پروفیسر لطف الرحمن کی ادبی، علمی اور تصنیفی زندگی تقریباً سیتالیس (۴۷)سال کے عرصے پر محیط ہے۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، نقاد، مرقع نگاراور افسانہ نگار کے ساتھ کئی زبانوں کے عالم اور اچھے استاذ کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔
ان کا شعری مجموعہ ’’تازگیٔ برگ نوا‘‘۱۹۷۷ میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔ اس کے تیرہ سال بعد ۱۹۹۰ سے ۲۰۱۲ تک ان کی کئی تخلیقات قاری کے ذہن، دل و دماغ کو مسرت سے بصیرت پہنچاتی رہیں۔ جو عشق، شعورتحت الشعور اور لاشعور کے باہمی ربط و تعلق کی توضیح میں کامیاب ثابت ہوا۔
رحمن صاحب وجود کے مسائل کے فکری جذباتی اور احساساتی تشریحات سے عہدہ بر آں ہوئے۔ شعورِ ذاتٍ اور اظہار ذات کے رویوں نے ان کے خیالات ، جذبات اور احساسات کو وسعت بخشی ۔ ان کی تخئیلی آزادی اور تخلیقی فکرنے ان کے شعری کینوس کو وسعت و تنوع سے ہمکنار کیا۔
راج بہادر گوڑ نے ’’دو نیم‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ لکھا تھا وہی بات لطف الرحمن کی شاعری کے لئے بھی معنویت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مسعود حسین تو عصر حاضر میں کرئہ ارض پر بسنے والے انسان کی ’’دو نیم‘‘ کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ اور یہی انسان کا جذباتی مرکز ہے۔ اسی انسان کو وہ ’’نشاط شوق‘‘ کی منزل سے ’’انتظار بے قراری‘‘ کی کیفیت سے اور ’’لذت جستجو‘‘ کے راستے سے ایک نئے مدینۂ آدم کی طرف قدم بڑھانے کی بشارت دیتے ہیں۔ جہاں کوئی شہر یار نہ ہوگا جو محبت کی توہین اور محنت کی تکذیب کرے۔‘‘ (نذر مسعود، ص:۳۴۹)
محبت کے احترام اور محنت کی اہمیت کے احساس نے لطف الرحمن کو بھٹکنے نہیں دیا۔ انہوں نے ’’اپنے لہو کا لکھا‘‘ صرف پڑھا ہی نہیں بلکہ فرماں روائے وقت’’ کا عکس ان کے روبرو کرتے رہے‘‘۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں جو ہوا وہ ہونا تھا :
اب ہوں لہو لہان تو حیرت نہ کیجئے
ان پتھروں میں آئینہ بردار میں ہی تھا
آئینہ برداری نے جب انہیں لہو لہان کردیا تو ایسا لگا جیسے ’’شاخ منظر پر کھلی تھی رنگ کے پیکر میں شام‘‘ اور قوم کے لوگوں کی بے بسی اور بے حسی حیرت و حسرت سے ’’تماشا‘‘ دیکھتی رہی____ جنہیں اس منظر کا امانت دار بنایا انہوں نے ہی ’’اوراق حیات‘‘ کے لکھے کو بکھیر دیا۔ ’’یوں بھی زخموں کے قبالے رکھنا‘‘ آسان نہیں ہوتا۔ ایک ایک بوند میں پیوست کرکے ’’یادوں کی انی‘‘ رکھنی پڑتی ہے۔ اور وہ ’’اجنبی شہر میں‘‘ اپنی ’’خوشبوئے نفس‘‘ کی وجہ سے چلتی ہوئی شمشیروں کے درمیان آگئے اور انہوں نے جسم و روح کے زخموں کو گویائی دی۔ کمزور اور مفلوک الحال، مجبور اور ستم زدہ عوام کی آواز بن گئے۔ یعنی ’’بجھتی ہوئی رت کی‘‘ تہذیب اور انسانیت کی صدا بن گئے، زندگی کو دھنک رنگ کے حسن سے آشنا کیا۔ ’’خواہشوں کے دوڑتے ننھے قدموں‘‘ کو آسمانِ تخئیل سے لاکر سیاست کی انگنائی میں کھڑا کردیا۔ ببولوں سے بھرے جنگل کی راہ انہوں نے اپنی خواہش سے چنی، کیونکہ انہیں بچپن ہی میں یہ بتا دیا گیا تھا:
شیشہ گر نے مار کر پتھر پہ سمجھایا مجھے
آئینہ بننے سے ڈرنا خطرۂ باطل نہ تھا
انسانیت کے احترام کا جو جذبہ لطف الرحمن کی شاعری میں کار فرما ہے ، اسی جذبے نے ان سے تنقید بھی لکھوائی ہے۔ وہاب اشرفی نے ’’اردو تنقید کا نیا نصاب‘‘ میں رحمن صاحب کی تنقید کی جو شناخت بنائی ہے اس سے تخلیق کار کی ذات اور ماحول کے علاوہ اس کی سماجی ذمہ داری کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’لطف الرحمن کے یہاں انسانی تباہی کے خوف کا احساس ان کی تنقید کے مرکزی کردار پر دال ہے ۔۔۔۔ ان کی تنقیدی روش میں اخلاقی قدروں کا احترام اور روشن لکیر ہے، جس کی شکست و ریخت حقیقتاً انسان کی شکست و ریخت ہے، تباہی و بربادی ہے۔۔۔۔۔۔ لطف الرحمن انسانیت کے مثبت سرشت کے قائل ہیں۔۔۔۔۔۔یعنی ان کی تنقیدایک واضح سمت ہے اور یہ سمت Milk of Human kindness کے ورثے کے احترام سے پیداہوئی ہے۔ ‘‘
اور یہی Milk of Human Kindness ہے جس نے منٹو سے ’’موذیل‘‘ اور لطف الرحمن سے ’’دھواں ‘‘ تخلیق کروایا۔
لطف الرحمن کی کہانی ’’دھواں‘‘ کی اشاعت نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ۔ قاری نے اسے بار بار پڑھا اور اپنے مزاج اور افتاد طبع کے مطابق پسندیدگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ ’’شاعر‘‘ کے مکتوبات میں ساجد رشید ، منصور عالم، خورشید ملک، شاہد اختر، صفیہ صدیقی، شاہد جمیل، قنبر علی خاں اور محمد حامد نے اپنی علمی بصیرت اور دانشوری سے ’’دھواں‘‘ کے مقام کو متعین کرنے کی کوشش کی۔
صفیہ صدیقی لندن میں مقیم ہیں۔ شاید ان کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ ان کا اس کہانی پر بڑا شدید رد عمل ہوا اور کئی اعتراضات بھی کئے ہیں۔ موصوفہ لکھتی ہیں:
’’شمارہ ۸ میں لطف الرحمن کی کہانی ’’دھواں‘‘ پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ موصوف بہار میں بیٹھے ہوئے پاکستان اور انگلستان کے بارے میں کیسے لکھ رہے ہیں۔ ‘‘
رحمن صاحب انگلستان کا سفر کرچکے ہیں اور پاکستان کی تہذیبی، اخلاقی، عمرانی ، تمدنی ، معاشرتی اور سیاسی صورت حال ہندوستان سے بہت الگ نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ رمضان کے دنوں میں آپ گھر میں باہر جو کچھ کریں کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا، یہ تو صرف احتراماً لوگ دوسروں کے سامنے کھانے پینے سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن ’’دھواں‘‘ کے معاملے کو لے کر جھگڑا بڑھ جائے یہ ناممکن بھی نہیں۔
کیا آج مملکت خداداد پاکستان میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون نہیں ہورہا ہے؟ یہ عالمی برادری والے مسلمان ____کیا مساجد کو نمازیوں کے خون سے لالہ زار نہیں بنا رہے ہیں؟ وحشت، بربریت ، قتل، خوں ریزی ، غارت گری اور زنا باالجبر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا نہیں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کہانی میں ’’پاکستان‘‘ کا نام ایک ’’جبری ماحول‘‘ کو پیش کرنے کے لئے علامت کے طور پر لایا گیا ہے۔
لطف الرحمن سینتس (۳۷) برسوں سے بھاگلپور یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ رہ کر نسلوں کی ذہنی آبیاری میں بنیادی حصہ لیتے رہے ہیں اور انہیں امن، انصاف ، سچائی، حقیقت اور حق پسندی کی راہ پر چلنے کی ہدایت کرتے رہے۔ کئی شاگردوں کو ڈی لٹ اور پی ایچ۔ڈی کی ڈگریوں سے سرفراز کیا۔ گاندھی پیس فائونڈیشن چیئر پر بٹھائے گئے۔ ACEP (Association for Culture and Environment Preservation)اور اقلیتی اساتذہ کے صدر منتخب ہوئے ، Citizen’s Councilکے ممبر نامزد ہوئے۔ انہوں نے یہاں کی عوام اور لوگوں کو ٹوٹ کر چاہا۔ یہاں کے لوگ بھی ان سے عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ لیکن ایک واقعہ نے انہیں دل برداشتہ کردیا۔ انہوں نے اپنی دل برداشتگی کا اظہار ’’دھواں‘‘ میں شعور ی طور پر کیا ہے۔
’’پاکستان میں نئی نئی فوجی حکومت آئی تھی ۔۔۔۔۔رمضان کاکوئی دن تھا۔۔۔۔۔دن کے دو بجے تھے ۔۔۔۔۔میرے والد سخت بیمار تھے گھر میں کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔
بھاگلپور میں ہندو مسلم فساد کے بعد رات میں راہ چلتے مسافروں اور دیر رات کام سے لوٹنے والوں کے قتل کی واردات ہونے لگے جس سے متاثر ہوکر وہاں کے لوگوں نے رات میں پہرہ دینے والوں کی کمیٹی بنائی جس کو وہاں کے حفاظتی عملے کی طرف سے اجازت نامہ ملا ہوا تھا ۔ لوگ رات میں پہر بانٹ کر پہرے دینے لگے۔ لطف الرحمن صاحب بھی اپنے آدمی پہرے دینے کے لئے بھیجتے رہے ۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا یہ خود باہر گئے ہوئے تھے۔ جو صاحب پہرے میں شامل ہوا کرتے تھے ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ سسرال چلے گئے۔ دوسرے تاکید سے خود نہیں گئے۔ بس پھر کیا تھا ____’’اس نئی نئی فوجی حکومت ‘‘ شب دو بجے گھر کو سزا دینے لگے دیوار اور گیٹ پر لاٹھیوں کی بوچھار کے ساتھ ’’عجیب پھٹی، بکھری کھڑکھراتی گونجیلی آواز میں لعن طعن کرنے لگے‘‘ گھر میں رہنے والوں نے کچھ نہ سمجھا لیکن بدحواس ہوگئے۔ ذہن کچھ دن پہلے گذری ہوئی قیامت صغریٰ کی طرف چلا گیا (یہ لوگ حال ہی میں قاضی ولی چک احمدیہ بلڈنگ سے کوچ کر تاتار پور میں خسر کے مکان میں رہائش پذیر تھے) ۔ پردہ نشیں خواتین بے بسی محسوس کر رہی تھیں، اختلاج قلب بڑھ گیا۔ اب معذور اور کمزور لوگوں کے ساتھ کدھر بھاگا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ایسی حالت میں ان کا یہ کہنا حقیقت پر مبنی ہے ____’’کسی حقیقت کو جانے بغیر معترض ہونا کسی کے گھر پر حملہ کر دینا۔۔۔۔۔ سر اسر غنڈہ گردی تھی ۔ ان لوگوں کی مذمت کو حق بجانب سمجھا‘‘۔ اور یہ سچ بھی ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو ان کی اوقات بتادی۔ جب انہیں اپنی غلطیوں کا خود احساس ہوا تو رحمن صاحب ان لوگوں سے ایسے ملے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
مندرجہ بالاسطور میں جس واقعہ کا ذکر کیا ہے اس کی واقفیت مجھے بھاگلپور میں ہوئی تھی، میں اپنے ماموں کے ساتھ ڈیوڑھی پر بیٹھا تھا کہ چند معزز حضرات تشریف لائے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ سارا ماجرا سن کر سید شاہ مولانا شرف عالم صاحب نے ان لوگوں سے کہا کہ بھاگلپور کے لئے لطف الرحمن صاحب کی کیا حیثیت ہے اور ان کی کتنی اہمیت ہے____ پھر انہوں نے موصوف کی جملہ صفات شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ۔ ’’انہوں نے قمقمے اور بجلی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ جس سے یہ روشن ہے وہ نظر نہیں آتی۔۔۔ ۔۔ یہ قوت بہت لطیف شے ہے آپ اس سے چاہیں جتنا فائدہ اٹھائیں۔۔۔۔۔۔لیکن اس سے چھیڑ خانی نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی سی بداحتیاطی آپ کونقصان پہنچا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
معاف کیجئے (میں نے تو غیر متعلق سی بات شروع کردی) میں یہ کہہ رہا تھا کہ ’’پاکستان‘‘ کا نام حقیقت کوکیپسل کی صورت پیش کرنے کے لئے لایا ہے۔ بیدی نے ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ‘‘ میں ایک اعتراف کیا تھا۔ ’’سچ سننے کی طاقت کس میں ہے باپ روزا ریو‘‘
نہیں میں سچ نہیں بولوں گا یا ایسا سچ بولوں گا جو سچ سے ارفع ہو یعنی اس میں جھوٹ کی حسین آمیزش ہو۔ ایسا کروں گا تو معاشرے میں طوائف الملوکی پھیل جائے گی۔ ‘‘
غیاث احمد گدی نے بھی ’’پڑائو‘‘ کے ابتدائیہ میں اسی قسم کی بات کی ہے:
’’مصنف کی حیثیت سے اس میں تھوڑا سا جھوٹ شامل کرنے پر مجبور ہوں۔۔۔۔۔۔ بہت سے سچ میں تھوڑا سا بے ضررکا جھوٹ ملانا قابل گردن زدنی نہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
کہانی میں جھوٹ کی حیثیت پان کے بیڑے پر نفاست سے لگایا ہوا چاندی کا ورق ہوتا ہے۔ اس سے پان کے ذائقے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن اس سے آپ کی سلیقہ مندی اور نفاست کا پتا چلتا ہے اور کہانی کار ایسا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسے اتنی تو آزادی دینی ہی پڑے گی۔۔۔
یوں بھی کہانی کوبیان کرنے کے لئے کسی بھی فنکار کو اپنا Second selfپیدا کرنا ہوتا ہے۔
’’جس کی پہلی اخلاقی صفت فنکار کو خود سے اپنے سے دور رکھنے کی ہے، تاکہ حقیقت کے خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں پہلوؤں کا مطالعہ کرتے وقت فنکار کی سماجی شخصیت اور اس کی طبعی خصوصیت، اس کا لبرلزم ، قنوطیت یا کلبیت ، رحمدلی اور گداختگی نفاست پسندی ، بذلہ سنجی اس کی نظر کو اپنے رنگ میں نہ رنگ دے۔ ‘‘
صفیہ صدیقی کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جس ہوٹل میں ٹیکسی والا اور سکریٹری جاتے رہتے ہیں وہاں کوئی عرب نہیں جاتا اور وہ بھی وہ جو ایک رات کی قیمت پانچ لاکھ تک دے سکتا ہے۔ یہ لوگ ہلٹن یا شیرٹن میں ٹھہرتے ہیں۔
یہ اعتراض ویسا ہی ہے جیسے کوئی کہے ’’ہتک‘‘ میں منٹو ویشیا کی زندگی کی حقیقت نہیں بیاں کر پائے ہیں۔ سوگندھی کا یہ کیسا جنون ہے ، ایک ویشیا پسند اور ناپسند کی منڈیر پر شام کی دھوپ کی طرح ہوتی ہے۔۔۔۔۔ یا کوئی کہے رندھیر جیسا نفیس شخص ایک گھاٹن لڑکی کے میلے کچیلے گندے جسم سے عرفانِ فطرت نہیں حاصل کر سکتا ہے۔ ’’بوئے آدم‘‘ یا فطرت کی طرف مراجعت ، سراسر ڈھکوسلا ہے، بالکل غلط ہے کہ وہ ایک خالص انسانی لذت میں تحلیل ہوگئے تھے۔ ایسی لذت جو لمحاتی ہونے کے باوجود دائمی تھی جو مائل بہ پرواز ہونے کے باوجود ساکن اور جامد تھے۔۔۔‘‘
یا یہ کوئی کہے کہ اقبال متین نے ’’چراغ تہہ داماں‘ ‘میں بالکل غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔ شانوجہ لڑکا ہے اس پر کوئی خان اس حد تک عاشق ہوہی نہیں سکتا جو اس پرموٹر بنگلہ اور عیش آرام کے لئے دولت دے۔ یا پھر کوئی کہے کہ ’’حضرت جان‘ میں قاضی عبدالستار نے بالکل غلط آدمی کو بھڑوا دکھایا ہے اس کے ہاتھ میں تسبیح ہے، پیشانی پر نماز کے گھٹے ہیں۔ حاجی ہیں، بھلا یہ ____!آپ خود دیکھیں شیخ کس طرح حاجی کو ڈانٹ رہا ہے____’’ام دلی میں یورپ کا عورت دیکھنے نہیں آیا___یورپ ہمارا آنگن ہے ۔۔۔۔تم عیش بیچتا۔۔۔۔ام خریدتا۔۔۔۔تم پیسالیا ، ام کو اماراعیش دے دے ۔۔۔۔ اباجی کے ہاتھ میں تسبیح کانپ رہی تھی۔ جس ہاتھ میں تسبیح نہیں تھی وہ داڑھی پر لرز رہا تھا۔ حضرت جی نے سگریٹ عیش ٹرے میں مڑوڑ ی ابا جی گردن سہلانے لگے۔ ہم جانتا لڑکی لوگ بڑا ہنگامہ کرتا۔ بہت روتا، بہت چیختا اس لئے اپنے منہ سے عورت مانگتا۔ کل تم نے رنڈی بھیجا۔ ام رنڈی نہیں مانگتا ۔ ام پوچھنے آیا ام کو کیوں بلایا۔ تم نے ام کو سمجھا کیا تو چاہتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔حضور سرکار‘‘
"No Papa No”کی دلخراش آواز چیخ بن چکی ہے جس کو اپنی ذات میں محسوس کر رہے ہیں۔ ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مادام صفیہ صاحبہ ’’یہ دنیا ہے‘ یہاں سب کچھ ہوتا ہے۔ ہر شخص جدا جدا شوق رکھتا ہے ’’جنسی جذبے کا براہ راست خالق سے تعلق ہے‘‘ تو ان کا ہر جگہ جانااور پہنچنا بہت مشکل نہیں۔ آیٹیکل وژن سے نہ کسی کردار کو دیکھنا چاہئے اور نہ ہی پرکھنا چاہئے۔ اس کے لئے ذہن کو تھوڑی وسعت دینی ہوگی____خاص خطے ہی میں یہ جانور پایا جائے گا۔ کیونکہ اس سے زیادہ سنٹی گریڈ میں وہ جی ہی نہیں سکتا تو پایا کیسے جائے گا۔
ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ’’دھواں‘‘ میں لڑکی کی نفسیات کو بدل دیا گیا ہے۔ ’’جس پرحقیقت کا گمان ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔‘‘
’’اردو افسانے میں لس بین ازم‘‘ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک لس بین عورت اپنی نفسیات بدل سکتی ہے۔ ش اختر فرائڈ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’عورتوں میں لس بین ازم کی ایک وجہ مردوں سے آزاد ی کا جذبہ ہے۔ colitoridal Womanکے متعلق ماہرین نفسیات مختلف خیال رکھتے ہیں۔ جو فرائڈ کے نزدیک وہ عورت جو کلورٹس میں تمام جنسی ہیجاں پوشیدہ رکھتی ہیں، عورت کی تمام خصوصیات سے محروم ہوجاتی ہیں۔ یہی نہیں وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اسے جتنا جلد ہو دبادینا چاہئے تاکہ نسوانی حسن بیدار ہوکر نشو نماپا سکے۔‘‘
فیصل میری کو بار بار سمجھا تا ہے کہ:
’’میری !زندگی فطرت کا ایک حسین اور بے حد قیمتی ایک عطیہ ہے اس رشتے کا احترام کرنا سیکھو‘‘ پھر آگے کہتا ہے __’’اپنے غیر فطری طرز زندگی سے فطرت کی ازلی رشتوں کی مزید توہین نہ کرے‘‘
مندرجہ بالا اقتباس میں لطف الرحمن کے خیالات واضح ہوکر سامنے آگئے ہیں۔ اس میں فطرت سے اٹوٹ محبت اور اس کا احترام ہر ذی روح پر لازم ہے۔ اس میں انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ فطرت سے بغاوت کرکے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ایک نہ ایک دن اسے قدرت کا شکار ہونا ہے۔ اور اسی ضد کی بناپر بغاوت کرتا رہے گا تو ایک روز اسے تباہ وبرباد ہوجانا ہے۔
بچپن میں سنی ایک کہانی یاد آرہی ہے جس میں ایک مینڈک کا بچہ غیر فطری ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتا ہے۔ لیکن جب اسے موافق ماحول ملتا ہے تو فطرت کی طرف لوٹ آتا ہے۔ دیہات میں پہلے لوگ پوکھر اور ڈبرے کا پانی پیا کرتے تھے ۔ ایک شخص پانی پیتے ہوئے سرک گیا ۔ بہت دنوں کے بعد اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا علاج کے باوجود تکلیف میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اکسرے کروانے کے بعد پتہ چلا سر پہ کوئی چیز ہے۔ آپریشن کرنے پر ایک بڑا سا مینڈک سر پر بیٹھا ہوا ملا ڈاکٹر اسے چمٹے سے پکڑ کر اٹھاناچاہتے تو وہ چھلی کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ۔ خدشہ تھا کہ جھلی ہی کو نقصان نہ پہنچا دے۔ ڈاکٹر عجیب کشمکش میں خود کو پاتے تھے کہ آخیر کیا کیا جائے کہ اتنے میں کمپائوندر نے کہا جناب ہم بڑے سے برتن میں مٹی گھول کر پانی لاتے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ پانی دیکھ کر اس میں کود جائے اور ایسا ہی ہوا۔ فطرت کا ازلی تقاضا اس کی ذات کی ہمک بن گئی جسے ماہرین نفسیات اور لطف الرحمن کے خیالات کے مطالعہ سے اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ اگر کوئی Lesbianشعوری طور پر کوشش کرے تو اپنی نفسیات پر قابو پاکر فطرت کے ازلی تقاضے کو پورا کر سکتا ہے۔
Colitoridal Womanکے متعلق ماہرین نفسیات میں مختلف خیالا ت پائے جاتے ہیں۔ اور اردو افسانے میں خواتین افسانہ نگاروں نے بھی بڑی بے باکی ے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عورت بھی جنسی فعالیت سے معمور ہے اور ایک عورت دوسری عورت سے جنسی لذت حاصل کرسکتی ہے۔ یہ عورتیںد ورانِ مباشرت کی لذت کو نقطۂ عروج پر لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اردو میں لس بین ازم کا آغاز عصمت چغتائی کی کہانی ’’لحاف‘‘ سے ہوتا ہے۔
’’لحاف‘‘ میں انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر ایک نوجوان اور شریف عورت ایک ہجڑے خاوند کے پلے باندھ دی جاتی ہے تو وہ اپنی زندگی کیسے گذارتی ہے۔‘‘ اس کہانی میں بڑی بے باکی، ایمانداری ، صفائی اور جرأت مندی کے ساتھ حقیقت نگاری کی بنیاد ڈالی گئی ہے جسے جاننے کا تجسس لوگوں میں پیدا ہوا ۔ میلان ہم جنسی کے موضوع پر عصمت چغتائی کے بعد جن خواتین افسانہ نگاروں نے قلم اٹھایا ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
ممتاز شیریں ، ہاجرہ مسرور ار صدیقہ بیگم سیوہاروی نے بے جھجھک ہوکر جنسی موضوع پر قلم اٹھایا اور بڑی اچھی معیاری اعلیٰ اور خوبصورت کہانیاں لکھیں۔ ان کہانیوں میں ان لوگوں کے مشاہدے بولتے ہیں۔ سچائی اور حقیقت نگاری کی خواہش نے انہیں ایک ایسے نئے جہاں سے واقف کرایا جہاں عورتیں خود کفیل نظر آتی ہیں۔ جنسی تکمیل کا یہ انوکھا طریقہ ایسی سنجیدہ جبلت ہے جس کی تشریح بہت مشکل ہے۔ آج کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کبھی لس بین ازم کا رجحان سماجی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، تو کبھی نئے جہان کی لذت کی خواہش انہیں ایسا کرنے پر اکساتی ہیں۔ کبھی کم عمری میں باپ کی عیاشیوں سے متاثر ہوکر جنسی ابال کا شکار ہوجاتی ہیں اور اپنی ہم جنسوں سے جنسی لذت سے دو چار ہوتی ہیں۔
لطف الرحمن نے بھی Lesbianعورت کی کہانی کھی ہے جو فیصل کی محبت کے اظہار کے جواب میں کہتی ہے۔
’’تم میرے بہت اچھے دوست ہو۔۔۔۔۔تم دنیا میں تنہا مرد ہو جس کو میں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ لیکن میں Lesbianہوں مجھے مردوں سے نفرت نہیں لیکن ان میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘
فصل وہ تنہا مرد ہے جس کو میری عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ لیکن پھر بھی کہتی ہے کہ ’’مجھے مرد وں سے نفرت نہیں‘‘ اگرمردوں سے ’’نفرت نہیں‘‘ تو پھر فیصل ہی تنہا کیوں فیصل کے علاوہ کوئی دوسرا مرد ’’مخلص‘ ناقابل اعتماد مہذب شریف نیک نہیں ملا؟ جس کی وجہ سے اس کی مردو ں سے دلچسپی ختم ہوگئی____’’ندی‘‘ میں بلانکامیروؔ سے ’’خوف زدہ‘‘ رہتی تھی کیونکہ وہ محسوس کرنے لگی تھی کہ وہ اسے تباہ کردینے پر قادر ہے۔ بلانکا کے کئی مخلص دوست تھے جن میں سلطان اس پر جان چھڑکتا تھا،لیکن بلانکا کے اندر ’’نفرت اور جرم‘‘ کی آگ بھڑکتی رہتی تھی کیونکہ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کا قانونی باپ کوئی نہیں ہے۔ اسی وجہ ے کسی مرد کو خودسے قریب ہوتے دیکھ کر خوف زدہ ہوجاتی تھی اور اگر وہ کسی کے قریب آتی بھی تھی تو اس کو اپنی مرکب شخصیت ، ذہانت، فطانت اور بذلہ سنجی سے مرعوب کردیتی تھی ____اس سے قبل کہ اس کی زندگی میں کوئی شخص داخل ہوکر اس کے راز سے واقفیت حاصل کرے، وہ اس سے تعلق توڑلیتی تھی۔
لطف الرحمن کی کہانی میں کوئی ایسی تفصیل نہیں ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایک مختصر سا افسانہ ہے اور ’’ندی ‘‘ طویل کہانی ہے۔ لیکن جہاں تک دوستوں سے دوستی بنانے کا تعلق ہے ، دونوں میں قدر مشترک ہے۔ بلانکا کو سلطان سے اور میری کو فیصل سے مخلصانہ تعلق ہے اور دونوں ایک دوسرے کی دوستی کی قدر کرتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ایک نہ بن پانے کا افسوس بھی کرتے ہیں۔
منصور عالم نے ٹھیک ہی لکھاہے کہ ’’دھواں‘‘ میں فکری موڑ ہے اس سے نسوانیت کا وقار بڑھ جاتا ہے۔ لطف الرحمن کی کہانی ’’دھواں‘ میں میریؔ کی ایک ’’چہیتی محبوب‘‘کو دس ہزر پونڈ کی ضرورت آن پڑتی ۔ میری اس کی مدد کے لئے بہت فکر مند تھی۔ اس کی مدد کے لئے وہ کتنی کوشاں اور فکر مند تھی ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب دو مخلص دوست ایک دوسرے سے جدا ہونے کے لئے مل رہے ہوں اور یہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ ایک دوسرے سے پھر مل بھی سکیں گے یا نہیں___ایسے موقع پر دونوں کے پاس یادوں کی پونجی ہی ہوا کرتی ہے جس کا وہ لین دین کرتے ہیں۔ اگر ایسے موقع پر کوئی دوسری بات ہوتی ہے تو وہ بڑا اہم ہوا کرتا ہے۔ اورمیریؔ اس آخری ملاقات کے موقع پر دس ہزا ر پونڈ کے حصول کی دقتوں اور ضرورتوں پر گفتگو کرنے لگی، اور اس کے انتظام نہ ہونے کی صورت میں دونوں افسردہ تھے۔ ان لوگوں کی میز کے قریب ایک شیخ بیٹھا میریؔ کے لافانی بیچین حسن سے لطف اندوزہورہا تھا یا ان لوگوں کی ضرورتوں کو محسوس کر رہا تھا ۔ پھر اس شیخ نے شاطر شکاری کی طرح عملی قدم اٹھایا اور فیصل کے قریب آکر دعوت دی کہ اگر اس کی معشوقہ یا بیوی اس کی ایک رات کو اپنی صحبت سے رنگین کردے تو ہم اس کی کوئی بھی قیمت دے سکتے ہیں۔
فیصل مضحکہ خیز حالات سے لطف اندوز ہونے کے لئے نہایت کمینے پن اور شیطانی جذبے کے ساتھ شیخ کو خود میریؔ سے سودا کرلینے کے مواقع فراہم کر دیتا ہے۔ اور میریؔ Lesbian ہونے کے باوجود شیخ کی دعوت قبول کرلیتی ہے اور اپنی فطرت کے خلاف عمل کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ یہ قربانی کے جذبے کی انتہا ہے۔ موذیل نے ترلوچن کی معشوقہ کرپال کورکی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کردی تھی۔ لیکن یہاں میریؔ اپنے کسی آشنا کی مدد کے لئے اپنی ’’فطرت‘‘ تک قربان کر دیتی ہے۔ اگر میریؔ کے لئے یہ عمل آسان ہوتا تو وہ فیصل کو ضرور ’’شاد کام‘‘ کرتی ____لیکن وہ یہ ایسا فعل کرے ، خوا ب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔ کردار کے معاملے میں میریؔ بہت بلند تھی اور جنسی خلوص رکھتی تھی ۔ لیکن اس نے کسی کی مدد کے لئے شیخ کے آفر کو قبول کرلیا۔ یہاں ایک پاکیزہ جذبے کے تحت سراسر تجارت تھی ۔ اپنا ’آپا‘‘ نہیں سونپا تھا کہ ہچکچاہٹ ہوتی ۔شیخ سے ملنے کے بعد میریؔ جنسی جبلت کی طرف لو ٹ آتی ہے اور صحت مند ہوجاتی ہے۔ اس میں یکایک جذباتی اور جنسی تغیر پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی ذات پر چھائی ہوئی کیچلی اتر جاتی ہے اور وہ موسم کے تغیر اور تبدل کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فیصل سے خوشامد کرتی ہے۔
’’فیصل مت جائوپلیز
میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں
فطرت سے اپنے گم شدہ رشتے کی بازیافت کے لئے مجھے تمہاری بہت ضرور ت ہے ‘‘
یہاں میریؔ کا کردار اپنی معراج کوچھو لیتا ہے ۔ جیسے موذیل ننگی ہوکر بھی ایثار و قربانی کی پیکر نظر آتی ہے۔ جس پر سے ظاہری مذہب کے سارے غلاف ہٹ چکے ہوتے ہیں۔ ترلوچن کی ظاہر داری کی مذہبی پگڑی اتنی پاک ہی نہیں تھی کہ جس سے اس مقدس صحیفے کو ڈھکا جاسکے۔
صفیہ صدیقی کے علاوہ کئی پڑھے لکھے لوگوں نے دوران گفتگو یہ اعتراض کیا ہے کہ لڑکی کی نفسیات کیسے بدل گئی؟
ماہرین نفسیات کے علاوہ ممتاز شیریں نے افسانہ ’’انگڑائی‘‘ میں ایک lesbianلڑکی گلنار کو دکھایا ہے جو اپنی لیڈی ٹیچر سے جنسی تعلق رکھتی ہے۔ لیکن جب گلنار کی شادی ہوجاتی ہے تو وہ اپنے شوہرسے آسودہ ہوجاتی ہے اورہم جنسی کی نفسیات سے الگ ہوجاتی ہے۔ اس افسانے کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کسی لڑکی یا عورت (جو شریف ہے) کو پورا مردمل جاتا ہے تواس کی جنسی نفسیات بدل جاتی ہے اور وہ صرف مرد پر قانع ہوجاتی ہے۔
نفسیات کابدل جانا کوئی ناممکن عمل نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے لڑکی کا جنسی خلوص رکھنا او ر باکردارہوناضروری ہے۔ ورنہ جنسی و جسمانی لذت حاصل کرنے والی عورتیں دونوں قسم کے جذبات رکھتی ہیں اور یکساں طور پر دونوں عمل سے گذر کر اپنے جنس کی تکمیل کرتی ہیں۔ یعنی وہ بیک وقت Bisexualہوتی ہیں۔ اور Colitoridal بھی۔ اس طرح کی عورتوں یا لڑکیوں کو Tomboyکے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس موضوع پر صدیقہ بیگم کی کہانی ’’تارے لرز رہے ہیں‘‘ بڑی کامیاب کہانی ہے۔
دھواں کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے ہوجاتا ہے کہ اس نے افسانوی جمود کو توڑا ہے اور بحث و تمحیص کے دروازے وا کئے ہیں نیز آنے والی نسل کو دعوت فکر بھی دی ہے۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
ان صاحب کا من پسند موضوع جنس ہے، اس لئے لطف الرحمٰن کے افسانے کو موضوع بنایا، ورنہ لطف الرحمٰن صاحب عمدہ جدید غزل گو شاعر تھے اور ان کی شاعری کو موضوع بحث بنایا جانا چاہئے تھا۔