جو .یہاں یارہوا کرتےتھے
وہی غدارہوا کرتےتھے
ہم ہیں سوکھےہوئے کچھ عام شجر
ہم ثمر وار ہوا کرتے تھے
اشک سیلاب کے مانندب ہے
اشک دوچارہوا کرتےتھے
اب توحالت بھی میاں موم سی ہے
پہلےتلوار ہوا کرتےتھے
اب ضرورت ہےمددگاروں کی
خودمددگارہواکرتےتھے
اس کی کاپی پہ سبق ہوتا نہ تھا
میرےاشعار ہوا کرتےتھے
وہ محبت کوچھپاتے انزل
وہ اداکار ہوا کرتےتھے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

