امریکہ میں اردو ادب : ایک جائزہ – انصار احمد معروفی
اردو سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ خبر باعث مسرت افزا ہوگی کہ بر صغیر کے علاوہ خلیجی ممالک کے ساتھ یورپین ملکوں میں بھی اردو زبان اپنی حلاوت و شیرینی کی وجہ سے نہ صرف زندہ ہے بلکہ یوما فیوما اپنے محبین کے دائرے کو وسعت دینے میں مصروف ہے۔ ایسی غیر اردو بستیاں جہاں ان کی مادری زبان انگریزی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو، وہاں کے ماحول میں اردو سیکھنا سکھانا اور اس کے فروغ کی کوشش کرنا یقیناً اردو سے سچی محبت کی علامت ہے۔ ایک ایسی غیر ملکی زبان جس کی تعلیم و تعلم پر کسی روشن مستقبل کی جوت نہ جگتی ہو پھر بھی اس سے تعلق و شیفتگی، اردو محافل کا قیام، شعری نشستوں کا انعقاد،ریڈیو اور ٹیلیویژن پر اہل اردو کا استقبال، اقوامی و بین الاقوامی سیمیناروں کا انعقاد، اردو زبان کے بقا و تحفظ و توسیع کی محنت، اردو کتابوں کی تالیف و تدوین میں دلچسپی،اور اردو کی محبت میں گرفتار ہوکر زلف اردو کو سنوارنے کی مخلصانہ اور مسلسل جد وجہد کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انسان دیار غیر میں بھی رہ کر اپنے روایتی اقدار کو زندہ رکھنے اور لسانی و تہذیبی وراثت کو نسل نو تک پہنچا سکتا ہے، اور اردو سے بےانتہا محبت کو پروان چڑھا سکتا ہے۔
یورپین ممالک میں اردو کے محبین و مخلصین اپنی مادری زبان سے شیفتگی کے باعث اردو کے احیا و بقا کی محفلیں برپا کرتے ہیں اور اس سے آگے بڑھ کر امریکہ میں اردو کی ترقی اور دلچسپی کی کیا تازہ صورت حال ہے؟ اسے کتابی صورت میں شائع بھی کرتے ہیں ۔
دنیائے اردو ادب کو وہاں کے حقائق و احوال کو تازہ صورت حال کے پس منظر میں صحیح معلومات فراہم کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ کام بڑی عرق ریزی اور جانفشانی کا طالب ہوتا ہے، اس کے لیے تنقیدی آگاہی اور جملہ اصناف سخن میں درک اور گہرائی و گیرائی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ کیوں کہ تمام ادبی دانشوروں اور محبین اردو کی ادبی خدمات کا جائزہ لینا ایک ایسا ذمہ دارانہ عمل ہے جس کے لیے حقائق و شواہد کی زمین درکار ہوتی ہے، تجربات و مشاہدات کی روشنی میں کسی شہ پارے کے بارے میں منطقی نتیجہ اخذ کرکے تدوین و تحقیق کا بنیادی کام کرنا ایسا امانت داری کا کام ہے جس پر مستقبل میں تدوینی کارنامہ کی تاریخی بنیاد رکھی جائے گی۔کیوں کہ امریکہ میں اردو ادب کی تاریخ کے حوالے سے وہ مضامین مستقبل میں ماخذ و منبع کا کام کریں گے، اور عالمی منظر نامے پر اردو کی بے لوث شخصیات کے طور پر ابھریں گے۔
امریکہ میں اردو ادب کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے محترمہ غوثیہ سلطانہ نوری صاحبہ نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب سے قبل اس موضوع پر امریکہ میں مقیم اور مخلص خادم اردو پروفیسر ڈاکٹر عبد القادر فاروقی کی کتاب ، امریکہ میں گلدستہ اردو ، شائع ہوچکی ہے، اس کے علاوہ جدا طور پر خواتین کے تذکرے کے لیے بھی کتاب موجود ہے۔مگر امریکہ میں اردو ادب کی مصنفہ محترمہ غوثیہ سلطانہ نوری نے یہ کتاب اس طرز سے ذرا ہٹ کر لکھی اور شائع کی ہے، جس میں انہی کے بقول ” اس میں شامل تمام محترم شخصیات کی ادبی خدمات کو مغربی دنیا میں بھی تازہ رکھنے کی سعی کی گئی ہے” ۔
اس کتاب میں امریکہ کی ادبی صورت حال کا صرف جائزہ نہیں لیا گیا ہے،جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے، بلکہ امریکہ میں مقیم ادب نواز شخصیات کے علاوہ ہند و پاک کے نامور ادیبوں کی خدمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں سرسید احمد خان، گلوکار محمد رفیع وغیرہ شامل ہیں ۔
دو قسم کے مضامین سے یہ کتاب سجائی گئی ہے، ایک تو علوم و فنون کے تعلق سے سیرت النبی اور واقعات کربلا کی شمولیت کی گئی ہے ۔ دوسرے زمرے میں شخصیات کی ادبی خدمات کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے ۔
مصنفہ کی شخصیت عالمی منظر نامے پر شاعرہ، نثر نگار اور رپور تاز نگار کے طور پر ابھری ہے۔ مذکورہ موضوعات پر مصنفہ کی کئی ایک کتاب منظر عام پر آچکی ہے ۔ جن میں ، سلیمان اریب، شخصیت اور فن، امریکہ میں اردو رپورتاژ ، امریکہ میں ادبی سرگرمیاں ، رقص رواں مجموعہ غزلیات ، آئینۂ جمال نعتوں کا مجموعہ ، وغیرہ ۔ انہوں نے انجمن علم و ادب اور ساؤتھ ایشین کلچرل سوسائٹی آف شکاگو کے بینر تلے کئی پروگرام عالمی پیمانے پر منعقد کیے ہیں، انہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی انعامات سے سرفراز کیا جا چکا ہے ۔ اس کتاب میں شخصیات کے تذکرے کے ساتھ علوم و فنون کے مرکزی عنوان کےتحت غلام مصطفیٰ انجم کی شاعری پر جہاں سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے وہیں ڈاکٹر منیر الزمان منیر کی خوش فکر شاعری کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔نیز علامہ اقبال ایک مطالعہ، دیار غیر میں اردو شاعری، اردو کے مزاحیہ شاعر ، حسنین بخاری کی شاعری ، اردو شاعری میں ظریفانہ رنگ ، اردو کے رومانوی ادب کا جائزہ ، ترجمے کی اہمیت وافادیت ، اردو فکشن، شکاگو میں اردو، اور تخلیقات جاوید دانش میں دریا کا بہاؤ وغیرہ کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے ۔
امریکہ میں اردو ادب کی مصنفہ محترمہ غوثیہ سلطانہ نوری صاحبہ نے شخصیات کے ذیل میں جن ادبی شخصیات کی خدمات کا تجزیہ کیا ہے ان میں ڈاکٹر توفیق احمد انصاری ، ڈاکٹر صادقہ نواب سحر ، ڈاکٹر نذیر فتح پوری ، ڈاکٹر مغنی تبسم ، محترمہ رفیعہ منظور الامین ، ڈاکٹر صادق نقوی، سید قمر الحسن جیسے ادبا و شعرا کے ساتھ خادم انسانیت عبد الستار ایدھی مرحوم کی خدمات کا خوبصورت انداز میں جائزہ لیا ہے ۔
اسی کتاب میں چند مضامین رپورتاژ کی حیثیت رکھتے ہیں تو بعض مضمون پروگرام کی روداد پیش کرتے ہیں اور بعض مضامین عقیدت و احترام کی منظر کشی کرتے ہیں ، جیسے ، سجدۂ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے ، نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت مندانہ حقیقت میں عقیدت و محبت کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ کچھ مضمون تصوف و سلوک و روحانیت سے لبریز ہیں جن میں درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ، جس میں دنیا سے انسانیت کے ختم ہونے پر نوحہ خوانی کی گئی ہے ، 204 صفحہ پر مرتبہ کتاب غوثیہ سلطانہ نوری کا انٹرویو بھی پیش کیا گیا ہے جسے شمشاد جلیل شاد نے لاک ڈاؤن کے دوران لیا ہے ۔ اس انٹرویو میں نوری صاحبہ کی حیات و جہات کا مکمل جائزہ لیا گیا ہے ۔
کتاب کے آغاز میں مصنفہ نے عرض حال کے تحت جہاں اس کتاب کے متعلق مختصر تفصیل ذکر کی ہے وہیں اس میں محسنین کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے ، ڈاکٹر عبد القادر فاروقی مقیم امریکہ نے اپنے مفصل مقدمہ میں کتاب کے مضامین کے ذریعے اقتباس کی روشنی میں کتاب کا مکمل تعارف کرایا ہے ۔ پھر شاہد اقبال دہلی یونیورسٹی نے کتاب اور صاحب کتاب کا جامع تذکرہ پیش کیا ہے ۔
240 صفحات پر مشتمل یہ کتاب 2022 میں عذری بک ڈپو نئی دہلی نے شائع کیا ہے ۔ 500 کی تعداد میں چھپنے والی اس کتاب کی قیمت 250 روپے رکھی گئی ہے ۔ کتاب مجلد اور کاغذ و طباعت بہت معیاری اور لائقِ تحسین ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

