Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

صنف سلام کے درپن میں میر کا تابندہ عکس – نسیم اشک

by adbimiras اگست 5, 2022
by adbimiras اگست 5, 2022 1 comment

میر تقی میر دنیائے اردو ادب میں ایک ایسے ہیرے کا نام ہے جس کی چمک وقت کے گزرنے کے ساتھ اور بڑھتی گئی ۔میر کی شاعری کا اسیر کون نہیں ہے؟میر کو ایک عالم سے اور ایک عالم کو میر سے شناسائی ہے۔حد تو یہ ہے کہ میر کے اشعار غیر اردو داں کے زبان پر بھی کسی وظیفے کی طرح رہتے ہیں۔میر نے غزل کو کو وہ بلندی عطا کی کہ دوسرے شعری اصناف آج تک غزل کی ہم سری نہ کر سکیں۔معلوم نہیں میر نے شاعری کی یا ساحری کی۔ہاں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ہم  میر کو غزل سے اور  غزل کو میر سے جانتے ہیں۔

میر نے کئی اصناف سخن کو زینت بخشی غزل، رباعی، قطعہ،مثنوی،قصیدہ، نعت،منقبت،سلام،ہجو،واسوخت اور بھی بہترے اصناف ہیں جن  میں میر نے  اپنی طبیعت کی جولانی دکھلائی۔ان تمام اصناف میں میر کی سلام نگاری کے حوالے سے بات کرنی مقصود ہے۔میر کے سلام قابل قدر اور اردو ادب میں گراں قدر سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اردو شاعری میں رثائی ادب بڑی اہمیت کا حامل ہے اور تقریباً ہر شاعر نے حمد،نعت کہی ہے کچھ شعراء نے  مرثیہ، منقبت اور سلام بھی کہے ہیں۔سلام ایک اظہار محبت ہے نبی اور آل نبی کی شان اقدس میں۔آل نبی کے مقام و مرتبے کا کس کو علم نہیں جنہیں خدا نے اس کائنات میں بلند وبالا مقام عطا کیا،نبی نے جن کو اپنا عزیز رکھا ان کی مدحت کرنے کو بھی خدا و نبی کی رضا چاہئے۔ حضرت امام حسین سے عقیدت و محبت پوری دنیا میں پانی جاتی ہیں ہر زبان ہر قوم میں حضرت امام حسین سے عقیدت رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔امام حسین کو کسی مخصوص فرقے سے جوڑنا نہایت کم عقلی بھی ہےاور بد عقلی بھی اگر ایسی بات ہوتی تو کیا ضرورت تھی غیر مسلم شعراء کو نعوت لکھنے کی  آل نبی کی محبت میں انہوں نے بےشمار اشعار کہے ہیں،منقبتیں لکھی ہیں اس کی ضرورت تو نہیں تھی اس سے ثابت ہوتا ہے حضرت امام حسین کا سبق  پوری انسانیت کے لئے تھا ہر عدل پسند انسان انہیں اپنا رہبر مانتا ہے۔حضرت امام حسین ہر حق پرست کے آئیڈیل کے طور دیکھے جاتے ہیں اور بلا تفریق مذہب و ملت انکی محبت دلوں میں پانی جاتی ہے۔ میر تقی میر نے بھی  آل رسول کی خدمت میں اپنی عقیدتوں کے پھول بشکل  سلام پیش کیا ہے۔
انسانی تاریخ میں سانحہ کربلا ایک ایسا سانحہ گزرا ہے جس کی مثال دوسری نہیں ملتی۔تپتے ریگزاروں میں تشنہ دہن مسافروں کے ساتھ جو ظلم ہوا اسے بھولنا ممکن ہی نہیں۔آل نبی کو جو اذیتیں پہنچائی گئی وہ انسانی تاریخ فراموش نہیں کر سکے گی۔آل نبی کی عظمتیں بیان کرنے کو قوت گویائی کوئی کہاں سے لائے پر ہر عاشق آل رسول اپنی بساط تک نذرانہ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔میر نے بھی آل رسول کی مدحت میں خوبصورت سلام کہے ہیں۔

نبی و علی کےلال کو لعل احمر سے تعبیر کرتے ہوئے میر کہتے ہیں کہ نامعلوم وہ کون سی گھڑی تھی جو ساری امت آل رسول کے خلاف ہوگئ،ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے،دوش نبی کے سوار کو ایک قطرہ پانی بھی پینے نہ دیا۔فرات بہتی رہی آل نبی پیاس کی شدت برداشت کرتے رہیں،کیا ظلم تھا کہ ساقی کوثر تشنہ لب رہیں۔میر یوں گویا ہیں۔

اے بدخشان نبیؐ کے لعل احمر السلام
وے گلستان علی کے لالۂ تر السلام
ایک ساعت ہی میں امت پھر گئی نانا کی سب
کیا قیامت لائی تیرے سر کے اوپر السلام
بوند بھر پانی نہ دریا پر تجھے پینے دیا
اے تمناے دل ساقی کوثر السلام

یزید کا ستم پیاسوں کو شہید کرکے بھی ختم نہ ہوا،خاک و خون میں لپٹی وہ شام غریباں قیامت کا منظر پیش کرتی تھی۔خیموں کو جلاکر،لاشوں پر گھوڑے دوڑا کر بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اہل حرم کی چادریں چھین لی گئیں۔یہ ہولناک منظر آج بھی سننے والوں کے دلوں کو چھلنی کردیتا ہے۔ اشعار دیکھیں۔

سب کنارے لگ گئے تو بحر خوں میں غرق ہے
اے کنار مصطفےٰؐ کے نازپرور السلام
تو تو شاہ دیں تھا ایسا ہو کے بیکس کیوں موا
اب نہ تن پر سر ہے نے سر پر ہے افسر السلام
بات کو بے پردہ کہیے کس طرح اب تجھ سے ہائے
ہیں حرم کے لوگ سب محتاج چادر السلام
کیا ستم کشیاں بیاں تیری کرے دل خستہ میرؔ
نام تیرا سن کے آنکھیں ہوتی ہیں تر السلام

میر غزل کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ لفظیات کے بھی امام ہیں۔الفاظ کے انتخاب میں میر اس کارواں کے میر نظر آتے ہیں۔خوبصورت خیال کو پیش کرتے وقت بھی ترشےتراشے الفاظ کے جس کا بدل اور کچھ نہ ہو ایسے الفاظ کا استعمال ان کے خدائے سخن ہونے پر صاد کرتا ہے۔
میر شاہ دین کو اپنی عقیدتوں کا سلام پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں اے  گل خوش رنگ گلزار شہادت آپ نے جو جور و ستم سہا ایسی تاب اور کسی میں نہیں جو اتنا ظلم سہہ سکے یہ آپ کا کام تھا۔اہل شام نے مہ تابندۂ برج امامت  کے مقام کو سمجھ نہ سکے  جو امتحان آپ نے میدان کربلا میں دیا اس روئے زمین پر صبر کی آخری مثال ہے۔میر اس ہولناک منظر کو صفحۂ قرطاس پر یوں کھینچتے ہیں۔

اے گل خوش رنگ گلزار شہادت السلام
تیری مظلومی کی سب دیں گے شہادت السلام
جور دیکھے تونے کیا کیا لال سنگ جور سے
اے کہ گذری تیرے اوپر سخت حالت السلام
شام کے لوگوں نے تجھ کو یوں مکدر کردیا
اے مہ تابندۂ برج امامت السلام
کارواں در کارواں بار الم تجھ سے کھنچا
حوصلہ کس کا جو کھینچے یہ ملالت السلام

میر کے یہاں نئی تراکیبیں بھی ملتی ہیں۔وہ نئی تراکیبیں تراشتے بھی ہیں۔میر کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ خدا نے آل نبی کو جو مقام و مرتبہ عطا کیا ہے وہ سمجھ پانا انسان کے بس کی بات نہیں۔میدان کربلا میں حسین عالی مقام کا ایک سجدہ، جو صد سالہ طاعت تھی  کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں جو امام نے تلوار کے زیر سایہ ادا کیا۔دین حق کی راہ میں ہر موڑ جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ایسے امام پر زمین و آسمان کا سلام۔
میر ابن حیدر کی کربلا میں  قوت حیدری اور شبیری عظم کو یوں سلام کرتے ہیں۔

قامت دلکش ترا بے سر پڑا تھا خاک میں
کربلا میں تجھ پہ گذری ہے قیامت السلام
ہائے غیبت میں تری عالم سیہ سب ہوگیا
اے فروغ چہرۂ صبح سعادت السلام
تند باد ظلم نے تجھ کو دیا سا گل کیا
اے کہ تو تھا زیب ایوان رسالت السلام
کب عقیدے میں محبوں کے برابر ہوسکے
ایک سجدے سے ترے صدسالہ طاعت السلام
میرؔ کم گو کبریا تیری بیاں کب کرسکے
تو ہی اپنی جانے ہے قدر و جلالت السلام

میر کے سلام میں لفظیات کا حسن اپنی مثال آپ ہے ندرت خیال کی پیشکش میں میر کا اسلوب پر وقار اور پر رفعت ہے۔اپنے سلام میں ممدوح کے منصب و مرتبے کا بخوبی پاس رکھتے ہیں۔امام عالی مقام کو کس انداز سے سلام پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔

بابا شہ ولایت نانا کی خلق امت
دریا کنارے اترے سارے وہ بے مروت
تو تشنہ کام تنہا یہ رنج یہ مصیبت
اے مبتلا بلا کے تجھ کو سلام پہنچے

درج بالا بند میں شہ ولایت سے مراد حضرت علی ،مبتلا بلا سے مراد حضرت امام حسین اور بے مروت سے مراد یزیدی لشکر لیا گیا ہے۔ میر کے ہاں دلکش استعارے جابجا ملتے ہیں۔
بلا شبہ کسی عاشق خدا نے اس ڈھب کی عاشقی پیش نہیں کی ہے جیسی عاشقی حضرت امام حسین نے پیش کی۔خدا کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرتے رہیں اور راضی بہ رضا رہیں ایسا صبر کہ کچھ دیر کےلئے صبر کو بھی پسینہ آجائے۔ایسی بندگی الٰہی کہ سر سے تن سےجدا ہورہا ہو اور ساجد مسجود کی رضا کےلئے سر بہ سجدہ رہے۔میر نے صبر و رضا کے اس حسین پیکر کو یوں سلام بھیجا ہے۔

تسلیم کا رضا کا دیکھا ترا عجب ڈھب
وقت بریدن سر سجدے میں تھا مودب
یہ بندگی الٰہی یہ انکسار یارب
اے شوق کش خدا کے تجھ کو سلام پہنچے

میر نے اپنے سلام میں  حضرت امام حسین کی شان میں خوبصورت القابات کا بکثرت استعمال کیا ہے جو ان کی شاعرانہ عظمت کے ساتھ ساتھ انکی الفاظ کے ماہرانہ استعمال کی غمازی کر رہا ہے۔

اے شہ اقلیم شوکت السلام
رونق تخت خلافت السلام
اختر چرخ سیادت الصلوٰۃ
نیر برج سعادت السلام

میر کہتے ہیں کہ حضرت حسین پیشواؤں کا مقتدا تھے امامت کی جان تھے امامت ان کو زیب تھی مگر ایسا نہ ہوا دہکتی صحرا میں بے آب و دانہ شہادت پائی۔میر کہتے ہیں کہ ہمہ وقت ان پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا چاہئے۔
مقتدا تو پیشواؤں کا رہا
تجھ کو زیبا تھی امامت السلام
تو ہے جس پر دم بہ دم بھیجیں درود
یا کہیں ساعت بہ ساعت السلام

حق نے آج تک کسی سے ایسا امتحان نہیں لیا یہ امتحان شہزادی کونین کے بیٹے کے لئے مخصوص تھی۔سلگتے ریگزاروں کو شیر خدا کے  تشنہ دہن لال کا انتظار تھا جنہوں نے اپنے خون سے اس ریگزار کی پیاس بجھائی اور دین کی عظمت و حرمت کو بچالیا۔بلا شبہ دین کو گمرہی کے اندھیروں میں جانے نہ دیا بلکہ اپنے اور اپنے آل کے لہو سے چراغ محمدی روشن رکھا۔السلام اے بادشاہوں کے بادشاہ السلام۔

میر اس حقیقت کو  یوں جنبشِ دہن دیتے ہیں۔
امتحان حق سے یوں نکلا ہے کون
اللہ اللہ تیری غیرت السلام
وادی بے آب میں تو کیا کھلا
اے گل باغ شہادت السلام

رسول خدا خدا کے محبوب ہیں اور امام عالی مقام محبوب خدا کے محبوب ہیں۔سرور کائنات کا محبوب،ساقی کوثر کا محبوب اور تشنہ دہن۔جن کی عظمت پر زمین و آسمان سلام بھیجتے ہو حیف دشمنان حق نے ان کی قدر نہ جانی،ان کے مرتبے کو نہ سمجھا اور   امام عالی مقام  مع اہل وعیال پر ستم در ستم در ستم ڈھاتے رہیں لیکن خدا نے ان ستم زدوں کی قسمت میں سرفرازی لکھی اور ظالموں کو غارت کیا۔دین حق کی پاسبانی جو امام نے کی اس پر امامت  تا قیامت نازاں کرہےگی۔

ساقی کوثر کے پیارے السلام
تشنہ لب سید ہمارے السلام
صبح تیرے قتل کی تھی صبح قیر
شام کے لوگوں کے مارے السلام
آسماں خم ہے تری تعظیم میں
تیرے ساجد ہیں ستارے السلام

میدان کربلا میں حضرت حسین نے اپنے کنبے کے ہر عمر کے لوگوں کو حق کی راہ میں نچھاور کیا یہاں تک کہ ششماہی علی اصغر کو بھی راہ حق پر نچھاور کی۔میر کہتے ہیں کہ وہ سب کے سب امام تھیں لیکن انکی لاشیں گور میں  پڑی رہیں۔ بلا شبہ نور نبی کے گھر کا ہر چراغ مینار نور حق تھا لیکن سب اپنے  خون میں نہائے ان کے جسم اطہر کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا گیا۔

بحر خوں میں غرق ہو چھوٹے بڑے
لگ گئے تم سب کنارے السلام
گور میں لاشیں تمھاری بے نماز
تم امام دیں تھے سارے السلام

نبی سے محبت کا بین ثبوت آل نبی سے محبت  ہے۔جس دل میں آل نبی کی محبت نہ ہو وہ عاشق رسول ہونے کا دعویٰ کیسے کرے؟ کیونکہ نبی  اپنی حیات مبارکہ میں اپنے نواسے سے بے انتہا محبت فرماتے ٹھے بہت عزیز رکھتے تھے ۔ قول نبی ہے”  حسین مجھ سے ہیں سے میں  حسین سے ہوں "میر کہتے ہیں کہ جب بھی وہ امام عالی مقام کا نام اپنی زباں پر لاتے ہیں ان کے لبوں سے  بے اختیار صل علیٰ نکل جاتا ہے۔میر انہیں سب کا امام سے تعبیر دیتے ہوئے رقمطراز ہیں

آوے ہے بے اختیار صل علیٰ لب پہ ساتھ
لیتے ہیں جب تیرا نام تجھ پہ درود و سلام

مردم پیشیں سے گر پیچھے ہے تیرا ظہور
پر تو ہے سب کا امام تجھ پہ درود و سلام

میر کے سلام مترنم اور جذبات سے پر ہیں ان سلام کے مطالعے کے بعد جہاں دل حضرت حسین کی مظلومیت کو یاد کرکے بھر آتا ہے وہی میر کے اسلوب پر عش عش کرتا ہے۔ایسا لگتا ہے انہوں نے الفاظ  کو استعمال اپنے نوک قلم سے نہیں کیا بلکہ الفاظ خود بخود نوک قلم سے جا لپٹے ہیں،سلام میں عقیدت کا ایک دریا اپنی موج میں رواں ہے۔مربوط مصرعے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں ہم میر کے ہیں۔میر کے ان سلاموں کا مطالعہ کرنے کے بعد اس شعر سے اتفاق ہونا حیران کن نہیں۔

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا

میر بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مصائب کربلا اور غم شبیر کا رقم کرنا ممکن ہی نہیں۔انسانی فکر و نظر کی حدیں مقرر ہیں اور یہ بیان لامحدود۔اتنی قلم کو تاب کہاں کہ دائرہ تحریر میں غم شبیر آئے۔

گوش زد ایسا نہیں ظلم عیاں
طعن کے ہمراہ پھر تیغ و سناں
غم سا تیرا غم ہو تو کریے بیاں
السلام اے مبتلاے صدبلا

اردو ادب میں میر کی شاعری انمول  اثاثہ ہے ،ماضی کی پر وقار روداد ہے اور مستقبل کے پیش رو ہے۔میر کے بغیر اردو شاعری کی تعریف ممکن نہیں میر کے مختلف اصناف میں چھوڑے گئے نقوش پر ہم اپنے آنے والے ادب کی عمارتیں تعمیر کریں گے ایسے میں ضروری ہے کہ مٹتے ہوئے اصناف کو ہم بچائے۔میر کے سلام انکی اہل بیت سے عقیدت و محبت کی غمازی تو کرتی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس صنف پر ہماری توجہ بھی دلاتی ہے۔میر کے سلام کے ان اشعار پر آپ سے اجازت لیتا ہوں۔

میرؔ داخل ظلم کے ماروں میں ہے
یعنی تیرے تعزیت داروں میں ہے
مرحمت کر گو گنہگاروں میں ہے
السلام اے شافع روز جزا

نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

1 comment
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تحریک آزادی میں مسلم مجاہدین آزادی کا کردار – ریحان ظفر
اگلی پوسٹ
سانحہ کربلا؛ قیمتی نکات و دروس کا علمی میکدہ –  وزیر احمد مصباحی

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

1 comment

محمد غلام حسین اگست 5, 2022 - 10:29 صبح

ماشاء اللہ ۔۔۔۔بہت عمدہ۔۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں