں یونیورسٹی میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں تو اس میں اللہ کا کرم، والدین کی محنت اور ناصر سر اور میرے دیگر اساتذہ کرام کی دعائیں اور نیک خواہشات شامل ہیں۔
ناصر سر نے میری کس کس طرح سے مدد کی ہے، یہ میں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ اُن کے مشوروں اور تجربات سے میں ہمیشہ فیضیاب ہوتا رہا ہوں۔ خصوصاً جب میں اسکول میں تھا تو اکثر سر سے مختلف اُمور پر مشورہ طلب کرتا تھا کیوں کہ سر اُس وقت بیل گچھیا اردو ہائی اسکول (ایچ-ایس، کوایڈ) میں ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر فائز تھے(اب بھی ہیں)۔ میں نے جب بھی کسی ذاتی کام کے سلسلے میں ناصر سر کو فون کیا یا اُن سے ملنا چاہا تو انہوں نے کبھی بھی مجھے مایوس نہیں کیا اور نا ہی کبھی اپنی مصروفیات کا بہانہ بنایا۔ حالاں کہ میں جانتا تھا کہ ایک ہیڈ ماسٹر اپنے اسکول کے کاموں میں کس قدر الجھا رہتا ہے لیکن استاد محترم کی شخصیت جدا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لئے اپنا دست تعاون دراز رکھا۔ سیاہ و سفید میں کبھی خود کو ملوث ہونے نہیں دیا۔ اپنے والدین کی دی ہوئی تعلیم اور نصیحتوں کو وہ ہمیشہ یاد کرتے ہیں اور اپنے طالب علموں سے بھی ساجھا کرتے ہیں۔
استاد محترم اب بھی اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ادبی محفلوں اور تعلیمی پروگراموں میں اکثر شرکت کرتے ہیں۔ وہ بیل گچھیا کے کئی ادبی اور سماجی اداروں سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کے اندر ایک اچھا ادیب چھپا بیٹھا ہے۔ سر شعر تو نہیں کہتے، البتہ مضامین لکھتے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے مغربی بنگال کے بزرگ شاعر اور اپنے استاد محترم قیصر شمیم صاحب پر ایک مضمون لکھا تھا جو مقامی اخبارات میں شائع ہوا۔ اس مضمون میں انہوں نے قیصر شمیم صاحب سے اپنے گہرے روابط اور ان کی تدریسی خدمات کا بھرپور جائزہ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کئی کلاسیکی اور جدید شعرا و ادبا پر بھی مضامین لکھے ہیں جو اب تک شائع نہیں ہوئے ہیں۔ میں نے انہیں اکثر محفلوں اور نجی بیٹھکوں میں اردو اور فارسی کے اشعار پڑھتے سنا ہے جو ان کے اعلیٰ شاعرانہ ذوق اور عمدہ حافظے پر دال ہے۔
میرا تعلق نا ہی بیل گچھیا اور نا ہی سر کے اسکول سے رہا ہے لیکن اُس علاقے کے اکثرلوگوں سے ملاقات ہوتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ استاد محترم نے انتھک محنت، کاوش اور مشقت سے اپنے اسکول کو ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔ تعلیمی سطح پر، ثقافتی سطح پر اور کھیل کود کی سطح پر بیل گچھیا اردو ہائی اسکول(ایچ ایس، کو ایڈ) آج جس طرح شہر کے دیگر اردومیڈیم اسکولوں میں اپنی نمایاں جگہ بنا رہا ہے، یقینا اس میں ناصر سر کی توجہ ، بے لوث محنت اور ان کی تنظیمی صلاحیت کا ہی دخل ہے۔ اپنے رفقائے کار کے درمیان بھی انہوں نے اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔ بشری خامیوں سے پرے ناصر سر ایک انتہائی مشفق اور مرنجان مرنج انسان ہیں۔ دور حاضر میں ایسے انسان نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔ ملت کے نونہالوں سے محبت، اپنے پیشے سے ایمانداری ، صلے کی تمنا اور ستائش کی پروا سے دور جناب محمد ناصر کلکتہ ہی نہیں، مغربی بنگال کے اردو میڈیم اسکولوں کے اساتذہ کرام میں عزت، عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے جاتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ استاد محترم کو قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کے لئے مزید مواقع فراہم کرتا رہے ۔ ان کی عمر دراز ہو اور وہ صحت و تندرستی کے ساتھ سلامت رہیں۔ آمین! راسخ عظیم آبادی کا ایک شعر استاد محترم کی نذر:
شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ
استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
٭٭٭٭٭
ڈاکٹر تسلیم عارف
اسسٹنٹ پروفیسرو کوآرڈی نیٹر،
شعبہ اردو، ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی، باراسات
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Bohot hi umda.