*ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں.*
*فیشن کی دنیا میں ابھرتا ہوا نیا نام* ثنا فرحین شیخ
*تلوار بازی سے فیشن کی دنیا کا سفر*
خواب دیکھنا اور اس کو پورا کرنے کی جستجو میں لگ جانا دونوں ہی الگ الگ باتیں ہیں۔ ہم سب روزانہ خواب دیکھتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو ان کو پورا کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں. ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کہا کرتے تھے کہ” خواب وہ نہیں جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے ہیں بلکہ خواب تو وہ ہیں وہ جو آپ کو سونے ہی نہ د یں۔ ”
اکیسویں صدی کو خواتین کی صدی کہا جارہا ہیں ۔ ہم بڑی تعداد میں ایسی خواتین کی مثالیں دیکھ رہے ہیں جو اپنے منفرد پروڈکٹس کے ذریعے ساری دنیا کو حیران کر رہی ہیں ۔ لذت پاپڑ کی مالکن جاسونتی بین ، یا Mama Earth کی بانی غزالہ الاغ ہو یا Nayka Fashion کی CEO فالگونی نایر ہو۔ ان سب نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ صنعت و حرفت کے شعبے میں خواتین کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔
آئیے آج آپ کو اسی طرح کی ایک شخصیت سے ملاتے
ہیں جنہوں نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے دن رات محنت کی کی اور نہ صرف اپنے گھر والوں کا بلکہ اپنے شہر اورنگ آباد کا نام بھی روشن کیا۔
ثناء فرحین اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والی کپڑوں کی ایک تاجر ہیں۔ محض 23 سال کی عمر میں انھوں نے کپڑوں کا برانڈ شروع کیا ہے اور ان کو شارک ٹینک انڈیا کے شو میں 20 لاکھ کی فنڈنگ ملی ہے۔ آئیے ان سے بات کرتے ہیں۔
مرزا علی: السلام علیکم ۔
ثناء فرحین: وعلیکم السلام۔
مرزا علی : آپ کو شارک ٹینک انڈیا کے کامیاب ایپیسوڈ کے لئے بہت بہت مبارکباد۔ اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔
ثناء فرحین: میرا نام ثناء فرحین بنت شیخ شامیر ہے میری والدہ کا نام شیخ شبانہ ہے ہم دو بہنیں ہیں۔ میرے والد سرکاری ملازم ہے اور والدہ فیشین ڈیزائنر ہیں ۔ میری بنیادی تعلیم ملیہ گرلس اسکول بیڑ سے ہوئی ۔ اس کے بعد محمدیہ اردو ہائی اسکول تارا پور سے میں نے دسویں کا امتحان پاس کیا ۔پھر میں نے ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس فورومن نوکھنڈا کالج اورنگ آباد سے بارہویں کا امتحان پاس کیا۔ اور پھر میں نے MIT کالج آف انجینئرنگ اورنگ آباد سے میکانکل انجینئرنگ کی۔اور ساتھ ہی ساتھ میں نے تلوار بازی (Fencing) بھی سیکھا ۔ اور میں تلوار بازی کی نیشنل کھلاڑی بھی ہوں۔
مرزا علی: آپ کو کپڑوں کا برانڈ شروع کرنے کا خیال کیسے آیا ؟
ثناء فرحین: جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا میں تلوار بازی کی کھلاڑی ہوں تو مجھے کھیل کے لیے مارکیٹ سے کپڑے نہیں ملتے تھے ۔ لڑکیوں کےاسپورٹ کے کپڑے کافی چھوٹے اور تنگ ہوتے ہیں اس لئے میں لڑکوں کے سیکشن سے خریداری کیا کرتی تھی۔ اسی وقت سے میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں لڑکیوں کے لئے ایسے کپڑے بناؤں گی جو وہ خوشی سے پہنیں اور ان میں زیادہ آسانی سے اپنی کارکردگی انجام دے سکیں ۔ اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے لیے میں نے 2021 میں Forever Modest کے نام سے ایک برانڈ شروع کیا جو آج پورے ملک میں مشہور ہے۔
مرزا علی: Forever Modest شروع کرنے کے بعد سے اب تک اس کی کارکردگی کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
ثناء فرحین: دراصل ہمارا ٹارگیٹ ایسی خواتین ہیں جو موجودہ دور کے فیشن کے ساتھ ساتھ قدم ملانا چاہتی ہے لیکن ایسے کپڑے پہننا چاہتی ہیں جن میں وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرے نہ کہ وہ کپڑے جو فیشن انڈسٹری ان کو دے رہی ہے۔ ایک بہت بڑی ٹیم مسلسل محنت کر رہی ہیں۔ ہم ورک ویٔر ، پارٹی ویٔر اور اسپورٹس ویٔر پر کام کر رہے ہیں۔ ہم S سائز سے 10 XL تک کی سائز کے کپڑے بنا رہے ہیں۔ اور ویب سائٹ Forever Modest.com اور ہمارے انسٹا گرام ہینڈل Forever Modest .in کے ذریعے بڑی تعداد میں عوام تک ہمارا پیغام پہنچ رہا ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہم نے ابھی تک بہت سارے قومی اور بین الاقوامی آرڈر لئے ہیں اور یہ کام مسلسل جاری ہے ۔ بہت ہی کم مدت میں گاہکوں نے ہم کو قبول کیا ہے ۔اور ہمارے ڈیزائن کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ امید کرتی ہوں کہ ہم کو اسی طرح پیار ملتا رہے گا۔
مرزا علی: Forever Modest کی شروعات میں آپ کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟
ثناء فرحین: دیکھیے یہ کام شروع کرنا میرے لئے آسان نہیں تھا میرے خاندان کے تقریبا سارے افراد مجھے مختلف مشورے دے رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اسی لئے آپ کو اتنا پڑھایا ہے کیا؟ یا کسی نے یوں کہا کہ یہی باقی رہ گیا تھا کیا؟ اور کوئی کہہ رہا تھا کہ سرکاری امتحان کی تیاری کر لو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میری والدہ اور والد نے میرا ساتھ دیا چونکہ میری والدہ فیشن ڈیزائنر ہیں اسی لیے انہوں نے میرا بہت زیادہ ساتھ دیا اور ان کے بغیر شاید میں یہ کام نہیں کر پاتی۔ اس کے علاوہ مجھے اس فیلڈ کی بہت زیادہ معلومات نہیں تھی اس لیے میں نے بہت سارے اتار چڑھاؤ دیکھے ۔ ماڈل تلاش کرنا مارکیٹنگ کرنا آن لائن لوگوں سے بات کرنا اور ان کے سوالوں کا جواب دینا وغیرہ کافی مشکل مراحل رہے تھے۔
مرزا علی: خواتین کو تجارت میں درپیش مسائل کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟
ثناء فرحین: میرا ماننا یہ ہے کہ بہت ساری خواتین کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے ہم سے نہیں ہو پائے گا مان کر اپنے بہترین آئیڈیا چھپا دیتی ہیں یا ان پر کام نہیں کر پاتی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اگر آپ کو اپنے آپ پر اعتماد ہو تو ایک مرتبہ کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے انسان کرنے سے ہی سیکھتا ہیں ۔
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
مرزا علی: آپ کو کیا لگتا ہے اس میدان میں مستقبل میں کیا مواقع ہوں گے؟
ثناء فرحین: دیکھیے اس طرز کے کپڑوں کی مارکیٹ میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ۔ بین الاقوامی بازار میں کئی سارے برانڈ اس قسم کے کپڑے بنا رہے ہیں لیکن ان کی قیمت بہت زیادہ ہے اسلئے ہندوستان کے مارکیٹ کے لحاظ سے ہم نے یہ کام شروع کیا ہے اور جیسے جیسے اس چیز کا علم لوگوں کو ہوتا جاۓ گا تو اس قسم کے کپڑوں کا مارکیٹ اور زیادہ بڑھتا جائے گا۔ اسی لئے ڈیزائننگ ، ماڈلنگ اور مارکیٹنگ وغیرہ کے شعبے میں کافی مواقع حاصل ہو گے۔
مرزا علی: کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی ایکسپرٹ آپ کے ساتھ ہوتا تو آپ کا کام آسانی سے ہو جاتا؟
ثناء فرحین:
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
یہ بات بالکل درست ہے کہ کوئی ایکسپرٹ ہوتا تو کام آسانی سے ہو جاتا لیکن میں اس بات کے لئے شکر گزار ہوں کہ میں نے سب کچھ خود سے سیکھا ہے اور میں اب یہ ساری چیزیں ایک طویل عرصے تک یاد رکھوں گی۔ اور میں اسی طرح آگے سیکھتے رہنا چاہوں گی۔
مرزا علی: آپ کا شارک ٹینک انڈیا میں جانے کا سفر کس طرح تھا؟
ثناء فرحین: مجھے آج بھی اس بات پر یقین نہیں آتا کہ ہم
لوگوں نے اتنے بڑے پلیٹ فارم پر جاکر اپنی شناخت بنائی ہے ۔
میں نے مئی 2022 میں آڈیشن کے لئے درخواست بھیجی تھی جس کا کنفرمیشن مجھے جون میں ملا پھر جولائی میں شارک ٹینک انڈیا کی ٹیم سے ملی اور مین ایپیسوڈ سے پہلے مجھے پانچ مرتبہ ٹرائل دینا پڑا۔ شوٹ تقریبا 180 لوگوں کا تھا جس میں سے 103 لوگوں کا ایپیسوڈ آیا اور مجھے بیس لاکھ کی فنڈنگ کمپنی میں 20 فیصد شراکت داری پر ملی اور میرے ساتھ چاروں شارک آئے۔ جس کی مجھے بے انتہا خوشی ہے۔
مرزا علی: ایک بار آپ کو پھر سے بہت بہت مبارکباد آخر میں آپ سے یہی پوچھنا چاہوں گا کہ آپ خواتین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
ثناء فرحین : دیکھیے میں کوئی بہت بڑی ماہر تعلیم یا کوئی عمر رسیدہ تو نہیں ہوں میں ابھی بھی مسلسل سیکھ رہی ہوں ۔ بس میری آئیڈیل حضرت خدیجۃ الکبری ہیں۔ میں تمام ماؤں بہنوں سے یہی کہوں گی کہ
منزل تو مل ہی جائے گے بھٹکتے ہوۓ ہی سہی
گمراہ تو وہ لوگ ہیں جو گھر سے نکلے ہی نہیں
بس اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں اور زیادہ سے زیادہ انسانیت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں اور جب بھی گائیڈنس کی ضرورت رہی تو میں حاضر ہوں۔
مرزا علی: بہت بہت شکریہ دعا کرتا ہوں کہ آپ اسی طرح اپنا کام اور کاروبار آگے بڑھاتی رہیں اور ملک و ملت کا نام روشن کرتی رہیں۔
مرزا ابوالحسن علی
ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن
اورنگ آباد
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

