Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

غالب اور معاصر اردو فرہنگ ’مخزن فوائد‘ – ڈاکٹر محمد ذاکر حسین

by adbimiras جولائی 25, 2022
by adbimiras جولائی 25, 2022 0 comment

غالب اردو شعر و ادب کے ایسے کوہِ نور ہیں جس کو جتنا صیقل کیا جائے، اُتنی روشنی نکلے گی۔اب تک اِس کوہِ نور کو اِتنا گصیقل کیا گیا ہے کہ چاروں طرف غالب کی روشنی پھیل چکی ہے اور عالمی پیمانے پر اُن کی اہمیت وعظمت تسلیم کر لی گئی ہے۔ آج غالب صرف اردو زبان کے یا صرف ہندستان کے یاصرف انیسویں صدی کے شاعر نہیں رہے بلکہ زبان، مقام اور زمانے کے تنگ دائرے اور محدود کینوس سے باہر نکل کر ایک عالمی پیمانے کے شاعر بن گئے ہیں۔غالب کو ایک عالمی شاعر تسلیم کرانے میںغالب کی نگارشات کے علاوہ محققین اور ناقدین کی تحریروں کا بھی رول رہا ہے کیونکہ اِنھوں نے غالب کے مختلف انجان گوشوں کو اُجاگر کیا ۔ شاعری کی تو ایسی شرحیں اور ایسی تفہیمیں پیش کی گئیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ خطوط  پر متوجہ ہوئے تو مکالمۂ غالب کی شکل میں ایک ڈرامہ تیار کر دیا، اِنھیں خطوط سے غالب کی سوانح عمری بھی تیار ہو گئی۔ اُن کی رودادِ سفر کو ہاتھ میں لیا گیا تو غالب اور آگرہ، غالب اور بھوپال، غالب اور کلکتہ ، غالب اور بہار، کتب خانہ خدا بخش اور غالب جیسے موضوعات پر تحریریں سامنے آگئیں۔اُن کی لفظیات پر نگاہ گئی تو لغات غالب، فرہنگ غالب، اشاریہ کلام غالب(کلام غالب میں فارسی ترکیبیں )اور فرہنگ مرکبات غالب جیسے ذخیرے تیار ہوگئے۔ کہاں تک محققین و ناقدین کی کاوشوں کا ذکر کیا جائے، اِس کے لئے ایک دفتر درکار ہے لیکن اب بھی کچھ گوشے ایسے ہیں جن پر گفتگو ممکن ہے مثلاً اوّل یہ کہ غالب کے معاصر اردو لغات میں اُس وقت کے لغت نویسوں نے اُن کے کلام کوبطور شواہد کس نظر سے دیکھا؟۔ دوم یہ کہ غالب اور بہار کے تعلق سے صرف قاضی عبد الودود صاحب کی ہی تحریر سامنے آ سکی ہے، وہ بھی آدھی ادھوری ہے۔  اِس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔سوم یہ کہ غالب کے عہدکے اردو رسائل و اخبارات کا جائزہ لیا جانا باقی ہے۔ اگر اِن رسائل و اخبارات سے غالب سے متعلق مواد جمع کئے جائیں تو ایک اچھا اور معلوماتی کام پایۂ تکمیل تک پہنچیگا۔ چہارم یہ کہ غالب پر بیدل کے اثرات کا جائزہ اُس پیمانے پر نہیں لیا گیا ہے جس کا یہ موضوع متقاضی ہے۔ پنجم یہ کہ ماہرین غالبیات قاضی عبد الودود اور امتیاز علی عرشی کی تحریروں کاتحقیقی اور ناقدانہ جائزہ ابھی باقی ہے کہ اِن میں کیا کمی بیشی ہے۔ یہاں سارے پہلو پر گفتگو ممکن نہیں ہے۔ فی الحال غالب کے معاصر اردو لغات کے تعلق سے چند باتیں پیش خدمت ہیں:

غالب تحقیق کے ذیل میں اب تک اِس امر پر روشنی نہیں ڈالی گئی ہے کہ غالب کے معاصر اور بعد کے لغت نویسوں نے اپنی فرہنگوں میں اُن کے اشعار کو بطورِ سند اس طرح استعمال نہیں کیا ہے جس طرح اُن کے معاصرین ذوق، مومن، نکہت، شاہ نصیر وغیرہ کے اشعار کو شواہد کے طور پر شاملکیا گیا ہے۔ویسے تو اردو لغت نویسی کی روایت بہت قدیم ہے لیکن ۱۷۹۲ میں ایک نئے انداز سے فرہنگ مرتب کی گئی جس میں پہلی بار شعرا کے کلام سے شواہد پیش کئے گئے۔ یہ مرزا جان طپش دہلوی کی فرہنگ ’شمس البیان فی مصطلحات الھندوستان‘ ہے جس میں صرف ۲۹۰؍ مصطلحات شامل میں۔ اِس کے ۵۴؍ برس بعد مرزا نیاز علی بیگ نکہت دہلوی نے ۱۸۴۵ میں مخزن فوائد کی تالیف کی جو ۳۲۲۰؍ مصطلحات، امثال اور محاورات پر مشتمل ہے۔

’مخزن فوائد‘ کے مؤلف نکہت دہلوی اور مرزا غالب ہم عصر ہیں۔ دونوں کا سالِ ولادت  ۱۷۹۷ ہے البتہ نکہت کی وفات غالب (م ۱۸۶۹) سے ۱۸؍ برس قبل ۱۸۵۱ میں ہوئی۔ دونوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔اول یہ کہ دونوں کے آبا و اجداد بیرون ملک سے ہندستان آئے اور اُنھوں نے یہاں اپنا مسکن بنایا۔ چنانچہ نکہت دہلوی کے آبائی و اجداد ترکستان سے ہندستان آئے اور دہلی کو اپنا مسکن بنایا(محاورات نکہت؍ مرتبہ محمد ذاکر حسین، ص ۱۳)۔ جب کہ غالب کے دادا سمرقند سے لاہور آئے اور وہاں سے دہلی۔غالب نے ایک خط میں لکھا ہے کہ:

’’میرے پرداد (کسی بات پر) اپنے والد سے ناراض ہو گئے اور (سمرقند سے) لاہور چلے آئے۔ یہاں انھوں نے معین الملک کی ملازمت کر لی۔ قسمت نے معین الملک کا ساتھ چھوڑا تو اُن (غالب) کے اجداد دہلی آگئے اور ذوالفقار الدولہ میرزا نجف خاں کے ساتھ ہو گئے‘‘۔(غالب اور شاہان تیموریہ؍خلیق انجم)

غلام رسول مہر ، غالب کے مذکورہ بیان سے اتفاق نہیں رکھتے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’غالب کا یہ دعوی محل نظر ہے کہ اُن کے دادا شاہ عالم کے عہد میں ہندستان آئے۔ اس لئے کہ شاہ عالم کی بادشاہی کا زمانہ ۱۷۵۹ سے شروع ہوتا ہے اور نواب معین الملک عرف منّو نے جن کے پاس غالب کے دادا ملازم ہوئے تھے، نومبر ۱۷۵۰ میں وفات پائی۔ لہذا ماننا چاہئے کہ میرزا قوقان بیگ خان، محمد شاہ کے عہد میں ہندستان آئے ‘‘( غالب اور شاہان تیموریہ، ص ۱۹)۔

دوم یہ کہ غالب کے دادا جس مرزا نجف خاں کے ساتھ ہو گئے تھے، وہ شاہ عالم کے دربار میں مختار عام کے عہدہ پر فائز تھے۔ اِس طرح غالب کے خاندان کا بالواسطہ طور پرمغل دربار سے تعلق قائم ہوا اور غالب کا براہ راست دربار سے تعلق بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب بہادر شاہ ظفر انگریزوں کے پنشن خوار تھے۔ جب تک ہندستان کا پلّہ بھاری رہا ، غالب دربار میں جاتے رہے لیکن جیسے ہی شکست ہوئی، وہ انگریزوں کے ساتھ ہوگئے۔ انھوں نے کہیں بھی مغل حکومت کے زوال پر اظہار افسوس نہیں کیا ہے اور جب بہادر شاہ ظفر کا انتقال ہوا تو اِس سلسلے میں اُن کی تحریر جذبہ و احساس سے عاری ہے۔

نکہت کے آبا و اجداد کی مغل بادشاہوں کے دربار سے وابستگی شاہ عالم ثانی (۱۷۸۸۔۱۸۰۶) کے عہد میں ہوئی اور شاہی دربار میں مناصب جلیلہ پر فائز ہوئے اور جب مغل سلطنت کا زوال ہوا تو نوابین رامپور کے دربار سے وہ منسلک ہوگئے۔ نکہت کا براہ راست شاہی دربار سے تعلق اکبر شاہ ثانی (۱۸۰۶۔۱۸۳۷) کے عہد میں ہوا اور وہ شاہی شعرا میں شامل کر لئے گئے۔ اُس وقت ایک سے ایک استاد شعرا کی موجودگی دربار میں تھی۔ اِن استاد شعرا کی موجودگی میں اکبر شاہ ثانی کے دربار میں نکہت کا باریاب ہونا اپنے آپ میں ایک بڑی بات تھی جب کہ غالب کی اکبر شاہ ثانی کے دربار میں رسائی نہ ہوسکی۔ بہادر شاہ ظفر (۱۸۳۷۔ ۱۸۷۵) کے دربار میں بھی نکہت تین برس رہے۔

سوم یہ کہ دونوں کا شعر و سخن سے گہرا لگاؤ تھا اور اِسی خوبی کی وجہ سے دونوں مغل دربار سے منسلک ہوئے تھے۔ چہارم یہ ہے کہ دونوں کا پرنسپل بوترس سے گہرا تعلق تھا اور اُنھیں کی فرمائش پر نکہت نے اردو فرہنگ مخزن فوائد کی تالیف کی جس کا اظہار اُنھوں نے اپنے مقدمہ میں کیا ہے۔  یہ فرہنگ نکہت ہی کی زندگی میں شائع ہوئی لیکن اِس کے نسخے کمیاب ہوگئے۔ ایک کمیاب مطبوعہ نسخہ اور ایک قلمی نسخے کی مدد سے خاکسار نے اِس کی تدوین کی جو خدا بخش لائبریری سے ۱۹۹۸ میں شائع ہو چکی ہے۔ ۵۷۴؍ صفحات پر مشتمل اِس فرہنگ میں ۳۲۲۰؍ اصطلاحات، محاورات اور امثال ہیں۔ سید احمد دہلوی نے فرہنگ آصفیہ میں مخزن فوائد سے نقل کی حد تک استفادہ کیا اور کہیں اِس کا نام تک نہیں لیا ۔ دونوں کا تقابلی مطالعہ میں نے اپنے مقدمے میں پیش کیا ہے۔

مغل دربار اور پرنسپل بوترس سے غالب اور نکہت کے گہرے مراسم سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف تھے البتہ مراسم اچھے تھے یا خراب، اِس پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ اِس کے شواہد دستیاب نہیں ہوسکے ہیں لیکن مخزن فوائد میں بطور سند غالب کے اشعار سے نکہت کی بے اعتنائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔ ذوق، مومن، شاہ نصیر اور خود اپنے سینکڑوں اشعار وہ شواہد میں پیش کرتے ہیں لیکن غالب کے صرف ۹؍ اشعار کو وہ اِس قابل سمجھتے ہیں۔ کوئی تو وجہ رہی ہوگی، یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا۔ نکہت نے غالب کے جن اشعار کو اپنی فرہنگ میں شامل کیا ہے، وہ ذیل میں ہیش کئے جاتے ہیں:

۱۔  اپنا سا منہ لے کر رہ گیا: شرمندہ اور خجل اور نادم ہو (۱۶)۔

آیینہ دیکھ اپنا سا منہہ لے کے رہ گئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

اِس اصطلاح میں نکہت نے غالب کے علاوہ شاہ نصیر، سرور، نکہت (مؤلف فرہنگ)، جرأت، مومن اور حسن کے اشعار کو بھی بطور سند پیش کیا ہے اور سب سے آخر میں غالب کا شعر درج کیا ہے۔ جس غزل کا یہ شعر ہے، اُس میں آٹھ اشعار ہیں۔ نکہت نے اِس غزل کے دیگر اشعار پر غور نہیں کیا یا قصداً چھوڑ دیا ۔ اگر غور کرتے یا نیت صاف ہوتی تو وہ اِس اصطلاح ’فتنۂ انتظار جلنا‘ کو نہیں چھوڑتے۔ غالب کا شعر ہے:

ہر رنگ میں جلا اسد فتنۂ انتظار

پروانۂ تجلی شمعِ ظہور تھا

۲۔ٹپکی پڑتی ہے:  باعث کثرت اور بہ سبب زیادتی کے ضبط نہیں ہوسکتا ظاہر ہوا چاہتا ہے یا ہوتی جاتی ہے(۱۴۱):

گِریَہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی

در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

اِس شعر کے علاوہ رنگین اور نکہت کے بھی اشعار سند میں پیش کئے گئے ہیں۔ اِس اصطلاح میں پہلا شعر غالب کا ہے۔ غالب کی اِس غزل میں ۹؍ اشعار ہیں۔ اِس غزل سے دو ترکیبیں اور اخذ کی جا سکتی تھیں:

شمشیر کا عریاں ہونا:

عشرتِ قتل گہہِ اہلِ تمنا مت پوچھ

عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

نکہت نے اپنی فرہنگ میں ’ننگی شمشیر ہے‘ کی اصطلاح قائم کی ہے اور اِس کے شواہد میں سجاد اور رنگین کے اشعار پیش کئے ہیں لیکن غالب کے اِس شعر کو قابلِ اعتنا نہ سمجھا۔

خاک میں لے جانا:

لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نَشاط

تُو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا

۳۔دھول دھپا:  غیر کے سر پر ہاتھ مارنا خواہ تمسخر سے یا خفگی و رنجش سے (ص ۲۰۶):

دھول دھپا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیں

ہم ہی کر بیٹھیں گے غالب پیش دستی ایک دن

دیوان غالب نسخہ حمیدیہ میں یہ شعر اِس طرح ملتا ہے:

دھول دھپا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیں

ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

یعنی مخزن فوائد میں’ہم ہی کر بیٹھیں گے‘ ہے جب کہ نسخہ حمیدیہ میں ’ہم ہی کر بیٹھے تھے‘ ہے۔ ظاہر ہے دونوں کے مفہوم میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ شعر کا انداز بتاتا ہے کہ’ہم ہی کر بیٹھیں گے‘ ہونا چاہئے ’’، کیونکہ اِسی غزل کے تین اشعار میں ’’چھیڑیں گے‘‘، ’’رنگ لاوے گی‘‘ اور ’’بے صدا ہو جائے گا‘‘ میں مستقبل کے صیغے  استعمال ہوئے ہیں۔ غالب کی اِس غزل میں ۵؍ اشعار ہیں۔ نکہت نے اِس اصطلاح کی سند میں صرف غالب کا مذکورہ شعر پیش کیا ہے۔ گویا غالب کے اِس شعر کے علاوہ اُن کو کوئی اور شعر نہیں ملا ورنہ وہ  ضرور پیش کرتے جیسا کہ دیگر الفاظ کے شواہد میں اُن کا طریقِ کار رہا ہے۔ نکہت نے اپنی فرہنگ میں ’رنگ لایا ہے‘ ایک اصطلاح قائم کی ہے اور اُس کی سند میں میر، مومن، شاہ نصیر اور سودا کے اشعار پیش کئے ہیں لیکن غالب کے شعر کو درج نہیں کیا۔ جب کہ اِسی غزل میں اُن کا یہ شعر ہے:

قرض کی پیتے تھے مَے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

’چھیڑنا‘ بھی مخزن فوائد میں ہے اور اِس کی سند میں شاہ نصیر کا شعر پیش کیا گیا ہے جب کہغالب کی اِسی غزل کے اِس شعر کو چھوڑ دیا گیا ہے:

ہم سے کھل جاؤ بوقت مَے پرستی ایک دن

ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذرِ مستی ایک دن

۴۔سونا سوگند: نیند لینا، آرام کرنے کی ذرا مہلت نہ ملنا (ص۲۷۱):

دکھ جس کو پسند ہوگیا ہے غالب

دل رو رو کے بند ہوگیا ہے غالب

واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں

سونا سوگند ہوگیا ہے غالب

دیوان غالب ص ۳۸۴ میں اِس کا پہلا مصرعہ اِس طرح ملتا ہے:

دکھ جی کے پسند ہوگیا ہے غالب

دل رُک رُک کر بند ہوگیا ہے غالب

مذکورہ اصطلاح کی سند میں غالب کی رباعی کے علاوہ یاس کی رباعی بھی ہے۔

۵۔ گوشت سے ناخن جدا نہیں ہوتا: محبت دل سے نہیں جاتی اور یگانہ بیگانہ نہیں ہوتا (ص ۳۶۷):

دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال

ہوگیا گوشت سے ناخن کا جدا ہوجانا

غالب کے اِس شعر کے علاوہ شاہ نصیر، معروف، نکہت اور سرور کے اشعار شواہد میں پیش کئے گئے ہیں اور غالب کے شعر کو پہلے مقام پر رکھا گیا ہے۔ غالب کی اِس غزل میں دس اشعار ہیں۔نکہت اگر چاہتے تو اس غزل سے اپنی فرہنگ میںدو الفاظ کا مزید اضافہ کرتے مثلاً :

پانی ہوا ہوجانا:

ضُعف سے گرِیَہ ُمبدّل بہ دمِ سرد ہُوا

باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

بات بننا:

تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قُفلِ  ابجد

تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

۶۔ گل کترا: آفت تازہ برپا کی اور کار نمایاں کیا اور نیا شعبدہ ایجاد کیا (ص ۳۷۰):

دیکھو تو دل فریبیِ اندازِ نقشِ پا

موجِ خِرامِ یار بھی کیا گُل کتر گئی

اِس لفظ کے شواہد میں نکہت نے غالب کے شعر کو پہلے مقام پر رکھا ہے ۔ اس کے بعد مصحفی، سرور، معروف، شاہ نصیر اور جرأت کے اشعار پیش کئے گئے ہیں۔غالب کی اِس غزل میں ۹؍ اشعار ہیں۔ نکہت نے اپنی فرہنگ میں خاکہ اڑا؍ خاک اڑا کی اصطلاح قائم کی ہے لیکن اُس میں غالب کے اِس شعر کو شامل نہیں کیا:

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں

بارے اب اے ہَوا، ہوسِ بال و پر گئی

مذکورہ غزل سے دو الفاظ کا مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔

نگہ بکھرنا:

نظّارہ نے بھی کام کیا واں نَقاب کا

مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

قیامت گزرنا:

فردا  و  دِی کا تفرقہ اک بار مٹ گیا

کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزرگئی

۷۔ گیا وقت: عیش رفتہ اور ایام گذشتہ شباب ( ص ۳۸۹):

مہرباں ہو کے بُلا لُو مجھے چاہو جس وقت

میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

غالب کے اس شعر کے علاوہ نکہت نے حسن کا شعر پیش کیا ہے۔ غالب کے اِس غزل میں ۷؍ اشعار ہیں۔ اِس سے دو شعر کو مزیدشامل کیاجاسکتا تھا لیکن اِس کو قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ وہ الفاظ ہیں:

سر اٹھانا:

ضُعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہے

بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

نکہت نے اپنی فرہنگ میں اِس لفظ کو شامل کیا ہے اور اِس کی سند میں ممنون، نکہت، مومن، شوق، جرأت، سرور، میر، مصحفی، جینا بیگم اور دانش کے اشعار پیش کئے ہیں اور غالب کے اِس شعرسے بے اعتنائی برتی ہے۔

آگ لگنا:

لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا

شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں

اِس کی سند میں آشفتہ اور مصحفی کے اشعار درج کئے گئے ہیں لیکن غالب کے اِس شعر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

۸۔  نظر ہوئی یا نظر لگی: چشم بد کا اثر ہوا ( ص ۴۴۵):

نظر لگے نہ کہیں اُس کے دست و بازو کو

یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

مذکورہ شعر کے علاوہ مومن، ظفر، جرأت اور احسن کے اشعار سند میں پیش کئے گئے ہیں۔ غالب کی اِس غزل میں چار اشعار ہیں جس سے ایک ترکیب کا اضافہ ہوسکتا تھا:

دیوار و در کو دیکھنا:

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

۹۔ ہمارے بھی منہ میں زبان ہے: ہم بھی طاقتِ گویائی رکھتے ہیں، سوال کا جواب دیں گے (ص ۴۶۹):

کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا

بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زَبان ہے

اِس محاورہ کی سند میں نکہت نے غالب کے مذکورہ شعر کے بعد اپنا شعر درج کیا ہے۔غالب کی اِس غزل میں ۹؍ اشعار ہیں اور اس میں سے دو الفاظ کا اضافہ ہوسکتا تھا۔ وہ الفاظ ہیں:

ٹھنڈا مکان:

کی اُس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جا

آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے

چند روز کا مہمان:

دہلی کے رہنے والو اسد کو ستاؤ مت

بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے

ایسا نہیں ہے کہ غالب کے کلام میں اصطلاحات، محاورات اور امثال کی کمی ہے۔ محققین نے لغات غالب (یونس سلیم)، فرہنگ غالب (امتیاز علی عرشی)،  فرہنگ مرکبات غالب (مرتبین غضنفر علی اور مہاراج کرشن کول) اوراشاریہ کلام غالب: کلام غالب میں فارسی ترکیبیں (خواجہ احمد فاروقی) مرتب کر کے یہ دکھایا دیا ہے کہ غالب کے کلام میں اسناد و شواہد کی کمی نہیں ہے۔ محققین و ناقدین نے اپنی تحقیق و تنقید کے ذریعہ غالب کو عالمی پیمانے کا شاعر تسلیم کرالیا ہے لیکن ایک عالمی پیمانے کے شاعر کا اپنی ہی زبان کی فرہنگ میں نظر انداز کیا جانا احیرت انگیز بات ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جن الفاظ کی سند میں غالب کے اشعار موجود ہیں، بہر صورت اُن الفاظ کی سند میں غالب کے اشعار پیش کئے جانے چاہئے۔ یہاں پر ایک بات اور واضح کردوں کہ لغات غالب ،فرہنگ غالب اور اشاریہ کلام غالب میں الفاظ مع معانی جمع کردئے گئے ہیں لیکن غالب کا شعر نہیں دیا گیا ہے۔ اب وہ شعر جاننے کے لئے دیوان غالب کی ورق گردانی کرنی ہوگی جو کسی زحمت سے کم نہیں ہے۔ یونس سلیم صاحب نے تو بڑا دلچسپ کام کیا ہے کہ الفاظ غالب کے ہیں اور اشعار پیش کئے گئے ہیں دوسرے استاد شعرا کے۔اگر اِس کے ساتھ غالب کے بھی شعر دے دیتے تو قاری کو کتنی آسانی ہوتی۔ اِن کتابوں کی اِس خامی کو دور کرنا ہوگا۔ البتہ فرہنگ مرکبات غالب میں الفاظ کے ساتھ اشعار بھی درج گئے ہیں۔

غالب کے کلام میں اتنے الفاظ و تراکیب کی موجودگی کے باوجود نکہت نے اپنی فرہنگ میں غالب کو اتنی کم جگہ کیوں دی، کیوں صرف اُن کے ۹؍ اشعارپر ہی اکتفا کیا۔ اس کا بنیادی سبب میری دانست میں یہی ہے کہ غالب کی اناپرستی اور خودبینی نے اُن کو اپنے معاصرین میں معتوب بنا دیا تھا۔ وہ اپنے سوا کسی کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے۔ اس ضمن میں مالک رام لکھتے ہیں:

’’وہ  ہندستان کے کسی فارسی گو شاعر و ادیب کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے۔ اُن کے خطوط میں تقریباً تمام ہندستانی شاعروں اور نثر نگاروں کے نام آئے ہیں اور انھوں نے ان میں سے ایک حضرت امیر خسرو کے سوا کسی کو نہیں بخشا(تحقیقی مضامین، ص ۸۴)‘‘۔

ڈاکٹر ایوب قادری نے بھی اپنی کتاب میں غالب کی اِس کمزوری کو اجاگر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’وہ ہندستان کے فارسی گو شعرا اور فرہنگ نویسوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ امیر خسرو کے سوا کوئی دوسرا اُن کے معیار پر نہیں اترتا۔۔۔وہ علمی اختلافات رائے میں مجادلہ اور مکابرہ پر اتر آئے ہیں۔ ان کو لوگوں کے صحیح نام لینا گوارا نہیں۔ بے چارے قتیل کو تو ہر جگہ ’کھتری بچہ‘ لکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ انصاف کے دامن کو بھی ہاتھ سے جانے دے دیتے ہیں (غالب اور عصر غالب، ص ۴۹)‘‘۔

غالب اپنی افتاد طبع سے مجبور تھے اور اپنی شوخیوں اور جملہ بازیوں پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ اُن کی یہ شوخیاں اور جملہ بازیاں اُن کے معاصرین پر یقیناً گراں گزرتی ہوگی۔ لیکن ذاتی مخالفت اپنی جگہ اور علمی دیانت داری اپنی جگہ۔ علمی کاموں میں اِس قسم کے رویے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ غالب سے لاکھ اختلاف سہی نکہت کو اِس غیر معقول علمی رویے سے بچنا چاہئے تھا۔ اِس ذاتی اختلاف کی وجہ سے نکہت کی فرہنگ بہت سارے الفاظ و تراکیب کو شامل کرنے سے رہ گئی۔

میں نے مذکورہ بالا نظریہ سے صرف مخزن فوائد کا جائزہ لیا ہے جو غالب کی حیات میں مرتب ہوئی۔ اِسی نہج پر اردو کی دوسری فرہنگوں جیسے منشی چرنجی لال کی مخزن المحاورات (۱۸۸۶)، مرزا چھجو بیگ کی بَہارِ ہند ( ۱۸۸۸)، امیر مینائی کی امیر اللغات (۱۸۹۱)، سید احمد دہلوی کی فرہنگ آصفیہ (۱۸۹۲)،  نیّر کاکوروی کی نور اللغات (۱۹۱۷)،  مہذب لکھنوی کی مہذب اللغات (۱۹۶۰) اور اردو لغت تاریخی اعتبار سے کا جائزہ لیا جانا چاہئے اور اس کی ایک فہرست بنائی جائے کہ اِن لغت نویسوں نے غالب کے کتنے اشعار کو بطور شواہد پیش کیا ہے اور بقیہ کے لئے غالب کے دیوان میں اشعار تلاش کئے جائیں۔

 

ڈاکٹر محمد ذاکر حسین

خدا بخش لائبریری، پٹنہ

Email: zakirkbl@gmail.com

Mobile: 09199702756

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں