مکیں کو لامکاں کرنے کی ضدہے
زمیں کو آسماں کرنےکی ضدہے
اسےضد ہےکہ میں کچھ بھی نہ بولوں
مجھےبھی اب بیاں کرنےکی ضدہے
محبت میں بچانا چاہتا ہوں
اسےتو رائیگاں کرنےکی ضدہے
یہ دل اکتا گیاہے اس جہاں سے
مجھے ترک جہاں کرنےکی ضدہے
یہ اپنی ضدکی سنتی ہےوہ انزل
یہ ضد کو بے زباں کرنےکی ضدہے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

