Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

شاہد جمیل کے دوہے (’موسم کی رفتار‘ کے تناظر میں ) – ڈاکٹر فیضان حسن ضیائی

by adbimiras اکتوبر 3, 2022
by adbimiras اکتوبر 3, 2022 0 comment

’موسم کی رفتار‘شاہد جمیل صاحب کی چوتھی شعری کتاب ہے ،جو دوہوں پر مشتمل ہے ۔ادبی زمین پر اس کا نزول ۲۰۲۱ء میں ہوا تھا ۔اس سے قبل ان کے تین شعری مجموعے’خوابوں کے ہمسائے ‘ (نظمیں اور غزلیں )۱۹۹۲ء میں ’سو ماہیے ‘(ماہیے کا مجموعہ) ۲۰۰۲ء میں اور ’عکس اندر عکس ‘ (کہہ مکرنی کا مجموعہ)۲۰۰۳ء میں شائع ہو چکے ہیں ۔بہار کی سطح پر وہ واحد ایسے شاعر ہیں جنہوں نے ماہیے ،کہہ مکرنی اور دوہے جیسی شعری اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے ان کے مجموعے بھی طبع کرائے ہیں ۔ہاں،غیر منقسم بہار میں نادم بلخی کے دوہوں پر مشتمل کتاب ’جیون درشن ‘شائع ہو چکی ہے ۔وہیں دوسری طرف علم و ادب اور فکر و فن کا مرکز و محور کہی جانے والی سر زمین سہسرام میں بھی دوہا نگاروں کی تعداد پانچ انگلیوں پر گنے جانے  سے زیادہ نہیں۔ دوہا نگاروں کی تلاش میں سہسرام کے شعری منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو اولیت کے اعتبار سے سہسرام کے پہلے شاعر تسلیم کیے جانے والے راجہ رام نرائن موزوںؔ سہسرامی بعدہ‘ سلطان اخترؔ،شاہدؔ جمیل، ڈاکٹر مظفر حسن عالیؔ اور پھر زیڈ انور سہسرامی نے بھی دوہے میں طبع آزمائی کی ۔ مثال کے طور پر ان چاروں حضرات کے دوہوں کی قرء ات بھی آپ کرتے چلیں :

ً                   راجہ رام نرائن موزوںؔ سہسرامی :

امبا امرت پھل دیت ہیں ، سدا رہت ہیں مون

ناہرتے  نا ہر ملے ،    باگ  بیر  تے  کون  ؟

سلطان اخترؔ:

قدم  قدم  ہچکولے  لیتی،چڑھتی  عمر کی  دھوپ

انگ انگ سے جھلک رہاہے،اس کا جل تھل روپ

ڈاکٹر مظفر حسن عالیؔ:

تو  ہی  ر بّ العالمیں ،  سب  کا  پا لن  ہار

ہر سو تیرے  نام  سے ،  روشن  ہے  گلزار

زیڈ انورؔ سہسرامی

گود نواسی کھیلتی، بِٹیا دے اگزام

خسرو تیرے یگ میں بھی،  ایسا تھا کچھ کام؟

صنف دوہا سے شاہد جمیل ایک خاص قسم کا لگائو رکھتے ہیں ۔اور اس ذوق کی آبیاری میں جدید دوہا نگار ندا فاضلی کے دوہے ان کی خاص توجہ کا مرکز رہے ہیں ۔اس ضمن میں ان کاایک اہم کارنامہ بھی خالی از دلچسپی نہیں ،جب وہ زمانہء ملازمت کی مصروف ترین زندگی سے دو چار رہتے ہوئے بر صغیر کے ڈھائی سو سے زائد قدیم و جدید دوہا نگاروں کا انتخاب ’دوہا رنگ ‘ کے عنوان سے۲۰۰۳ء میں ادبی دنیا کے سامنے لے کر آئے تھے۔ یہ کتاب منا ظر عاشق ہرگانوی کے اشتراک سے منظر عام پر آئی تھی ۔ادبی دنیا میںیہ کتاب دوہے کا پہلا انتخاب ثابت ہوئی۔اور اس کام کو خوب سراہا گیا ۔اس کتاب میں شاہد جمیل نے ایک وقیع مقدمہ بھی لکھا، جس میں دوہے کے آغا ز و ارتقاء اور اس کی ہیئت کو بیان کرنے کے لیے مدلل اور مفصل انداز گفتگو اختیا ر کیاگیاجو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ ’’موسم کی رفتار ‘ کا جائزہ لینے سے قبل مختصر باتیں دوہے کے تعلق سے کرنا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے تا کہ قارئین کا ذہن بوجھل نہ ہو سکے ۔

ووہا ہندوستانی زمین کی پیداوار ہے جو سنسکرت اور ہندی کے اثر سے اردو میں آیا ہے ۔ہندی میں اس صنف کو جو بام عروج حاصل ہوا،اردوشاعری کے کلاسیکی عہد میں اسے وہ اعتبار حاصل نہ ہو سکا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صنف دوہا فنی سطح پرغزل سے بے حد قریب ہے ۔غزل کا فنی امتیاز یہی ہے کہ اس کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے،وہیں دوہا بھی دو مصرعوں میں ایک مکمل خیال کو نظم کر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔لیکن دوہے کا خمیر ہندی عروض کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی شعری ،لسانی ،تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا امین رہا ہے ۔اس کے بر عکس اردو غزل کا کلاسیکی عہد عربی اورفارسی شعر و ادب کے داخلی رویے سے پروان چڑھتا رہا ہے ۔لہذٰاکلاسیکی عہد میں دوہے کی زبان سے شعراء کا رشتہ بہت مستخکم نہ ہو سکا ۔لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی دوہا نگاروں کی ایک کثیر تعداد نے دوہے کو طرز اظہار کا وسیلہ بنایا ہے ۔جدید عہد میںخصوصیت سے یاد رکھے جانے والوں میں فراق گورکھپوری،جمیل الدین عالی ،ندا فاضلی ،احمد ندیم قاسمی ،ظفر گورکھپوری،مظفر حنفی ،احمد ندیم قاسمی ، قتیل شفائی ،فراز حامدی،اسلم حنیف، طاہرسعید ہارون ،کرشن موہن ،عادل منصوری اور شاہدجمیل نے دوہے کی عظمت و قار کو مزید بلند کیا ہے ۔فی زمانہ گر ہم اردو کے ادبی رسائل پر نگاہ ڈالیں تو ،دوہے کی شمولیت خال خال نظر آتی ہے ۔اور موجودہ عہد میں اس کے پھلنے پھولنے کے امکانات مزید روشن نظر نہیں آتے۔ ایسے میں شاہد جمیل کی کتاب ’’موسم کی رفتار‘ ‘کا منظر عام پر آنا دوہے کی روایت میں استحکام اور اس کے سرمایے میں اضافے کا باعث ہے۔

دوہا نگاروں کے یہاں دوہے کی ہیئت اور وزن بھی ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے ۔ناقدین حضرات نے اپنے فکری شعور کو بروئے کا رلاتے ہوئے اس کے اصول و شرائط کی وضاحت کی ہے ۔اہل علم حضرات کی تحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دوہا نگاری میں دو طرح کے فارم کا چلن رہا ہے ۔ایک دوہا چھند اور دوسرا سرسی چھند۔دوہا چھند یعنی قدیم روایت کے مطابق دوہے کے ایک مصرعے کے وزن میں ۱۳؍ اور ۱۱؍ ماترائوں والے قاعدے پر عمل کرنا ،جس کے مصرعے میںوشرام یا وقفے کا ہونالازمی سمجھا جا تاہے ۔جب کہ سرسی چھند ۱۶؍اور ۱۱؍ ماترائوں کے نظا م پر مبنی ہوتا ہے اور اس میں وقفہ نہیں ہوتا ۔دوہا نگاروں کا ایک کثیرطبقہ دوہا چھند کے قاعدے کو ہی معتبر تسلیم کرتا ہے ۔لہذا شاہدجمیل بھی اسی چھند میںدوہے لکھنے کو اہمیت دیتے ہیں ۔دوہا چھند کے فنی لوازمات کے بارے میں درج ذیل دوہوں میںیوں اشارہ ملتا ہے:

تیرہ  گیارہ   ماترا،   دوہے  کا  دستور

دو ’چرنوں ‘ کے بیچ میں،  ہو ’وشرام ‘  ضرور

۔۔۔۔۔

’چرنوں ‘ کا ’وشرام ‘ہی،  دوہے کی ہے جان

ہم نے بھی اس ’جان ‘ سے ، کر لی ہے پہچان

’’موسم کی رفتار‘‘ بظاہر۸۰؍ صفحات پر مشتمل ایک مختصر سی کتاب ہے ۔لیکن قارئین کے لیے اپنے دامن میں دلچسپی کے قیمتی سامان رکھتی ہے ۔کتاب کا آغاز مصنف کے دیباچے سے ہوتا ہے،جس کا عنوان ہے ’’دوہے سے میری دلچسپی‘‘۔اس دیباچے میں دوہے سے اپنی رغبت ،دوہے کے موضوعات، وزن اور ہیئت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے ۔بعدہ‘ حمدیہ اور نعتیہ دوہے کے بعد پانچ مخصوص عنوانا ت کے تحت دوہے منقسم کیے گئے ہیں (۱) زمانہ (۲)’کرونا‘ کا ل(۳)، ہفت رنگ(۴) بچوں کے دوہے،اور (۵)کچھ پرانے دوہے ۔دوہے کی ابتدا حمدیہ اشعار سے ہوتی ہے ۔خدا کی وحدانیت اوراس کی ذات پر یقین کامل رکھتے ہوئے شاعر جو کچھ بیان کرتا ہے، اس میں صداقت و حقیقت کا عکس ملاحظہ کریں:

تو ہے ہر’ محدود ‘ میں ،  بن  کر  لا محدود

ہر ایٹم کے خواب میں، ’ملکی وے‘ موجود

۔۔۔۔۔

دن نکلا، سورج بڑھا، پھر پچھم کی اور

اللہ! تیرے ہاتھ میں، ہر لمحے کی ڈور

۔۔۔۔۔

وہ گرمی کی شام  ہو ،   یا  جاڑے  کی  بھور؟

کرن کرن پہ کیا لکھا ،  تو ہے  چاروں اور

۔۔۔۔۔

سیارے  کی  چال ہو ،  طیارے  کا شور

تیری  ہی تکنیک  ہے ،   ہر مر کز کا  زور

ان دوہوں پر غور کریں تو آپ کا ذہن ایک خوبصورت ترکیباتی نظام سے بھی محظوظ ہوگا ۔شاہدجمیل بیشتر دوہا نگاروں کی طرح اپنے دوہوں میں غیر ضروری ہندی لفظیات کو پرونا مستحسن نہیں سمجھتے ۔لہذٰا ایٹم کے خواب ،سیارے کی چال ، طیارے کا شور، مرکز کا زور، لمحے کی ڈور،  برمودا کا ٹرینگل اور بلیک ہول کا رازکے علاوہ’’موسم کی رفتار‘‘ کے دیگر صفحات پر مثلاً زخموں کا دستور ، دیواروں کے کان، بدمزگی کے ہاتھ، تیوہاروں کی ڈور، سامانوں کی نسل ،افواہوں کی تال ،گھوڑے کی نعل،اہل دول کی ورزشیں ،بلبل کی جاگیر ،گلشن کی تقدیر،خبروں کی بے خبریاں،عیاری کی رونقیں ،یاروں کی بد ذوقیاں ،کوڑے کی ٹال ،پرچھائیں کا کھیل ، ظاہر کا شور،موسم کی رفتار ، کھڑکی کا کردار،یادوں کی بارات ،یادوں کے بازار، نظروں کا سیلاب ،آنگن کی دیوار ،بدن کا حال ،یادوں کا انبار،چودھویں کی رات وغیرہ کا رچائو اور برتائو شاعر کی زبان پر تخلیقی دسترس کا پتہ دیتے ہیں اور دوہے کے ایک محدود لسانیاتی اسٹرکچر سے باہر نکلتے ہوئے الفاظ و تراکیب کی تازہ کاری کا احساس دلاتے ہیں ۔شاہد جمیل ’’شاعری کو شاعر کی ذات کے اسلوب میں ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں ‘‘ ،اس لیے ان کا یہ تخلیقی حسن ان کی فنکارانہ originality اور ان کے فطری اسلوب کی ہم آہنگی سے فن پارے کو انفرادی حسن عطا کرتاہے ۔

’زمانہ‘کے عنوا ن سے کل ۵۷؍ دوہے شامل کیے گئے ہیں ۔اس حصے میںزمانے کے مختلف مناظر و واقعات کا بیان ملتاہے ۔زندگی کے چھوٹے چھوٹے معمولات ،سیاسی اور نفسیاتی الجھنیں ،ٹی وی چینلوں پر چیختی آوازوں سے زہر آلود ہوتی فضائیں اور زندگی کے گوناگوں مسائل و مشکلات سے دوچار ہوتے ہوئے معاشرے کے مختلف رنگ روپ سے آپ رو برو ہوں گے۔شاہد جمیل خلاق ذہن کے مالک ہیں اور انہوں نے اپنی خلاقی اور اظہار کی قدرت سے درج ذیل دوہوں میں زندگی کی سچی تصاویر پیش کی ہیں :

صبح سویرے بھاگنا ،سڑک پہ خالی جیب

دوڑاتا ہے خواب میں، روز کوئی آسیب

۔۔۔۔۔

محفل محفل عام ہے، مرض مرض مشہور

’مرہم مرہم ‘ کھیلنا ،  زخموں  کا  دستور

۔۔۔۔۔

ہر رستے پربھیڑ ہے، ہررستے پر جام

جتنا  اچھا  آدمی ،اتنے  مشکل کام!

۔۔۔۔۔

کون گیا تھا بار میں ،  شا ہد  یا  مشہود؟

سی سی ٹی وی کیمرہ، کاندھے پر موجود!

۔۔۔۔۔۔

جا کر بیٹھے پارک میں ،  روئے یا مسکائے

ڈرون میں اڑتا کیمرہ ،سب کی چغلی کھائے

موجودہ عہد میں ہندوستا ن کے الیکٹرانک میڈیا،سوشل میڈیا اور بہت حد تک پرنٹ میڈیا نے بھی اپنی غلط بیانی سے ملک کی امن و سلامتی کو جس انداز سے مجروح کیا ہے، وہ آج جگ ظاہر ہے ۔علاقائی ،شہری ،ریاستی اور قومی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کے کمزور ہوتے بندھن کوہم ذاتی طور پر محسوس کررہے ہیں ۔زبانیں زہر اگل رہی ہیں ،آنکھیں غُرُا رہی ہیں ،جائز کلمات سننے کو قفل گو ش بند کر لیے گئے ہیں ،جسم کترا رہے ہیں، کرسیوں کے اکڑتے تیور ہیںاوراقتداری جنون کا پاگل پن ہر طرف چھایا ہوا ہے۔سیکولر اور سوشلسٹ جیسے الفاظ اپنی توانائی کھو چکے ہیں۔ جمہوریت دم توڑ رہی ہے اورجمہوری قوانین جزدان میں دفن کر دیے گئے ہیں ۔ ماحول سازی کے ا س عمل میں الیکٹرانک میڈیااور سوشل میڈیا کے زعفرانی ذہنوںکا ایک خوفناک رول رہا ہے ۔شاعر نے اس سسکتے ماحول کی ترجمانی بے باک ا نداز میں پیش کی ہے:

آگ لگاتا میڈیا ،  بدل بدل کر بھیس

نیروؔ والی  بانسری،  پہنچی  اپنے  دیس

۔۔۔۔۔

لکھتے ہو کچھ  اور تم ،کرتے  ہو  کچھ  اور

مشکل مشکل کام کا ،  سب سے اچھا دور

۔۔۔۔۔

مذہب مذہب کھیلنا ِ،ٹی وی کی اب ریت

خبروں والی کھیتیاں ،گائیں ’دھتوراگیت‘

۔۔۔۔۔

خبروں کی بے خبریاں ،کیا کیا مرچ اڑائیں !

چینل والے رات دن ،بیٹھے  گال بجائیں

۔۔۔۔۔

زہر میں اتنا زور تھا، لفظ رہے تھے کانپ

بھاشن سن کر کیچوا،  بن گیا آخر سانپ !

کتاب کا دوسرا حصہ ’کرونا کا ل ‘کے لیے مخصوص ہے جس میں پندرہ دوہے شامل کیے گئے ہیں ۔’کرونا ‘ جیسا خوفناک وائرس بھی رسائل  و اخبارات سے لے کر سیاسی گلیاروں تک خوب چھایا رہا ۔ ماضی کے اوراق شاہد ہیں کہ زمانے کے نشیب وفراز سے ہر تخلیق کار فطری طور پر متاثر ہوتارہا ہے ۔۱۸۵۷ء کے پس منظر میں غالب کے یہ اشعار بھی کرونائی عہد کی تصویر پیش کرتے ہیں:

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمار دار

اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کو ئی نہ ہو

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

کرونائی عہد میں بے بسی ،بے کیفی ،وحشت اور ڈر جیسے ماحول نے انسانی ذہن کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ۔لہذٰا ا دیب و شاعر نے بھی اپنے تخلیقی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے اس عہد بے کراں کو وسیلہء اظہار کا ذریعہ بنایا ہے ۔شاہد جمیل کے یہاں بھی اس موضو ع پر چند قیمتی اشعار دوہے کی شکل میں نمو پذیر ہوئے ہیںجو اس عہد کے ترجما ن ہیں:

گلیاں نکڑ  بند  تھے،  ملنا  جلنا  کال

بیس کے اوپر بیس تھا،  اور ’کرونا چال‘

۔۔۔۔

امبر کو   حیرانگی  ،  دہشت   میں   پاتال

ٹرین سے لے کر پلین تک،  سناٹے کا جال !

۔۔۔۔۔

سسٹم کی پگنڈنڈیاں،  اور ’کرونا چال ‘

جو تھوڑے بد حال تھے،  اور ہوئے بد حال !

۔۔۔۔۔

اورکہیں مزاحیہ تیور بھی آپ کو سرور و انبساط کی کیفیت سے دوچار کرے گا:

کاندھے پر تھا تولیہ، صابن، پانی ساتھ

گھر میں بیٹھے رات دن ،دھوتے تھے ہم ہاتھ

۔۔۔۔۔

’دوری دوری‘کھیل کر،  ہو گئے اتنے دور !

جانے کہاں پر حور تھی،  جانے کہا ں لنگور؟

’ہفت رنگ ‘، ’’موسم کی رفتار‘‘ کا چوتھا باب ہے جس میں دوہوں کی تعداد ۳۹؍ ہے۔اس حصے کی شاعری بھی قاری کو گرفت میں رکھتی ہے۔جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اس حصے کو ست رنگی موضوعات کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے ۔ لیکن اس باب کے بیشتر دوہے معاملات عشق کی جلوہ سامانیوں سے لبریز ہیں ۔اس میں خیالات کی پاکیزگی اور جذبات کی ہم آہنگی کے ساتھ بعض جگہ محاوراتی انداز نے بھی شاعر کے لہجے کو تقویت بخشی ہے:

دل میں جتنا درد ہے ،  باغ میں اتنے پھول!

یہ حسبِ دستور  ہے ،  وہ  حسبِ معمول

۔۔۔۔۔

پھرکھانے  کی  میز پر ،  آ گئی  کوئی   یاد !

چاول کے سنگ اونگھتے ،  سبزی  اور  سلاد

۔۔۔۔۔

بند آنکھوں کے بھید سے ،  ہو گئیں آنکھیں چار

دوہا  دریا   تیر کر ،   جو    پہنچا   اس  پا ر

۔۔۔۔۔

انگڑا ئی  کا  بھیجنا ،  خوشبو  کے  سو   پھول

مدہوشی کی بات ہے ، گیت گیا  سب  بھول

دل کے درد اور باغ کے پھولوں کی تکرار حسب دستور اور حسب معمول کے معنوی حسن میں پوشیدہ ہے،وہیں کھانے کی میز پر یادوں کی منظر کشی کا تخلیقی رویہ تخیلات کی تہہ داری کو مزید اعتبار بخشتا ہے ،اور قاری ایک لطیف جذبات سے ہمکنار ہوتا ہے ۔ بعد کے دونوں دوہوں میںتصورات اور تخیلات کے ذریعے دامن محبوب کی خوشگوار یادوں کا خوبصورت اظہار ہے ۔ رومانوی لوک داستانوں میں ہیر اور رانجھا کے قصے کو جو مقبولیت عطا ہوئی، ایسی مقبولیت کم ہی کسی رومانوی داستان کو نصیب ہوئی۔شاعر کا تلمیحاتی اندازبھی ملاحظہ کیجئے:

ماضی، یادیں، عاشقی : پیروں کی زنجیر

دونوں کا غم ایک ہے، کیا رانجھا،کیا ہیر!

پانچواں باب ’بچوں کے دوہے ‘ پر مشتمل ہے ۔طالب علمی کے زمانے سے ہی شاہد جمیل کا ذہن ادب اطفال کی جانب غالب رہا ہے۔ ابتدائی زمانے سے ہی ان کی تخلیقات ادب اطفال سے آراستہ رسائل میں اہتمام کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں ۔بہار ٹکسٹ بک میں آٹھویں/ نویں کے نصاب میں ان کی نظم ’’دعا‘‘ ۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۸ء شامل رہی۔علاوہ ازیں بچوں کے لیے لکھا گیا ایک جاسوسی ناول ’’آدم خور انسان ‘‘ ۲۰۱۹ء اور بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ایک مجموعہ ’’ سرخ آنکھ ‘‘ بھی۲۰۲۰ء میں منظر عام پر آ چکا ہے ۔موجودہ صدی میں بہار کی سطح پر ادب اطفال سے دلچسپی رکھنے والوں کی فہرست بھی قدرے مختصر ہے ۔ان میں سے کچھ رخصت ہو گئے اور چند ہمارے درمیان موجود ہیں ۔جو نام خاص اہمیت کے حامل ہیں ان میں مظہر امامؔ ،ناوکؔ حمزہ پوری ،مناظرؔ عاشق ہرگانوی ،عبد المنان طرزیؔ ،شاہدؔ جمیل ،ظفر ؔکمالی ،شبنم کمالیؔ ،اورعطا عابدی ؔکی خدمات قابل توجہ ہیں ۔شاہد جمیل کا انفرا دو اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے بچوں کی ذہنی تازگی کو بحال رکھنے کے لیے ان کی پسند کی مناسبت سے نظموں کے علاوہ دوہے بھی تخلیق کیے ہیں ۔ ان دوہوں میں بیان کی سادگی اورروانی کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔شاہد جمیل روز مرہ کی زندگی میں بچوں کے ذہن میں گھومنے والے وہ تمام الفاظ کا بے محابہ استعمال کرتے ہوئے ایسے دوہے تخلیق کرتے ہیں جو بچوں کے زبان زد ہونے کی قوت رکھتے ہیں ۔ٹی وی اور ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے بچوں کے خصوصی پروگرام ’چھوٹا بھیم‘، ’ لٹل سنگھم ‘،’موٹو پتلو‘ اور ’ڈوری مون ‘سے بچوں کی بے پناہ دلچسپی کا منظر ملاحظہ کیجئے:  ؎

جائیں گے اسکول بھی ،ہم تو روز ضرور

لیکن  ٹی وی  چھوڑنا ،  کبھی  نہیں منظور

۔۔۔۔۔

’موٹو پتلو‘ دیکھ کر، دیکھیں گے ’پرمین‘

اچھا ’ڈوری مون‘ ہے ، پیارا ہے ’شن چین‘

۔۔۔۔۔

باہر جا کر گھومنا، پاپا کی اسکیم

لیکن ہم کو  دیکھنا،  گھر پر  ’چھوٹا بھیم‘

۔۔۔۔۔

گلی میں چھپ کر دیر سے ،کھیل رہے تھے تا ش

’سنگھم‘ آیا دیکھ کر، بھاگ گئے بد معاش

کہیں کہیں بچوں کی ذہنی اصلا ح بھی پیارے انداز سے کرتے ہیں:

کھانا پینا کھیلنا، سب سے اچھی بات!

آیا ہے اگزام تو، پڑھنا ہے دن رات

۔۔۔۔۔

مجھے بلا کر باغ میں،  کان میں بولا پھول

پڑھنے لکھنے کے لیے،   جانا  ہے  اسکول

موجودہ عہد میں بچوں اور نوجوانوں کے درمیان فاسٹ فوڈ کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے ۔کم وقفے میں تیار ہونے والی ان اشیاء کی ایک طویل فہرست ہے ۔بازاروں میں جا کر بچوں کے بھولے بھالے جذبات کس طرح ابھرتے ہیں، اس کی ترجمانی بھی شاہد جمیل نے خوب کی ہے:

ہم جائیں بازار تو، کیا کیا موج اڑائیں!

مومو،برگر،چائومن ،  سب کچھ جم کر کھائیں

۔۔۔۔۔

منجو ؔکا منچورین، شاید کم پڑ جائے !

مونا لیزا ؔ سے کہو، پیزا لے کر آئے

۔۔۔۔۔

قلفی، آئس کریم سے،  دیں گرمی کو مات

سورج غصے میں کھڑا،  پیس رہا ہے دانت!

’’موسم کی رفتار‘‘ کا آخری حصہ ’کچھ پرانے دوہے‘ کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے ۔یہ دوہے ۲۰۰۰ء سے قبل لکھے گئے تھے ،جن کی تعداد تیس ہے۔دو دہائی قبل لکھے گئے ان دوہوں میں موضوعات کا تنوع ہے ،زبان کا حسن ہے اور سامنے کی لفظیات سے پیش کردہ خیالات قاری کو سرور و انبساط کی کیفیت سے ہمکنار کرتے ہیں ۔Global Village میں تبدیل ہوتی دنیا نے جس تیز رفتاری سے ہماری تہذیب و ثقافت کو متاثر کیا ہے اور ان کے جو اثرات سامنے آئے ہیں،ان احساسات کو بھی کمال کے ساتھ برتا گیا ہے ۔اس کے علاوہ انسانی زندگی اور انسانی جذبات کے اندرونی تضاد اور کشاکش کے احساس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی عمدگی کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔مثالیں ملاحظہ کریں:

رنگ بھرے صفحات پر، آہ بھرے اب کون؟

جب جی چاہا،’ہائے‘ کی ،  ڈائل کر کے فون

۔۔۔۔۔

بن آنسو ،بن درد کے، یادوں کا انبار

کمپیوٹر کے سامنے ، سازِ دل بے کا ر

۔۔۔۔۔

بن بادل برسات ہے، یادوں کا بیوپار

تنہائی  نے  د ھر لیا، آ کے  بیچ   بزار

۔۔۔۔۔

جیون !تیرے گیت سے، جس کا جو سنجوگ

جتنے تجھ میں راگ ہیں،اتنے تیرے روگ!

۔۔۔۔۔

ریشم  یا  کمخواب  ہو ،  سپنے سب  بے کا ر

کیا کیا  مٹی  کھا گئی ، سونے  کے  سنسار!

آخری بات یہ کہ اس باب کی شاعری میں ہندی الفاظ کا استعمال کثرت سے کیاگیا ہے ۔مثلاً سپنے ،دھار ، سنسار ، سنگ ،دوجے ، جنجال ، ساون ، اساڑھ ، اگیات، پاتال، واس ، آگھات، پردیس ، گٹھری ، سنجوگ ، روگ ، راگ وغیر ہ وغیرہ۔ قدیم و جدید دوہا نگاروں کی لفظیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم یہ محسوس کرتے ہیںکہ اکثریت کا رجحان ہندی لفظیات پر فوکس کر تا نظر آتا ہے۔شاید دوہا نگار حضرات دوہے کے لسانیاتی اسٹرکچر میں اس عمل کودوہے کی اصل شناخت تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن شاہد جمیل کے موجودہ عہد میں تخلیق کردہ دوہوں کی لفظیات پر نگاہ ڈالیں تو انہوں نے عام دوہا نگاروں کی لفظیات سے قطع نظرانہوں نے اپنا لفظیاتی نظام وضع کیا ہے ۔انہوں نے حیرت انگیز سطح پر انگریزی لفظیات کو بھی متن کا حصہ بناتے ہوئے بیانیہ میں نیا پن اور حقیقی رنگ پیدا کیا ہے جو دوہے کے لسانی اسٹرکچر کے لیے نیک فال ثابت ہوگا ۔مثلاً سین ، فیشن شوز ، کراسنگ زیبرا ، پاور ،لیڈر ، میڈیا ، چینل ، فلیگ ، ڈرون ، بار ، کیمرہ ، گوگل ، یوٹیوبر ، لیمپ ، فالوور ، وہاٹس ایپ، ٹوئیٹر ، سوشل میڈٖیا ، فیس بک ، کلچر ، امینڈ ، فرینڈ ،ماسک ، سسٹم ،وائرس، ہینڈ واش وغیرہ وغیرہ۔ موصوف کا تشبیہاتی اور استعاراتی نظام بھی اپنی تہہ دار معنویت کے ساتھ قاری کو باندھنے کا کام کرتا ہے۔انہوں نے کوشش کی ہے کہ مصنوعی زبان کے بجائے حقیقی زبان استعمال کی جائے۔لہذا شاعر کا ذہنی ،تخلیقی اور تخیلاتی عمل دوہے کے مروجہ اسالیب کو نئی جہت عطا کرنے میں منہمک نظر آتاہے ۔

٭٭٭

Dr. Faizan Hasan Zeyai,

S/o LATE DR. MOZAFFAR HASAN "AALI”,

MOH-BARADARI, PO-SASARAM-821115

DISTT.-ROHTAS(BIHAR)

E-mail : faizanzeyai.ssm@gmail.com

Mob-76318-87356

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
احمد سعید ملیح آبادی کا انتقال اردو صحافت کے لئے بڑا صدمہ ۔عطا عابدی
اگلی پوسٹ
مظہرالحق -تحریک آزادی کے سچےمجاہد – ریّان ابوالعُلائی

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں