اکبر آباد( آگرہ ) شہر کی بنیاد عشق و محبت پر پڑی ہے۔ جہاں ایک طرف شاہ جہاں اور ممتاز محل کی لازوال محبت کی نشانی تاج محل پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہیں۔ وہیں نظیر اکبر آبادی کی شاعری نے اہل وطن کو عشق و محبت، اتحاد و یکجہتی کا درس دیا۔ نظیر کی پوری شاعری ہندوستان کا ایک ایسا گلدستہ پیش کرتی ہے جس میں آپ کو ہر قسم کے پھول نظر آئیں گے ۔ آج کے تعصبانہ سیاسی دور میں ان کے قلم کی افدیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ ان کی شاعری میں ہر دور کے عوام کی آواز ہے اس آواز میں گہرا فلسفیانہ رنگ اور عارفانہ پیغام اپنی پوری حشر وسامان یو کے ساتھ موجود ہے ۔ جو سماجی مذہبی تہذیبی شخصی، تاریخی اور اصطلاحی نوعیت کی جولانیوں سے لبریز نظر آتا ہے۔
نظیر اکبرآبادی اٹھارویں صدی عیسوی میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ولی محمد اور نظیر تخلص تھا۔ انہیں (فادر آف اردو نظم) بھی کہا جاتا ہے ان کے والد محمد فاروق جانی مانی شخصیتوں میں شمار کیے جاتے تھے اور والدہ آگرہ کے گورنر نواب سلطان کی بیٹی تھی۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ اسی لیے ان کی پرورش بڑے ناز و نعم سے ہوئی اور دہلی جسے ہندوستان کا دل کہا جاتا ہے اس وقت ایک طرف مغلیہ دور کا زوال اور دوسری جانب اپنی خستہ حالی سے جونجھ رہی تھی۔ انہی حالات میں شاہ ابدالی نے دہلی پر حملہ کیا تو ہر طرف آہ و بکا کا عالم برپا ہوگیا ۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دہلی کے لوگوں نے نقل مکانی کرنا ہی بہتر سمجھا۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے سے خوفزدہ ہو کر باقی لوگوں کی طرح نظیر کے گھر والوں نے بھی اپنا مسکن اکبرآباد (اگرہ) بنا لیا اور اس طرح وہ اپنی والدہ اور نانی کے ہمراہ آگرہ آگئے۔ اٹھارویں صدی میں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں سے دہلی کے بیشتر شعراء مثلاً سودا، انشاء ، میر تقی میر، میر حسن اور جرات وغیرہ نے لکھنؤ میں پناہ لی اور وہیں داد سخن دیتے ہوئے پیوند خاک ہوئے۔
آگرہ کی اپنی تہذیبی شناخت ہے یہاں کے میلے ، کھیل تماشے، تفریحات اور مذہبی عقیدہ سے مل کر جو اجتماعی زندگی ابھری نظیر کے دل و دماغ پر اس کا گہرا اثر پڑا۔ نظیر پنجابی، مارواڑی ، پوروی ہندی، اردو اور فارسی پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ انہے نجوم، منطق، طب اور فلسفے کے علم سے بھی سناشائ تھی اور عوامی زندگی سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔ مندروں ، مٹھوں اور مزارات پر وہ خوب جایا کرتے تھے انہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب سے بڑی محبت تھی۔ اگرہ کی گلی کوچوں میں ان کی نظمیں بڑی مقبول تھی ان کے قلم میں بڑی تاثیر تھی جسے سن کر لوگ جھوم اٹھتے تھے۔ کیا بازار، کیا محفل ، کیا میلے ، کیا کھیت کھلیان، کیا گلی کوچے ہر عام مقام پر نظیر کے کلام کی دھوم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے ہر دلعزیز شاعر کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ دنیا کی بے ثباتی بھی اردو شعراء کا عام موضوع رہا ہے لیکن نذیر نے اس موضوع کو اپنے مخصوص رنگ سے حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری پیش کیا ہے جس کی مثال اردو شاعری میں کہیں بھی نہیں ملتی۔ بے ثباتی دنیا پر ان کی مشہور نظم” بنجارہ نامہ” کا ایک بند پیش ہے۔ اس نظم میں لفظوں اور محاوروں کا بہترین انتخاب ہے اور مدبرانہ شعری انداز میں بڑا تسلسل روانی موجود ہے ۔
ٹُک حِرص و ہوا کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا
کیا بدھیا بھینسا بیل شُتر کیا گوئیں پِلّا سر بھارا
کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر ،کیا آگ دھواں کیا انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
"بنجارہ نامہ” در حقیقت انسان کی زندگی کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ اس نظم میں نظیر نے انسان کو حرص، ہوس اور لالچ کو چھوڑ کر نیک راہ پر چلنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ سب کو ایک دن یہ فانی دنیا چھوڑ کر جانا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نظیر کی نظمیں لوک گیت کا درجہ رکھتی ہیں لوک گیت سماج سے اپنا رشتہ بنائے رکھتے ہیں ۔ اسی طرح نظیر کی شاعری عوام سے رشتہ بنائے رکھتی ہے کیونکہ نظیر نے وہی الفاظ اور محاورے استعمال کیے ہیں جو لوک گیت کی جان ہوتے ہیں ۔
نظیر نے انسانی کردار کے ایسے رویوں کو اجاگر کیا ہے جس کی مثال آپ ہیں ۔ نظیر کے کلام میں عوامیت کے ساتھ روحانیت فکر و فلسفہ اور تصوف کا گہرا شعور ملتا ہے ۔ وہ ہر مذہب و ملت اور ہر طبقے سے بخوبی واقف تھے۔ ہندوستانی رسم و رواج میں میلے ٹھیلوں کی رنگریلیاں تاریخ و ثقافت کے نقطہ نظر سے نظیر کا کلام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں کے تہواروں سے تعلق جو نظمیں انہوں نے لکھی ہیں وہ حقیقت نگاری کا ایک بہترین مرقع ہیں۔ جو اُس احد کی بڑی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں۔ ان نظموں میں دیوالی، ہولی، بلدیوجی کا میلہ، راکھی، جنم کنہیا جی، درگا جی کا درشن، کبوتربازی، تیراکی کا میلہ، پتنگ بازی، کشتی، عید اور شب بارات وغیرہ بطور خاص اہمیت کی حامل ہیں ان کی نظم "عید” کا ایک بند پیش ہے۔
پچھلے پہر اٹھ کے نہانے کی دھوم ہے
شیروشکر سویاں پکانے کی دھوم ہے
پیروجواں کی نعمتیں کھانے کی دھوم ہے
لڑکوں کو عیدگاہ کے جانے کی دھوم ہے
ایسی نہ شبرات نہ بقر عید کی خوشی
جیسی ہر اک دل میں ہے اس عید کی خوشی
نظیر اکبر آبادی کی سب سے مقبول اور پسندیدہ نظم” آدمی نامہ” جو سولہ بند پر مشتمل ہے اس نظم میں نظیر نے انسان کے ۸۰ کرداروں کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
او آدمی کو تیغ سے مارے ہے آدمی
پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی
چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی
اور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نظیر کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کی قوس قزح بکھری ہوئی نظر آتی ہے اگر کوئی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو قریب سے محسوس کرنا چاہتا ہے تو اسے نظیر کے کلام کو پڑھنا چاہیے۔ ان کی شاعری میں آپ کو ہندوستان سانس لیتا ہوا مہسوس ہوتا ہے اور اس کی تہذیبی دھڑکن کو صاف طور پر سنا جاسکتا ہے۔ نظیر کا اصل ہنر ان کی واقعیت پسندی میں پوشیدہ ہے انہوں نے اپنی نظموں میں روزمرہ کے واقعات اور مشاہدات کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی بول چال کو استعمال کیا ہے۔ انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے وہ ہندوستان کی گلیوں کی زبان ہے۔ اس کے باوجود ان کے کلام میں لسانی فصاحت اور بلاغت موجود ہے۔ نظیر کے ہم عصروں میں میر ، سودا، مصحفی، انشا اور جرات جیسے شاعر تھے لیکن نظیر نے اپنے اندازو فکر سے ہندوستان کی مٹی کو اپنی شاعری سے وابستہ کرکے ہندوستانیت کا تعارف مختلف انداز میں کرایا۔ ہندوستانی تہذیب سے متعلق جو نظمیں انہوں نے کہیں وہی ان کا نظریہ حیات بھی تھا۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپسی محبت اور رواداری ان کی شخصیت میں ایسی بسی ہوئی تھی کہ اسلام کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کا برابر احترام کرتے تھے خاص طور سے ہندو اور سکھ مذہب سے متعلق ان کے یہاں گہرے نقوش ملتے ہیں۔ اردو کے علاوہ ہندی فارسی عربی اور برج بھاشا کے الفاظ کی چہل پہل عام دیکھنے کو ملتی ہے یعنی ان کا کلام مختلف زبانوں کے الفاظ کا ایک بھرپور خزانہ معلوم ہوتا ہے انہوں نے اپنی ایک نظم "گرونانک شاہ” میں پنجابی تہذیب اور لفظیات کو کس خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا ہے پیش نظر ہے۔
ہر آن دلوں وچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا لاتے ہیں
اور سیوک ہو کر ان کی ہی ہر صورت بیچ کہا تے ہیں
گر اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین انھیں دکھلاتے ہیں
خوش رکھتے ہیں ہر حال انھیں سب تن کا کاج بناتے ہیں
نظیر آم آدمی کے شاعر ہیں لیکن یہ آم آدمی ان کے یہاں اپنے وسیع سماجی اور تہذیبی پس منظر میں ابھرتا ہے۔ موسمو تیوہاروں، کھیل تماشوں اور چرند پرند پر لکھی ہوئی ان کی نظمیں ہو یا شہر آشوب ، روٹی، مفلسی، خوشامد ، جیسی نظمیں جن میں موجود مسائل سے اس دور کا انسان بھی جونجھتا ہوا نظر آتا ہے۔
روٹی نہ پیٹ میں تو پھر کچھ جتن نہ ہو
میلے کی سیر خواہش باغ چمن نہ ہو
ہے کہا کسی نے بھوکے بھجن نہ ہو
اللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں
ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں قدرت نے اپنی تمام تر نعمتیں نچھاور کی ہیں۔ قدرت کی بات کریں تو یہاں دریا ، ندیا، پہاڑ، کانیں وغیرہ سب کچھ ودیعت ہیں ۔ یہاں کے مختلف موسموں کی آمدورفت بھی اس کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہے۔ ان سب نظاروں کو نظیر نے اپنی شاعری میں سمیٹ لیا ہے۔ ان کی نظموں کے عنوانات سے ہیں اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے برسات کی بہاریں، چاندنی رات ، برسات کی پھسلن، بہار، اندھیری، جاڑے کی بہار غیرہ۔ "برسات کی بہاریں” نظیر کی شاہکار نظم ہے موسم کی خوشگوار کیفیت قدرت کے مناظر اور ہندوستانی سماجی نفسیات جو ہندوستان گاؤں میں بستا ہے ان کی سیکڑوں پیکرتراشیوں کو جنم دیتی نظم ہے۔
کوئی پکارتا ہے لو یہ مکان ٹپکا
گرتی ہے چھت کی مٹی اور سائبان ٹپکا
چھلنی ہوئ اٹاری، کوٹھا ندان ٹپکا
باقی تھا اک اُسارا، سو وہ بھی آن ٹپکا
سبزوں پہ بیر بھوٹی، ڑیلوں اوپر دھتورے
پسو سے مچھروں سے، روۓ کوئی بسورے
بچھو کسی کو کاٹے، کیڑا کسی کو گھورے
آنگن میں کن سلائ،کونوں میں کھن کھجورے
کیا کیا مچی ہیں یاروں، برسات کی بہاریں
نظیر کا سماجی شعور بہت پختہ تھا ان کے کلام کو پڑھ کر ان کی ذہانت و فطانت کی داد دینی پڑتی ہے۔ ان کے یہاں زبان کی مہارت کے ساتھ بھرپور مطالعہ و مشاہدہ بھی ہے۔ جس کے باعث ان کی شاعری میں خیال کی بلند پروازی، معانی کا تنوع ، مضامین کی رنگارنگی سب موجود ہیں۔ ان کی شاعری سے ہمیں آج بھی سبق ملتا ہے ۔ان کے کلام سے ہمیں نئی نسلوں کو روشناس کرانا چاہیے۔
نظیر کی نظموں کی مقبولیت کی وجہ سے ان کی غزلوں کو منظر عام پر آنے میں وقت لگا۔ غزل میں نظیر کا لب و لہجہ تخلیقی عمل اور شعری مقصد دوسرے شعرا سے مختلف تھا۔ ان کی شخصیت اور شاعری مختلف رنگوں اور کیفیات کا تصادم ہے اور عوامی زندگی کے اچھوتے اور زمین سے جڑے ہوئے پہلوؤں کو شاعری کا جزو بنا کر وہ ایک روایت پرست اور قدامت پسند شعری ماحول میں آنے والی درد کی آہٹیں سنا گئے۔
گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا؟
اور غم میں بسر ہوگی اوقات تو پھر کیا؟
سب کتابوں کے کھل گئے معنیٰ
جب سے دیکھی نظیر دل کی کتاب
سونا ، روپا سیم و جواہر صبر ودل ودیں،ہوش و قرار
آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہی اک آن میں سب رکھوا لے گی
مسکن کا پتہ خانہ بدوشوں سے نہ پوچھو
جس جا پہ کہ بس آ رہے ، وہ ہے وطن اپنا
یہ جواہر خان دنیا جو ہے با آب وتاب
اہل صورت کا ہے دریا، اہلِ معنی کا سراب
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ایک ‘مطالعہ انگیز’ تحریر۔ کیا کسی کے لئے ممکن ہے کہ وہ نظیر کی کلیات نام نہاد اخلاقیات کی پروا کئے بغیر طبع کردے ؟