ورق پلٹا، صفحے کھولے تو حیرتوں کے در وا ہوتے گئے۔۔۔۔
شاعری کی مانوس دنیا سے ایک الگ خوشبو اور روشنی سی نظر آئی۔لگا کہ یہ کسی خاص ساعت کی شاعری ہے۔ عام ساعتوں میں اس طرح کے شعر نازل نہیں ہوتے۔ جب آہنگ کا آتما سے وصال ہوتا ہے۔ جب جذبے کا جنون سے رشتہ جڑتا ہے۔ جب احساس میں غیرمرئی اشارت شامل ہوتی ہے۔ جب اظہار عمومیت سے انکار کرتا ہے۔ جب تعطل توانائی میں بدل جاتا ہے تب اس طرح کے شعر عالم وجود میں آتے ہیں۔
آوازوں کی بھیڑ میں الگ دکھائی دینا آسان نہیں ہوتا۔ مگر آدتیہ پنت ناقد لفظیات اور فکریات کے لحاظ سے مختلف نظر آئے۔ گوکہ تجربات اور مشاہدات وہی ہیں جن سے عام آدمی شب و روز گزرتا ہے۔ مگر کیفیات الگ ہیںاور تجربات و وقوعات کی شعری تجسیم بھی بہ اندازِ دگر ہوئی ہے۔ ان کے تجربے اس وقت شعری صورت اختیار کرتے ہیں جب تجربے کی حقیقی ماہیت تبدیلیوں کے تمام مرحلوں سے گزر کر ایک نئی شکل میں ڈھلتی ہے۔
آدتیہ کا شعری طریقۂ کار استبعادی ہے، تضادات سے اشیاء کی حقیقت اور ماہیت کا ادراک اُن کے یہاں نمایاں ہے۔ لفظیات اور تراکیب میں بھی جدت طرازی کا عمل روشن ہے۔ نئی لسانی تشکیلات سے اُن کا شعری سرمایہ مزین ہے۔ قالینِ شفق، مخزنِ خاطر، صحبت طائر، دودِ دلِ سوزندہ، طاقِ دلِ تیرہ، تعظم، توصل، تغار غم، تصلیب، مشربے، احشام، رباط، خدنگ، تفنگ، الزامِ نسخ تعلق، آبِ ملوث، گلِ بوسیدہ اور اس طرح کی نئی نئی لفظیات و تراکیب ان کی شاعری میں ہیں۔ توالیٔ اضافات نے ان کی شعری لفظیات کو جدت اور ندرت بھی عطا کی ہے۔ یہ ایک مخصوص لسانی رنگ و روپ کی شاعری ہے جو اُن کی جدت طرازی کا مظہر ہے۔ ان کے یہاں اردو اور بھاشا کا امتزاج بھی ہے مگر مغایرت کا احساس نہیں ہوتا۔
کچھ تو اوروں کی بھی سوچ
آخر کب تک آپم دھاپ
دھرتی چھوٹی پڑ رہی ہے اسیم ہے آکاش
کہاں دھریں یہ پاؤں ہم اَدھر میں جھول
چین کی بنسی کا گونجتا سر مدھر
چھل کپٹ ڈھونگ دھوکا دھڑی دیکھئے
آدتیہ پنت نے بھی اس اختلاط اور امتزاج کی طرف یوں اشارہ کیاہے:
کیا ناقد آپ نے کیوں بھلا ملاپ یہ ہندوی اردو کا
چلو ایک بھید مٹا دیا یوں تو پُرتضاد ہے زندگی
ناقد کے شبدوں میں شکتی ہے ، حرفوں میں حرارت ہے، اُن کی لفظیات یا ڈکشن تہذیب و تاریخ کا حوالہ بھی ہیں، اُن کے یہاں لفظ کی نئی معنیاتی ترتیب بھی نظر آتی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ ہر لفظ کا صحیح تناظر اور سیاق و سباق بھی ہے۔ اُنہوں نے اپنے اس شعری مجموعہ میں عروضی تجربے کئے ہیں خاص طور پر اُن بحور اور آہنگوں میں غزلیں کہی ہیں جن میں عام طور پر غزلیں نہیں کہی جاتی ہیں۔ان کے بقول: ’’اس مجموعہ میںچوبیس بحور کے پینسٹھ مختلف آہنگوں میں غزلیں، نظمیں، قطعے اور فرد شامل ہیں۔ چند غزلیں ، دوہا اور رباعی کے آہنگوں میں بھی ہیں۔ حالانکہ عام طور پر ان میں غزلیں نہیں کہی جاتی ہیں۔‘‘یہ عروضی ریاضت اُن کے لئے ایک نیا تجرباتی منطقہ ہے اور شاید انہی عروضی زنجیروں کی وجہ سے کہیں کہیں ان کی شاعری میں ترسیل و ابلاغ کا المیہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دراصل اظہار کی پیچیدگی اور خیال کی ژولیدگی کبھی کبھی تفہیم و تعبیر کی راہ کو مشکل بنا دیتی ہے۔ عروض سے اُن کا گہرا شغف ہے۔ یہ اشعار اُسی عروضی دلچسپی کا مظہر ہیں:
فکر پہ ناقد ہے عروضی بیڑی
اپنے قلم کو نہ سمجھ خود مختار
شاعری کے حسن کو آزاد کر
ناقد اپنا بحر کی پابندیاں
ناقد آکے پڑی بحرِ مشاکل
قافیے کے قدم کانپ رہے ہیں
ایک نئے تجربے کی ناقد کوشش جاری کب سے تھی
آخر بحر میر اٹھائی کہہ ڈالے اشعار کئی
آج کل کی شاعری بس قافیہ پیمائی ہے
بس زباں کی روسیاہی لفظوں کی رسوائی ہے
وزن بھی ہلکا ہوا اور بحر تک ہے ناروا
معنی و مضمون کی اب رہ گئی وقعت کہاں
عروضی الجھاوے میں اکثر شعریت مجروح ہو جاتی ہے اور لطفِ تغزل بھی جاتا رہتا ہے اور کبھی کبھی بد آہنگی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر آدتیہ پنت نے شعریت کو قائم رکھا ہے، یہ بڑی بات ہے۔
آدتیہ پنت ناقد نے اپنی شاعری میں حیات و کائنات کی حقیقتوں کا ادراک کرایا ہے۔ تہذیب و تاریخ اور اساطیر سے جڑی ہوئی تلمیحات، علامات،استعارات کو اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے۔ ان کے یہاں قدیم تہذیبی، تاریخی، تلمیحات اور علامتوں کا بامعنی استعمال ہوا ہے۔ اس تعلق سے یہ چند اشعار ان کے اساطیری، علامتی اور تلمیحی اظہار کا خوبصورت نمونہ ہیں:
خونخواری کا دور سدا رہتا ہے کہاں
غرق ہوا فرعون بچا چنگیز نہیں
کبھی یہ برج کا ہے جمنا تٹ، کبھی بھومی ہے کرشیت کی
کبھی کرشن کی مرلی کا سور، کبھی شنکھ ناد ہے زندگی
کردار کچھ نئے پیدا کر نئے داستانِ عشق میں
آتے رہیں گے کب تلک رانجھا و قیس و کوہ کن
باوجود فتح تھا پورس کے سامنے
چور کیوں انائے سکندر کا آئینہ
دوستی کرشن سداما سی جو ہو
سوکھا چاول بھی پکا بھات لگے
انہوں نے عہدِ نومیں ان اساطیر و علامات کی ایک نئی معنویت دریافت کی ہے اور ماضی کی تاریخی و تہذیبی روایتوں سے اپنا رشتہ جوڑا ہے۔
آدتیہ پنت کی شاعری کی پہلی قرأت قاری کو اجنبیت کا احساس دلا سکتی ہے مگر دوسری قرأت ایک جہانِ دِگر سے روبرو کراتی ہے۔ کائنات کے ادراک و عرفان کا اُن کا اپنا ایک زاویۂ نظر ہے۔ اس لئے ہر شے کو اُنہوں نے صرف اور صرف اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور اسے شعری صورت میں ڈھال دیا ہے۔اُن کے یہاں ذات زمانہ اور زندگی کے واردات، وقوعات، تجربات، تغیرات، مشاہدات اور مطالعات کے حوالے اور اشارے بھی ہیں۔زندگی کی فنا پذیری اورتضادات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ اُن کے خوبصورت اشعار ملاحظہ فرمائیں:
پرتوِ آفتاب سے روز ہوا تمام ہے
اپنا وجود دہر میں مثلِ چراغ شام ہے
ٹھہرے ہوئے پانی سا لاموج وجود اپنا
پھر کیسے رواں ہوگا، ترغیب نہیں ملتی
اُن کی شاعری میں عصری موضوعات اور مسائل بھی ہیں جن میں آئرنی اور طنزیاتی تاثر بھی۔ اُنہوں نے آج کے مسائل کو اپنے زاویے سے دیکھا ہے اور اسے فن کا روپ دیا ہے:
ارضِ وطن کی حقداری ہے سب کو ملی
حرج نہیں گر ہاتھ میں دستاویز نہیں
تبدیل کرنا چاہتے ہیں صورتِ آئینِ ہند
لیکن لگاتے پھر رہے ہیں نعرۂ حب وطن
اَمن ہی اَمن ہو لازم تو نہیں
بس تشدد میں نہ ایزاد کریں
تاریک گپھا یا اندھا کنواں اُن تک تو رسائی محال نہیں
پر ذہن کی ظلمت تک کا سفر خورشید کرے تو کیسے کرے
آج کے تناظر میں اِن اشعار کی معنویت سبھی کی سمجھ میں بہ آسانی آجائے گی کہ شاعر دراصل اس منفی اور مروج سیاسی ڈسکورس اور بیانیے سے برہم ہے جس کی وجہ سے کشادگیٔ قلب و نظر، کشیدگیٔ جسم و جاں میں تبدیل ہوگئی ہے۔
ناقد کو ایک نیا جہانِ فکر آباد کرنے کی آرزو ہے اسی لئے اُن کے یہاں اس نوع کے اشعار بھی ملتے ہیں:
ہم دوسری دنیا میں بسالیں گے نیا گھر
آباد نہیں خانۂ ویران کریں گے
اپنی ہرگز نہیں اُڑان بدل
تو ہوا اور آسمان بدل
ان کے شعری مجموعہ کا عنوان بہت خوبصورت اور پُرکشش ہے۔ ’ادھورے حافظے‘ جو اس شعر سے ماخوذ ہے:
کئی خوابوں کے ٹکڑے سرہانے پر پڑے ہیں
تمناؤں کے گویا ادھورے حافظے ہیں
ان کی پوری شاعری کا سلسلہ کسی ادھورے حافظے سے جڑا ہوا ہے۔ دراصل زندگی میں یادداشت کی بڑی معنویت ہے۔ خاص طور پر اجتماعی حافظے سے تہذیب اور تاریخ کو زندگی ملتی ہے اور اسی سے اس کا تسلسل قائم رہتا ہے۔ مگر جب حافظے ادھورے رہ جائیں تو معاشرت اور ثقافت کی روشن عبارتیں گم ہونے اور تہذیبی قدریں غائب ہو نے لگتی ہیں۔ اس شاعری میں تہذیبی، ثقافتی حافظہ کی مراجعت کا عمل روشن ہے۔ کیوں کہ اگر انسانی ذہن کا اس حافظے سے رشتہ ٹوٹ جائے تو انسان بے چہرگی اور بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔اُن کی شاعری میں تہذیبی اور معاشرتی اقدار کی گمشدگی کا نوحہ اور فرد معاشرے کی رویہ جاتی منفیت کا بھی بیان ہے:
شہر دل کی وسعتیں اس طرح سمٹ گئیں
ہر گلی حصار میں کوچہ کوچہ تنگ ہے
کہاں ہیں زندگی کے نظم و انضباط کہاں
بکھر بکھر سے گئے ربط و اختلاط تمام
صداقت کی یہاں عزت نہیں ہے
وفاداری کی کچھ قیمت نہیں ہے
آدتیہ پنت کی شاعری میں عصری حسیت بھی ہے۔ انسانی زندگی سے جڑے ہوئے بیشتر مسائل ان کی شاعری کا حصہ بنے ہیں۔ خاص طور پر آج کا تعفن زدہ غلیظ ماحول اور ماحولیاتی آلودگی بھی ان کا ایک خاص موضوع عنصر ہے۔ اس حوالہ سے ان کے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
بدستِ خلق خدا زمیں ذلیل ہوئی
شجر حجر کا کہیں اتا پتا بھی نہیں
خوب توڑے ہیں قواعدِ قدرتی
ٹوٹیں گی اب قہر کی پابندیاں
آدتیہ پنت نے عمومی اظہارات میں بھی اختصاصی اور انفرادی راہ اختیار کی ہے۔ اُن کے شعر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ پہلے بھی کسی شعر میں یہ خیال باندھا گیا ہوگا مگر اُن کا طرز بیان بالکل الگ ہوتا ہے۔ طرز بیان کی یہی انفرادیت آدتیہ پنت ناقد کو بھیڑ کا حصہ بنانے سے بچائے رکھتی ہے۔ وہ عمومی جذبات و احساسات میں بھی اپنے تشخصاتی زاویے کو شامل رکھتے ہیں۔ وہ ایک نئی نئی سی رہ گزر کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اُن پر عمومیت کا الزام نہ آئے۔ آدتیہ پنت کی یہی شعری ریاضت اور نئی راہوں کی جستجو ان کی تخلیقی شناخت کا ایک روشن حوالہ بنے گی۔
’ادھورے حافظے‘ میں جمالیاتی اور لسانی تجربے کی ایک نئی دنیا آباد نظر آتی ہے۔
Cell:9891726444
Email:haqqanialqasmi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

