Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
اسلامیات

بر صغیرپاک و ہند میں تفسیر و علوم قرآنی میں خواتین کی خدمات :ایک جائزہ – ڈاکٹر ندیم سحر عنبریں

by adbimiras مارچ 25, 2022
by adbimiras مارچ 25, 2022 0 comment

قرآن اللہ تعالی کی کتاب ہے اور یہ کوئی معمولی کتاب نہیں بلکہ اللہ کا کلام  اور اس کے بندوں کے لیے کلید حیات ہے۔جس میں صحیح زندگی گزارنے کے طریقہ کے ساتھ ساتھ زندگی سے متعلق تمام مسائل و معاملات کا حل بھی موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جتنا اس کتاب پر لکھا گیا اور اس سے متعلق علوم زیر بحث  لائے گئے دنیا کی کسی اور کتاب یا مضمون کی طرف اتنی توجہ نہیں کی گئی ۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن کریم خود اپنے آپ میں اتنا دقیق اور وسیع مضمون ہے جس میں حتی المقدور مہارت حاصل کرلینے کے باوجود بھی مکمل مہارت کا کوئی بھی دعویدار نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے،وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس تکمیلیت صرف اسی ایک ذات(اللہ)تک ہی محدود ہے۔

نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں نے بھی قرآن کی طرف توجہ کی ہے اور قرآن کے مختلف علوم پر کتابیں لکھی ہیں۔ عہد رسالت سے لے کر عہد جدید تک دنیا کے مختلف ملکوں اور متعدد زبانوں میں تفسیر اور علوم قرآنی پر کتابیں لکھی گئی ہیں اور اس علم کی ترویج و اشاعت کے لیے مختلف ادارے اور انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے ہیں ۔ عہد تدوین(جب سے تحریری سرمایہ کو کتابی شکل دی گئی) سے لے کر موجودہ دور تک ہمیں مختلف علوم اور نظریات سے متعلق متعدد تفاسیرملتی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔لیکن اس حقیقت کو بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ جب تفسیر و علو م قرآنی کا ذکر آتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خالص مردوں کا میدان ہے۔عام طور سے یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تفسیر و علوم قرآنی کے میدان میں خوا تین کی تصنیف بالکل ہی مفقود ہے۔اگر کسی سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا آپ نے کسی ایسی تفسیر کا مطالعہ کیا ہے جو خواتین کے قلم سے لکھی گئی ہے؟ تو اسکاجواب ہمیں نفی میں ملتا ہے۔پاک و ہند جیسے عظیم ملک میں یہ عام تصور پایا جاتا ہے کہ تفسیر و علوم قرآنی ایک پیچیدہ علم ہے اور یہ خالص مردوں سے متعلق ہے جس میں خواتین کو دسترس حاصل نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں ان کے کاموں کی پذیرائی نہیں ہو پائی اور ان کے کاموں کو وہ شہرت نہیں مل پائی جو مرد حضرات کو نصیب ہوئی ہیں۔ مگر اس کے برعکس تلاش و تحقیق کے بعدتفسیر و علوم قرآنی کے میدان میں ہمیں ایسی بیش قیمتی تحریریں ملتی ہیں جو خواتین کے قلم سے منظر عام پر آئیں۔

ہندوستان کے علاوہ اگر ہم عالم عرب کی خواتین کے قلم سے تفاسیر یا علوم قرآنی کا جائزہ لیں تو یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے کہ نہ صرف تفسیر اور علوم قرآنی میں عالم عرب کی خواتین نے متعدد قابل قدر تصانیف دنیا کو دیں بلکہ کئی مکمل تفاسیر قرآن بھی ان کے قلم سے منظر عام پر آئے ہیں ۔جنھیں علمی حلقوں میں سراہا گیا ہے اور ان کے کئی ایڈیشن بھی چھپ چکے ہیں۔ان میں سب سے پہلی تفسیرنائلہ ہاشم صبری کی المبصر لنور القرآن ہے۔اس کا پہلا ایڈیشن ۱۱،اور دوسرا ایڈیشن۱۶جلدوں پر مشتمل ہے ،یہ تفسیر ۲۰۰۸ میں شائع ہوئی ہے۔  دوسری اہم تفسیرزینب غزالی کی تفسیر نظرات فی کتاب اللہ ہے یہ تفسیر ۲ جلدوں پر مشتمل ہے ۔پہلی جلد جو۷۱۱صفحات پر مشتمل ہے اس میں سورہ بقرہ تا سورہ ابراہیم کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔یہ۱۹۹۴ میں دارالشروق قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔اس کے علاوہ متعدد جزوی و کلی تفاسیرو علوم قرآنی کے میدان میں خواتین نے اپنی علمی وقلمی خدمات پیش کی ہیں۔ان میں عائشہ عبد الرحمٰن بنت الشاطی کی التفسیر البیانی للقرآن الکریم،حنان لحام کی تفسیری سیریز من ھدی القرآن کے عنوان نے جس میں انھوں نے مختلف سورتوں کی تفسیر بیان کی ہے،نائلہ ہاشم صبری کی تفسیر المبصر لنور القرآن وغیرہ بہت اہم ہیں۔

چونکہ یہ مضمون ہندو پاک کی خواتین کی قرآنی خدمات سے متعلق ہے ، اس لئے اس مضمون میں ہندوستان اور پاکستان کی اہل قلم خواتین کا مختصر تعارف اور ان کے کاموں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

برصغیر ہندوپاک میں خاصی تعدادایسی خواتین کی ملتی ہے جنھوں نے مختلف انداز سے قرآنی خدمات انجام دی ہیں کسی نے قرآن کریم کی چند سورتوں کی تفسیر بیا ن کی ہے تو کسی نے کچھ آیتوں کی ۔کچھ نے بچوں کے لیے بچوں کے نہج پر ان کی ذہنی رسائی کو مدنظرکھتے ہوئے سورتوں کی تفسیر لکھی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک نام محمودالنسائ بیگم کا ہے۔جمیل نقوی نے اپنی کتابیات میں ان کو مکمل مفسرین قرآن میں شامل کیا ہے۔(۱)محمد مجیب الرحمن ان کو مترجم قرآن میں شمار کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اردو میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا تھا اور اسے لاہور سے شائع کیا تھا(۲)ڈاکٹر احمد خاں جنھوں نے قرآن کریم کے اردو تراجم کی تحقیقی فہرست تیار کی ہے ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’محمود النسا بیگم نے تفسیر قرآن مجید مع ترجمہ لکھا ہے۔اس کی اولین طباعت حیدرآباد دکن میں دارالطبع سرکار عالیہ سے ہوئی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ بلا متن ترجمہ ہے۔مترجمہ نے محمود حسن دیوبندی کے ترجمہ قرآن اور شاہ عبدالقادر دہلوی کے موضح القرآن سے مدد لی ہے ۔اس طباعت کا ایک نسخہ کراچی یونی ورسٹی کی لائبریری میں بھی موجود ہے۔‘‘(۳)

ایک اور بنگالی خاتون بیگم نور محل جن کاتعلق حاتم خاں راج شاہی کے ایک بنگالی خاندان سے تھا انھوں نے بنگالی زبان میں پارہ عم کا منظوم ترجمہ کیا تھا جو قرآن مکل کے عنوان سے ہے۔یہ ترجمہ کوہ نور الکٹرانک پریس،اندرکلا،چٹاگانگ سے ۱۹۴۰ میں شائع ہوا ہے،اس ترجمہ کو مترجمہ نے اپنے والد کو معنون کیا تھا۔(۴)۔پروین خلیل نے بچوں کی قرآن فہمی کے لیے آسان زبان میں انہی کے نہج پر بچوں کے لیے پارہ عم کی سورتوں کی تفسیر تین سیریز میں کی ہے۔جو درج ذیل ہے۔بچوں کے لیے پارہ عم کی دس سورتیں ،بچوں کے لیے پارہ عم کی بارہ سورتیں ،بچوں کے لیے پارہ عم کی پندرہ سورتیں ۔یہ کتابیں شعبہ نشرواشاعت،اردو مدرسہ اسلامیہ، آندھرا پردیش سے شائع ہوئی ہیں۔مذکورہ کتابیں اس لحاظ سے کافی اہم ہیں کیونکہ یہ مکمل طور سے بچوں کے ذہن کو مدنظر رکھتے ہوئے عام فہم اور دل چسپ انداز میں لکھی گئی ہیں۔اس سیریز کی تیسری کتاب بچوں کے لیے پارہ عم کی پندرہ سورتیں میں پارہ عم کی ابتدائی پندرہ سورتوں (سورۃالنبائ تا سورۃ اللیل)کی آسان زبان میں ترجمہ وتفسیرکی گئی ہے۔ بچوں کے ذہنوں کو سمجھتے ہوئے پہلے آیت کے ہر لفظ کے علیحدہ معنی بیان کیے گئے ہیں تاکہ انھیں الفاظ قرآن کے اصل معانی معلوم ہوں پھر ترجمہ کرتے ہوئے تفسیر بیان کی گئی ہے ساتھ ہی اس سورہ سے لتعلق کچھ سوالات بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کے ذہنوں میں اس سورہ سے متعلق معلومات بھی ذہن نشین ہوسکے۔( پروین خلیل،بچوں کے لیے پارہ عم کی پندرہ سورتیں (سورۃنبائ تا سورہ لیل)،اردو مدرسہ اسلامیہ آندھرا پردیش)۔بچوں کے اسلامی لٹریچر کی طرف کم توجہ کی گئی ہے خاص طور سے قرآن کریم اور اس کی تفسیر کی طرف ،لہذا بچوں کو قرآن کریم سے جوڑنے ان کے اندر اس کا شغف پیدا کرنے اور ان کے ذہنوں کو قرآن کی طرف راغب کرنے کی یہ ایک عمدہ اور کام یاب کوشش اور بچوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔

محمود النسائ بیگم (۱۸۹۸۔۱۹۶۵)نے بھی ایک تفسیر لکھی تھی جو ان کے زمانے میں محدود تعداد میں شائع ہوئی تھی۔اس کی دوسری اشاعت آسان ترجمہ و تفسیر کے عنوان سے ۲۰۱۷ میں ہوئی ہے۔ اس کی پہلی جلدجو۶۸۸صفحات کی ہے، سورہ فاتحہ تا سورہ کھف پر مشتمل ہے۔یہ عام فہم انداز،آسان ترجمہ ،مختصر تفسیر،اور معتبر روایات کا حسین مرقع ہے۔اس میں غیر ضروری باتوں سے عام طور پر احتراز کیا گیا ہے۔۔اس تفسیر میں تقریباً ایک درجن ماہرین کی تقر یظات شامل ہیں۔مولانا سراج الہدی نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ صرف تین خواتین نے مکمل قرآن کا ترجمہ و تفسیر کی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے زینب الغزالی،ثریہ شحنہ،اور محمود النسا کو شامل کیا ہے اور ان میں محمودالنسا کو اولیت کا شرف بخشا ہے۔(۵)

ثریہ شحنہ کا تعلق حیدرآباد سے ہے انھوں نے تبیین القرآن فی تفسیر القرآن کے عنوان سے مکمل قرآن کریم کا ترجمہ کیا ہے ،یہ ترجمہ آر۔ایس۔ٹریڈنگ کمپنی حیدرآباد سے ۲۰۱۲ئ میں شائع ہوا ہے۔یہ دراصل قرآن کریم کا لفظ بہ لفظ تحت السطور ترجمہ ہے،تاکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا اس کے ہر لفظ کے اصل معنی کو سمجھ سکے۔یہ مصنفہ کا مکمل ترجمہ قرآن ہے،جس میں قرآن کریم کا لفظی ترجمہ بیان کیا گیا ہے البتہ توصیفی و اضافی ترکیب میں اردو زبان کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ لفظی ترجمہ کے ساتھ ہی ساتھ اس کاا سلوب کسی قسم کے جھول اور ابہام سے محفوظ رہے۔ثریہ شحنہ کے اس ترجمہ میں ان کے بیٹے نے بعض مقامات پر صحیح احادیث کی روشنی میں تفسیر ی حاشیہ لکھا ہے۔مطلب یہ کہ کسی آیت سے متعلق یا اس کی توضیح میں اگر کوئی صحیح حدیث موجود ہے تو اس کا ترجمہ اردو زبان میں درج کیا گیا ہے۔اس کی وجہ سے ترجمہ وتفسیر دونوں ہی ذاتی افکار وخیالات اور غیر ضروری مباحث سے پاک ہیں،ساتھ ہی قرآن و حدیث کا باہمی ربط بھی واضح ہو جاتا ہے اور قرآن کریم کا طالب علم حدیث کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔(ثریہ شحنہ ، تبیین القرآن فی تفسیر القرآن،آر۔ایس۔ٹریڈنگ کمپنی حیدرآباد،۲۰۱۲)

بدریہ کاظم نے ایک کتاب چراغ راہ کے عنوان سے لکھی ہے۔۴۴۰ صفحات پر مشتمل یہ کتاب دراصل مضامین قرآن کا خلاصہ ہے۔اس کتاب کا پانچواں ایڈیشن یونی ورسل آفسیٹ پریس دریاگنج نئی دہلی سے ۰۹۔۲۰۰۸ میں طبع ہوا ہے۔ اپنی اس کتاب میں مصنفہ نے پورے قرآن کا باعتبار سورت خلاصہ بیان کیا ہے۔ساتھ ہی اس سورہ کا ابتدائی تعارف کراتے ہوئے کہ وہ مکی ہے یا مدنی؟اس سورہ میں موجود آیات اور رکوعوں کی تعداد بھی بیان کی ہے۔بعض مقامات پرسورہ کا اسباب نزول اور پس منظر بھی پیش کیا ہے۔اس کے بعد اس سورہ میں ذکر کیے جانے والے مختلف مضامین اور احکام وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔یہ کتاب قرآن کریم کا نہ تو ترجمہ ہے نہ ہی تفسیر بلکہ اس میں سورہ کا اجمالی تعارف کراتے ہوئے اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ قرآن کریم سے متعلق اپنے نہج کی ایک مختلف اورعمدہ کتاب ہے ۔(بدریہ کاظم ، چراغ راہ(خلاصہ قرآن کریم)،یونی ورسل آفسیٹ پریس،دریا گنج نئی دہلی،۲۰۰۸۔۲۰۰۹)اس ضمن میں خالدہ تنویر کا نام بھی بہت اہم ہے انھوں یا ایھا الذین آمنوا کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جیسا کہ کتاب کے نام سے واضح ہے اپنی اس کتاب میں انھوں قرآن کریم میں اللہ تعالی نے جن آیات کریمہ میں یاایھا الذین آمنوا سے خطاب کیا ہے انھیں ایک جگہ جمع کرکے ان کی تشریح بیان کی ہے۔۲۴۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ہندوستان میں مکتبہ الحسنات رامپور اور پاکستان میں پین اسلامک پبلشرز لاہورپاکستان سے۱۹۷۵ میں شائع ہوئی ہے۔اس کتاب کے ذریعے مصنفہ نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کا یہ اندازصرف مدنی سورتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے مکی سورتوں میں یہ طرز تخاطب اختیار نہیں کیا گیا ہے۔مصنفہ کے مطابق نواسی(۸۹) مقامات یا ایھا الذین آمنوا کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اس کے مخاطب کہیں تو سچے اہل ایمان ہیں ، کہیں تمام مسلمان ،اور کہیں کمزور ایمان والوں اور منافقوں کو بھی اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔ان تما م آیات کو مصنفہ نے دس ابواب میں تقسیم کرکے ان کی وضاحت کی ہے۔آیات کا ترجمہ تفہیم القرآن(سیدابوالاعلی مودودی) سے درج کیا گیا ہے اور تشریح میں آیات کا پس منظر اور اس سے متعلق ضروری باتیں بیان کی گئی ہیں۔بعض مقامات پر احادیث اور واقعات کا ذکر بھی موجود ہے۔بہ قول مصنفہ یہ کتاب نہ تو آیات قرآنی کا محض ترجمہ ہے نہ تفسیر،بلکہ چنندہ آیات کی تشریح و تفسیرہے۔(۶)فاطمہ زہرائ بلگرامی نے تعارف القرآن کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔۷۱۰ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ندیم شفیق پرنٹرز،ملتان سے ۱۹۹۵ئ میں شائع ہوئی ہے۔اس کتاب میں انھوںنے قرآن کا مختصر تعارف پیش کیا ہے ۔ہر سورہ سے پہلے اس کا شان نزول،اس سے متعلق چند ضروری اور اہم معلومات بیان کرتے ہوئے سورہ کے مضامین کا تعارف کرایا ہے۔قرآن کی ساتوں منزلوں پر انحصار کرتے ہوئے کتاب کو سات حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر منزل میں موجود سورتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے اس منزل میں کتنی سورتیں ہیں اور وہ منزلیں کون سی سورہ سے شروع ہوکر کون سی سورہ پر ختم ہورہی ہے وغیرہ معلومات درج کی گئی ہیں۔مثلا پہلی منزل سورہ فاتحہ سے شروع ہوکر سورہ النسائ پر ختم ہورہی ہے،اس میں ۴سورتیں ،۸۵رکوعاور ۶۷۰ آیات ہیں ۔قرآن کریم کی تمام سورتوں میںموجود مضامین کا تعارف رکوع بہ رکوع کیا گیا ہے ۔مصنفہ نے اپنی رائے بیان کرنے کے بجائے اردو زبان کے مفسرین کی آرائ کو ترجیح دی ہے اور ان کے حوالہ جات قلم زد کیے ہیں ۔اس طرح اس کتاب کے ذریعے قرآن میں مذکور تمام باتوں کا تو نہیں البتہ اہم مضامین کو مختصر بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کتاب کی زبان عام فہم اور سادہ ہے وہ لوگ جو اپنی دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے قرآن کی تفسیر کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتے ان کے لیے یہ کتاب قرآن کریم کی اہم معلومات اور اس کے مضامین کا خلاصہ جاننے کا بہترین ذریعہ ہے۔محترمہ نے اس کتاب کے سلسلہ میں  عام طور سے ضیائ القرآن ،فیوض القرآن اور تفہیم القرآن سے اکتساب فیض کیا ہے جس کے حوالے انھوں اپنی کتاب میں جا بجا دیے ہیں۔ (فاطمہ زہرائ بلگرامی،تعارف القرآن،ندیم شفیقپرنٹرز ملتان،۱۹۹۵)تسہیل البیان فی تفسیر القرآن کے عنوان سے دو جلدوں میں قرآن کریم کی مکمل تفسیرشکیلہ افضل کے قلم سے ہے۔اس کی پہلی جلد جو ۴۶۶ صفحات پر مشتمل ہے ۲۰۱۳ میں لاہور سے شائع ہوئی ہے۔اس تفسیر میں تفسیر ابن کثیر،تیسیرالقرآن اور احسن البیان سے استفادہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ استاذہ نگہت ہاشمی کے قرآنی لیکچروں کا مختصر خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ہر آیت کے بعد آسان اردوزبان میں اس آیت کا ترجمہ درج کیا گیا ہے پھر خلاصہ تفسیر کے عنوان سے اس آیت کی وضاحت کی گئی ہے۔تفسیر میں حوالوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔(تبصرہ گل زادہ شیرپاو،ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور،اکتوبر۲۰۱۳)شہریار بانو جنکا تعلق پاکستان سے ہے انھوں نے پارہ عم(تیسواں پارہ)کا ترجمہ و تفسیر تفسیر منتخب کے عنوان سے کیا ہے۔ان کی یہ تفسیر ۱۹۹۸ میں دارالاسلام پبلشرزاینڈ ڈسٹری بیوٹرزلاہور سے شائع ہوئی ہے۔سورہ کی چند آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے پھر اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی سورہ کا نمبر اور اس کے مکی و مدنی ہونے کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اس سورہ کے متعلق دیگر ضروری معلومات بھی درج کی گئی ہیں ۔تفسیر بالماثور کے علاوہ جدید طرز پر سائنسی و فنی انداز بھی تفسیر میں جابجا دیکھنے کو ملتا ہے۔محترمہ قرآنی دروس میں شرکت کرتی تھیں ،قرآن سے شغف نے انھیں خود بھی قرآن کی طرف متوجہ کیا چنانچہ آہستہ آہستہ انھوں نے خود ہی قرآنی دروس دینا شروع کیے اس کے لیے انھوں نے قدیم و جدید تفاسیر سے بھی استفادہ کیا ،باقاعدہ اپنے ان دروس کے نوٹس کو تحریری شکل میں جمع کیا ۔مذکورہ کتاب ان کی انھیں کاوشوں کا صلہ ہے۔ تفسیر کا اسلوب سادہ اور آسان ہے ۔(شہریار بانو،تفسیر منتخب۔پارہ عم(تیسواں پارہ)،دارالاسلام پبلشرزاینڈ ڈسٹری بیوٹرزلاہور،۱۹۹۸)اس کے علاوہ قرآن کی قسموں سے متعلق ایک اہم کتاب ڈاکٹر مرضیہ عارف نے تیار کی ہے،جس کا عنوان قرآن کی قسموں کا ادبی اور سائنٹفک جائزہ ہے خود مصنفہ نے اسے ۲۰۰۶میں شائع کروایا ہے یہ کتاب دراصل ان کا پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ ہے۔جس پر ان کو ۲۰۰۱ میں پی۔ایچ۔ڈی۔ کی ڈگری تفویض ہوئی ہے۔یہ کتاب اس لحاظ سے بھی کافی اہم ہے کیونکہ یہ اپنے آپ میں ایک منفرد کتاب ہے۔ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی ندوی لکھتے ہیں  :

’’ڈاکٹر مرضیہ کا یہ مقالہ اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ انھوں نے قرآن پاک کی آیات قسم کی ایک جامع اور قابل اعتماد تفسیر مرتب کردی ہے۔اپنی طرز کا پہلا اور معتبر کام ہے۔میری معلومات کی حد تک نہ صرف اردو بلکہ عربی میں بھی صرف آیات قسم کی کوئی تفسیر میرے سامنے نہیں آئی…آیات قسم کی توضیح و تفسیر میں انھوں نے اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے معروف اور مشہور تفسیروں سے استفادہ کیا ہے اور جابجا ان کے اقتباسات پیش کیے ہیں ۔ماہرین فن پر اعتماد کی وجہ سے ان کا کوئی بیان قابل اعتراض یا نزاعی نہیں ہے…انھوں نے آیت قسم سے متعلق تمام اہم اور ضروری معلومات اور اس کی توضیح و تشریح کردی ہے۔‘‘(۷)

قرآن کی قسموں پر یہ کتاب خاص طور پر کسی خاتون کے قلم سے کافی اہمیت کی حامل ہے۔اس میں صرف قرآن کی قسموں پر ہی بحث نہیں کی گئی ہے بلکہ ان قسموں کی اہمیت،مقصد اور وضاحت کو مختلف تفاسیر کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے اس کتاب میں مصنفہ نے واضح کیا ہے کہ اللہ  تعالی نے قرآن کریم میں اٹھارہ(۱۸)چیزوں کی ننانوے(۹۹) جگہ قسمیں کھائی ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان قسمو ں کے اسالیب کی ندرت،اس سلسلہ میں قرآن کریم کے اعجازاور اس کی فصاحت و بلاغت سے بھی بحث کی گئی ہے۔قرآن کریم سے دل چسپی رکھنے والوں اور اس میں غورو فکر کرنے اور تحقیق کرنے والے طالب علموں اور محققوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے۔قرآن کریم پر لکھنے والوں اور اس میں شغف رکھنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے،خواہ وہ مردوں میں ہو یا عورتوں میں۔ابھی حال میں ڈاکٹر ہادیہ شامخات نے قرآنی الفاظ کو سمجھنے اور قرآن کریم کے ہر لفظ کے معنی کو سمجھ کر پڑھنے کی غرض سے ایک کتاب تصنیف کی ہے جو کلید الفاظ قرآنی کے عنوان سے ہے۔۵۸۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب کرسٹل پبلی کیشنز اینڈڈسٹری بیوٹرز سے۲۰۱۶ میں شائع ہوئی ہے۔دراصل کلید الفاظ قرآنی مکمل قرآنی الفاظ کے معانی ،مادے،صیغے اور ابواب کی تحقیق پر مشتمل ایک جامع ڈکشنری ہے۔اس کتاب کی ابتدائی فہرست صرف ایک ورق کی ہے،جس میں سورہ کا نام،نمبر اور صفحہ نمبر درج ہے۔کتاب میں سب سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اور بسم اللہ الرحمن الرحیمکے لفظی معانی وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔اس کے بعد سورہ فاتحہ تا سورہ ناس قرآنی الفاظ کے معانی بیان کیے گئے ہیں ۔سب سے پہلے آیت نمبر،پھراس کے الفاظ،معانی،لفظ کا مادہ، فعل،صیغہ،مصدر،باب،واحد،جمع بالترتیب ذکر کیے گئے ہیں۔زیادہ تر الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بعض الفاظ مصنفہ کی گرفت سے رہ گئے ہیں ہو سکتا ہے اس کا مقصد الفاظ کی تکرار سے حفاظت ہو مثلاًسورہ اخلاص میں صرف لفظ کفوا اور الصمد کا انتخاب کیا گیا ہے۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنھوں نے اس کتاب کا پیش لفظ لکھا ہے ،لکھتے ہیں:

’’انھوں نے بڑی محنت سے قرآن مجید کے الفاظ و معانی کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق ضروری نحوی وصرفی تحقیق کو شامل کرتے ہوئے پیش نظر کتاب تالیف کی ہے۔جو اس طریقہ پر ترجمہ قرآن پڑھنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے ان شائ اللہ بہت مفید ثابت ہوگی۔‘‘(۸)

یہاں پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی کو درست کیا جائے ۔جب انٹرنیٹ یا مختلف ویب سائٹس پر ہندوستان میں خواتین کی قرآنی یا تفسیری خدمات کو تلاش کیا جاتا ہے تو ایک عام معلومات کے تحت اورنگ زیب عالم گیر کی بیٹی زینب النسا کو پہلی مفسرہ قرآن یا ہندوستان کی پہلی مفسرہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔اور زیب التفاسیر کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ تفسیر دراصل زیب النسائ کی طبع زاد تصنیف نہیں ہے بلکہ اس کی سرپرستی میں صفی الدین ولی قزوینی نے اسے تصنیف کیا۔یہ ضرور ہے کہ شیخ صفی الدین نے اسے زیب النسائ کی فرمائش پر لکھا تھا۔یہ کئی جلدوں پر مشتمل مبسوط تفسیر ہے لیکن افسوس اب اس کا پتا نہیں چلتا۔البتہ اس کی پانچویں جلد،جس میں سورہ انفال تا سورہ یوسف کی تفسیر بیان کی گئی ہے،اس کا مخطوطہ برٹش میوزیم میںمحفوظ ہے۔ڈاکٹر ظفرالاسلام لکھتے ہیں:

اس تفسیر کی پانچویں جلد کا قلمی نسخہ برٹش میوزیم کے علاوہ بوڈلین لائبریری  میں بھی محفوظ ہے،لیکن برٹش میوزیم کا نسخہ مولف کے اپنے زمانہ کا ہے اور یہ ۱۰۸۱ ھ کا کتابت کردہ ہے۔(۹)

اس کے علاوہ بھی ایک بڑی تعداد میں خواتین نے قرآن کے موضوع پرمختلف انداز کی کتابیں لکھی ہیں۔اور قرآن کریم کی سورتوں اور آیتوں کی تفسیر و تشریح مختلف انداز سے بیان کی ہے۔مثلا سمیہ رمضان نے قرآن پر عمل،ثریہ عندلیب نے آیات بینات،شمیمہ محسن نے عورت قرآن کی نظر میں،رافعہ مریم نے تجوید قرآن،امۃ الکریم بیگم اسحاق نے تجلیات قرآن کے چند عجائبات،خدیجہ بنت سیدنا طاہر سیف الدین نے ترتیل القرآن اورتجوید القرآن،سطوت ریحانہ نے قرآنی خواتین اور عورت۔قرآنی معاشرہ میں،فاطمہ زہرائ نے قرآن اور منافقین کا کردار،ام سلمی اعظمی نے قرآن کے چراغ کے عنوان سے کتابیں لکھی ہیں ۔ اگر اس جانب خواتین کی خدمات پر توجہ کی جائے اور ان کی کوششوں اور کاوشوں کو منظر عام پرلانے کی کوشش کی جا ئے تو امید ہے کہ مزید معلومات اور تصانیف سامنے آجائیں یہ تو محض ان کی خدمات علمی دنیا تک پہنچانے کی ادنی سی کوشش ہے امید ہے اس میں تلاش و تحقیق کے بعد مزید دل چسپ اور مفید معلومات سامنے آئیں گی۔

ماخذ و مصادر:

۱۔جمیل نقوی،اردو تفاسیر(کتابیات )ڈاکٹرجمیل جالبی مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد۔۱۹۹۲،ص۵۷)

۲۔محمد مجیب الرحمن ،بنگالی تراجم وتفاسیر قرآن،ترجمہ صلاح الدین عمری ،مجلہ ششماہی علوم القرآن،جلد۹،شمارہ ۱۔۲،جنوری۔دسمبر،ص۱۱۷

۳۔ڈاکٹر احمد خاں ،قرآن کریم کے اردو تراجم(کتابیات)،ڈاکٹرجمیل جالبی مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد۔۱۹۹۲،ص۶۲۱

۴۔ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم،برصغیر میں مطالعہ قرآن (تراجم و تفاسیر )،فکرونظر (خصوصی اشاعت:بر صغیر میں مطالعہ قرآن )اسلام آباد ،جلد۳۶،شمارہ           ۳۔۴،ص۸۷

۵۔محمود النسائ بیگم،آسان ترجمہ و تفسیرقرآن مجید،ناشر محترمہ خیرالنسائ بیگم  صاحب مع آل واولاد،۲۰۱۷

۶۔خالدہ تنویر،یاایھاالذین آمنوا،پین اسلامک پبلیشرز پاکستان،۱۹۷۵

۷۔ڈاکٹر ظفر احمد، ص۷۔۸،قرآن کی قسموں کا ادبی اور سائنٹفک جائزہ

۸۔پیش لفظ،صviii،کلید الفاظ قرآنی

۹۔ڈاکٹر ظفر الاسلام ،عہد سوطی کے ہندوستان کی فارسی تفسیریں ۔ایک تعارفی مطالعہ،سہ ماہی علوم القرآن علی گڑھ،جولائی۔دسمبر۱۹۸۵،ص۱۳۳

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نظیر اکبر آبادی اور ہندوستان – ام ماریہ حق
اگلی پوسٹ
پروفیسر شہزاد انجم اکادمی برائے فروغِ استعداد ِاُردو میڈیم اساتذہ ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اعزازی ڈائریکٹر نامزد

یہ بھی پڑھیں

سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا...

جون 6, 2026

آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی...

جون 6, 2026

قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی...

جون 6, 2026

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!...

اپریل 11, 2026

قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف...

جون 16, 2024

احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل...

اپریل 7, 2024

رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و...

مارچ 31, 2024

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد...

ستمبر 23, 2023

حجاب: ایک امر شرعی : فرحان بارہ بنکوی

جون 27, 2023

پیغام عید قرباں : عصر حاضر کے تناظر...

جون 27, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,055)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (540)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (207)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,143)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں