ارتسام (مضامین)/ پروفیسر کوثر مظہری – نوشاد منظر
کوثر مظہری کی ادبی شناخت شاعر، ناقد اور ناول نگار کی حیثیت ہے۔ ان کا شمار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بہترین اور ایماندار اساتذہ کے طور بھی ہوتا ہے۔کوثر مظہری کی اب تک کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں ان کا ناول’آنکھ جو سوچتی ہے‘ اور شعری مجموعہ ’ماضی کا آئندہ‘ کے علاوہ تنقیدی اور تحقیقی نوعیت کی ایک درجن سے زائد کتابیں شامل ہیں۔کوثر مظہری کا شمار عصر حاضر کے معتبر ناقد کے طور پر کیا جاتا ہے۔میرے زیر مطالعہ ان کے مضامین کا مجموعہ ’ارتسام‘ ہے۔جس کی اشاعت دسمبر۲۰۱۷ میں عمل میں آئی۔ مصنف نے اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ ان ابواب کے ذیل میں کئی ضمنی عنوانات قائم کئے گئے ہیں۔’ارتسام‘کوثر مظہری کے مضامین کا تیسرا مجموعہ ہے۔مصنف نے اپنے پیش نامہ میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کتاب میں شامل تمام مضامین سمینار میں پیش کرنے کے لیے لکھے گئے ہیں یا مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔اس کتاب کا انتساب عہد حاضر کے اہم فکشن نگار خالد جاوید کے نام ہے۔
زیر نظر کتاب کا پہلا باب’رنگ نثر‘ ہے۔اس عنوان کے ذیل میں مصنف نے نو مضامین شامل کیے ہیں۔کتاب کا پہلا مضمون’’ یادگار غالب پر ایک قاری کانوٹ‘‘ ہے۔غالب شناسی کے باب میں اس کتاب کو اولیت اور اہمیت دونوں حاصل ہے۔ الطاف حسین حالی نے اپنی کتاب یاد گار غالب میںغالب کی شخصیت اور شاعری دونوں سے متعارف کرایا ہے۔یادگار غالب کے متعلق حالی نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ ان کا مقصد مرزا غالب کی شاعرانہ خوبیوں کو عوام پر ظاہر کرنا ہے، ظاہر ہے یہ خوبیاں غالب کی فطرت میں خدا کی جانب سے ودیعت کی گئی تھیں۔اور یہ فطری خوبیاں غالب کے کلام اور خطوط دونوں سے ظاہر بھی ہوتی ہیں۔ کوثر مظہری نے ’یاد گار غالب‘ کے ہرپہلو پر تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے۔ انہوں نے حالی کے تسامحات کو بھی نشان زد کیا ہے اور ان کے اسلوب نگارش کی خوبیاں بھی بیان کی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ حالی کے ’یادگار غالب‘لکھنے کا مقصد غالب کی شخصیت اور آداب زندگی کو ابھارنا تھا جس میں حالی پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں ۔
کتاب میں شامل دوسرا مضمون’فراق کا تصور عشق من آنم کے حوالے سے‘ ہے۔(یہ بھی پڑھیں فراق کاتصورعشق’من آنم‘کےحوالےسے- پروفیسر کوثر مظہری )’من آنم ‘ فراق گورکھ پوری کے خطوط کا مجموعہ ہے۔یہ خطوط رسالہ ’نقوش‘ کے مدیر محمد طفیل کے خطوط کے جواب میں تحریر کیے گئے تھے۔ محمد طفیل نے اپنے خطوط میں کچھ ایسے سوالات قائم کیے تھے جن سے فراق کی نجی زندگی اور شاعری کے تعلق سے فراق کا نظریہ سامنے آسکے۔یہی وجہ ہے کہ کوثر مظہری ان خطوط کو فطری نہیں مانتے، کیونکہ اس میں تخلیق کار کی اپنی مرضی شامل نہیں بلکہ سوال کے جواب ہیں، جسے دوسرے الفاظ میں انٹرویو بھی کہا جاسکتا ہے۔کوثر مظہری نے اپنے اس مضمون میں ’من آنم ‘ میں موجود خطوط کی روشنی میں فراق گورکھ پوری کے نظریہ عشق کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح فراق کی شاعری میں محبوب کے وصال اور اس سے پیدا ہونے والی کیفیات کا اظہار ملتا ہے ان کے خطوط میں بھی ملتی ہیں۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے فراق کی شاعری کے متعلق لکھا ہے’فراق کی عشقیہ شاعری جنس کی پاکیزگی اور تطہیر کی بہترین مثال ہے۔‘کوثر مظہری کا خیال ہے کہ’فراق نے جنسی اظہار کو نکیل دے کر اپنی عشقیہ شاعری میں خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انہوں نے ’من آنم ‘ سے کئی خطوط اور اس کے اقتباسات پیش کیے ہیں۔ ان خطوط کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوثر مظہری نے لکھا ہے کہ فراق نے اپنے خطوط میں جنسی تعلقات اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کا کسی نہ کسی طر ح جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا جواز جائز ہو یا ناجائز اس سے قطع نظر فراق نے جس کھلے پن اور اخلاص کے ساتھ اپنی کمزوریوں کااعتراف کیا ہے یہ ہر کسی کے بس کی نہیں۔کتاب کے اسی پہلے حصے میں’ترقی پسند تحریک کی تاریخ اور روشنائی‘،’محمد حسن کا مضمون سچی جدیدیت، نئی ترقی پسندی، بازدید‘،’آل احمد سرور کی اقبال فہمی‘ اور نقد غزل اور ابو الکلام قاسمی‘ وغیرہ جیسے اہم مضامین شامل ہیں۔
زیر نظر کتاب’ارتسام ‘ کا دوسرا باب’رنگ شاعری‘ ہے۔ اس حصے میں چوبیس مضامین شامل ہیں۔ان مضامین میں بکٹ کہانی کی لسانی و تہذیبی نقوش، شعر سودا کی داخلیت، راسخ عظیم آبادی کا رنگ تصوف، مومن کی قصیدہ نگاری، ظفر کا تصور عشق کے علاوہ فیض، اختر الایمان، ندا فاضلی، ظفر گورکھ پوری،شجاع خاور اور وہاب دانش وغیرہ کی شاعری پر گفتگو کی گئی ہے۔کوثر مظہری نے اپنے معاصر شعرا پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے دور حاضر کے اہم شاعر فرحت احساس کی شاعری پراچھی تنقیدی رائے دی ہے ۔ فرحت احساس کے بارے میں وہاب اشرفی نے لکھا ہے کہ ’فرحت گیلی مٹی کے شاعر ہیں اور یہ گیلی مٹی ان کی سرشت بھی ہے اور ان کا تخلیقی منظر نامہ بھی۔‘ فرحت احساس کی شاعری میں عشق و عاشقی کے مرحلے کا ذکر ملتا ہے ، ان کی نظر میں عشق ایک اخبار ہے جو بند ہوچکا ہے۔کوثر مظہری نے اپنے مضمون میں فرحت احساس کے کئی اشعار پیش کیے ہیں ان کا خیال ہے کہ فرحت احساس عشق کے زوال آمادہ ہونے کی داستان سنانا چاہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ فرحت احساس کے یہاں عشق اور محبوب کے جسم کے علاوہ کچھ نہیں، بلکہ بقول کوثر مظہری انہوں نے انسانی معاشرے کے آسمانوں اور زمینوں کو اپنی تخلیقی ہنر مندی کی روشنی میںپیش کیا ہے۔فرحت احساس کے یہاں انفرادی احساسات کے بجائے اجتماعی احساسات کا نظر آتا بھی ہے۔ان کی شاعری میں روایت کی پاسداری ملتی ہے مگر انہوں نے ان لفظیات کا ایک نیا رنگ عطا کیا ہے۔کوثر مظہری نے ’خورشید اکبر کا فن‘ کے عنوان سے ایک مضمون شامل کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ خورشید اکبر کا شمار ۸۰ کے بعد کے ان شعرا میں ہوتا ہے جن کے یہاںشاعری میں جدیدیوں کے بر خلاف اسلامی افکار و آثار، اور تہذیبی یا اساطیری جڑوں کی طرف مراجعت کا واضح رجحان ملتا ہے۔
’ارتسام ‘کا تیسرا باب’رنگ فکشن‘ ہے۔اس باب کے ذیل میں آٹھ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔پہلا مضمون’نئے ناول کے موضوعات و اسالیب‘ ہے۔ اس مضمون میں ۹۰ کے بعد شائع ہوئے چند مگر اہم ناولوں کی روشنی میں ناول کے موضوعات اور اسالیب پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مضمون میں ناصرہ شرما(زندہ محاورے)،حسین الحق(فرات)علی امجد(کالی ماٹی)،عبد الصمد (مہا ساگر)مظہر الزماں خاں (آخری داستان گو)، غضنفر(دویہ بانی)مشرف عالم ذوقی (بیان)پیغام آفاقی (مکان)یعقوب یاور(دل من عزازیل)، کے ناولوں کی روشنی میں موضوعات اور اسالیب پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ ظاہر ہے ان نالوں کے موضوعات اور اسالیب میں ندرت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ کوثر مظہری نے ناول کے مستقبل کو لے کر ایک بے حد اہم بات کہی ہے کہ نئے ناولوں کے توانا اسلوب اور جرأت مندانہ انداز تحریر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فکشن پر ابھی زوال نہیں آنے والا۔کوثر مظہری نے کتاب کے تیسرے حصے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نقاد، سہیل عظیم آبادی کا ناولٹ’بے جڑ کے پودے، انور عظیم کا افسانہ ’اونگھتی ڈیوڑھی جاگتے کھیت،ذکیہ مشہدی کی کہانی’ہدّو کا ہاتھی، طارق چھتاری کا افسانہ’آن بان‘ مشرف عالم ذوقی کا ناول’ پو کے مان کی دنیا ‘ اور خالد جاوید کے افسانہ’تفریح کی ایک دوپہر‘ پر تفصیل اور جامعیت کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے۔ان مضامین کے مطالعہ سے جہاں ناول اور افسانے کے موضوع اور اسلوب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہیں وہیں فکشن کے ارتقائی مراحل اور تخلیق کار کے فن کا ایک واضح تناظر میں خلق ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مظہرامام کانظمیہ متن – پروفیسر کوثر مظہری )
مجموعی طور پر ’ارتسام ‘ میں شامل مضامین کئی اعتبار سے اہم ہیں۔ان مضامین کو پڑھتے ہوئے جہاں ایک جانب کوثر مظہری کی تنقیدی آرا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، وہیں دوسری جانب قاری کے ذہن میں کئی سوال بھی قائم ہوتے ہیں۔شاعری کے حصے میں جو مضامین شامل ہیں ان میں کلاسیک اور عصر حاضر کے اہم شعرا اور ان کے فن پر گفتگو کی گئی ہے ۔ رنگ فکشن میں بھی مصنف نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ہم عصر تخلیق کار پر گفتگو کی جائے۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں نثر، شاعری اور فکشن کے حوالے سے کوثر مظہری کے نظریات کو ایک ساتھ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

