شاعری نفس الامر میں الفاظ کا فن ہے،بالکل اسی طرح جیسے فن موسیقی آواز اور فن مصوری لکیروں اور رنگوں کے وسیلے سے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ہماری قدیم شعری روایت میں اس بات پر بحث ضرور ہوتی رہی ہے کہ شعر کے لیے لفظ کی اہمیت زیادہ ہے یا معنی کی۔چنانچہ بعض علماے شعر معنی کی فوقیت کے قائل رہے ہیں ہیں تو بعض نے لفظ کو اولیت دی ہے۔اس کے لیے انھوں نے مختلف مثالوں سے اپنے موقف کی تائید میں دلائل پیش کیے ہیں،مثلاً لفظ اور معنی کو ظرف اور مظروف یا لباس اور جسم کی مثال کے ساتھ اپنے اپنے خیالات کا استدلال کیا ہے۔ہمارے یہاں جدید زمانے میں مولانا حالی نے پہلے اس پہلو پر بحث کی اور انھوں نے معنی یا خیال کی اولیت کی تائید کرتے ہوئے اپنے موقف کو صراحت کے ساتھ ’مقدمۂ شعروشاعری‘ میں پیش کیا۔
لفظ اور معنی کی اس بحث پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو علماے شعر کے ہر دو گروہ کا نظریہ اپنی جگہ درست اور قابل قبول معلوم ہوتا ہے۔لیکن اس صورت میںیہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ ان میں تطابق کیسے پیدا کیا جائے؟یہاں ٹھہر کر اگر ہم سوچیں تو جو صورت حال سامنے آتی ہے اسے کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔یہ تو درست ہے کہ شاعری کا وسیلۂ اظہار الفاظ ہیں،لیکن لفظ چونکہ معنی کے حامل ہیں اس لیے شاعری کا کلام مخیل ہونا لازمی ہے۔لیکن بات پھر وہیں آکر رکتی ہے کہ شعر میں خیال کو ترجیح دی جائے یا وہ خیال جن الفاظ کے لباس میں ظاہر ہوا ہے انھیں فوقیت حاصل ہو۔میرا خیال یہ ہے کہ یہاں شاعری کی حیثیت کی ترجیح کا معاملہ ہے۔یعنی جو لوگ شاعری کو بحیثیت فن مقدم رکھتے ہیںان کی نظر میں الفاظ کو ترجیح حاصل ہے،اور جن کی نظر شاعری میں بیان کردہ افکار وخیالات کو پہلے دیکھتی ہے اور جو اسی پر زور دیتے ہیں،وہ معنی کی اولیت کے قائل ہیں۔اس بات کا واضح ثبوت مولانا حالی کے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔
اس بات میں شاید کسی کو کلام نہ ہو کہ جو چیز شعر کو فنی حیثیت سے شعر بناتی ہے وہ شعر میں بیان کردہ خیال نہیں، بلکہ الفاظ کا استعمال اور طرز بیان ہے۔اس کا ایک ثبوت تو یہی ہے کہ ایک ہی خیال کئی طرز واسلوب میں بیان ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے،یعنی ایک ہی خیال کے حامل کئی شعر ہو سکتے ہیں۔لیکن ان تمام شعروں کا فنی لحاظ سے یکساں ہونا لازمی نہیں۔اس سے ظاہر ہوا کہ خیال لازمی طور پر شعر کے فن کو متاثر نہیں کرتا۔اس کے بر خلاف شعر میں الفاظ کی معمولی تبدیلی بھی شعر کی فنی کیفیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔بطور دلیل یہاں دومثالیں پیش کی جاتی ہیں۔مصطفیٰ خاں یکرنگ کے اس شعر کو میر نے اپنے تذکرے میں نقل کیا ہے:
سچ کہے جو کوئی سو مارا جائے
راستی ہے گی دار کی صورت
اس کے بارے میں میر صاحب لکھتے ہیںـ’’ باعتقاد فقیربجائے لفظ ’سچ‘ حرف حق اولیٰ است،براے مناسبات درست می افتد۔‘‘آپ نے ملاحظہ کیا کہ موجودہ صورت میں بھی معنی اور خیال کے اعتبار سے شعر بالکل مکمل تھا،لیکن سچ کی جگہ حق کے لفظ نے شعر کو کہاں سے کہاں سے پہنچا دیا۔دوسری مثال غالب کے یہاں سے ملاحظہ ہو۔ان کی غزل کا مشہور شعر ہے:
دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
میں یہاں پوچھنا چاہتا ہوں کہ غالب نے دوسرے مصرعے میں ’ہیہات‘ کے بجائے لفظ ’افسوس‘ کیوں نہیں رکھا،جب کہ اس سے بھی مصرع موزوں تھااوراس سے بھی وہی کیفیت حاصل ہورہی تھی، جو موجودہ مصرعے سے مطلوب ہے۔اس کا صرف اور صرف یہی جواب ہوگاکہ لفظ ’ہیہات‘ کے صرف سے شعر میں رعایت کا حسن پیدا ہو گیا،جو ’افسوس‘ کے لفظ سے حاصل نہ ہوتا۔اس سے ظاہر ہوا کہ شعر میں فنی خوبی پیدا کرنے کے لیے ہمارے کلاسیکی شعرا سامنے کے لفظ کو چھوڑ کر کم مستعمل اور نامانوس لفظ کو اختیار کرنا معیوب نہیں، مستحسن سمجھتے تھے۔
اوپر کی بحث سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ کلاسیکی شعرا کے یہاں الفاظ کا استعمال فن شعر کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔میر انیس نے جب یہ کہا کہ ’اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘ تو جہاں وہ اس مصرعے میں مضمون آفرینی کی حقیقت بیان کر رہے تھے،وہیں اس بات کی طرف اشارہ بھی کر رہے تھے کہ مضمون کو سو طرح سے باندھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ الفاظ کو طرح طرح سے استعمال کیا جائے۔چنانچہ یہ صورت حال ہماری کلاسیکی شاعری میں عام طور سے دیکھی جا سکتی ہے۔
اسی کے ساتھ ہماری شعری روایت میں بڑے شعرا کا ایک معمول یہ بھی رہا ہے کہ انھوں نے تازگی مضمون کی خاطر یا شعر میں لطف وخوبی کے کچھ اور پہلو پیدا کرنے کی غرض سے ایسے الفاظ بھی خوب استعمال کیے ہیں جو نامانوس اور اجنبی کہے جا سکتے ہیں۔ان میں کچھ لفظ تو وہ ہیں جو بذات خود نامانوس کہے جانے کے قابل ہیں،البتہ بہت سے ایسے الفاظ بھی ان شعرا کے یہاں نہایت خوبی کے ساتھ برتے گئے ہیںجو بظاہر تو مانوس اور سامنے کے ہیںلیکن وہ جس معنی میں استعمال ہوئے ہیں اس کی رو سے انھیں بلا شبہ نامانوس اور اجنبی کہا جائے گا۔انشاء اﷲ خاں انشا کے یہاں ایسے الفاظ کی دونوں صورتیں بیش از بیش نظر آتی ہیں۔انشا کے کلام سے مثالیں پیش کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیگر کلاسیکی شعرا کے یہاں سے اس طرح کے چند نمونے پیش کر دیے جائیں۔پہلے سودا کے کلام سے کچھ مثالیں دیکھئے:
آئی بہار دیکھیو طفلان سنگ دل
آلے ہیں پار سال کے سب زخم تن ہنوز
اس شعر میں’آلا‘ اس زخم کے معنی میں ہے جو پوری طرح مندمل نہ ہوا ہو۔
چرخ پر چڑھتے سنی تیغ تری جس دم سے
سر نکالا نہ مہ وخور نے سپر سے باہر
یہاں ’چرخ پر چڑھنا‘ سان پر رکھنے اور دھار تیز کرنے کے معنی میں ہے۔ سودا نے اس فقرے کا استعمال یہاں جس فنی التزام کے ساتھ کیا ہے، اس کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔البتہ تیغ اور دم کی رعایت اور ماہ و خور کے ساتھ سپر اور چرخ کے مناسبات کے حسن کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی۔
عارض سے چہرہ ہو کر اس کے ہوا ہے رسوا
لالے نے خانداں کو داغ اپنے کیا لگایا
اس شعر میں ’چہرہ ہونا‘ کے معنی ہیں مقابل ہونا، برابری کرنا۔آپ ملاحظہ کریں کہ یہاں لالے کے داغدار ہونے کی شاعرانہ توجیہ کس خوبی کے ساتھ کی گئی ہے۔اسے حسن تعلیل پر مبنی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال کہا جا سکتا ہے۔ اس فقرے کا نہایت عمدہ استعمال میر کے یہاں بھی دیکھئے:
لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیوں کر
ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیوں کر
۔۔۔
کوچ شاہ حسن کا ہے وہ غبار خط نشاں
گرد لشکر سے اٹھے وقت سواری بیش تر
لفظ ’سواری‘ عام طور سے مرکب کے معنی میں مستعمل ہے،البتہ عام بول چال میں اس سے سوار یعنی راکب بھی مراد لے لیتے ہیں۔لیکن جیسا کہ ظاہر ہے،عام معنی کے برخلاف یہاں سودا نے اس لفظ کو’ سوار ہونے کی حالت‘ کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔
کیا خوشی ہم کو کہ اپنی ہے یہ حیرانی کی طرح
دیکھتے ہیں عید عالم چشم قربانی کی طرح
لفظ ’قربانی‘ عموماً بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔لیکن یہاں یہ لفظ مذبوح جانور کے معنی میں لایا گیا ہے۔ملحوظ رہے کہ اس معنی میں یہ لفظ دیگر کلاسیکی شعرا کے یہاں بھی ملتا ہے۔
اب کچھ مثالیں میر کے کلام سے ملاحظہ ہوں:
قصیدہ در مدح نواب آصف الدولہ کا ایک شعر ہے:
زلزلہ پڑ جائے سارے ملک میں
ملک داروں سے کہیں ہاں سر حساب
اس شعر میں ’سر حساب‘ کا لفظ اس قدر نادر اور اجنبی ہے کہ عام طور سے لغات میں نہیں ملتا۔اس کے معنی ’ہوشیار اور خبردار‘ کے ہیں۔غور کیجئے کہ اسی شعر میں ’ملک دار‘ بھی جہاں دار کے معنی میں ہے لیکن کس قدر نامانوس ہے۔
مثنوی ’ خواب وخیال‘ کا درج ذیل شعر دیکھئے:
غلط کاری وہم کچھ کم ہوئی
وہ صحبت جو رہتی تھی برہم ہوئی
یہاں ’غلط کاری‘ کا لفظ بظاہر اتنا سہل اور مانوس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ہم سرسری گذر جاتے ہیں۔لیکن خیال رہے کہ یہ لفظ ’در مغالطہ انداختن‘ یعنی ’دھوکے میں ڈالنے یا دھوکا دینے‘ کے معنی میں یہاں استعمال ہوا ہے۔اسی مثنوی کا ایک اور شعر ہے:
لب نان اک بار دینے لگے
دم آب دشوار دینے لگے
یہاں ’دم آب‘ کو ایک گھونٹ پانی یا بہت تھوڑا پانی کے معنی میں لایا گیا ہے۔فرید احمد برکاتی مرحوم نے اس مصرعے میں ’آب دشوار‘ کو ترکیب فرض کرکے اپنے فرہنگ کلیات میر میں اسے درج کیا اور یہ بھی لکھا کہ آصفیہ اور آنند راج میں یہ ترکیب موجود نہیں ہے۔ظاہر ہے، جب’ آب دشوار‘ کوئی ترکیب ہی نہیں ہے تو آصفیہ یا آنندراج میں کہاں سے ہوگی۔یہاں آب کی اضافت دم کے ساتھ ہے نہ کہ دشوار کے ساتھ۔یعنی فقرہ’دم آب‘ ہے اور ’لب نان‘ کے ساتھ اس کی مناسبت بھی سامنے کی ہے۔لیکن دم،آب اور دشوار اتنے سامنے کے الفاظ ہیں کہ ہم ان سے سرسری گذر جاتے ہیں۔
اب دو ایک مثالیں مصحفی کے یہاں سے بھی دیکھتے چلیں:
پری حور انساں کسی میں نہیں
جو دیکھی ہیں تجھ میں ادا داریاں
یہاں ’اداداری‘ ادائیں رکھنا،متنوع انداز رکھنا کے معنی میںاستعمال ہوا ہے۔یہ لفظ بظاہر نامانوس لیکن کس قدر تازہ ہے۔
ہے توسط میں ابھی تو شعلہ قد میرے کا حسن
قہر ہے گر پھر ہوئی یہ آتش ہموار تیز
’آتش ہموار‘ اس آگ کو کہتے ہیں جو نہ بہت تیز ہو نہ مدھم۔یہاںمعشوق کو شعلہ قد کہہ کر آتش ہموار کا ایسا خوبصورت صرف قابل داد ہے۔
سب ورق باد اجل نے اس کے برہم کر دیے
ایک جھونکے میں کتاب عمر اغلط ہو گئی
ملاحظہ کیجئے کہ یہاں لفظ ’اغلط‘ بہت زیادہ غلط کے معنی میں کس خوبی کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ لفظ نامانوس ہونے کے باوجود مانوس معلوم ہوتا ہے۔
ان مثالوں کی روشنی میں جب ہم انشا کے کلام کو دیکھتے ہیں تو ان کا کلام اس طرح کے الفاظ کا نگار خانہ نظر آتا ہے۔یہاں ان کے کلام سے مثالیں پیش کرنے سے پہلے کچھ باتوں کی طرف اشارہ کرنا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ باتیں ہمارے سامنے نہ ہوں تو انشا کے شاعرانہ کمالات کی حقیقی تصویر اچھی طرح نہیں ابھرتی۔
ہمارے یہاں جدید زمانے میں جہاں بہت سے نئے خیالات کا دور دورہ ہوا، وہیں اپنی کلاسیکی شعری روایت کو ایک خاص نظر سے دیکھنے کی بنیاد پڑی۔اس مخصوص نظر سے دیکھنے کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ یا توبیشتر کلاسیکی شعرا کو کم وبیش ایک ہی طرز کا مالک خیال کیا گیا یا اپنے پسندیدہ طرز کی روشنی میں ان شعرا کو بھی دیکھنے کی کوشش کی گئی جو اس طرز کے شاعر تھے ہی نہیں یا جن کے یہاں وہ طرز ضمنی حیثیت سے موجود تھا۔اس سلسلے میں سب سے نمایاں مثال ناسخ کی ہے جن کے کلام کو اس مخصوص طرز کی روشنی میں نہیں دیکھا گیا جس کے وہ حقیقی نمائندے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فارسی اور اردو کی کلاسیکی شاعری میں بیک وقت کئی طرح کے طرز و اسلوب کی کارفرمائی رہی ہے۔ان میں بڑے اور قابل ذکر شعرا کا سب سے پسندیدہ طرز عام طور سے مضمون آفرینی کا طرز رہا ہے۔چونکہ اس طرز میں شاعر کو اپنی قوت متخیلہ کے استعمال اور اظہار کا سب سے زیادہ موقع ملتا ہے،اور جسے شاعرانہ کمال کی واضح دلیل سمجھا گیا ہے،اس لیے نہایت مشکل طرز ہونے کے باوجود شعرا بسا اوقات اس طرز کی طرف مائل رہے ہیں۔اسی کے ساتھ جن شعرا کے مزاج میں طباعی کا وفور ہوتا ہے اور جن کی طبیعت میں بہت زیادہ تیزی ہوتی ہے ،وہ مضمون آفرینی سے خاص شغف رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ مضمون آفرینی کا عمل کسی اصول کا پابند نہیںہے۔البتہ ہمارے یہاں نئے مضمون پیدا کرنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اس میںلفظ تازہ کی تلاش کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔فارسی میں جو کہا گیا ہے کہ لفظے کہ تازہ است بہ مضموں برابر است، وہ اسی بات پر دلالت کرتاہے۔یعنی شعرمیں تازہ لفظ کے خوبصورت استعمال کو تازہ مضمون بیان کرنے کے برابر اہمیت دی گئی ہے۔اب یہ لفظ تازہ اجنبی اور نادر لفظ بھی ہو سکتا ہے،اور ایسا عام اور مانوس لفظ بھی جسے نامانوس معنی میں برتا گیا ہو۔
ان باتوں کو سامنے رکھ کر دیکھئے تو انشا خاص طور سے مضمون آفریں شاعر کی حیثیت سے بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔اس کے لیے یہی ثبوت کافی ہے کہ وہ جس درجے کی طباعی اور تیزی ذہن کے مالک تھے، اس کے پیش نظر ان کا مضمون آفریں ہونا بالکل فطری معلوم ہوتا ہے۔اسی کے ساتھ ان کے کلام میں نامانوس اور اجنبی الفاظ کی جو کثرت نظر آتی ہے، اس کا ایک سبب تو یہی ہے وہ ان الفاظ سے تازگی مضمون کا کام لیتے ہیں،اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ کے استعمال سے وہ زبان وبیان پر اپنی حاکمانہ قدرت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ جس طرح ہر شاعر کے کچھ پسندیدہ مضامین ہوتے ہیں جنھیں وہ باربار باندھتا ہے،اسی طرح شعرا کی پسندیدہ لفظیات بھی ہوتی ہے جس کے وافر استعمال کو وہ معیوب نہیں سمجھتے، بلکہ اس کے وسیلے سے اپنی مہارت فن کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔چنانچہ انشا کے یہاں کچھ مخصوص طرح کے الفاظ کی کثرت ان کے کلام کے اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہاں بھی مشکل یہ ہے کہ ہم بسا اوقات شعرا کے یہاں اپنے پسندیدہ الفاظ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔اور یہی نہیں بلکہ ہم نے شاعری کے ساتھ نام نہاد سبک اور نرم ونازک وغیرہ الفاظ کا ایک تصور بنا رکھا ہے۔ لہٰذا جہاں اس سے مختلف الفاظ کی کارفرمائی نظر آتی ہے، ہم فوراً اس سے بدکنے لگتے ہیں۔جاننا چاہیے کہ ہماری شعریات کی رو سے شعر کا بامعنی ہونا بنیادی شرط ہے۔یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ شعر میں اس طرح کے الفاظ لانا مستحسن اور اس طرح کے الفاظ کا استعمال معیوب ہے۔یہ پوری طرح شاعر کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کے الفاظ شعر میں لاتا ہے۔
اب ہم انشا کے کلام سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ انھوں نے الفاظ کے استعمال میں اپنی مہارت زبان وبیان کا کس طرح اظہار کیا ہے۔
کعبے سے کیا ہم نے جو آہنگ خرابات
کیا جانے خوش آیا ہمیں کیا رنگ خرابات
اس شعر میں لفظ ’آہنگ‘ بمعنی آوازاگرچہ سامنے کا ہے لیکن یہاں اسے ’ارادہ‘ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ملحوظ رہے کہ یہاں آہنگ کی مناسبت لفظ ’خوش‘ اور ’رنگ‘ دونوں کے ساتھ ہے جو لطف سے خالی نہیں۔
بد کیف یاں تلک ہے کہ اس کے گلی کے بیچ
گاہے صدا سنی نہ بجز مار دھاڑ باندھ
’بد کیف‘ کا لفظ اس قدر اجنبی اور نادر ہے کہ عام طور سے لغات میں نہیں ملتا۔یہاں اسے بدمزاج اور جھگڑالو کے معنی میں برتا گیا ہے۔یہ لفظ بذات خود اتنا تازہ ہے کہ اس سے شعر کے مضمون کی فرسودگی زائل ہو گئی ہے۔
واقعی بولتے سے اپنے لڑا بیٹھے جو آنکھ
کیوں خودی سے نہ کرے پھیر وہ رم یا معبود
یہاں لفظ ’بولتا‘ جس معنی میں استعمال ہوا ہے اس کی رو سے یہ نہایت نامانوس ہے۔دراصل’ بولتا‘ آزاد فقیروں کی اصطلاح میں روح یا نفس کو کہتے ہیں۔اسی غزل میں ایک شعر یہ بھی ہے:
بندہ خانے میں اجی لائیے تشریف شریف
آکے رکھ دیجے ان آنکھوں پہ قدم یا معبود
غریب خانے میں معنی میں ’بندہ خانہ‘ کا لفظ نہایت نامانوس لیکن کس قدر تازہ ہے۔پھر یہ بھی دیکھئے کہ ردیف ’یا معبود‘ سے ’بندہ خانہ‘ کی مناسبت شعر کے معنی کو کتنا مستحکم کر رہی ہے۔
لگا کر گلے رفع دل کی طپش کی
بڑی آپ نے آج یہ پرورش کی
جیسا کہ ظاہر ہے،لفظ ’پرورش‘ یہاں مانوس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے،بلکہ انشا نے اسے یہاں عنایت اور مہربانی کے معنی میں برتا ہے۔
کہوں کیا اس کی میں باتیں غرض میری تو جانب میں
زمانے میں نہ ہوگا کوئی اس حراف کا جوڑا
یہاں ’جانب‘ کا لفظ علم یا دانست کے معنی میں صرف ہوا ہے۔
لے گئی مجھ کو جہاں عرش نما اے جبریل
حضرت خضر کے وھاں ہوش ہو چت بھنگ اڑے
اس دلچسپ شعر میں ’چت بھنگ‘ حواس باختہ کے معنی میں ہے۔پہلے مصرعے میں’ عرش نما‘ کا لفظ بھی قابل توجہ ہے جو افیون کے معنی میں لایا گیا ہے۔ملحوظ رہے کہ افیون کو فلک سیر بھی کہتے ہیں۔
رخت برنگ غنچہ کیوں چاک کروں نہ یہ قبا
کھینچے ہے تجھ کو بر میں تنگ دیکھ تو کس لباس سے
شعر کے دوسرے الفاظ کے پیش نظر یہاں ’لباس‘ کا لفظ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانوس معنی میں لایا گیا ہے،لیکن ایسا نہیں ہے۔’لباس‘ کو یہاں انداز اور ڈھنگ کے معنی استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ’کس لباس سے‘ کا فقرہ’ کس انداز سے‘ کے مفہوم میں اس خوبی سے برتا گیا ہے کہ اس کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔
کیوں رہ انجام خرد غرق ہو نہ کہ یھاں
خچر اب بکنے لگے توسن چالاک کے مول
اس شعر میں ’رہ انجام‘ (بے اضافت)کا لفظ اس قدر نامانوس اور نادر ہے کہ مجھے کسی اردو لغت میں نہیں ملا۔فارسی میں اس کے معنی سواری یا مرکب کے ہیں،اور اسے اسباب سفر کے معنی میں بھی لاتے ہیں۔انشا کے اس شعر میں اسے سواری کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔یعنی اعلیٰ قسم کے گھوڑے چونکہ اب خچر کے مول بکنے لگے ہیں،اس لیے یہ صورت حال دیکھ کر عقل کی سواری پسینے میں شرابور ہو گئی ہے۔
اے رہروان ملک فنا مستعد رہو
تیار ہو رہے ہیں بہت سے عدم کے ساتھ
یہاں ’ساتھ‘ ساتھی اور ہمراہی کے معنی میں صرف ہوا ہے۔
مجرم ہوں اس قدر کہ کہے ہے مری مثال
کیا دیکھتا ہے آئینہ اے ننگ آئینہ
’مثال‘ یہاں عکس کے معنی میں ہے،اور آئینے سے اس کی مناسبت خالی از لطف نہیں۔
خموش اے دل صداے دل خراش نغمۂ بلبل
بہ گلبانگ شگفت غنچہ ہاے ورد اٹھتی ہے
اس شعر میں ’ورد‘ کالفظ گلاب کے پھول کے معنی میں ہے،اور اس قدر نادر ہے کہ کم از کم مجھے اور کہیں نظر نہیں آیا۔
ان مثالوں سے اتنی بات تو پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انشا کا کلام اس لحاظ سے بھی خصوصی توجہ کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے الفاظ کے بے بہا خزانے کے طور پر دیکھا جائے۔لیکن اسی کے ساتھ میں اس بات کو زور دے کر کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انشا کے یہاں اس قسم کے الفاظ محض یہ نہیں کہ جمع کر دیے گئے ہیں،بلکہ انھیں شعر میں اس طرح برتا گیا ہے کہ وہ معنی ومضمون کا جزو لاینفک بن گئے ہیں۔
محمد حسین آزاد نے انشا کے بارے میں یہ کہہ کر بڑا ظلم کیا ہے کہ ان کی غزلوں میں غزلیت کے اصول کی پابندی نہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ آزاد کی نظر میں غزلیت کے اصول کیا تھے۔مجھے حیرت ہے کہ آزاد سے پہلے شیفتہ اپنے تذکرے میں انشا کے تعلق سے ایسی بات کہہ گئے تھے جسے بآسانی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ شیفتہ نے لکھا ہے کہ ’ہیچ صنف را بطریقۂ راسخہ ٔ شعرا نگفتہ‘ ۔آخر کچھ تو معلوم ہو کہ یہ طریقۂ راسخۂ شعرا کیا تھا۔لیکن اگر یہ طریقۂ راسخہ کچھ تھابھی تو بصد ادب عرض کرتا ہوں کہ غالب کا کلام بھی اس پر پورا نہیں اترتا۔خود حالی کہہ چکے ہیں کہ غالب کو عام راستوں پر چلنا پسند نہیں تھا،اس لیے وہ ہر جگہ اپنی نئی راہ نکالتے ہیں۔اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ غالب بھی طریقۂ راسخۂ شعرا کے پابند نہیں تھے۔انشا کے بارے میں ہمارے بزرگوں نے جو رائے قائم کی ہے،وہ میرے خیال میںانصاف پسندانہ نہیں ہے۔مقام افسوس ہے کہ نئے زمانے میں بھی لوگوں نے انھیں بزرگوں کی آرا پر تکیہ کرکے انشا کو دیکھنے پر اکتفا کیا۔
میرا خیال یہ ہے کہ انشا کو کلاسیکی شعری روایت کے سانچے میں رہ کر ہی دیکھنا با معنی ہوگا۔اگر اس روشنی میں جائے گا تو انشا اصلاً ایسے مضمون آفریں شاعر قرار پائیں گے جن کامزاج مہم جویانہ ہے۔اسی کے ساتھ الفاظ کے استعمال میں انشا نے غیر معمولی تلاش اور جودت طبع کا جو ثبوت فراہم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انشا کے کلام کو لوگوں کی نظر سے نہیں بلکہ کلاسیکی شعریات کی نظر سے دیکھا جائے۔
۔۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

