اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں جذبۂ جنوں
اٹھیں تو ایک عزم سے، سوئیں تو پر سکوں
جھکنے لگی تو شاخ ثمر بار ہو گئی
گویا کہ سربلند ہی ہوتا ہے سرنگوں
کیسے دیے کو میری وفا کا یقین ہو
پروانہ وار لو پہ نہ جب تک میں جل بجھوں
پھر کچھ طلب نہ ہو گی تری بارگاہ سے
اک بار گر مرے لیے ہو جائے کاف نوں
شاید زبان و قلب و نظر پھر نہ ساتھ دے
پردہ اگر فلک کا اٹھا کر میں جھانک لوں
خالد ندیم
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

