اس وقت پورے ملک میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ 27 مارچ 1822 کو اردو کا پہلا اخبار جام جہاں نما کلکتہ سے نکلا تھا اور اب ہم مارچ 2022 کے مہینے سے آگے جا چکے ہیں۔ اسی درمیان رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے والا ہے جس کی وجہ سے تقریبات کے انعقاد کا یہ سلسلہ رک جائے گا۔ البتہ ایسی اطلاعات ہیں کہ مئی کے مہینے میں اور اس کے بعد بھی اردو صحافت کی دو صدی تقریبات کے حوالے سے پروگراموں کا انعقاد ہوگا اور صحافت کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی اپنا احتساب بھی کیا جائے گا۔ اس وقت دو صدی تقریبات کے حوالے سے کچھ مثبت باتیں ہو رہی ہیں تو کچھ منفی۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر تقریبات کے انعقاد کی درپردہ مخالفت کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم اردو صحافت کی دو صدی نہیں بلکہ دو سو سال میں صحافت کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس سے شدید اختلاف ہے۔ ایسا کہنے والے بباطن یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اردو صحافت مر گئی ہے، ختم ہو گئی ہے، فنا ہو گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ اردو صحافت آج بھی زندہ ہے اور اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ آج بھی ملک بھر سے بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں سے اردو اخبارات نکل رہے ہیں۔ ہزاروں اخبارات روزانہ صبح صبح لوگوں کے گھروں میں اور اسٹالوں پر پہنچتے ہیں۔ آج بھی ہزاروں افراد اردو صحافت کو اپنا ذریعۂ معاش بنائے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک اردو صحافت زوال ہی کی طرف گامزن رہی ہے۔ لیکن ایسا کہنے والے یہ نہیں سوچتے کہ جب اردو زبان ہی زوال آمادہ ہے تو اس کی صحافت کیوں نہیں ہوگی۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت کی دو سو سال کی تاریخ میں اس خطے کا بھی حصہ ہے جسے اب پاکستان اور بنگلہ دیش کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں حکومت کی جانب سے مراعات کی فراہمی کی وجہ سے صحافت اپنی بلندیوں پر ہے۔ ہندوستان میں آزادی کے پہلے بھی اردو کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں اور آزادی کے بعد بھی ہوتی آئی ہیں۔ اس کے باوجود اردو صحافت نہ صرف زندہ ہے بلکہ ہزاروں افراد کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی بنی ہوئی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ایسے نامساعد، صبر آزما اور حوصلہ شکن ماحول میں بھی اردو صحافت باقی ہے، یہ بڑی بات ہے۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ صحافت میں بہت خامیاں اور خرابیاں در آئی ہیں لہٰذا اس کا دو سو سالہ جشن منانے کا کوئی جواز نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اپنی مادری زبان کے احسانات کو فراموش کر دیا ہے۔ مانا کہ اردو صحافت میں خامیاں درآئی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں دو سو سالہ جشن دھوم دھام سے منانا چاہیے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ’’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘۔ گویا وہ اپنی مادری زبان کو زندہ درگور کر دینا چاہتے ہیں۔
قارئین کو معلوم ہوگا کہ مختلف تنظیموں کی جانب سے صحافت کی دو صدی منائی جا رہی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ’’بزم صدف انٹرنیشنل‘‘ نامی ایک بین الاقوامی تنظیم نے اس سلسلے میں بازی مار لی ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ بزم صدف کا ہیڈ کوارٹر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہے۔ لیکن وہ چودہ ملکوں میں اپنا کام کر رہی ہے۔ ان ملکوں میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ یوں تو اس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہے لیکن ا س نے صحافت کی دو سو سالہ تقریبات کے سلسلے میں بھی انتہائی اہم اور قابل مبارکباد قدم اٹھایا ہے۔ اس کے چیئرمین شہاب الدین احمد کے ایما پر اس کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے گزشتہ سال نومبر ہی میں اردو صحافت کے دو سو سال کے حوالے سے پٹنہ میں دو روزہ صحافت کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اس نے یہ سلسلہ وہیں ترک نہیں کیا بلکہ رواں سال کے پچیس، چھبیس اور ستائیس مارچ کو اس نے دو شہروں میں بین الاقوامی کانفرنس و سمینار کا انعقاد کیا۔ پچیس مارچ کو کلکتہ میں ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جہاں سے اردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ جاری ہوا تھا۔ یہ اس شہر کا حق تھا کہ اسے اولیت دی جائے۔ اس کے بعد چھبیس اور ستائیس مارچ کو اردو کے پہلے گھر قلی قطب شاہ کے مرکز حیدرآباد میں دو روزہ عالمی سمینار منعقد کیا گیا۔ یہ سمینار حیدرآباد کی تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی کے ویمنس کالج میں ہوا۔ مذکورہ دونوں پروگراموں میں دہلی سمیت ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ قطر، کویت، برطانیہ اور بنگلہ دیش کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔ ان کانفرنسوں میں بزم کے چیئرمین شہاب الدین احمد کے علاوہ بزم صدف دوحہ کے صدر ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش نے بھی شرکت کی۔ وہ برطانیہ میں برسرکار ہیں، وہ وہیں سے تشریف لائے تھے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بزم صدف کے تقریباً تمام عہدے دار ان پروگراموں میں موجود رہے۔ اس موقع پر ایک عالمی مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں کویت سے منفرد لب و لہجے کے شاعر و ادیب مسعود حساس، قطر سے خوش گلو اور نوجوان شاعر راقم اعظمی، دہلی سے پروفیسر ابوبکر عباد، علیگڑھ سے پروفیسر غضنفر، بتیا بہار سے پروفیسر ظفر امام قادری، کلکتہ سے طیب نعمانی اور بنگلور سے بزرگ شاعر و ادیب راہی فدائی وغیرہ نے شرکت کی۔ ان میں سے متعدد نے مقالے بھی پیش کیے۔ جبکہ معروف ادیب و نقاد حقانی القاسمی، تیرہ شہروں سے شائع ہونے والے روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر محمد گوہر، راقم السطور اور عابد انور نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے متعدد ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے حصہ لیا۔ اس موقع پر بزم صدف نے متعدد ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کو اعلیٰ ایوارڈز پیش کیے۔
حیدرآباد میں بزم صدف کے ایوارڈ فنکشن میں تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمد محمود علی نے شرکت کی۔ جبکہ تلنگانہ اردو اکیڈمی کے سابق چیئرمین محمد نعمان نے بطور خاص حصہ لیا۔ اس موقع پر بزم صدف کے چیئرمین شہاب الدین احمد نے اپنی افتتاحی تقریر میں جہاں بزم صدف کی کارکردگی اور اردو زبان و ادب و صحافت کے تعلق سے اس کی خدمات پر اختصار سے روشنی ڈالی وہیں انھوں نے تلنگانہ کے وزیر داخلہ کی موجودگی میں اس ریاست میں اردو زبان کے حوالے سے درپیش مسائل پر کھل کر گفتگو کی اور ان سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ محمد محمود علی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا ہے اور تمام سرکاری محکموں کو یہ ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ اردو میں تحریر کردہ درخواستوں پر بھی اسی طرح کارروائی کریں جس طرح تیلگو اور انگریزی زبان میں آنے والی درخواستوں پر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں اردو زبان کی تدریس کے سلسلے میں حکومت کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ جبکہ بزم کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ پر بھرپور گفتگو کی۔ بڑے اور جید صحافیوں اور اخباروں کی خدمات کا جائزہ لیا اور اردو صحافت کا احتساب بھی کیا۔ انھو ںنے عہد حاضر کی اردو صحافت کے مسائل پر بھی گفتگو کی اور صحافیوں کی خدمات کا بھی احاطہ کیا۔ اس سمینار میں ڈھاکہ سے آئے پروفیسر محمود الاسلام نے بنگلہ دیش میں صحافت کی ابتدا، ارتقا اور موجودہ صورت حال پر قابل ذکر گفتگو کی۔ وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے سابق صدر ہیں۔ وہ ایک اچھے شاعر اور مقرر بھی ہیں۔ انھوں نے بنگلہ دیش میں اردو زبان کی ترویج کے لیے جو کام کیا ہے اور جو کر رہے ہیں وہ قابل قدر ہے۔ سمینار میں اس بات کو محسوس کیا گیا اور پروفیسر صفدر امام قادری اور دیگر مقررین نے اس کی نشاندہی بھی کی کہ بنگلہ دیش کا قیام مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ بنگلہ زبان اور بنگلہ ثقافت کی بنیاد پر ہوا تھا۔ یعنی اس معاملے میں اردو دشمنی یا اردو کی مخالفت کا بھی عنصر شامل رہا۔ اس کے باوجود انھوں نے اردو سیکھی، اس کی تعلیم حاصل کی اور اردو شعبے میں ملازمت اختیار کی اور بالآخر صدر شعبہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ جبکہ ان کے تمام دوست اردو پڑھنے پر ان کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ لیکن انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ یہ اردو کے تئیں ان کی محبت کا زندہ ثبوت ہے۔
اس بین الاقوامی سمینار کے انعقاد میں رفعت جہاں صاحبہ اور ان کے اہل خانہ اور خواتین کے ان کے گروپ نے جو خدمات انجام دیں وہ قابل قدر و قابل ستائش ہیں۔ وہ بزم صدف کی بین الاقوامی امور کی انچارج ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دوحہ میں مقیم ہیں۔ لیکن اردو کے تئیں ان کا جذبہ ان سے بہت سے کام کرا لیتا ہے۔ وہ بھی اس سمینار میں شرکت کرنے کے لیے دوحہ سے آئی تھیں اور انتظامات سے ان کا سلیقہ جھلک رہا تھا۔ وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ دونوں روز پورے وقت تک موجود رہ کر ادب و صحافت کے تئیں اپنی دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہیں۔
اب چند باتیں مکتبہ صدف کی جانب سے شائع ہونے والی دو کتابوں کے سلسلے میں۔ دونوں صحافت سے متعلق ہیں۔ پہلی کا نام ہے ’’صحافت: دو صدی کا احتساب‘‘ اور دوسری کا نام ہے ’’صحافت (کتابیات)‘‘۔ اول الذکر کے مرتبین ہیں پروفیسر صفدر امام قادری، راج دیو کمار اور محمد مرشد۔ جبکہ ثانی الذکر کے مرتب ہیں ڈاکٹر محمد ذاکر حسین۔ اول الذکر کی ضخامت 753 اور ثانی الذکر کی ضخامت 624 صفحات ہے۔ پہلی کتاب میں 70 مضامین ہیں جن میں 1822 سے لے کر 2022 تک کی صحافت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری کتاب میں صحافت کے موضوع پر شائع ہونے والی اب تک کی تقریباً تمام کتابوں کی فہرست دے دی گئی ہے۔ ان کتابوں کو موضوعات کے اعتبار سے تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کو متعدد ابواب میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتابوں کے علاوہ اخبارات و رسائل میں صحافت سے متعلق مضامین کی اشاعت کا بھی زمرہ بنایا گیا ہے۔ یہ دونوں کتابیں انتہائی اہم اور گراں قدر ہیں۔ اول الذکر میں جہاں صحافت کی پوری تاریخ موجود ہے وہیں ثانی الذکر میں بھی تاریخ ہے مگر بہ انداز دگر۔ یہ دونوں کتابیں صحافت کے موضوع پر تحقیق کرنے والے اسکالرس کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہیں۔ میں ایک صحافی اور صحافت پر کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ دونوں کتابیں اپنے موضوع اور پیشکش کے اعتبار سے انوکھی اور منفرد ہیں۔ اس انداز میں ابھی تک کسی نے کام نہیں کیا تھا۔ ان دونوں ضخیم کتابوں کی اشاعت پر مکتبہ صدف کو بے اختیار داد دینے کی جی چاہتا ہے۔ (ان کتابوں کے مشمولات پر تفصیل سے پھر کبھی گفتگو ہوگی)۔
موبائل: 9818195929
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

