Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

ترنم ریاض کی افسانہ نگاری ’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘ کے تناظر میں – شاہد حبیب

by adbimiras اپریل 4, 2022
by adbimiras اپریل 4, 2022 0 comment

ترنم ریاض کی شناخت ہمارے یہاں ایک نظم گو شاعرہ کے طور پر رہی ہے اور ایک کامیاب فکشن نگارکے طور پر بھی۔ شاعری اور فکشن کے علاوہ انھوں نے کچھ تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں اور تراجم میں بھی طبع آزمائی کی ہے ۔ان سب کے باوجود بحیثیت افسانہ نگار وہ اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں ۔وہ بطور تخلیق کار موجودہ دور میں اس حیثیت سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں کہ وہ فن کے بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھ کر اپنی کہانی کا تانا بانا بنتی ہیں اور ہنرمندی سے اپنے افسانے تخلیق کرتی ہیں ۔ان کی تخلیقات پڑھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کو دیکھنے کا ان کا اپناایک الگ ہی زاویہ تھا ۔ترنم ریاض کے یہاں ماحول اور حالات کا عکس صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے اور خاص کر کشمیر کے سیاسی پس منظر کو لے کر کافی حساس بھی ۔وہ اپنے اس انداز میں بڑی بے باک اور نڈر بھی ہیں اور یہی بے باکی ان کو اپنے ہم عصروں میں امتیاز عطا کرتی ہے جو ان کا سب سے بڑا ہنر ہے ۔

ڈاکٹر ترنم ریاض کا اصل نام فریدہ ترنم تھا۔9/ اگست1963کو سری نگر (کشمیر )میں پیدا ہوئیں ۔ ابتدائی تعلیم سری نگر میں ہی ہوئی۔ اس کے بعد ایجوکیشن میں M.A  کی ڈگری حاصل کی اور ایجوکیشن سے ہی کشمیر یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ترنم ریاض کی پوری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزری۔ اس کے علاوہ وہ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہیں۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز1973 میں کیا۔  1975 میں پہلی کہانی لکھی جو روز نامہ ’آفتاب‘ میں شائع ہوئی۔ 1983 میں انھوں نے ریاض پنجابی سے شادی کرکے  فریدہ ترنم سے ترنم ریاض بن گئیں ۔

ترنم ریاض نے مختلف سماجی مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایاہے، اس لیے ان کے افسانوں میں ایک خاص کیفیت کی عصری حسیت کو بآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی فکر کو بڑی بے باکی کے ساتھ مختلف کرداروں میں ڈھال کر پیش کیاہے ۔اپنی کہانیوں میں انھوں نے مختلف کرداروں کی نفسیات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ وہ روز مرہ کی زندگی سے چھوٹے بڑے مسائل کو فنی چابکدستی کے ساتھ اخذ کرتی ہیں اور انہیں مختلف کرداروں میں سمو کر مجبور وبے کس انسانوں کی آواز بنادیتی ہیں۔ انھوں نے کئی ایسے افسانے تخلیق کئےجنھیں اعلیٰ درجے میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ان افسانوں میں” مٹی “،”اچھی صورت بھی کیا“،”برآمدہ“، ”شہر“، ”برف گرنے والی ہے“، ”ناخدا“اور”کمرشیل ایریا“ کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کا افسانہ ’مٹی‘ مظلوم و بےکس انسانوں کے درد کوبیان کرتا ایک شاہکار افسانہ ہے ۔ ایک شخص جو اپنی مٹی سے پیار بھی کرتا ہے اور ظلم کی وجہ سے اسے چھوڑ کر جانے پر مجبور بھی ۔ لیکن حالات ایسے ہیں کہ وہ اپنا سارا اثاثہ تج دینے پربھی راضی ہے۔ اس کے باوجود ظلم کا شکار ہونے سے بچ نہیں پاتا۔ افسانے میں منظرکشی بڑی جاذب نظر طریقے سے کی گئی ہے جس سے قاری مظلوم افراد سے ہمدردی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسی پس منظر کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو، دیکھیے کس خوبصورت طریقے سے انھوں نے حالات کو الفاظ کا جامہ پہنایا ہے:

’اندر گھروں کی تلاشی ہو رہی تھی،تلاشیاں لینے والے ایک گھر میں آجا رہے تھے ۔ ایک وردی پوش جب ایک گھر سے نکل کر جانے والا تھا، اس کی پتلون کی پچھلی جیب میں سونے کی ایک زنجیر جھانک رہی تھی۔ وہ جلدی میں شاید اسے اچھی طرح ٹھونس نہ پایا تھا ۔۔۔میری۔۔۔۔۔بچی کی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کی شادی کے لئے ۔

ہلال احمد کا ہمسایہ غلام حسن زور سے بولااور بھاگ کر وردی پوش کے پاس پہنچ گیا ۔لڑکی باپ کے پیچھے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے گئی اور کچھ دورپر رک گئی۔‘  (افسانہ مٹی:ص ۶۷۔۷۷)۔

ٖٓ افسانہ ’ مٹی‘ کا ذکر کرتے ہوئے ترنم ریاض لکھتی ہیں کہ:

”افسانہ ’مٹی‘ نے بھی از حد رنجیدہ کیا تھا۔ مجھے اس افسانے کو تحریر کرنے سے پہلے میں کچھ دیر کے لئے اس ماحول میں رکی۔ وہاں کی گھٹن،درد ، کرب اور ہر شے پر محیط مایوسی میرے اندر جذب ہوگئی تھی ۔ تب ’مٹی‘ کا ظہور ہوا“۔

افسانہ ’مٹی ‘  میں افسانہ نگارنے جنگ سے متاثر ایک مظلوم انسان کی مظلومیت اور مسائل کو جس فن کاری سے پیش کیا ہے، وہ کمال کا ہے ۔ ان کی باتوں میں کتنی سچائی ہے اس کا اندازہ افسانہ پڑھ کر بخوبی ہوجاتا ہے ۔اگرچہ یہ افسانہ ایک مخصوص ماحول اور مسائل کی پیدا وار ہے لیکن ترنم کی تخلیقی بصیرت نے اس افسانے کو علاقائیت سے اوپر اٹھا کر ایک آفاقی عظمت عطا کی ہے  ’اچھی صورت بھی کیا‘ ترنم ریاض کا ایک سلگتے مسئلے کو اجاگر کرتاایک بے باک افسانہ ہے۔ اس میں انھوں نے موجودہ دور کے ایک پیچیدہ مسئلے کو توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ شہروں میں بڑھتی بھکاریوں کی تعداد سے ہر خاص و عام پریشان ہے ۔ اس کے تحت معصوم بچوں کے استحصالی نظام نے ہمارے سماج میںایک ناسور کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ مختلف ریاستی سرکاروں نے اس کے خاتمے کے کئی منصوبے بھی وضع کیے ہیں لیکن مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ صرف سرکاری اقدامات سے اس کا قلع قمع نہیں ہو سکتا۔ اس میں ہر فرد کی حصہ داری ضروری ہے۔ اس چیزکو ترنم ریاض نے محسوس کیا اور ایک خوبصورت افسانہ تخلیق کیا۔ اس افسانے میں ایک معصوم بچے راہل کی کہانی پیش کی گئی ہے ۔راہل کوبھیک مانگنے کے لئے اغوا کیا جاتا ہے ۔ افسانے کو پڑھ کر حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کس طرح حالات اور ماحول معصوم بچوں کو چوری اور دوسرے جرائم کی دنیا میں دھکیل دیتے ہیں ۔راہل کا باپ ایک شرابی ہے جسے اپنی اولاد کی کوئی فکر نہیں ۔ وہیں دوسرا بھیک مانگنے والا بچہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ پولیس ان بچوں کو سر غنہ کے ساتھ پکڑتی ہے تو خوف کے مارے ان بچوں کے منھ سے یہ جملے نکلتے ہیں :

’رضیہ بی ہماری سچی ماں ہیں۔۔۔۔۔۔‘

دیکھا رضیہ بی ہم نے کچھ نہیں بتایا نا؟ ہم کو مت مارنا‘

ان جملوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کس طرح یہ معصوم بچے خوف کے اندر پلتے اور جیتے ہیں ۔ان کے لیے اپنے سرغنہ کی خوشنودی دو وقت کی روٹی کے حصول کی ضمانت ہوتی ہے۔اس لیے وہ پولیس کے سامنے اپنے سرغنہ کے خلاف بیان دینے سے بھی کتراتے ہیں۔ ظاہر ہے سرکاری اسکیمیں جب تک زیرو لیول پر نہیں پہنچیں گی تو بھیک جیسی دلدل سے معصوم بچوں کو نکالنا ایک مشکل امر ہوگا۔ اسی بات کو ترنم ریاض نے اپنی فنکاری سے قاری تک بڑی خوبصورتی کے ساتھ منتقل کیا ہے۔

افسانہ ’ برآمدہ‘ موجودہ سوسائٹی کے ایک اہم مسئلے پر مبنی ہے ۔ افسانے کی ہیروئن شہلا کا شوہر سہیل دوسری عورتوں میں زیادہ دلچسپی دکھاتا ہے۔شہلا کے لیے شوہر کا یہ برتاؤ کسی اذیت سے کم نہیں ۔ وہ اسے روکنے کی بہت کوشش کرتی ہے پر کامیاب نہیں ہوپاتی ۔ شہلا کو اس ماحول سے گھٹن سی ہوتی ہے اور یہ فطری بھی ہے اس عورت کے لئے جس کا مرد کسی دوسری عورتوں میں دلچسپی لیتا ہے۔شہلا اپنے شوہر کی ان حرکتوں سے بہت تنگ آجاتی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ خود بھی اپنے شوہر جیسی حرکتوں پر اتر آئے وہ اپنے آپ کو شوہر جیسا بننے سے روک لیتی ہے۔ ترنم ریاض نے شہلا کی کیفیت کو جس ہنرمندی سے پیش کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔شہلا کی ذہنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں:

” جلدی سے زینے کی طرف طے کرکے اپنی خوابگاہوں کی پناہوں میں پہنچتے ہوئے میں یہ سوچ رہی تھی کہ …… آرزو کو تو کوئی نہ کوئی جواب مل ہی جائے گا۔

اور خود مجھ کو……؟“  ( ابابیلیں لوٹ آئیں گی: افسانہ برآمدہ: ص۱۶۳)۔

اسی سوال کے ساتھ افسانہ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہی سوال قاری کے دل میں بہت سے نئے خیالات کو جنم دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ترنم ریاض نے افسانے میں ہمارے معاشرے کے جس مسئلے کو اجاگر کیا ہے اس نے اب ناسور کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسے  اب   LGBTQکی طرح صرف قانونی حیثیت ملنے کی دیری ہے اور دوسری طرف ان جیسے مردوں کی بیویاں بھی اس چیز کا شکار ہوتی ہیں اور ایک اچھے گھر کو بکھرنے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں ۔ آج یہی چیزسماج میں انتشار پھیلانےکا سبب بھی بن رہی ہے

ترنم ریاض نے شہری زندگی کے مسائل پر بھی افسانے لکھے ہیں ۔ اس ذیل میں ان کا نمائندہ افسانہ ’شہر ‘ اور ”کمرشیل ایریا“ہے۔ اپنے افسانے ”شہر“ میں انھوں نے تصویر کھنیچی ہے کہ کس طرح امان کو شہر آنے کی بڑی آرزو ہوتی ہے اور ایک دن ا س کی یہ آرزو پوری بھی ہوجاتی ہے ۔شہر آکر امان اپنی بیوی ”بابرہ“ کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہنے لگتا ہے۔لیکن جب امان دو دن کےلئے کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جاتا ہے تو امان کی اسی غیر موجودگی کے ایام میں بابرہ کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔ موت جیسے سانحے کے باوجود شہر میں ایک پڑوسی دوسرے پڑوسیوں سے کس طرح لاتعلق رہتا ہے اور لاش کے سڑنے کی نوبت آجاتی ہے، اسے بڑے ہی درد انگیز طور سے ترنم ریاض نے بیان کیا ہے۔ امان کی بیوی کب مر گئی یہ صرف اس کے چھوٹے چھوٹے بچے جان رہے ہوتے ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی نہیں کیونکہ دو دن سے اس فلیٹ میں کوئی جھانکا تک نہیں تھا۔

افسانے میں ترنم ریاض نے شہر کی بے حسی کے مناظر کو بڑی ہی خوبی کے ساتھ دکھایا ہے کہ ایک لاش کمرے میں دو دن تک پڑی رہتی ہے اور اس کے ہمسایوں کو پتہ تک نہیں چلتا۔ اس طرح یہ افسانہ شہری زندگی پر جس میں جذباتوں کی اب کوئی قدر نہیں رہ گئی ہے ۔ہر طرف ایک مادیت ہے ، اس پر بھر پور طریقے سے چوٹ کیا گیا ہے ۔

اسی طرح ترنم ریاض نے اپنی بیشتر کہانیوں کی بنیاد روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی واقعات پر رکھا ہے ۔گھریلو مسائل اورعورت و مرد کے رشتوں پرانھوں نے کئی افسانے لکھے ۔ بعض کہانیوں میں انھوں نے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے نفسیاتی مسائل بھی موضوع بنایا ہے ۔افسانہ’ آدھے چاند کا عکس ‘ اور’ گلچیں‘اس کی عمدہ مثالیں ہیں ۔

افسانہ ’برف گرنے والی ہے ‘ مفلسی اور غربت سے تنگ آئے ہوئے ایک گھر کی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک کمسن لڑکا ’جاوید‘ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے ۔ اس کام سے اس کے گھر کا گزارا بڑی مشکل سے ہوتا ہے ۔بالآخر اسی غریبی سے تنگ آکر جاوید غلط راستے پر چلنے کے لئے مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے اپنے والدین اور اپنی چھوٹی بہن کا دکھ نہیں دیکھا جاتا ۔اس افسانے میں ترنم ریاض نے مکالمے کی مدد سے بڑی ہی خوبصورت موڑ عطا کیا جو قاری پر ایک خاص تاثر قائم کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔جاب کی تلاش کے سلسلے میں ماں اور بیٹے کے درمیان کی گفتگو کو یہاں ملاحظہ کیجئے:

”بہت پہلے میرے پاس ایک کام دعوت ہے ۔ میں نے انکار کر دیا تھا ۔ مگر بابا اب کروں گا۔ بس ذرا سا احتیاط کا کام ہے ۔اور پیسہ ہی پیسہ“ ۔

جاوید کے والدین اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ اپنی کوشش میں ناکام رہتے ہیں ۔جاوید کی ماں بھی ہر ماں کی طرح اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتی ہے۔ وہ اپنے آرام کی خاطر اپنے بیٹے کو کسی غلط کام میں نہیں ڈالنا چاہتی۔

”نہ میرے لعل ۔ ہمارے پیٹ کے لئے اپنی زندگی مت بیچنا ۔ بھوکی جی لوں گی۔ تمھیں کھوکر زندہ نہ رہ پاؤں گی ۔ میرے بچے“۔

اس مکالمے کی مدد سے ترنم نے جو سماں باندھا ہے اور قاری پر دیرپا اثر چھوڑنے میں پوری طرح کامیاب ہے۔

ترنم ریاض کے افسانوں کا کینوس کافی وسیع ہے۔ وہ اپنے افسانوں کی بنیاد روز مرہ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات پر رکھتی ہیں۔ یہ واقعات اہم ہیں اور ہمارا سامنا ان سے روز ہوتا رہتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں زندگی کے عام مسائل کو بڑی فن کاری سے پیش کرتی ہیں ۔ ان کی اسی خوبی کی تعریف کرتے ہوئے بجا طور پر انھیں نسائی حسیت کا علمبردار فنکار کہا گیا ہے۔اس ضمن میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی کی رائے قاری کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں :

’ ترنم ریاض ان افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں جن کا اظہار اور بیانیہ ان کی اپنی ذات کے ساتھ تہذیب و ثقافت اور اعلیٰ اقدار پر مبنی ہوتا ہے۔ مجھے ترنم ریاض کی کہانیوں میں رواج کے بھر پور شعور کے ساتھ تجربے کا رنگ بھی شامل نظر آتا ہے ۔ وہ صورت ِحال کو کہانی بنانا جانتی ہیں اور اپنے زمانے کی اسلوبیاتی رویوں سے واقفیت کے باعث کسبِ فیض بھی کرتی ہیں ۔مجھے ترنم ریاض کے پہلے افسانوی مجموعے’ یہ تنگ زمین‘ کی بیشتر کہانیان ایک سچے فن کار کی ترجمانی محسوس ہوئی تھیں ۔خوشی کی بات یہ کہ نیا مجموعہ’ ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘ ان

کے فنی سفر کا دوسرا پڑاؤ ہے جو اپنے میں قابلِ توجہ بھی ہے اور اپنے زمانے کے نمائندہ افسانوی رجحانات کا عکاس بھی مثال کے طور پر ’برف گرنے والی ہے، مٹی، شہر ، باپ ، اماں‘ وغیرہ۔ )ابابیلیں لوٹ آئیں گی: فلیپ)۔

 

 

شکریہ

Shahid   Habib

Research Scholar, Maulana Azad National Urdu University,

Lucknow Campus.504/122, Tagore Marg, Near Nadva college , Daliganj , Lucknow – 226020

Mob.: 8539054888, shahidhabib.rs@manuu.edu.in

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عصری اور دینی تعلیم کی یکساں اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے: غضنفر شکیل
اگلی پوسٹ
عید کے تہوار کے پیش نظر چندینی مستحق کیمپ کی خواتین کو نظیفہ زاہد نے نئے کپڑے تقسیم کیے۔

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں