انسان اس کائنات کی باشعور مخلوق میں سے ایک ہے اسے ایک تخلیقی ذہن کے ساتھ امکانات کی دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ وہ تعمیر ذات کے ساتھ ساتھ تزئین حیات بھی کر سکے ۔ اللہ نے انسان کو بے پایاں صلاحیتوں سے نوازا ہے یہ پر تعیش زندگی یہ سائنس کی ایجادات اور زندگی کی نشیب و فراز کے درمیان توازن پیدا کرنے کی صلاحیت اور ساتھ ساتھ بےشمار علوم انہیں صلاحیتوں کے ہی تو مرہون منت ہے ۔
انسان نے ہر گزرتے وقت کی ترقی کے ساتھ بےشمار شعبہ ہائے حیات کی تشکیل کی ہے جو کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں جزو لاینفک کا مقام رکھتا ہے ایسا ہی ایک شعبہ صحافت کا شعبہ ہے جس میں اب تک لاتعداد نامور شخصیات نے اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اس شعبے کی اہمیت و انفرادیت کو اجاگر کیا ہے
بیشک صحافت ایسا ذریعہ ہے جو ہمیں ملکی و غیر ملکی سطح کی نظریات سے متعارف کرواتا ہے اور بدلتے وقت کی معاشرتی ضرورتوں سے بھی آگاہ کرتا ہے یہ صحافیوں کی ہی غیر معمولی جانفشانی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر چائے اسنیکس لیتے ہوئے کسی بھی واقع ہوئے حادثات و واقعات کو بروقت و بآسانی دیکھ یا پڑھ رہے ہوتے ہیں یہ صحافی ہی ہوتے ہیں جو انتہائی مخدوش اور غیر متوقع طور پر بگڑ سکنے والے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ہمارے لئے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ہم ان کی کوششوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک ایسے صحافی سے بات چیت کرنے جا رہے ہیں جنھوں نے صحافت کی دنیا میں اپنی ایک شناخت بنائی ہوئی ہے جنھوں نے پچھلی کئی دہائیوں سے خود کو اس کے لئے وقف کیا ہوا ہے انھوں نے کئی اخبارات میں کام کیا ہے روزنامہ راشٹریہ سہارا سے بھی منسلک رہے ہیں اور کثیر الاشاعت اخبار انقلاب میں اب تلک اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کا زاویہ نظر ملکی و غیر ملکی تجربات و مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے ان کا نام ہے جاوید جمال الدین جاوید ۔ ہم ان سے نہ صرف صحافت کے موضوع پہ بات کریں گے بلکہ ان کی ذاتی و تجرباتی زندگی کو بھی موضوع سوال بنائیں گے۔ علیزےنجف
علیزےنجف؛ آپ کا تعارفی خاکہ آپ کے اپنے لفظوں میں کیسا ہوگا آپ اپنی مجموعی شخصیت کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟
جاوید جمال؛ مجھے بچپن میں ہی اخبارات اور کتابیں پڑھنے کاشوق پیدا ہو گیا تھا ،دراصل عروس البلاد ممبئی میں جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے آس پاس پڑھانے لکھنے کا ماحول پایا،بڑے بھائی بہن اور چچازاد بھائی اور بہنیں مختلف اسکولوں میں زیر تعلیم تھے،میرے بڑے بھائی مرحوم حاجی صابر جمال الدین بھی کالج جایاکرتے تھے اور ان کی ایک الماری میں صرف نصابی ہی نہیں بلکہ دیگر غیر نصابی کتابیں بھری تھیں۔ یہیں سے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا اور اس نے مجھے دوران تعلیم ہی میں اخبار اردو ٹائمزکے دفتر گجریا منزل پر پہنچادیا اور یوں میں صحافی بن گیا۔صحافتی دور میں کئی اہم باتین اور واقعات پیش آئے۔
اپنی شخصیت کے بارے میں کیا بتاؤں، زندگی کے مختلف راستوں سے گذرتے ہوئے انقلاب تک پہنچا اس زمانہ میں ایک دبلا پتلا نوجوان ہوا کرتا تھا انقلاب میں مجھ سے زیادہ پڑھے لکھے اور خوبرو امیدواروں نے انٹرویو دیا تھا ،لیکن اردو ٹائمز میں کام کرنے کے تجربے اور میری قابلیت کی وجہ سے مجھے منتخب کرلیا گیا اور اس طرح میں نے صحافتی سفر کے ابتدائی مراحل طئے کرتے ہوئے موجودہ مقام تک پہنچ گیا۔
علیزےنجف؛ آپ کا تعلق ہندوستان کے کس خطے سے ہے کیا کسی انسان کی شخصیت کی تشکیل میں اس خطے کے جملہ خصائص و نقائص کا بھی عمل دخل ہوتا ہے آپ اس زوایے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جاوید جمال؛ یہ سوال اس طرح سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنے آباء و اجداد کے بارے میں پتہ لگایا جائے،آج کی نسل اپنے آپ میں مست ہے،جہاں تک میرا تعلق ہے،میں نے انہیں یاد رکھا ہے،ان کے وطن سے جو کہ میرا آبائی وطن ہے اس سے مجھے بھی پیار ہے۔میں بمبئی میں پیدا ہوا، باپ دادا میری پیدائش سے قبل شمالی ہند سے مہاراشٹر یعنی ممبئی چلے آئے تھے،اب تو خیر ایک صدی سے زیادہ کاوقت گزر چکا ہے ۔ والد صاحب نے اپنی پوری زندگی ممبئ میں گزاری اور ساتھ اپنے آبائی وطن سے رشتہ بھی برقرار رکھا اور رشتہ داری بھی نبھائی کیوں کہ جڑ اپنی اہمیت کبھی نہیں کھوتی ۔
میرا خیال ہے کہ شخصیت پرخطہ کا اثر ضرور پڑتا ہے،اور یہ اثر جسمانی،لسانی اوررہن سہن پر پڑسکتا ہے ،ویسے انسان ہجرت کے بعد اپنے آپ کو اس خطہ کے ماحول میں بھی ڈھال لیتا ہے۔ممبئی شہر میں روزی روٹی کے لیے لاکھوں لوگ شمالی اور جنوبی ہند سے آئے ہیں، جو کہ فلموں سمیت مختلف شعبوں میں متحرک رہے ہیں۔فلموں میں اگر شمال ہند کے لوگ نہ ہوں تو بڑی مشکل پیش آئے۔ بےشک ہر کوئی ضرورت کے مطابق اپنے آپ کوڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔شمالی ہند میں اتر پردیش اور بہار جیسی ریاستوں میں سکنڈری تعلیم کے دوران طالب علم کے ذہن میں سرکاری وہ بھی اعلی سرکاری،آئی پی ایس ،آئی اے ایس یا فوج میں شمولیت کی خواہش پنپ رہی ہوتی ہے وہ خواہ اسکول اور کالج میں پڑھنے میں اوسط ہی ہوں ،یہ گریجویشن کے بعد اپنا مقصد پالیتے ہیں۔
علیزےنجف؛ تعلیم تعلم کی صفت انسان کو دوسری مخلوق سے ممتاز بناتی ہے اور موجودہ وقت کے علم کے علمبردار ہونے میں کوئی شک نہیں میرا سوال یہ ہے کہ آپ کی تعلیمی لیاقت کیا ہے نیز یہ بھی کہ فی الوقت حصول تعلیم کو مزید نتیجہ خیز کس طرح بنایا جا سکتا ہے؟
جاوید جمال: میری تعلیمی لیاقت کے بارے میں نہ پوچھیں،ایک دشوارگزر سلسلہ رہا ہے،ہاں مشکل کے بعد راحت اللہ کاوعدہ ہے۔یہ طویل کہانی ہے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ پیدائش اور پرورش ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں ہوئی جو کہ ایک زرخیز ریاست ہے یہیں پہ ہی میرا بچپن گزرا اور یہیں سے ہی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔
یہ اتفاق تھاکہ دوران تعلیم ہی صحافت سے وابستہ ہوگیا، دراصل بچپن سے پڑھنے لکھنے کے شوق نے اس میں کافی مدد کی،انجمن اسلام ہائی اسکول ،فورٹ،ممبئی میں سکینڈری کی تعلیم مکمل کی،لیکن کالج تک پہنچنے کی ایک لمبی کہانی ہے اور ایک تھکا دینے والا سفر طے کیا،تب جاکر یہ کامیابی ہاتھ لگی تھی ،البتہ والدین نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی اور بھائی بہنوں کا تعاون بھی رہا۔پھراللہ کے کرم سے کامیابی نے قدم چوم لئے۔اس میں ماں باپ کی دعائیں بھی شامل رہیں۔
دراصل دسویں جماعت یعنی ایس ایس سی بورڈ میں علالت کی وجہ سے میں ناکام رہاتھا،الجبرا یا میتھس نے میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دی کیونکہ اس ناکامی نے مجھے صدمہ سے دوچارہ کردیا تھا اور ایک دوبار پھر سے بورڈ امتحانات میں شریک ہوا،لیکن ڈاکٹرکے مشورہ پر والدین نے اس کی اجازت نہیں دی۔اس تگ ودود میں کئی سال بیت گئے۔آخر ایک دن میں نے اپنے فیملی فرینڈ اورمیرے بڑے بھائی مرحوم صابر جمال الدین کے دوست اور انجمن اسلام کے ایک ہردلعزیز معلم عبد القادر بوٹ والاسے رابطہ کیا اور اپنی رکی ہوئی اسٹڈی کوآگے بڑھانے میں کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے ایک خاتون رشتہ دار ٹیچر سے ملاقات کرائی اور میتھس کا ٹیوشن دینے کی گزارش کی ،میں نے موقعہ ملنے پر سخت محنت کی اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتا رہا اور اس کے کرم سے امتحان میں کامیابی حاصل کرلی۔
پھر میں نے کالج میں داخلہ لے لیا،ابھی میں بارہویں میں ہی تھاکہ پہلے روزنامہ اُردو ٹائمز اور ایک سال بعد ہی یکم جولائی1989 ءمیں روزنامہ انقلاب نامی کثیرالاشاعت اخبار سے وابستہ ہوگیا۔اس کے بعد قسمت نے کروٹ لی کہ میری زندگی کا رخ یکسر بدل گیا پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
علیزےنجف: آپ کو جاوید جمال الدین جیسا صحافی و لکھاری بنانے میں سب سے زیادہ کا رول رہا ہے؟
جاوید جمال: ،بچپن سے مطالعہ کے شوق نے مجھے اس جانب راغب کیا۔اخبارات کی ایک ایک خبر پڑھنا اور موجودہ حالات اور مسائل پرمراسلات تحریر کرنا میرا مشغلہ رہا تھا۔ صبح 9بجے گھر کے قریب ایشیاٹک سوسائٹی کی سینٹرل لائبریری پہنچ جاتا اور ملک بھر سے آنے والے اردو،ہندی اور انگریزی اخبارات دیکھتا تھا،اردواخبارات کا خصوصی مطالعہ کرتاتھا،دہلی،حیدرآباد،پٹنہ،اورنگ آباد،کولکتہ اور دیگر شہروں کے اخبارات یہاں آتے تھے۔شام میں اسکول سے فارغ ہونے کے بعد والد صاحب کی دکان پر ڈیوٹی پر لگ جاتا تو نزدیکی جامع مسجد کی محمدیہ کتب خانہ میں نمازظہر یا عصر سے نصف گھنٹہ پہلے پہنچ کر مطالعہ کرتاتھا۔یہیں سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کاشوق بھی پیدا ہوگیا تھا، پھر مراسلات لکھنے لگا۔البتہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے کبھی اخبار میں رپورٹر بننے کا سوچا نہیں تھا۔ یہ میرے لئے ایسا سفر رہا ہے جو میں نے غیر شعوری طور پر طئے کیا ہے ۔
اسی اثنا میں ایک روز فلسطین کے مسئلہ پر مضمون لکھ کر ہفتہ روزہ اردوبلٹز پینچ گیا ،جہاں بزرگ صحافی اور افسانہ نگار محمود ایوبی نے اردو ٹائمز ایک رقعہ مرحوم صحافی اور فیچر ایڈیٹر ساجد رشید کے پاس بھیج دیا۔اردوٹائمز کے ایک سال کے تجربے نے مجھے روزنامہ انقلاب پہنچنے میں مدد کی تھی،ایک بات بتاناچاہتاہوں کہ بچپن سے میرے بڑے بھائی واجد شیخ انگریزی اخبارات سے ترجمہ کرواتے تھے اور اس ترجمہ کی عادت پہلے اردوٹائمز میں مددگار ثابت ہوئی اور ترجمہ نویسی کی بدولت مجھے پروف ریڈنگ اوررپورٹینگ سے نیوز ڈسک پر بٹھا دیا گیا ۔
گریجویشن کے بعدمیں نے سن 94-1993 کے تعلیمی سال میں ممبئی کے چرچ گیٹ علاقہ میں واقع کے سی کالج سے صحافت میں ڈپلومہ حاصل کیا اور پھر ایم اے بھی کر لیا۔بابری مسجد کی اجودھیا ،اترپردیش (ہندوستان)میں شہادت کے بعد ممبئی میں ہونے والے فسادات کی نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ دونوں دور دسمبر1992-جنوری 1993ء کے فسادات کی تحقیقات کرنے والے جسٹس بی این سری کرشنا کے یک رکنی کمیشن کی کارروائی کی رپورٹنگ کی اور پھر روزنامہ انقلاب کے مدیر مرحوم ہارون رشید کی ایماء پر رپورٹ کا ترجمہ بھی کیا، جسکی سو قسطیں اخبار انقلاب میں شائع ہوئیں۔کئی تنظیموں اور قارئین کے مطالبہ پر اس ترجمہ (سفارشات)کو پہلے 1998 میں بمبئی امن کمیٹی کے تعاون سے کتابی شکل میں شائع کیااور مکمل رپورٹ کااردو ترجمہ 1999 ء میں کشمیری رہنماء سیف الدین سوز کے دست مبارک سے ہوا یہ کتاب میری شہرت کا سبب بن گئی تھی۔کیونکہ پہلی بار ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی کوئی رپورٹ اردو میں شائع ہوئی تھی۔اس لیے اس کتاب کو گرم کیک کی طرح ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔آج بھی میراتعارف مجالس میں اسی کتاب ذریعہ سے کرایا جاتا ہے۔
علیزےنجف: ڈگری کی دوڑ میں لوگ صلاحیتیوں کی نشو و نما سے غفلت برتنے لگے ہیں نتیجتا انسانیت اور اخلاقیات دونوں پہ ضرب پڑ رہی ہے آپ کے خیال میں ایسا کیوں اور اس کا سد باب کیسے ممکن ہے؟
جاوید جمال: جہاں تک میرا سوال ہے،میں نے ایسا نہیں ہونے دیا،چند سال کے وقفہ کے بعدمیں نے موقعہ ملنے پر پوراپورا فائدہ اٹھایا ہے،میں نے اپنے صحافت کے سفر کے دوران متعدد واقعات اور حادثات کو کور کیا،جن میں ستمبر1993 میں ہندوستان کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے لاتور کے زلزلہ کی رپورٹنگ کی اور کئی دنوں تک ان علاقوں میں قیام پزیر رہا تھا۔ملازمت سے مطمئن ہونے کے بعد میں نے ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو سے ایم اے کیااور بعد میں ایم فل میں داخلہ لے لیا۔ اور رہی بات ہمارے معاشرے میں ڈگری کی دوڑ صلاحیتوں کو پس پشت ڈالنے کا تو بےشک یہ واقعی ایک سنگین المیہ ہے جس کا تدارک شعوری بیداری پیدا کرنے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
علیزےنجف: ہر انسان کی شخصی تعمیر میں معاشرتی ماحول خاندانی نظریات اور تجربات کا گہرا اثر ہوتا ہے اس تناظر میں میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کی شخصی زندگی میں کونسا عنصر غالب رہا ہے؟
جاوید جمال: اس سوال کے جواب میں میں بلاتوقف کہہ سکتا ہوں کہ میرے والد اور والدہ کی پرورش اور تربیت نے کافی مدد کی،وقت کی پابندی کے ساتھ ،سونے اور جاگنے اور کھانے کے اوقات کے ساتھ ساتھ بلاوجہ اور بے وقت گھرسے باہر جانے کو محدود دائرے میں رکھتے ہوئے مساوات پر زیادہ زور دیا۔کھانے پینے کے معاملات میں عیب جوئی کو میرے اندر پیدا نہیں ہونے دیا جو سامنے دسترخوان پر آجائے تناول کرلینا۔بڑوں کاادب واحترام اور چھوٹوں سے حسن سلوک وشفقت نے معاشرے میں عزت واحترام عطاکیا۔پہلے خاندانی نظریات اور پھرتجربات نے مجھے آگے بڑھنے میں کافی۔مدد کی۔میں آپ کو بتانا چلوں کہ صحافت کی وجہ سے مجھ میں سے احساس کمتری ختم ہوگئ ،ورنہ میں بچپن سے اس کا شکار رہا تھا ،دبلا پتلا اور سانولا سا لڑکا کچھ عرصے بعد ہی پریس کانفرنس میں لیڈروں،حکام اور افسران سے سوال وجواب کرنے کی پوزیشن پاچکاتھا۔
ایم فل۔کے لیےریسرچ کے دوران روزنامہ انقلاب کے بانی ،مالک اور مدیر اعلیٰ اور مجاہد آزادی مرحوم عبدالحمیدانصاری کا ایک خط ہاتھ لگ گیا جس میں انہوں نے تقسیم ہند کے وقت پاکستان جانے والے مہاجرین کے مطالبے کو مسترد کردیا تھاکہ وہ روزنامہ انقلاب کے ساتھ پاکستان چلےآئیں،لیکن انہوں نے یہیں رہنے اورمسلمانوں کو ہندوستان میں ہی رہنے کا مشورہ دیا تھا۔24دسمبر1948ء کے اس خط کو2000 کے سالانہ شمارہ میں میرے نام سے شائع کیا گیااوردوسرے روزاس کا انگریزی ترجمہ ادارہ انقلاب کے انگریزی اخبار مڈڈے کے سنڈے ایڈیشن میں مذکورہ خط کے حوالے سےشائع کیا گیا تھا جو کہ کافی پسند کیا گیا،میں نے موقعہ کا فائدہ اٹھایااور اس کی اطلاع مالک طارق انصاری کودے دی ،خیراس کے بعد مجھے چیئرمین ومالک خالد انصاری نے 2000ء میں مرحوم بانی انقلاب کی سوانح حیات لکھنے کی ذمہ داری سونپی ،جس کا عنوان "عبد الحمید انصاری انقلابی صحافی اور مجاہد آزادی” رکھاگیا۔
مذکورہ کتاب عبدالحمیدانصاری کی 7 مارچ 2002ء میں ان کی تیسویں برسی پر منظرعام پر آئی اور معروف اسکالر اور مصنف ڈاکٹر رفیق زکریا کے ہاتھوں کتاب کا اجراء عمل میں آیاتھا۔انہوں نے ہی پیش لفظ بھی لکھا ۔کتاب کی خوب پذیرائی ہوئی تھی۔ معروف اردو صحافی سی ڈی چندن نے اردو صحافت اور صحافی نامی کتاب میں مشورہ دیا ہے کہ ” جاوید جمال الدین کی اس کتاب کو یونیورسٹی میں پڑھائے جانے کی سفارش کرتاہوں جنھوں نے کتاب کو اردو صحافت کے لیے نایاب تحفہ بتایا ہے۔””
کتاب شائع ہونے کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آنے کے نتیجے میں ایک سال بعد ہی میں نے اخبار میں شمولیت اختیار کرلی اور مجھے ممبئی ایڈیشن کابیورو چیف مقرر کیاگیا اور پھرمیری ترقی علاقائی مدیر کے طور پر ہوگئی، تقریباً ایک عشرے تک اخبار سے وابستہ رہا،اس سے قبل روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سنئیر رکن کی حیثیت سے گروپ ایڈیٹر عزیز برنی نے 2010ء میں مجھے یہ اعزاز بخشا کہ نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کے ہمراہ یورپ کے وی آئی پی دورہ پر روانہ کیا اوراس دورہ میں میں واحد اردو صحافی تھا۔میں چیک ری پبلک اور کروشیا بھی گیا۔اور بوسینا کے مظلومین سے بھی ملاقات کی تھی۔میں اس کے لیے ہمیشہ عزیز برنی صاحب کا ممنون ومشکور رہونگا،کیونکہ اردو اخبارات میں اس قسم کےدورے اخبار کے مدیر یامالک ہی کرتے ہیں ،لیکن انہوں نے مجھے موقعہ دیاتھا۔
میں نے کچھ عرصہ روزنامہ صحافت کی ادارت بھی سنبھالی ،بی بی سی اردو سروس ریڈیو،ویب سائٹ ،آل انڈیاریڈیو،وائس آف جرمنی اور وائس آف امریکہ سے بھی جزوی وابستگی رہی ہے۔اور مسلم مسائل،تعلیم ،فرقہ پرستی اور انسانی حقوق اور اقدار پر لکھتا رہتا ہوں,سہارا انتظامیہ نے مجھے چار سال قبل پھر دہلی طلب کیا اور میں نے انکار کردیا۔اردو اخبارات اور اردو ویب سائٹس پرمیرے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مہاراشٹرحکومت کی ساہتیہ اردو اکیڈمی نے مجھے بانی انقلاب مرحوم عبدالحمیدانصاری کی سوانح عمری کے لیے بہترین تحقیقاتی کتاب کا درجہ دیتے ہوئے مجھے اعزاز سے نوازا ،حالانکہ صحافت کے لیے میری خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا ۔جبکہ ملک اور ریاست کے متعدد تنظیموں نے مجھے صحافت کے کئی اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔خیر جب وقت آتا ہے تو خود بخود کوئی بھی چیز ہم تک پہنچ جاتی ہے،صحافی بننے کا کبھی نہیں سوچا تھا اور کتابیں لکھنا کا خیال بھی میرے وہم وگمان میں نہیں تھا۔میں تو میٹرک فیل تھا،اللہ نے موقعہ دیا اور میری محنت و لگن کو پسند کیا اور مجھے سرفرازی عطافرمائی۔
علیزےنجف: مادیت اپنے پر پھیلائے جا رہی ہے اور انسان خود مرکزیت کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور تعلیم اخلاق کو زنگ آلود ہونے سے بچانے میں کوشاں تو ہے لیکن کامیابی مخدوش ہوتی جا رہی ہے ایسے میں ایک حساس انسان پرانی مثبت قدروں کو بحال کیسے کر سکتا ہے؟
جاوید جمال: اپنی زندگی میں اصول کو اپنانا چاہیئے،روزمرہ کی معمولی معمولی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مثبت قدروں کوبحال رکھنے لیے کسی بھی طرح کاسمجھوتہ نہ کیا جائے ،بلکہ حالات کاڈٹ کر مقابلہ کیاجائے ،پرانی مثبت قدروں کے حصول کے لیے سوائے اس کے کوئی چارا نہیں ہے۔
علیزےنجف: آپ کا تعلق شعبہء صحافت سے ہے آپ نے صحیح معنوں میں اس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ آپ کے اس شعبے میں قدم رکھنے کی کیا کوئی خاص وجہ تھی یا دلی رجحان کی وجہ سے اس شعبے کا انتخاب کیا ؟
جاوید جمال: میں نے پہلے ہی ذکر کیاہے،کہ لکھنے پڑھنے کے شوق نے مجھے صحافت تک پہنچایا ہے اور پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آگے بڑھتا چلا گیا۔اس میں محنت ولگن اور ایمانداری کو ساتھ لینے کی ضرورت پیش آتی ہے،جوکہ اپنے پیشہ میں کامیابی کی کنجی ہوتی ہے۔دوسری بات یہ ہےکہ بلاخوف و خطر رہتے ہوئے حالات کامقابلہ کیا جانا چاہئے۔
علیزےنجف: کہتے ہیں صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جہاں پہ صحافی کو سچائی کے ہر پہلو پہ گہری نظر رکھنی پڑتی ہے اور وقت کی ضرورتوں کا بھی خاص خیال رکھنا پڑتا ہے اور وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ ہم آہنگی بھی اختیار کرنی پڑتی ہے بطور صحافی کیا آپ کو سچائی تک پہنچنے میں کبھی دقت محسوس ہوئی نظریات کو قائم کرنے کے بعد کیا اس میں ترمیم کی گنجائش رکھتے ہیں؟
جاوید جمال: اس سوال میں ہی جواب پایا جاتا ہے، صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جہاں پہ صحافی کو سچائی کے ہر پہلو پہ گہری نظر رکھنی پڑتی ہے اور وقت کی ضرورتوں کا بھی خاص خیال رکھنا پڑتا ہے اور وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ ہم آہنگی بھی اختیار کرنی پڑتی ہے بےشک بطور صحافی کیی بار ایسے مواقع آئے ہیں، جب سچائی تک پہنچنے میں اکثر دقتوں کا سامنا ہوا ہے،ایک بار اردواخبارات کے تعلق سے ایک جلسے میں مقامی لیڈر نے عجیب وغریب باتیں کردیں اور ان کے بیان پر واویلا مچ گیااور ان کے بیان کے شائع پر ہونے کے بعد تردیدی بیان بھی پیش کیا گیا ،دراصل اس تعلق سے نظریات کو قائم رکھنا بھاری پڑجاتا ہے ا ور تعلقات کا پاس رکھتے ہوئے اس میں ردوبدل اور اس میں ترمیم کی گنجائش نکالنی پڑتی ہے،اس کی ذمہ داری اخبارات کے مالکان اور انتظامیہ کی ہوتی ہے۔
علیزےنجف: آپ نے اپنی صحافت کا آغاز سب سے پہلے کس اخبار یا ادارے سے کیا اور کن کن مراحل سے گذر کر موجودہ مقام تک پہنچے اور اب تک کا آپ کا صحافتی سفر کیسا رہا اس بارے میں ہمیں مختصراً کچھ بتائیں ؟
جاوید جمال : میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ لکھنے لکھانے کے شوق میں ایک روز ہفتہ روزہ اخباراردوبلٹز پہنچ گیا،فلسطین کی صورتحال پر لکھے گئے مضمون کو دیکھ کرسینئر صحافی محمود ایوبی نے مجھے اردو ٹائمز میں بھیج دیا،جہاں ساجد رشید نے مجھے ادارتی ٹیم میں شامل کرلیا۔ اردو ٹائمز میں پروف ریڈر کم رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے اخبار کے نیوز ایڈیٹر مرحوم۔حنیف اعجاز نے ترجمہ کے لیے ایک خبر دی اور دوسرے دن۔مالکان۔کی رضامندی سے نیوز ڈیسک پر بٹھا لیا۔تقریبا سال ڈیڑھ سال کے دوران کافی تجربہ حاصل ہوا کہ ایک روز اچانک روزنامہ انقلاب میں رپورٹر کی ضرورت کا اشتہار شائع ہوا اور اپنے ایک صحافی دوست کے کہنے درخواست دے دی اور جولائی 1989 میں مجھے انٹرویو کے بعد مدیر مرحوم ریاض احمدخان نے میراتقرر بحیثیت رپورٹر کرلیا۔یوں میں صحافت کے اور قریب ہوتا چلا گیا۔
علیزےنجف: اکثر ادیبوں سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ اپنے سوا اور کن ادبا کو پڑھنا پسند کرتے ہیں اسی طرز پہ میرا بھی آپ سے ایک سوال ہے کہ آپ صحافت کے میدان میں کس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور کیوں؟
جاوید جمال: اگر جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ صحافت کے میدان میں بہت سے اچھے لکھنے والے مل جائیں گے،ایک طویل فہرست ہے،کلدیپ نیئر تھے ،جوبے باکی سے لکھتے رہے،حسن کمال سیاسی معالات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔فضیل جعفری، ہارون رشیدعلیگ ،عالم نقوی اور بےشمارصحافی ہیں۔ہارون رشید سے متاثر اس لیے ہوا کہ انہوں نے تعلیم کے فروغ کو ترجیح دی تھی اور اس کا اثر بھی مہاراشٹر اور دیگر پڑوسی ریاستوں کے اردو داں طبقے پر پڑا تھا۔
علیزےنجف: صحافت اور سیاست ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں اپ بطور صحافی سیاست کو کس طرح دیکھتے ہیں پچھلے بیس سالوں میں سیاست میں کیا کیا بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں؟
جاوید جمال: سیاست کو اکثریت منفی روپ میں دیکھتی ہے،لیکن سیاست زندگی کا ایک اہم شعبہ ہے جس سے بہت سے مقاصد میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔اقتدار تک پہنچنے کے بعد متوسط،پسماندہ اور چھوٹی گنتی یعنی اقلیت کی فلاح وبہبود پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے۔
گزشتہ بیس سال میں سیاست نے زبردست کروٹ لی ہے،سوشل میڈیا تقریباً دس سال پرہندوستانی سیاست پر حاوی ہوچکا ہے۔فلاحی کے بجائے انتخابی سیاست کو ترجیح دی جارہی ہے اور اقتدار تک پہنچنا ہی اصل مقصد بن چکا ہے۔پہلے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور خصوصی طور پر نجی معاملہ میں نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا،لیکن اب اس کی پروا نہیں کی جاتی ہے پہلے فرقہ وارانہ ہم۔آہنگی کا خیال رکھا جاتا رہا ہے ،مگر اب اضول وضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔
علیزےنجف: صحافت کے شعبے میں آج کل ایک اصطلاح کافی سننے کو ملتی ہے وہ ہے زرد صحافت آپ کی نظر میں یہ زرد صحافت کیا ہے اور کن عوامل کے تحت یہ وجود میں آئی اور اس کا سد باب کیسے ممکن ہے؟
جاوید جمال: میں پہلے ہی اس کااظہار کرچکا ہوں، دراصل زرد صحافت حال کی پیداوار نہیں ہے بلکہ عرصہ سے اس کی سرگرمیاں جاری رہی ہیں ،البتہ چند سال سے اسے تقویت حاصل ہوگئی ہے اوراس کا مقصد سماج میں پھوٹ ڈالنا ہے،انگریزوں کی طرز پر منافرت پھیلانا ہے۔ایک زمانے میں کسی فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبروں میں دوفرقوں کے درمیان اختلاف لکھا جاتا تھااورایک مخصوص فرقے کی عبادت گاہ پر پتھراؤ جیسی اصطلاحیں استعمال کی جاتی تھیں ،لیکن زرد صحافت نے حالات کو بدل کر رکھ دیاہے۔کیونکہ ان۔کامقصد ہی فرقہ وارانہ کشیدگی کوبرقرار رکھنا ہے۔
علیزےنجف: موجودہ وقت میں سیاسی عدم استحکام ایک بڑے مسئلے کی صورت سر اٹھا رہا ہے آپ کو کیا لگتا ہے اس کے پیچھے کون سی ذہنیت کارفرماں ہے؟
جاوید جمال: سیاسی عدم استحکام کا اہم سبب علاقائی سیاسی پارٹیوں کا بڑی تعداد میں سر اٹھاناہے،اگر وہ ریاستی اسمبلی تک محدود رہیں تو کوئی بات نہیں ہے،لیکن اسمبلی میں بہتری آجانے کے بعد ان کا منشاء ہوتاہے کہ ریاست کے مسائل کو مرکزتک پہنچایا جائے تواسی مقصد کے تحت یہ لوک سبھا کے انتخابی میدان میں کود پڑتی ہیں اور یہیں سے عدم استحکام کی شروعات ہوتی ہے۔جب کسی بھی قومی پارٹی کو مرکزمیں اکثریت نہیں ملتی ہے تب انہیں ان کی بیساکھیوں کاسہارا لیناپڑتا ہے جوکہ سیاسی طورپر عدم استحکام کاسبب بناتا ہے۔
علیزےنجف: ایک بہترین صحافی کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسے ادبی قواعد پر مکمل دسترس حاصل ہو زبان و بیان کے درمیان فطری ربط بھی ہو یہ صفت آپ کی تحریروں سے عیاں ہے اس ذیل میں میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنی اب تک کی تحریروں کو کیا کوئی کتابی شکل دی ہے اگر ہاں تو اس کے متعلق ہمیں کچھ بتائیں؟
جاوید جمال: میں گزشتہ تین عشرے میں اخباری دنیامیں ہی الجھا رہا،لیکن دو مواقع ایسے آئے جنہوں نے صحافت سے ہٹ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرنے موقع فیا،جس نے عزت وشہرت میں اضافہ کردیا۔دراصل بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی میں دسمبر 1992 اور جنوری 1993 کے دو دور کے فرقہ وارانہ فسادات کو میں نے کور کیاتھا،لیکن ان فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیئے گئے۔جسٹس بی این سر ی کرشنا کے کمیشن کی کارروائی کی رپورٹنگ کا بھی پورا موقع ملا تھا۔غالبا1998 میں رپورٹ منظرعام۔پر آنے کے بعد روزنامہ۔انقلاب کے مدیر ہارون رشید کی ہدایت پر میں نے قسط وار سلسلہ اخبار میں شروع کردیا۔جس کی خوب پذیرائی ہوئی اور کمیشن کی سفارشات کااردوترجمہ کتابی شکل میں شائع ہونے لگااور 100 قسطیں شائع ہوئیں۔اس کے بعد سن 1999 میں مکمل ترجمہ منظرعام پرآیاتھا۔یہ ترجمہ کاکام ٹھالیکن لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
میرا تحقیقاتی کام بانی انقلاب عبدالحمید انصاری کہ سوانح حیات پر کتاب کاشائع ہونا تھا۔اس کا ذکر میں پیلے کرچکا ہوں کہ ایم فل کی تحقیقات کے دوران مجھے عبدالحمید انصاری کاایک خط مل گیا تھا،جس میں انہوں نے پاکستان چلے آنے کے مطالبہ کو مسترد کردیا تھا۔روزنامہ۔انقلاب کے سالانہ نمبر میں خط شائع ہواتھااور انگریزی اخبار سنڈے مڈے اخبار میں شائع ہونے کے بعدخالد انصاری نےکتاب لکھنے کی ذمہ داری سونپ دی جوکہ تیسرے سال میں مکمل ہوئی تھی۔اور مہارشٹر اردو اکیڈمی نے اسے ایک بہترین تحقیقاتی کتاب قرار دیاتھا۔یہ میرے دوکام صحافت سے ہٹ کرہیں۔
علیزےنجف: ایک بہترین صحافی بننے کے لئے اپنے اندر کس طرح کی صلاحیتوں کو نکھارنا پڑتا ہے ؟
جاوید جمال: حالات حاضرہ کی معلومات،خصوصی طورپر قومی و ریاستی اور علاقائی سیاست پر توجہ دینا لازم ہے۔اس کے ساتھ زبان وبیان پر دسترس ہونی چاہئیے،زبان آسان وسادہ ہو،سری کرشنا کمیشن کے اردو ترجمہ کو پڑھ کر سیدحامد صاحب نے بلا جھجھک کہاکہ میں اپنی تحریروں میں فارسی اور عربی آ میزش زبان استعمال کرتاہوں ،مستقبل میں میری کوشش ہوگی کہ تقریبات اورتعلیمی جلسوں میں آسان اور عام فہم زبان کااستعمال۔کروں
علیزےنجف: الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا موجودہ وقت میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے اب ہر طرح کی خبریں ایک کلک پر عالمی سطح پر گردش کرنے لگتی ہے آپ کو کیا لگتا ہے اس کے مثبت و منفی پہلو میں کون سا پہلو غالب ہے؟
جاوید جمال: یہ درست ہے کہ جیساکہ آپ نے سوال کیاہےکہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا موجودہ وقت میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے اب ہر طرح کی خبریں ایک کلک پر عالمی سطح پر گردش کرنے لگتی ہے اس کے مثبت و منفی پہلو میں،تو فی الحال منفی پہلو غالب ہے اور آپ اس سے بچ نہیں سکتے ہیں۔کئی مثبت چیزیں ہیں ،جیسا کہ وقت پر خبریں پہنچنا،عام معلومات میں اضافہ اور کئی معاملات میں بروقت الرٹ کرنا بھی شامل۔ہے۔
علیزےنجف: یوں تو زندگی اپنے آپ میں واقعی ایک نعمت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر کسی کے نزدیک زندگی کی اپنی الگ الگ تعریف ہے آپ کے نزدیک زندگی کیا ہے اور ایک بے مقصد غیر متوازن زندگی کو متوازن کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
جاوید جمال: میں نے زندگی کو ہمیشہ نعمت ہی سمجھا ہے،آج بھی موقعہ ملے تو بہتر سے بہتر کرنے کی صلاحیت وعزم رکھتا ہوں،میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ایک موقعہ پر میں تعلیمی میدان میں پچھڑ گیا تھا،لیکن ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، پھر میں نے اپنی بے مقصد اور غیر متوازن زندگی کو میں پٹری پر لانے میں دیر نہیں کی اور صحافت نے اس میں ہمت وطاقت عطاکی بلکہ پھیکی سے زںدگی میں رنگ بھر دیا۔
علیزےنجف: اردو صحافت کو مزید بہتربنانے کے لئے نوجوان صحافیوں کو کن کن پہلوؤں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے؟
جاوید جمال: آج کے تیزی سے بدلتی دنیاکے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلناہوگا،بلکہ چلناہی پڑتاہے۔یہ لازم ملزوم ہوچکاہے۔ہمارے ںچپن میں ریڈیو کی خبروں کاایک ایک گھنٹہ انتظار کرناپڑتا۔ٹی وی شام سے رات تک دوتین بار ہی اپنی نشریات میں خبریں دیتا تھا، عراق کے کویت پر حملے کے بعد الیکٹرونک میڈیا کے انداز بدل چکے ہیں ،بلکہ آپ چلتے پھرتے خبروں کاعلم رکھ سکتے ہیں۔لمحہ لمحہ دیش پردیش میں ظہور پذیر واقعات کو اسمارٹ موبائل کے اسکرین ہر دیکھ سکتے ہیں۔
علیزےنجف: اس انٹرویو کے ذریعے آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جاوید جمال: میں خود کو پیغام دینے کے لائق نہیں سمجھتا ہوں اگر کچھ کہنے کا سوچوں تو یہی کہوں گا کہ اگر ہمیں ٹھوکر لگ جائے تو خود کو سنبھالنے کی کوشش خود ہی کرنا،ہو گا بقول سلیم خان "اپنے آنسوؤں کو خود پونچھ لینا چاہئیے،دوسروں کو بلائیں گے تو وہ سودا کریں گے۔”یہی میرا پیغام ہے،اگر میں گر کر اور ڈگمگا کر کھڑا نہیں ہوتا تو آج میں کہیں کا بھی نہیں رہتا۔جدوجہد کرنے ہر اللہ بھی مددفرماتا ہے۔
انٹرویو نگار : علیزےنجف
سرائے میر اعظم گڈھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

