یہ امید بھی اب دامن گریزاں ہوتی جاتی ہے
تیرے ملنے کی آس اب مدھم ہوتی جاتی ہے
ہر محفل میں ایک شخص کو ڈھونڈتا ہے دل
جیسے دنیا کی ہر رونق کم ہوتی جاتی ہے
تیرگی اس قدر بڑھی ہے کس لیے
ہر دیے کی لو اب کم ہوتی جاتی ہے
وہی وہ ہیں، وہی میں ہوں، پر نجانے کس لیے
محبت سے محبت اب کم ہوتی جاتی ہے
باتیں کرنی تھیں کتنی ہی روبرو ان کے
سامنا ہو لبوں کی جنبش کم ہوتی جاتی ہے
دل اس قدر حساس ہوچلا ہے شازیہ ان دنوں
بات بے بات یہ آنکھ اب نم ہوتی جاتی ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

