ہندوستان کے دینی مدارس وملی ادارے اردو زبان کے فروغ میں خاموش کردار اداکررہے ہیں۔ وہ اردو زبان سے زمینی سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔بنیادی سطح پر مدارس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔(۱) مکاتب(۲) مدارس۔ مکاتب میں قرآن مجید ، دینیات اور اردو کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ مدارس میں بالعموم درس نظامی رائج ہے، جس میں صرف ونحو، منطق، علم کلام،تفسیر ، فقہ، حدیث جیسے موضوعات پرکتابیں شامل ہیں جو عربی میں ہوتی ہیں لیکن تدریس کامیڈیم ’اردو‘ ہے۔یعنی ان مدارس میں تمام علوم اور کتب اردو زبان میں پڑھائی جاتی ہیں۔ جواساتذہ یہ کتابیں پڑھاتے ہیں ، انھیں عربی وفارسی میں جس قدر بھی مہارت حاصل ہو، لیکن اردوپر وہ خاصی قدرت رکھتے ہیں۔ طلبا چونکہ مستقل اساتذہ کی اردو تقریریں سنتے ہیں،انھیں اردومیں لکھتے ہیں، اردومیں ہی تکرار کرتے ہیں۔اس لیے ان کی اردو زبان خاصی اچھی ہوجاتی ہے،اردو لکھنے کی بھی ان میں صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔مدارس میں اردو کتابت بھی سکھائی جاتی ہے جس کے سبب عام طورپر طلبائے مدارس کی تحریربالفاظ دیگر ہینڈ رائیٹنگ اچھی ہوتی ہے۔مدارس میں اردو کا چلن اتنا زیادہ اور عام ہے کہ اربابِ مدارس اپنے دفتر اورنظم ونسق کے کام بھی اردومیں ہی کرتے ہیں۔ تمام رجسٹر اردومیں Maintain کیے جاتے ہیں۔ نام اردومیں لکھے جاتے ہیں، ہندسے اردومیں ہوتے ہیں،سن وتاریخ بھی اردومیں درج کی جاتی ہے۔ اردوسے اتناگہرا رشتہ اردو کے بڑے بڑے اداروں میں بھی نظرنہیں آتا۔مدارس کے اردو سے اس درجہ لگائو ہی کی وجہ ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل طلبا اردو زبان کے واقف کار بھی ہوتے ہیں اور اردو زبان کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی شاید کسی کو انکار نہ ہوگاکہ اردو اخبارات ورسائل کے قارئین زیادہ تر مدارس سے وابستہ یا مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے افرادہیں۔ اسی طرح آج اردوکے بڑے بڑے ادیبوں میں زیادہ تر وہ ہیں جنھوں نے ابتدائی اردو کسی مکتب یامدرسہ میں سیکھی۔
مدارس کے اس کارنامہ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتاکہ انھوں نے اپنے یہاں سے جرائد ورسائل شائع کرکے اردو کی بڑی خدمت کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دینی رسائل کی اشاعت کا بنیادی مقصد اسلام کا فروغ یا عامۃ المسلمین کی اصلاح رہا مگر کہیں نہ کہیں اس سے اردو کوبھی فائدہ پہنچا۔ صحافت کی جانب مدارس یا مذہبی افراد کا رجحان اسی وقت ہوگیا تھا جبکہ اردومیں صحافت اپنے ابتدائی مرحلے میں تھی۔مثلاً مولوی محمد باقر نے 1843ء میں شیعہ فرقہ کی ترجمانی کے لئے ’’اخبار مظہر الحق ‘‘ جاری کیا۔اس سے پہلے ’جام جہاں نما‘کے چند شماروں کے بعد ہفت روزہ ’دہلی اردو اخبار(1836)،،ہفت روزہ’ سیدا لاخبار(1837)اور ہفت روزہ خیرخواہ ہند (1837)‘جیسے چند ہی اخبار منظر عام پرآئے تھے ۔مولوی محمد باقرنے یہ اخبار اس لئے نکالاتھاکہ اس زمانہ میں بغداد میں ایک ہنگامے کے دوران شیعہ حضرات کا زبردست جانی ومالی نقصان ہوا تھاجس سے مولوی محمد باقربہت متاثر ہوئے۔یہ اخبار پوری طرح سے مذہبی اخبار تھا ، اس میں دینی مضامین ، مذہب اور مسلمانوں سے متعلق معلومات شائع کی جاتی تھیں۔
صحافت کے ابتدائی دورمیںعلمائے اسلام نے مذہبی رسائل اس لیے جاری کیے کہ اس دور میں عیسائی مشنریاں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے سرگرم تھیں ۔ عیسائی مبلغین عیسائیت کی تبلیغ کرتے اور دوسرے ادیان کی تعلیمات پر نقد کرتے تھے۔بہت سے عیسائی مصنفین اور صحافی بھی ایسے تھے جو کتابوں اور اخباروں کے ذریعہ عیسائیت کی تبلیغ کا کام کرتے اور دوسرے مذاہب میں کمیاں نکالتے تھے۔یہ بات ہندوستان کے مسلمانوں کو برداشت نہ ہوئی ، اس لئے ان کے متعدد علماء نے اپنے مذہب کے دفاع کے لیے عیسائی پادریوں سے مناظرے کیے اوردینی رسائل نکالے ۔یعنی ’’زبان کا جواب زبان سے اور قلم کا جواب قلم سے‘‘ کی حکمت عملی اختیارکی۔عیسائی رسائل کے جواب میںمسلمانوںکی طرف سے جواخبارات ورسائل منظر عام پر آئے ان میں سے ایک ہفت روزہ اخبار ’ خیرالمواعظ‘ تھا جو1868ء میں دہلی سے شائع ہوا۔اسی طرح کا ایک دس روزہ اخبار 1872ء میں ’منشور محمدی‘بنگلور سے جاری کیا گیا۔ 1874ء میں دہلی سے ہفت روزہ اخبار ’’مہردرخشاں‘‘، 1875ء میں پندرہ روزہ ’’ضیاء الاسلام‘ ،لاہورسے ،1878ء میں ہفت روزہ ’شحنۂ ہند‘، دہلی سے ،1883ء میں دس روزہ ’حامیٔ اسلام‘،1887ء میں ہفت روزہ ’اخبارالاخیار‘ ،1892ء میں ’اخبارِ اسلام‘اورسیالکوٹ سے پندرہ روزہ ’انوارِالاسلام‘‘ جیسے اخبارات ورسائل منظرعام پرآئے۔انیس ویں صدی کے اواخر تک اور بھی کئی دینی اخبارات ورسائل نکلے۔بیسویں صدی کے آغاز میں دینی اداروں اور دینی شخصیتوں کے ذریعہ مذہبی اخبارات ورسائل کی رفتار مزید تیز ہوگئی۔ چنانچہ 1903ء میں مولوی ان شاء اللہ کا ماہنامہ ’تفسیر القرآن‘ نکلنا شروع ہوا۔اسی سال پشاور سے سید عبداللہ شاہ کی ادارت میں ماہنامہ ’اخبار الاخلاق ‘ جاری ہوا۔1903ء ہی میں ہفت روزہ ’اہل حدیث ‘ شائع ہوا ۔اسی سال دہلی سے یعقوب بیگ دہلوی کا ماہنامہ’کاشف العلوم ‘دہلی سے منظر عام پر آیا۔یعنی ایک ہی سال میں کئی ایسے ہفت روزہ اخبارات اور ماہانہ رسائل وجود میں آئے جن میں خصوصی طورپر دینی مواد شائع ہوتاتھا۔دیوبند کی سرزمین سے1905ء میں ماہنامہ ’ القاسم‘ منظر عام پر آیا جس میں اس وقت کے مشاہیر علماء کی تحریریں شائع ہوتی تھیں۔1905 ء میںہی منشی مولابخش نے امرتسر سے’ ضیاء الاسلام‘ اور منشی عبدالقیوم جالندھری نے جالندھر سے ماہنامہ ’اسلام‘ نکالا۔قاضی عبدالوحید اور غلام احمد اخگر نے1906ء میں امرتسر سے ہفت روزہ’ اہل فقہ‘ نکالا۔ 1910ء میں مولوی شجاع اللہ نے لاہور سے ماہنامہ ’ملت‘ نکالا۔اسی سال مولوی محمد سعید سبطین نے لاہور سے ہی ماہنامہ ’برہان‘ جاری کیا۔1911ء میں سیالکوٹ سے منشی غلام قادر فصیح نے پندرہ روزہ ’تاریخ اسلام‘ نکالا۔ ان ماہناموںکا عمومی رجحان اسلام کی اشاعت اوراسلامی اقدارکا تحفظ تھا،لیکن ان میں بعض کی خصوصی توجہ اپنے مسلک کی تشہیر اور اس کے دفاع پررہتی تھی۔جیساکہ1913ء میں لاہور سے ایک دینی پرچہ ماہنامہ ’انوار الصوفیہ ‘منشی حسام الدین کی ادارت میں منظر عام پر آیاجس میں تصوف کے حوالے سے زیادہ مواد شائع کیا جاتاتھا ۔1914ء میں لاہور سے منشی محمد دین فوق نے ماہنامہ’ طریقت‘ نکالا۔ 1915ء میں حافظ عبداللہ روپڑی کی نگرانی میں ہفت روزہ ’تنظیم اہل حدیث‘ منظرعام پر آیا۔1916ء میں حکیم ابوتراب عبدالحق نے پندرہ روزہ ’اہل سنت والجماعت‘ امرتسر سے جاری کیا۔لیکن ایسے رسائل جن کے پیش نظرمسلک سے زیادہ اسلام کے حوالے سے مواد کی اشاعت تھی ، ان کی تعداد بھی خاصی تھی۔اس نوع کا ایک رسالہ دارالمصنفین اعظم گڑھ کے تحت ماہنامہ’ معارف‘منظرعام پرآیا۔اس رسالہ نے زبردست مقبولیت حاصل کی اور برابر پابندی کے ساتھ نکلتا رہا۔ تقریباً ایک صدی کے بعد آج بھی یہ رسالہ نہ صرف پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے بلکہ بہت حد تک اپنے معیار کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کا پہلا شمارہ جولائی 1916ء ،مطابق ماہ رمضان 1334ھ کومنظر عام پر آیا۔ مشہور عالم دین اور معروف صحافی مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا ابو الکلام آزادنے اس کی ترتیب و تزئین میں بڑی محنت کی۔اس طرح ایک کے بعد ایک مذہبی صحافت کے آئینہ دار اخبارات و رسائل منظر عام پر آتے رہے۔ ان کے علاوہ جن مذہبی رسائل واخبارات نے اپنی پہچان بنائی ان میں سے چند اس طرح ہیں:
ماہنامہ ’دعوت حق‘ لاہورزیرِادارت(1918ء )،ماہنامہ ’اہل الذکر ،زیرادارت مولوی یوسف شمس، فیض آباد (1918)۔ماہنامہ’ اعجاز القرآن‘ امرتسر،ازمولوی اعجاز احمد( 1919ء) ۔ماہنامہ ’تبلیغ السنۃ‘دہلی زیر ادارت مولوی احمد اللہ(1922) ، ماہنامہ تصوف لاہور(1922)،ماہنامہ تائیدالاسلام ‘لاہور زیرادارت پیر بخش(1923)،ماہنامہ ’تبلیغ لاہور‘ زیر سرپرستی غلام حیدر خاں (1923)،ماہنامہ’ اسرارتصوف‘لاہور (1924)،ماہنامہ ’اسوۂ حسنہ‘ لاہور(1926)،ماہنامہ ’بلاغ القرآن‘ لاہور،زیر ادارت مولوی محمد فاضل(1926)،ماہنامہ ’اصلاح‘ لاہور(1927)، ماہنامہ’ تبلیغ‘ ،انبالہ زیر ادارت سید معظم نجیب آبادی(1927)،ماہنامہ ’مجدد اعظم‘ سرہندزیر ادارت سید ولایت علی شاہ (1928)،پندرہ روزہ ’ایمان‘ لاہورزیر ادارت عبدالحمید(1929)،ماہنامہ’ اسلام ‘امرتسر،زیر ادارت محمد منیرالدین(1929)،ماہنامہ ’پیام اسلام ‘جالندھر ،زیر ادارت عبدالحق عباس(1926)،ماہنامہ ’تبلیغ اشاعت القرآن‘ ،لاہورزیر ادارت فقیر ابوعیسیٰ(1931)،ماہنامہ ’حقیقت اسلام‘ لاہورزیر ادارت سید محمد شاہ(1932)،ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ حیدر آباددکن زیر سرپرستی ابومحمد مصلح(1932)،ماہنامہ ’مبلغ‘ امرتسرزیر ادارت محمد اسحاق حنیف(1932)، ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنؤ،زیر سرپرستی مولانا منظور احمد نعمانی(1932)،ماہنامہ’ ترجمان القرآن‘ حیدر آباد دکن زیر ادارت سید ابوالاعلی مودوی(1933)،ماہنامہ آستانہ لاہور ،زیر ادارت مولوی عبدالرحمن (1934)،ماہنامہ’ تبلیغ اسلام‘ لاہور،زیر ادارت مولوی عبدالرحمن(1934)،ماہنامہ ’ریاض توحید‘ لاہور،زیر ادارت مولوی عبدالحنان(1936)،ماہنامہ’ پیام حق‘ لاہور زیر ادارت سید محمد شاہ(1937) ،ہفت روزہ ’الاسلام‘ کوئٹہ زیر ادارت مولانا عبدالکریم(1936)،ماہنامہ ’الفاروق‘ کوئٹہ زیر ادارت مولانا محمد عبداللہ(1940)، ماہنامہ ’ندائے حرم‘ کراچی زیر ادارت ضیاء الدین عثمانی(1941)،پندرہ روزہ’ الحسنات‘ رامپورزیر ادارت محمد عبدالحئی(1942)وغیرہ۔
اُردومیں مذہبی رسائل وجرائد تقریباً ہرمسلک کے نمائندگان کی طرف سے جاری ہوئے۔جیساکہ1903ء میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کی ادارت میں شائع ہونے والا ہفت روزہ’ اہل حدیث‘ مسلک اہل حدیث کی ترجمانی کرتا تھا۔ 1914ء میں حافظ عبداللہ روپڑی کی ادارت میں نکلنے والا ہفت روزہ ’تنظیم اہل حدیث‘ اور 1919ء میں دہلی سے جاری ہونے والا پندہ روزہ’ صحیفہ اہل حدیث‘ بھی مسلک اہل حدیث کے ترجمان تھے۔1905ء میںجورسالہ دیوبند سے ماہنامہ مجلہ’ القاسم‘ کے نام سے منظرعام پر آیاتھا، مسلک دیوبند کی ترجمانی کرتا تھا۔ماہنامہ ’’القاسم‘‘مولانا حبیب الرحمان عثمانی کی ادارت میں 1910ء میں شائع ہوا۔اس کے نائب مدیر مولانا سید اصغر حسین ؒ اور سرپرست حضرت حکیم الامت اور حضرت شیخ الہندؒ تھے۔یہ 32؍صفحات پر مشتمل رسالہ تھا اوراس میں مشاہیر اہل قلم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔دارالعلوم دیوبند سے ہی ایک اور رسالہ 1914ء میں ’’الرشید‘‘منظر عام پر لایا گیا،جس کے مدیر مولانا حبیب الرحمان عثمانی اور نائب مدیر مولانا سراج احمد رشیدی کو بنایا گیا۔آزادی سے پہلے دارالعلوم دیوبند سے ایک اور ماہنامہ ’دارالعلوم‘1941ء میں جاری ہوا جو ابھی تک پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے۔آزادی کے بعد دارالعلوم دیوبند سے پندرہ روزہ ’آئینہ ٔ دارالعلوم ‘اگست 1985ء میں جاری کیا گیا۔بریلوی مکتبہ ٔ فکر سے بھی کئی رسائل جاری ہوئے۔جیسے ’’تحفۂ حنفیہ‘‘1897))،ماہنامہ ’الفقیہ‘ 1920، الرضاء،دبدبۂ سکندری رامپور،انوارالصوفیہ،وغیرہ۔شیعیت کی ترجمانی کرنے والے جرائد ورسائل میں’’الاصلاح‘‘،’’الکلام‘ ،ہفت روزہ ’’نظارہ‘‘، ’’روشنی‘‘،’’شعاع عمل‘‘،’’ تنظیم المکاتب‘‘،’’طوبی‘‘، ’’الواعظ‘‘ ،’’ ذکریٰ‘‘ ،’’مدینۃ العلم‘‘،ا’’لناصر‘‘ اور ’’باب العلم‘‘ کے نام خاص ہیں۔
مذہبی رسائل کی عموماً یہ خصوصیت رہی ہے کہ ان کا معیار علمی سطح پر کافی بلند رہا۔آزادی سے ماقبل کے مذہبی رسائل میں علمی مضامین کو خاص اہمیت کے ساتھ شائع کیا جاتاتھا۔فنی اعتبار سے بھی ان کا مقام بلند تھا۔کیوں کہ 1947 اور اس کے بعد کے زمانے میں عام طورپر وہی لوگ مذہبی رسائل نکالتے تھے جو صاحبِ علم وبصیرت ہوتے تھے، صلاحیتیں گویا ان کے اندر کوٹ کوٹ بھری ہوتی تھیں۔اس زمانے کے مختلف علوم پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ زبان پر بھی زبردست قدرت رکھتے تھے۔اسی لئے مذہبی لوگوں نے اردوزبان وادب کے میدان میں زبردست مقام حاصل کیا اور اردوزبان کی وسیع پیمانہ پر خدمت کی۔مولوی محمد حسین آزاد ہوں یا مولانا الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی ہوں یا مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبدالسلام ندوی ہوں یا مولانا سید سلیمان ندوی۔ان سب نے اردوزبان کو معیارووقار دینے میں اہم کرداراداکیا، ایسے ادبا،شعرا، ناقدین اور مصنفین کی بڑی تعداد ہمیں ملتی ہے جن کا پس منظر دینی تعلیم تھا اورعلمیت کے ساتھ زبان وبیان کے اتارچڑھاؤ سے وہ بخوبی واقف تھے، اس لئے وہ اردو زبان کو بلندیوں تک لے جانے میں کامیاب ہوئے۔مذہبی علوم سے واقف کاربہت سے لوگوں نے اردو کے تشکیلی دور میں بھی اپنا اہم کردار نبھایا۔
یہ الگ بات ہے کہ فی زمانہ مذہبی علوم حاصل کرنے والے طلبا اردوزبان کے اتنے ماہر نہ ہوں جتنے کہ نصف یا ایک صدی پہلے کے تھے۔کیونکہ اس بات سے بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح علوم عصریہ کے اداروں میں تعلیم کا معیار کم ہواہے، اسی طرح مدارس میں بھی تعلیم کے معیار میں کافی کمی آئی ہے لیکن یہ صورت حال 1947ء سے پہلے بلکہ اس کے بعد کی چند دہائیوں میں بھی نہ تھی۔لہذا اس زمانے کے علماء لسانی نشیب وفراز کا علم رکھتے تھے،اسی لئے انہوں نے جب کتابیں لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو کمال کردیا اور جب اخبارات ورسائل نکالنے کی طرف مائل ہوئے تو عروج کی کئی منزلوں کو طے کرگئے۔صحافت وادب میں بھی وہ نمایاں نظر آئے۔
مسلک دیوبند کا ترجمان ماہنامہ ’’القاسم‘‘ علمی اعتبار سے اپنا ایک مقام رکھتا تھا، اس میںایسے مضامین کی اشاعت کو ترجیح دی جاتی جو علمی وتحقیقی سطح پر اہم ہوں۔دراصل اس رسالے کی اشاعت کے جہاں دوسرے مقاصد تھے وہیں ایک مقصد علمی ، تحقیقی اور مذہبی مواد فراہم کرنا تھا۔اردو صحافت کو فروغ دینے میںندوۃ العلماء لکھنؤ بھی کسی سے پیچھے نظرنہیں آتا۔اس کی کوکھ سے بڑے بڑے قلمکار، ادباء، علماء ، مفکرین، مبلغین اور مصنفین پیدا ہوئے۔ندوۃ العلمانے عربی واردو کے متعدد اہم اوردینی وعلمی رسالے نکالے۔ 1902ء میں منظرعام پر آنے والا’الندوہ ‘ایک ایسا ہی اہم دینی وعلمی رسالہ تھا۔’الندوہ‘ کے علمی وصحافتی مقام کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس نے متعددایسے قلمکار وصحافی تیارکیے جنہوںنے دنیائے ادب وصحافت اورمیدانِ تصنیف وتالیف میں بڑا نام کمایا۔مثلاً علامہ سید سلیمان ندوی جن کے قلم کا جادو اُس وقت بھی سر چڑھ کر بولتا تھا اور آج بھی ان کی تحریروں وکتابوں کو پڑھ کر اہل علم وصاحبِ فن سر دھنتے نظرآتے ہیں، کی قلمی تربیت ’الندوہ‘ کے صفحات پر ہی ہوئی ۔علم حدیث پر ان کا پہلا مضمون ’الندوہ‘ میں ہی شائع ہواتھا۔ممتاز عالم دین، محقق اور مؤرخ مولانا عبدالسلام ندوی نے بھی ’الندوہ‘سے وابستہ ہوکربہت کچھ حاصل کیا۔وہ نوجوانی ہی میں الندوہ کے نائب مدیر بن گئے تھے۔خودمولانا ابوالکلا م آزادنے بھی ’الندوہ ‘کے ذریعہ عملی مشق کی۔وہ اکتوبر 1905سے اپریل1906تک’ الندوہ‘ کے سب ایڈیٹر رہے۔دینی رسائل وجرائدکے لئے خوش قسمتی کی بات یہ رہی کہ جوں جوں وقت بڑھتا گیا ، ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔21؍ویں صدی میں جب کہ انگریزی کاہر طرف شورشہرہ ہے، مذہبی رسائل کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔
دینی رسائل کی تعدادمیں اضافے کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان میں دینی مدارس بڑھتے جارہے ہیں اور چھوٹے مدرسے بڑے مدرسوں کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ آج تقریباً تمام بڑے مدارس اورادارے اپنی ترجمانی کے لئے کوئی نہ کوئی رسالہ نکالنے کی خواہش رکھتے ہیں۔جس تیزی کے ساتھ مدارس سے نکلنے والے رسائل کی تعداد میں ااضافہ ہورہا ہے،اسے دیکھ کر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں یہ تعداداوربڑھے گی ،لیکن دوسری طرف اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ عہد حاضر کے دینی رسائل معیار کے لحاظ سے آزادی سے پہلے اورآزادی کے فوراً بعد کے رسائل کے مقابلے میں نسبتاًکم معیاری ہیں۔اس کے باوجودآج کے مذہبی رسائل میں ایسے جرائد ورسائل بھی درجنوں میں ہیں جو علمی اور تحقیقی مضامین ترجیحی طورپر شائع کرتے ہیں۔جیسے سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ، نوائے اسلام دہلی، ماہنامہ زندگی نو نئی دہلی،ترجمان دارالعلوم دہلی، محدث عصر، ماہنامہ الفیصل وغیرہ ۔ان کے علاوہ ایسے بھی رسائل کی بڑی تعداد ہے جن میں اگرچہ تمام تر مضامین علمی وتحقیقی نہیں ہوتے مگردوچار ضرورمضامین تحقیقی وعلمی نوعیت کے شاملِ اشاعت کرلیے جاتے ہیں، ایسے شماروں میں ترجمان دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، اذانِ بلال آگرہ، ماہنامہ ضیاء الاسلام اعظم گڑھ، سہ ماہی امجدیہ مئو، دین مبین بھوپال، ماہنامہ ذکریٰ دہلی، کنزالایمان دہلی، شعاع عمل لکھنؤ، الہدیٰ دربھنگہ، ہدایت کا راستہ نئی دہلی، خضررا ہ الہ آباد، نورالعلوم بہرائچ، ندائے شاہی مرادآباد، طوبیٰ چمپارن بہار، پندرہ روزہ ترجمان دہلی، اتباع سنت دیوبند، بانگ حراء لکھنؤ،ریاض الجنۃ جونپور ، الصفاء حیدرآباد، ماہنامہ نوردہلی، سہ ماہی افکار عالیہ مئوناتھ بھنجن،دوماہی الشارق اور حسن تدبیر وغیرہ شامل ہیں۔
دینی رسائل وجرائدکی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انھوںنے صرف دینی، اصلاحی اور معاشرتی مضامین تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ بعض نے اور آگے بڑھ کر تحقیقی ، علمی موادکے ساتھ ادبی اور صحافتی مضامین بھی شائع کئے۔جیساکہ تھانہ بھون سے مئی2013ء میں شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’’ترجمان تھانوی ‘‘کا مضمون بعنوان’’اردو کے عظیم نقاد: مولانا اشرف علی تھانویؒ ‘‘ ہے ۔ مضمون نگار عصر حاضر کے مشہور ادیب ومصنف حقانی القاسمی ہیں۔وہ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا بحیثیت نقاد تعارف کراتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اردوکے بڑے نقاد تھے، اگر میں یہ بات کہوں ، تو اردوادب کے بہت سے سنگ بدست اجارہ دار مجھے لہولہان کردیں گے، مجھ پر تبرا بھیجیں گے ،طعن وتشنیع کریں گے اور مجھے ادب بدرکرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔کیونکہ مولانا تھانویؒ کی علمی حیثیت سے یہ آشنا ہوں یا نہ ہوں مگر ان کی ادبی حیثیت سے قطعی آگاہ نہیں ہیں ، جب کہ اپنی ناقص اردو پہ اترانے والے کیا جانیں کہ زبان کیا ہوتی ہے؟ ادب کسے کہتے ہیں؟ اور شعور نقد کیا ہوتاہے؟ پھر ان کی معلومات کا خانہ بھی اکثر بیشتر خالی ہوتا ہے، اس لیے ان سے الجھنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ میں اپنے قول کی تائید وتوثیق کے لیے اس شخص کا سہارالوں جس نے ادب کے اعماق میں اتر کر ا سے سمجھا ہے اور ادب کے باطنی مدوجزر کو اپنے باطن میں سمویا ہے اور دشت ادب کی مکمل سیاحی کی ہے اور جس نے ادبیات عالیہ کا بہ استغراق وانہماک مطالعہ کیا ہے۔‘‘
لکھنؤ سے ایک اورمعیاری رسالہ ’’تعمیر حیات ‘‘پابندی کے ساتھ شائع ہوتاہے ۔اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جومضامین شائع کئے جاتے ہیں وہ معیاری ہوتے ہیں، زبان واسلوب کے اعتبار سے بھی اور مواد ومعنی کے اعتبار سے بھی ۔اور بھی رسالے زبان وبیان کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔بعض مذہبی رسائل میں غزلیں بھی شائع ہوتی ہیں اورنظمیں بھی۔بعض رسائل ادبی مضامین کو بھی بڑی اہمیت کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔اربابِ مدارس اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ تقریر کی طرح تحریر بھی معنویت وافادیت کی حامل ہے۔اس لیے وہ اپنے طلباء کو تحریری میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔اس کا ثبوت ہمیں مدارس کے وہ دیواری پرچے دیتے ہیں جن میں طلبا مختلف موضوعات پر مضامین لکھ کر تحریری مشق کرتے ہیں۔آپ دارالعلوم دیوبندجائیے ، کسی بھی دروازے سے داخل ہوجائیے ، آپ کو ہر طرف دیواری پرچے ٹنگے ہوئے نظرآئیں گے۔محض دارالعلوم دیوبند میں دیواری پرچوںکی تعداد پچاسوں ہے۔دیواری پرچوںکا یہ سلسلہ عام طورپر مدارس میں نظرآتا ہے ۔انہی پرچوں میں مشق کرنے والے آگے چل کر بڑے صحافی وقلمکار بنتے ہیں، بہت سے رسائل کے ایڈیٹر ہوتے ہیں اور پھر یہ سب مل کرواسطہ یا بلاواسطہ طورپر اردو کے درخت کو سینچنے کا کام کرتے ہیں۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
جناب امید ھے کہ مزاج بخیر ھوں گے ۔۔۔ جناب کا ذوق مطالعہ سے بہت مسرت ھوئی
گزارش ھے کہ آپ کے ذکر کردہ رسائل و جرائد میں ایک رسالہ, , تائید الاسلام, , بھی ھے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے شعبہ نشرواشاعت کو,,تائید الاسلام 1912 تا دسمبر 1927 تک کے شمارہ جات کا صرف فوٹو چاھئے اگر جناب کے پاس محفوظ ھیں تو درج ذیل نمبر پر حکم فرمادیں ھم فوٹو لینے کے لئے ان شاءاللہ ھم خودحاضر ھو جائیں گے ۔۔جزاکم اللہ والسلام
فضل الرحمان منگلا ۔۔۔ مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپورہ و ننکانہ صاحب
03005598612