شاہ نواز عالم
ریسرچ اسکالر، بی۔ این منڈل یونیورسٹی، مدھے پورہ(بہار)
Mob: 9308626119
ٓ جون ؔ ایلیا ——- آزادی کے بعد کی اردو شاعری کا ایک اہم نام ،جو اپنے فن کی ندرت و لطافت سے بھی مشہور ہے اور اپنے افکار و خیالات کی وحشت اور کثافت سے بھی معروف۔جون ؔ ایلیا کی تاریخ پیدائش ۱۴ دسمبر ۱۹۱۴ء ؍۱۳۳۲ھ یا۱۹۱۳ء؍۱۳۳۳ھ ہے۔پہلا سال ولادت،’’ کلیات جونؔ ایلیا‘‘مطبوعہ دہلی کے مرتب فاروق ار گلی نے لکھا ہے اور دوسرا سال ولادت اس کلیات کے پس ورق پر مرقوم ہے، جب کہ اپنی نثری تحریر ’’نیاز مندانہ‘‘ میں خود جونؔ ایلیا نے لکھا ہے کہ ’’۱۹۴۳ء میں میری عمر بارہ سال تھی‘‘(کلیات ص۳۱) اور ظاہر ہے کہ ان کے اس بیان کی رو سے ان کا سال ولادت ۱۹۳۱ء؍۱۳۵۰ھ قرار پاتا ہے، بہر کیف یہ تحقیق کا ایک الگ موضوع ہے۔اس سے قطع نظر بہر حال ان کی جائے پیدائش میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ مصحفیؔ کی دھرتی امروہہ سے اُٹھے اور ان کی تاریخ وفات اور جائے وفات میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ ۸ نومبر ۲۰۰۲ء کو وہ اس دنیا سے چل بسے اور کراچی (پاکستان) میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کے لوح مزار پر ان کے پہلے مجموعہ کلام ’’شاید‘‘ سے لیا گیا یہ شعر کندہ ہے ؎
میں بھی بہت عجیب ہوں ، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں (کلیات ص۸۵)
جونؔ ایلیا کا گھرانا،امروہہ کے قدیم اثنا عشری سادات کا علمی گھرانا تھا، اسی حوالے سے انہوں نے اپنی ایک طویل نظم ’’درخت زرد‘‘میں اپنا شجرہ ’’شجرہ نوشاہ واسطی دولہا‘‘کے طور پر لکھا ہے، اس میں خود کو ’’سید جون ایلیا حسنی الحسینی سپوت جاہ‘‘بتایا ہے(کلیات ص۲۱۷) ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا( ابن سید نصیر حسن، ابن سید امیر حسن امیرؔ)ایک عالم و ادیب، شاعر و مفکر اور اپنے وقت کے ممتاز ہیئت داںاور مصور تھے اور ایسے شخص جنہیں’’خواہش تھی شہرت کی نہ کوئی حرص دولت تھی‘‘(کلیات ص ۲۲۱)جونؔ ایلیاکے والد ہی نہیں بلکہ ان کے چچا(سید نفیس حسن وسیمؔ، سید امین حسن بلالؔ اور سید وحید حسن رمزؔ و گداؔ) ان کے چچا زاد بھائی (کمال امروہوی ابن سید انیس حسن) بڑے بھائی(رئیس امروہوی) منجھلے بھائی (سید محمد تقی) سنجھلے بھائی(سید محمد عباس)ان کے بھتیجا (اقبال مہدی) اور ان کے بھانجا(صادقین) بھی ادب و صحافت، شاعری و کالم نگاری، حکمت و فلسفہ اور خطاطی و مصوری میں معروف زمانہ قرار پائے۔علاوہ ازیں جون ایلیا کی بہن سیدہ شاہ زناں نجفی اور بہنوئی ڈاکٹر سید محمد شفاعت کے نام بھی اہم ہیں۔
جونؔ ایلیا کی ابتدائی تعلیم اگرچہ بظاہر دینی مدرسہ میں ہوئی، مگر وہاںکی رسمی و روایتی پڑھائی سے کہیں زیادہ اپنے گھر اور ماحول کی تعلیم و تربیت سے انہوں نے فیض پایا۔ جونؔ ایلیا کے اساتذہ سخن میں ان کے والد گرامی کے علاوہ ان کے عربی و فارسی کے استاد مولانا سید محمد عبادت کلیمؔ امروہوی کا نام آتا ہے۔ انہوں نے خود بھی ان دونوں اساتذہ کی شاگردی کا اعتراف کیا ہے(نیاز مندانہ، کلیات ص۳۴) علاوہ ازیں دیگر فلسفیوں کی کتابوں سے استفادہ کا ذکر بھی انہوں نے خود ہی کیا ہے، مثلاً یہ کہ ڈاکٹر عبدالعلیم کے مشورے سے انہوں نے ہیوم کو پڑھا اور ڈاکٹر اعجاز حسین کی تالیف’’نئے ادبی رحجانات‘‘ کے ذریعہ انہوں نے ترقی پسند تحریک کی ادبی و سیاسی معنویت سمجھی(نیاز مندانہ، کلیات ص۳۵ و ص۳۶)
جونؔ ایلیا کی اصل شہرت و شناخت ان کی شاعری سے ہے، لیکن فی الواقعہ ان کی ادبی و علمی خدمات کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔وہ کئی زبانوں سے کامل وقوف رکھتے تھے اور اسی لسانی دسترس کا یہ ثمرہ ہے کہ انہوں نے عبرانی، عربی اور فارسی کی قدیم کتب فلسفہ کا اردو میں ترجمہ کیا۔
جونؔ ایلیا اعلیٰ درجہ کے مترجم ہی نہیں ایک صاحب اسلوب نثرنگار بھی تھے۔ان کی کئی کتابیں مثلاً ’’اسماعیلیت شام و عراق میں‘‘، ’’اسماعیلیت چین میں‘‘، ’’اخبار الحلاج‘‘، ’’حسن بن صباح‘‘، ’’کتاب الطواسین‘‘، ’’رسالہ تجرید‘‘، ’’رسالہ حکمتی‘‘ اور جوہر صقلی‘‘ وغیرہ موجود ہیں جن کا تعلق تاریخ و فلسفہ بالخصوص اسماعیلی عقیدے کی توضیح اور تبلیغ و اشاعت سے ہے اور ’’اسماعیلی لٹریچر‘‘ میں نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔
جونؔ ایلیا کی زندگی کا بحیثیت شخص و شاعر تین دور ہے، پہلا دور وہ جو امروہہ میں گزرا، دوسرا دور وہ و ترک وطن کے بعد کراچی میں گزرا اور تیسرا اور آخری دور وہ جب انہیں کے کہنے کے مطابق ’’دوبئی میں ان کا ظہور ثانی ہوا‘‘(کلیات ص ۲۰) جونؔ ایلیا کی حیات مستعار کا پہلا دور ان کے سال ولادت(۱۹۱۳ء یا ۱۹۳۱ء ) سے ۱۹۵۷ء تک پھیلا ہواہے۔ یہ ان کے بچپن اور تعلیم و تدریس سے لے کر ان کی جوانی یا غفوان شباب تک کا زمانہ ہے۔اسی دور میں اس وقت جب کہ ان کی یاد داشت کے بمو جب ان کی عمر محض آٹھ سال تھی انہوں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر بھی کہا جو اس طرح تھا ؎
چاہ میں اس کی تمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی(کلیات ص ۲۶)
اپنی زندگی کے اس سال کو انہوں نے’’ سب سے اہم اور ماجرا پرور‘‘ سال کہا ہے۔کم و بیش یہی زمانہ ہے جب انہوں نے اپنے والد کی وہ ہجو لکھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان کے گھر کی معاشی و انتظامی حالت لاپرواہی کی نذر ہونے لگی تھی اور وہ ’’بخیہ زدہ جامہ اور پھٹی ہوئی دلائی‘‘ سے بار بار جھانکنے بھی لگی تھی۔تقسیم وطن کے وقت تک جونؔ ایلیا ایک پر جوش منفی پسند اور فوضوی نوجوان بن چکے تھے او ر ترقی پسند تحریک کا گہرا مطالعہ بھی ان کے حصہ میں آچکا تھا، ’’طلسم ہوش ربا‘‘، ’’کوچک باختر‘‘، ’’بالا باختر‘‘ اور ’’بوستان خیال‘‘ ہی نہیں بلکہ بار کلے اور ہیوم وغیرہ کے فلسفے بھی پڑھ چکے تھے۔۱۹۴۳ء سے ۱۹۴۶ء تک ڈرامہ اور اسٹیج سے ان کا گہرا شوق ڈرامہ’’خونی خنجر‘‘ کی تالیف اور ڈرامہ کلب ’’بزم حق‘‘ اسی دور کی یادگار ہے۔(کلیات ص۳۲ و ص ۳۳)ان کے تینوں بڑے بھائیوں نے تقسیم کے معاً بعد ہی وطن سے ہجرت کر لی تھی، یہاں تک کہ ۳۰ دسمبر ۱۹۵۶ء کو امروہہ اسٹیشن سے وہ بھی کراچی کو سدھار گئے اور یہیں سے گویا ان کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا۔جونؔ ایلیا بظاہر تو اپنے وطن سے یہ پیام دیتے ہوئے گئے کہ ؎
انجمن کی اداس آنکھوں سے آنسوئوں کا پیام کہہ دینا
مجھ کو پہونچا کے لوٹنے والو ، سب کو میرا سلام کہہ دینا
(کلیات ص ۴۲۱)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں جاکر بھی یہی کہتے رہے کہ’ ’ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستاں کے تھے‘‘(کلیات ص ۱۷۷) ان کی شاعری اس بات کی گواہ ہے کہ وہ پردیس جاکر بھی اپنے وطن کی ایک ایک بات، ایک ایک چیز بار بار یاد کرتے رہے۔ نہ تو ’’گنگا جی اور جمنا جی کی ردیف(کلیات ۳۴۳) میں غزل لکھی تو اپنے وطن عزیز امروہہ کی ’’بان‘‘ ندی کو بھولے، نہ ہی اپنے مقطع (کلیات ص ۳۱۴) میں ’’رسیلی، انیلی، البیلی، امروہن‘‘ کو بھلا پائے، نہ ہی اس دن کی روداد کو جو شاید اس سے ان کی پہلی یا آخری ملاقات کا دن تھا ؎
جس دن وہ ملنے آئی ہے، اس دن کی روداد یہ ہے
اس کا بلائوز نارنجی تھا، اس کی ساڑی دھانی تھی(کلیات ص۲۶۲)
امروہہ سے کراچی سدھار جانے کے بعد جونؔ ایلیا کی زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے۔یہ تو صحیح ہے کہ انہیں کے کہنے کے مطابق ان کی وہ شاعری جو صحیح معنوں میں تقسیم کے بعد شروع ہوئی تھی، پاکستان چلے جانے کے بعد ہی تمام تر برگ و بار لائی ،وہیں ان کے کے لئے گھر بسانے کے دن آئے، مشہور ادیبہ زاہدہ حنا ان کے حبالہ عقد میں آئیں اور اللہ نے ان کے شکم سے ایک بیٹا زریون اور دو بیٹیاں بھی عطا کیں،پاکستان ہی میں انہیں ’’انشاء ‘‘ نامی مجلہ نکالنے کا موقع بھی ملا، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ان کی شخصی زندگی کا یہ رخ بھی سامنے آتا ہے کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے تو وہ تپ دِق کی ’’انقلابی بیماری اور جواں مرگی‘‘ کے بارے میں صرف سوچا ہی کرتے تھے، البتہ پاکستان جا کر وہ حقیقتاًمرض دِق(ٹی بی) میں مبتلا ہو گئے اور اس کی ’’لذت انہیں‘‘نصیب ہو گئی (کلیات ص ۲۸) اور پھر یہ بھی ہوا کہ وہ دس برس تک عذاب ناک بے خوابی اور دماغی دوروں میں مبتلا رہے(نیاز مندانہ، کلیات ص ۱۹) یہ ۱۹۷۶ء سے ۱۹۸۶ء کے آس پاس کی بات ہے۔
جونؔ ایلیا کی زندگی کا تیسرا دور طویل بیماری کے بعد مارچ ۱۹۸۶ء سے شروع ہوتا ہے جب کہ انہیں دو بئی جانے اور عرب امارات کے مشاعرے میں شریک ہونے کا موقع ملا اور گویا وہاں منعقدہ ’’جشن جونؔ ایلیا‘‘ بحیثیت شاعر ان کی نشاہ ثانیہ کا سبب بنا اور جولائی ۱۹۸۸ء سے بغرض اشاعت انہوں نے اپنے مسودہ پر نظر ثانی کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے لئے ایک طویل مقدمہ بھی لکھا، یہاں تک کہ۱۹۹۵ء میں ان کے پہلے مجموعہ’’شاید‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی، لیکن زندگی کے اتار چڑھائو نے یہاں بھی جونؔ ایلیا کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ اپنے مجموعہ کے لئے مقدمہ لکھ ہی رہے تھے کہ ان کے بڑے بھائی کے قتل کا سانحہ پیش آیا ۔ بھائی کی دائمی جدائی اور بیوی زاہدہ حنا سے علیحدگی دو اتنے گہرے غم تھے کہ وہ انہیں سہہ نہیں سکے۔غم غلط کرنے کی خاطر شراب ناب میں ڈوبتے گئے، یہاں تک کہ محض چند ہی برسوں میں ان کی زندگی کا آفتاب بھی ڈوب گیا ؎
تم نے بہت شراب پی اس کا سبھی کو دکھ ہے جونؔ
اور جو دکھ ہے وہ یہ ہے کہ تم کو شراب پی گئی(کلیات ص۱۷۱)
اور پھر ان کے دوسرے مجموعہ ’’یعنی‘‘(۲۰۰۳ء) تیسرے مجموعہ ’’گماں‘‘(۲۰۰۴ء) چوتھے مجموعہ ’’گویا‘‘(۲۰۱۱ء) اور پانچویں مجموعہ ’’لیکن‘‘(۲۰۱۴) کی اشاعت پس از مرگ یکے بعد دیگرے ہوتی رہی۔’’کلیات جونؔ ایلیا‘‘(مطبوعہ دہلی) میں ان کے پانچوں مجموعے کا متن مع مقدمہ بہ عنوان ’’نیاز مندانہ‘‘ یکجا کر دیا گیاہے ، لیکن یہاں ایک بار پھر یہ گوشہ تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ سن اشاعت کے لحاظ سے ’’لیکن‘‘ ان کا پانچواں مجموعہ ہونا چاہئے تھے جسے کلیات کے مرتب نے چوتھے مجموعہ کی جگہ دی ہے۔’’کلیات جونؔ ایلیا اس وقت میرے سامنے ہے اور اس کے سرورق پر یہ شعر جگمگا رہا ہے کہ ؎
انہیں میں تیری تمنائوں کا فن سکھاتا ہوں
جو لوگ تیری تمنا سے ڈرنے لگتے ہیں
اور پھر اس کے پس ورق کی یہ عبارت بھی متوجہ کر لینے میں کامیاب ہے کہ:
’’جونؔ ایلیا نظم اور نثر دونوں میں باکمال ٹھہرے۔وہ شاعر اور ایک انشا پرداز کی حیثیت سے اپنے ہم عصروں میں ممتا زنظر آتے ہیں، اپنی باغیانہ فکر کے ساتھ اپنے منفرد لب و لہجہ سے انہوں نے نہ صرف دنیائے ادب میں بلند اور نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ ہر خاص و عام میں مقبول ہو گئے ، جونؔ ایلیا کو اقدار شکن، نراجی اور باغی کہاجاتا ہے، ان کا حلیہ، طرز زندگی، حد سے بڑھی ہوئی شراب نوشی اور زندگی (کے) لا ابالی رویہ(سے) بھی اس کی غمازی ہوتی ہے، لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس طرز زندگی کو اپنے فن کی شکل میں ایسے پیش کیا کہ ہمیں ایک بہترین شخص اور شاعر مل گئے۔‘‘
جونؔ ایلیا کی شعری باقیات بتارہی ہے کہ مذکورہ دعوے کی صداقت پر مبالغہ کا بوجھ کم سے کم ہی ڈالا گیا ہے، بلا شبہ وہ اپنے وقت کے البیلے اور منفرد نثار و شاعر کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔اصناف سخن کے اعتبار سے ان کا کلام نظم وقطعات اور غزلیات پر بالعموم محتوی ہے اور اگر قطعات کے صفحے دو صفحے سے ان کا کوئی مجموعہ خالی نہیں تو متعدد نظمیں بھی ان کے سبھی مجموعہ ہائے کلام میں موجود ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہیں کہ ان کے پہلے مجموعہ ’’شاید‘‘ کا نام ہی اس کی پہلی نظم پر رکھا گیا ہے اور پانچویں مجموعہ ’’لیکن‘‘ کا نام بھی نظم ہی پر ہے۔مذکورہ عنوانیہ نظموں کے علاوہ ’’بت شکن‘‘، ’’جوانی‘‘، ’’دو مشورے‘‘، ’’نقش کہن‘‘، ’’رشتہ آدم و حوا‘‘، ’’سر گرداں‘‘، ’’بے ساز و ساماں‘‘، ’’انگارے‘‘، ’’درخت زرد‘‘، ’’نا کجا‘‘، ’’فریب آرزو‘‘، ’’خلوت‘‘، ’’وقت‘‘، ’’خواب‘‘، ’’معمول‘‘ اور ’’رمز ہمیشہ‘‘ جیسی متعدد پابند و آزاد نظمیں بھی بہر صورت اپنی اہمیت ، طنزیہ انداز، سیاسی و نفسیاتی موضوعات کے فنکارانہ بر تائو اور دیگر ممیزات کی بدولت قاری کو اپنی طرف توجہ کر لیتی ہیں اور شاعر کی کامیاب نظم نگاری کا معترف بنا لیتی ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جونؔ ایلیا کے مجموعوں میں سب سے زیادہ تعداد ان کی غزلوں کی ہے اور اس مناسبت سے بنیادی طور پر وہ غزل ہی کے شاعر قرار پاتے ہیں اور اس میں بھی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ موضوع و مواد، زبان و بیان ، اسلوب و عروض اور آہنگ و صوتیات کے اعتبار سے ان کی غزلوں کا دائرہ وسیع و وقیع ہی نہیں، اپنے منفرد انداز اور اپنے مخصوص تیور کے ساتھ خاصا وسیع و وقیع اور تا حد نہایت جالب توجہ ہے۔انہوں نے اگرچہ اپنے پہلے مجموعہ کو تین دہائی کی تاخیر سے (یعنی ۱۹۶۵ء کی بجائے ۱۹۹۵ء کے آس پاس) چھپنے والا، اپنا پہلا ’’اعتراف شکست ‘‘(نیاز مندانہ، کلیات ص ۱۹) کہا ہے، لیکن فی الواقعہ یہ اعتراف شکست بھی ہے تو ایسا شاندار کہ اس پر آزادی کے بعد کی اردو شاعری خصوصاً اردو غزل کے نہ جانے کتنے ہی دعوائے فتح ونصرت سو جان سے قربان ہو سکتے ہیں۔
’’کلیات جون ایلیا‘‘ مطبوعہ دہلی کی پیشانی پر جو شعر لکھا ہے، اسے ایک بار پھر پڑھیئے تو شاعر کا عزم اور اس کے کلام کی شعوری مقصدیت بالکل ہی آئینہ ہو جاتی ہے کہ تمنائوں سے ڈرنے والوں کو حوصلہ دینے اور آداب تمنا سکھانے کی خاطر ہی اس نے سخنوری کی راہوں کا انتخاب کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سکھانے کا عمل چاہے کسی نسبت سے ہو، بہر حال سادہ اور آسان نہیں ہوتا، اس کے پیچھے بہر حال ایک مستقل فکر بھی ہوتی ہے اور ایک خاص فنی انداز بھی۔ یہاں مطالعہ، مشاہد، تجربہ، احساس غرض کہ بہت ساری چیزوں کے اثرات کار فر ما رہا کرتے ہیں اور بایں لحاظ جونؔ ایلیا کی غزل یہ گواہی دیتی ہے کہ انہوں نے آموزش فن کا صرف مقصدی دعویٰ ہی نہیں کیا ہے بلکہ ا پنے متعد اشعار میں طرح طرح سے ان کے ثبوت بھی فراہم کیا ہے ؎
واقف نہیں جو لوگ سفر کے اصو ل سے
سائے کی بھیک مانگ رہے ہیں ببول سے
وقت نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکم وقت کو مسند سے اتارا جائے(کلیات ص ۱۰۸)
تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہیں پیغام
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے
(کلیات ص ۹۵)
یہ اشعاربتارہے ہیں کہ شاعر نے کہیں انتخاب اہداف میں غلطی سے ہوشیار رہنے کی بات سکھائی ہے، کہیں سیاسی تجربے کے طور پر تمنائوں کو پانے کے لئے انقلاب کا پیغام دیا ہے اور کہیں مطالعہ کے حوالے سے یہ سکھایا ہے کہ حق مانگنے سے نہیں ملتا، اسے بہ ز ور باز و چھین لینا پڑتا ہے۔
جونؔ ایلیا کا عہد اقدار و افکار کی زبردست شکست و ریخت کا عہد تھا،اور ان کے سامنے زندگی اور زمانے کا ایک ایسا تجرباتی اور مشاہداتی رخ تھا، جس میں ہر عمل کا باطن اس کے ظاہر کی ضد بن کر ابھر رہا تھا، امرت لہو دھارے منھ سے ’’لہو کے جھاگ ‘‘ میں بدل کر نکل رہے تھے۔،’’شہر دین و دولت میں مسہروں کو جناب‘‘لکھنا پڑ رہا تھا۔’’قصر عیش میں بزم سخن‘‘ تو سجائی جا رہی تھی، مگر جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا۔(کلیات ص ۷۹) دوشیزائوں کی ’’جاذبیت‘‘ مال و دولت کی پروردہ ہوچکی تھی اور عوام الناس ہی کیا، ارباب اقتدار اور ارباب علم و فضل کا طبقہ بھی بہمہ صورت استحصال کے راستے پر چل پڑا تھا ؎
نسبت علم ہے حاکم وقت کو بہت عزیز
اس نے تو کار جہل بھی بے علما نہیں کیا(کلیات ص ۱۱۷)
جہلا علم کی تعظیم میں برباد گئے
جہل کا عیش جو ہے وہ علما کرتے ہیں(کلیات ص۲۶۱)
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی(کلیات ص۸۸)
ہم نے اس شہر دین و دولت میں
مسہروں کو جناب ہی لکھا(کلیات ص۲۳۰)
متذکرہ اشعار بتا رہے ہیں کہ ان کے جونؔ ایلیا کے کلام میں نہ صرف عصری احوال و احساسات کی متنوع زاویوں سے عکاسی ہوئی ہے بلکہ اس کار عکس و نقش میں نہایت موثر طنزیہ لب و لہجہ سے بھی کام لیا گیا ہے ۔
جونؔ ایلیا کی فکر میں کئی ایک پہلو سے چاہے کتنی ہی کجی ہو، لیکن وہ بہر حال ایک حساس اور بالغ نظر فن کار تھے اور اپنے عہد و معاشرہ میں اس بدلتی ہوئی انسانی اور آفاقی قدروں کو بہت قریب سے دیکھ رہے تھے جہاں ’’مکانوں او ر دوکانوں ‘‘ میں ’’ضرورت کی ہر ایک شئے بے ضرورت‘‘ ہو چکی تھی اور محبت، ندامت سے گزر کر اذیت کی منزل تک آچکی تھی اور طرفہ تماشا یہ تھا کہ انسان کے معجزے تو عام ہو رہے تھے، ظاہری تر قیوں کا بول بالا ضرور تھا، مگر خود انسان پر حد درجہ شہوت سوار تھی اور اپنی سوچ اور اپنے کر دار سے وہ اس قدر ذلیل و خوار ہو رہا تھا کہ اس سے انسانیت پناہ مانگ رہی تھی ؎
سنگ در کے ہوں یا ہوں دار کے لوگ
سب پہ شہوت سوار ہے اماں ہاں
اب تو انساں کے معجزے ہیں عام
اور انسان خوار ہے امان ہاں(کلیات ص ۲۵۴)
محبت ہوتے ہوتے اک ندامت ہو گئی آخر
ندامت ہوتے ہوتے اک اذیت ہو گئی آخر
مکانوں اور دکانوں پر عجب اک سانحہ گزرا
ضرورت کی ہر اک شئے بے ضرورت ہو گئی آخر
(کلیات ص ۳۹۵و ص۳۹۶)
یہ ملک اور ملت اور معشیت و معاشرت کی ہمہ جہت ابتری اور اس کی پیہم رجعت قہقری کا وہ عصری منظر نامہ تھا جس نے جون ایلیا جیسے شاعر کو زندگی کے تعلق سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا اور وہ اپنی ادعائی ذہنیت کے ساتھ اپنی شاعری میں اس کے اظہار سے دور دست نہیں رہ سکا۔اس نے محسوس کیا کہ ’’زندگی کی غزل تمام‘‘ ہو چکی ہے اور اب صرف ’’محبت کا قافیہ‘‘ رہ گیا ہے، اب عشق کہاں ، اب تو فقط مروت کے کھیل کو ’’انتہائے عشق کا نام دیا جا رہا ہے‘‘ شاید یہی وہ معاملہ تھا جس نے شاعر کو بغاوت اور خدا بیزاری کے عقیدے کی راہ پر ڈال دیا اور نظریاتی طور پر اسے کہنا پڑا کہ ’’زندگی کیا ہے اک کہانی ہے‘‘(کلیات ص ۳۳۳) ’’زندگی اک زیاں کا دفتر ہے‘‘(کلیات ص ۳۱۶) اور (نعوذباللہ) اس زندگی اور اس کائنات میں خدا بھی عجیب ہے جو’’ نہ زمینی ہے نہ آسمانی ہے‘‘(کلیات ص ۱۱۷)لیکن اس سے مطلقاً یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ اس کا جذبہ مٹ چکا ہے جسے زندگی سے پیار کہتے ہیں، وہ انسانی آبادی کی تباہی اور زندگی کی بخیال خویش ہزار لغویت، لا معنویت اور لا یعنیت کے باوجود بھی اس کی بربادی اور خود کشی کا داعی نہیں ہے، بلکہ ہر حال میں وہ زندگی اور زندگی کی صبح و شام کو غنیمت جانتا ہے اور یہی کہتا ہے کہ ’’جو زندگی بچی ہے اُسے منت گنوائیے‘‘(کلیات ص۱۷۰) زندگی کے بارے میں اظہار خیال سے قطع نظر، جہاںتک خدائے پاک کے بارے میںشاعر کے عقیدے کا تعلق ہے وہ یقینا اسے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
البتہ اور یہ دیکھ کر حسرت ہوتی ہے کہ کثرت شراب سے وہ کس طرح اپنا دشمن جاں بن گیا اور انکار الہٰی کے مضامین نظم کر کے کس طرح دشمن ایماں بنتا رہا۔اس کی شاعری بتا رہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی انا کا اسیر رہا ہے ،اپنے قدموں کی دھول سے منزل کے ابھرنے کا منتظر اور شیشوں کو ٹوٹنا سکھانے کا دعویدار ، لیکن نہ تو اس کا یہ انتظار ختم ہوا، نہ ہی اس کا یہ دعوی ثابت ہو سکا، بلکہ اس کے انا پسند اعتماد نے اسے بس دھوکہ ہی دھوکہ دیا۔ وہ ہمیشہ سفر ہی میں رہا اپنے اور سینے کی انگنت دراریں ہی لئے بھٹکتا رہا ؎
میں آج تک سفر میں ہوں اس اعتماد پر
ابھریں گی منزلیں مرے قدموں کی دھول سے
اور سمجھنے کو تو اپنے بارے میںاس نے یہی سمجھ لیا کہ ؎
کیا بتائیں سینے میں کس قدر دراڑیں ہیں
ہم وہ ہیں جو شیشوں کو ٹوٹنا سکھاتے ہیں
لیکن یہ صرف کہنے کی باتیں تھیں، احساس کے اظہار کا ایک خوبصورت شاعرانہ طرز تھا اور اس کا دائرہ بس اتنا ہی رہا، یہ اور بات ہے کہ سوچنے کے اس طرز نے جونؔ ایلیا کو ا پنے پڑھنے والوں کے سامنے ایک ایسے شاعر کی حیثیت سے لاکر کھڑا کر دیا جس نے خالق کائنات کے استہزا میں فکر کی طہارت کا بیڑا غرق کر دیا۔اس نے خدا کے وجود کا انکار کیا، لفظ ’’کن ‘‘ سے وجود میں آنے والی دنیا کو ’’عجلت‘‘ میں بنایا گیا، ’’جہان خراب‘‘ بتایا، اسے ایک جہنم قرار دیا اور ’’خدا سے کم نہیں ہونے‘‘ کا دعوی کرتے ہوئے طرح طرح سے ا س کا مذاق اڑانے لگا،’’ہے خدا بھی عجیب جو نہ زمینی نہ آسمانی ہے‘‘(کلیات ص۳۳۳)
حاصل کن ہے یہ جہاں خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
اے خدا جو کہیں نہیں موجود
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں(کلیات ص ۸۶)
جونؔ ایلیا کی شاعری کی زبان میں صاف اعلا ن ہے کہ ’’ہم کو ہر گز نہیں خدا منظور‘‘(کلیات ص ۲۵۱) اور بات صرف اس اعلان ہی تک نہیں رہی ہے بلکہ اس نے کھلے طور پر اپنی زندیقیت او ردہریت کو ایک ’’زمینی حقیقت‘‘ بنانے کی سفارش بھی کی ہے اور اس کا پیغام بھی دیا ہے اور بزم خویش کہا ہے کہ ؎
ہمیں کرنا ہے خداوند کی امداد سو ہم
دیر و کعبہ کو لڑانے کے لئے نکلے ہیں(کلیات ص۲۲۷)
شاعر خدا کا منکر و باغی ہے اور اسی لئے اسے دیر و حرم کا وقار ہر لمحہ کھل رہا ہے اور وہ یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ ؎
دیر و کعبہ کا بڑھ رہا ہے وقار
دیر و کعبہ کو بے وقار کرو(کلیات ص۳۷۵)
اسی پر بس نہیں بلکہ اپنے مزاج اور غصہ سے مغلوب ہوکر اس نے حضرت جوشؔ کی گھن گرج والی شاعرانہ سنت بھی ادا کیا، کہیں اپنے دشمن کے ہمدرد کو ’’سچ مچ برباد کر ڈالنے‘‘ کی بات کہی(کلیات ص ۱۵۷) کہیں ’’حلیہ بگاڑنے‘‘ اور ’’گریباں پھاڑ ڈالنے‘‘ کی بات کہی(کلیات ص ۱۶۲) کہیں ’’وفا کا ذکر‘‘ کرنے والے کسی ’’زبان دراز کا منھ نوچ لینے‘‘ کی آرزو مندانہ بات کہی(کلیات ص ۷۸) اور کہیں ’’حرم کے بے تکان ڈھانے اور دیر میں آگ لگانے ‘‘ کا اعلان کیا(کلیات ص ۳۵۵)لیکن جونؔ ایلیا کی یہ ساری یاوہ گوئی مزخرفات یا باطل مزعومات سرائی اور تہدید بیانی سے قطع نظر جہاں تک اس کے ادبی و شعری نظریے اور اس کی شاعرانہ خود ستائی کا معاملہ ہے، اس تعلق سے ہماری نظر اس کے مجموعہ کلام ’’یعنی‘‘ میں شامل اس غزل کی طرف جاتی ہے جس میں مطلع کے مصرع ثانی ’’یہی با با الف کا ہے ارشاد‘‘(کلیات ص ۱۷۳)کو ہر شعر کے مصرع ثانی کی جگہ پر رکھ دیا گیا ہے۔اس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک نظر یاتی ورثہ کے طور پر اور فلسفیانہ رخ سے شاعر کے نزدیک ’’آفرینش ہی فن کی ایجاد ہے اور فن اپنے زیاد سے بھی زیاد ہے‘‘ انہوں نے اپنی نثری تحریر‘‘ نیاز مندانہ‘‘ میں جہاںیہ لکھا ہے کہ:
’’ شاعری ایک واقعہ کو چار آنکھوں سے دیکھنے اور ایک کیفیت کو دو ذہنوں محسوس کرنے کا عمل ہے۔‘‘(کلیات ص ۴۶)
وہیں اپنے ایک غزلیہ شعر میں اپنی شاعری کو ’’دل کی اداسی‘‘ کا نغمہ قرار دیا ہے ؎
تمہاری شاعری کیا ہے بھلا، بھلا کیا ہے
تم اپنے دل کی اداسی کو گانے لگتے ہو(کلیات ص ۲۶۷)
اتنا ہی نہیں بلکہ ایک جگہ جونؔ ایلیا نے شاعروں کو ’’سستے لطیفہ گو‘‘ کہہ کر نظر یاتی طور پر لطیف اشارہ بھی دینا چاہا ہے کہ اس فن کا فنکار بظاہر ہنستا اور ہنساتا ہے، لیکن در حقیقت اس کا دل رشتوں کی پامالی پر روتا رہتا ہے ؎
شاعر ہیں آپ یعنی کہ سستے لطیفہ گو
رشتوں کو دل سے روئیے ، سب کو ہنسائیے
(کلیات ص ۱۷۰)
شعر و سخن کے باب میں ان نظریاتی باتوں سے قطع نظر جہاں تک شاعرانہ خود ستائی کا معاملہ ہے، اس میں جونؔ ایلیا کے یہاں مبالغہ پسندی ہی نہیںایک بے نام سے چشمک پسندی بھی دکھائی دیتی ہے اور ظاہر ہے کہ بلند آہنگی، سخنورانہ ادعائیت اور طنز ہی کیا، طعن و تشنیع کی بھی کمی نہیں۔اس نے صاف لفظوں میں صرف اتنا ہی نہیں کہا ہے کہ :’’ہمارے لفظ نہیں ہیں میاں فلیتے ہیں‘‘(کلیات ص۱۹۴) بلکہ جگہ جگہ تعلیات کے نام پر مشاہیر شعرا کے مرتبہ کی کھلی بھی اڑائی ہے ؎
ہم وہاں ہیں ہمارے ساتھ جہاں
میرؔ بھی خون تھو کتا جاناں(کلیات ص ۱۰۴)
جونؔ اٹھتا ہے یوں کہو یعنی
میرؔ و غالبؔ کا یار اٹھتا ہے(کلیات ص۳۴۳)
ختم ہے بس جونؔ پر اردو غزل
اس نے کی ہیں خون کی گلکاریاں
(کلیات ص۲۶۶)
شاعر تو دو ہیں میرؔ تقی اور میرؔ جون
باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
(کلیات ص۱۶۳)
بس فائلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب
مصرع یہ جونؔ کا ہے اسے مت اٹھائیے
(کلیات ص۱۷۰)
گرچہ جاہل مطلق تھا غالبؔ
یہ ہم میں سے کئی میں فرد نکلا(کلیات ص۱۵۷)
جونؔ ایلیا کی شاعری خصوصاً ان کی غزلوں میں جہاں ایک طرف تعلیات اور نفسیات عصر و بشر کا کھلا اظہار ملتا ہے اور خصوصاً عورتوں کی نفسیات آئینہ ہوتی ہے، وہیںدوسری طرف غزل کے ایک کردار کی حیثیت سے خود ان کے مزاج و منہاج اور ان کی ذاتی پسند و خواہش کا حال بھی چھپا نہیں رہتا ہے ؎
کون سود و زیاں کی اس دنیا میں،درد غربت کاساتھ دیتا ہے
جب مقابل ہوں عشق اور دولت ،حسن دولت کا ساتھ دیتا ہے
(کلیات ص۱۹)
جونؔ ایلیا اپنی غزل کے نسوانی کردار کو خاص طور سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونے دیتے ہیں بلکہ اُسے یہ صاف صاف بتا دیتے ہیں کہ ؎
تم کو اپنایا تھا ، تم کو چھوڑ بھی سکتا ہوں میں
بت بناتا ہی نہیں ہوں توڑ بھی سکتا ہوں میں
(کلیات ص۴۳۸)
میں جو ہوں باتوں کا ہوں ایک خدا وند ایک خدا
لڑکی کو پرجانے کا فن کس نے جانا میرے سوا
(کلیات ص۲۰۲)
میں ایک ہی فن تو سیکھا ہے
جس سے ملئے اسے خفا کیجئے(کلیات ص ۹۳)
جونؔ ایلیا کے ایسے وفا شکن اور دغا پسند ذاتی مزاج اور فطرت کا شکار بننا کسے اور کب نصیب ہوا، یہ تو باقاعدہ بتانا مشکل ہے، مگر یہ بات آسانی سے بتائی جا سکتی ہے کہ ان کے ایسے مزاج و اطوار کے ا ثرات سے ان کی شاعری سر تا سر متاثر ہوئی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی غزلوں میں عشقیات کا بیان صرف رومانیت تک نہیں رہا ہے بلکہ اس کا دائرہ شبابیات سے کہیں آگے بڑھ کر شہوانیات تک جا پہونچا ہے اور اس انداز و اہتمام کے ساتھ جا پہونچا ہے کہ اس میں ’’پیالہ ناف‘‘ نے گویا ایک خصوصی عنوان کا درجہ پالیا ہے۔
ان کی شاعری میں ’’زیر ناف کی سطر مو‘‘ ہی دکھائی نہیں دے جاتی (کلیات ص۲۳۹)بلکہ یکے بعد دیگرے ایک ہی غزل میں ’’قتالہ سر ینیں بھاریاں‘‘، شکن ہائے شکم‘‘، ’’چھاتیوں کا تن تنائو‘‘اور ’’دودھوں سے‘ ‘ جاری چشمے بھی اور رسیا بن جانے کی حد تک اس سے شوق و شغف بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔ وقت نے وہ ا لگنی تو غائب کردی جو ’’اس کی محرم کی نشانی تھی‘‘(کلیات ص۱۴۹)لیکن اس کے وہ ’’نار پستان‘‘(کلیات ص۲۵۸) بلکہ ’’لب و پستان و ناف‘‘(کلیات ص۲۵۴)بلکہ ’’لوح تن کی قاف‘‘ اور ’’ناف،تر خاہوا پیالہ ناف‘‘(کلیات ص۴۳۲) سلامت کہ اسے رنگا رنگ زاویوں، کیفیتوں اور کماں داریوں کے ساتھ دیکھنے دکھانے میں ہمارے شاعر نے کسی بخل سے کام نہیں لیا ہے، اور پھر ’’پیالۂ ناف‘‘ کا تو کہنا ہی کیا وہ تو شاعر کو اتنا عزیز اور اس قدر مطلوب و مرغوب ہے کہ اسے تو اس نے اپنی ۱۳، اشعار پر مشتمل غزل میں ردیف ہی بنالیا ہے ؎
ایک آفت ہے وہ پیالہ ناف
کیا قیامت ہے وہ پیالہ ناف(کلیات ص۱۷۳)
جونؔ ایلیا کی شاعری میںلہجہ کا حسن جس طرح ہمیں متوجہ کرتا ہے یہ شاعر کا ایک خاص ذ ہنی رویہ ہے اور اس پر مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں البتہ بایں حوالہ جونؔ ایلیا کی غزلوں کے عمومی پہلو کا مطالعہ جو اضافی نکات سامنے لاتا ہے، وہ بہر حال قابل ذکر ہیں، اسی طرح وہ ’’پر اسرار لڑکی‘‘ بھی جو ’’اپنی فطرت‘‘ پر بقول شاعر خود بھی نہیں کھلی(کلیات ص۴۳۴) اور وہ لڑکی بھی جس کی ’’گلی میں کوڑے کے ڈھیر‘‘ کے باوجود’’کمینوں کا کال‘‘ نہیں تھا(کلیات ص۳۱۷)کچھ یوں ہی وہ لڑکی بھی جو اس کے پاس آنا اور اس کے کمرے کو سجانا چاہ رہی تھی اور وہ اسے بتا رہا تھا کہ ؎
تم جب آئو گی، کھویا ہوا پائوگی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
اتنا ہی نہیں بلکہ وہ لڑکیاں بھی ہمیں متوجہ کر لیتی ہیں، جن سے شاعر براہ راست مخاطب ہوا ہے اور جن کے صدقے ہزار فحش مزاجی اور بر ملا بوسہ طلبی کے باوجود اس کے لہجے میں ایک خاص حسن آگیا ہے، تلاش ردیف کی شان کے ساتھ بول چال کی زبان اپنی بہاریں دکھانے لگی ہے ؎
اُتھلا سا ناف پیالہ ہماری نہیں تلاش
اے لڑکیو بتائو بھنور کس کے پاس ہے
ناخن بڑھے ہوئے ہیں مجھ سے کر حذر
یہ جا کے دیکھ نیل کٹر کس کے پاس ہے
(کلیات ص۱۶۲)
لائیں کہاں سے بول رسیلے ہونٹوں کی نا داری میں
سمجھو ایک زمانہ گزرا بوسوں کی امداد ہوئے
(کلیات ص۲۵۲)
حقیقت یہی ہے کہ جونؔ ایلیا کی شاعری خصوصاً ان کی غزلوں پر ان کے افکار و نظریات کی کجی اور کج روی نے قارئین اور ناقدین کے لئے اعتراضات کے کتنے ہی در کیوں نہ وا کر دیے ہوں ، لیکن فنی و عروضی لحاظ سے بہر صورت ان کی شاعری ایک منجھے ہوئے فن کار کی شاعری ہے ۔ ان کے پہلے مجموعہ ’’شاید‘‘ میںایک غزل آئی ہے ’’جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی‘‘(کلیات ص۸۰ و ص ۸۱)اس غزل کا پہلا تحت نقاط او ر ہفت دوائر مصرع ہی ہمیں متوجہ نہیں کر لیتا ہے بلکہ اس غزل مسلسل میں جو منظر نگاری ، پیکر تراشی اور تصور کی آنکھوں سے محبوبہ کے غصہ میں جل اُٹھنے، پھر اپنا ٹھنڈا کرنے کے لئے چاندنی میں ٹہلنے، کپڑا بدلنے، سبز قندیل جلا کر سوجانے، پھر خواب دیکھنے، سبز و سرخ وادی میںشاعر ساتھ چلنے، پہاڑی پر چڑھنے، کروٹ بدلنے، تنے سے پھسلنے اور’’نیلگوں جھیل ناف تک پہنے‘‘ صندلی جسم مل مل کر نہانے کی جو خوبصورت حر کی تصویر دیکھی اور دکھائی ہے، وہ قاری کو تادیر محظوظ و مشغوف رکھتی ہے۔
جونؔ ایلیا ردیفوں کے استعمال و انتخاب اور انہیں برجستہ قوافی کے ساتھ برتنے کے فن میں بھی ماہر ہیں، اس حوالے سے ’’اللہ ہی دے گا، مولا ہی دے گا‘‘(کلیات ص۹۰) ’’مشین‘‘(کلیات ص۸۷)’’نئیں‘‘(کلیات ص ۱۰۱)’’نہ رہیو‘‘(کلیات ص ۹۶) ’’شام بخیر شب بخیر(کلیات ص ۹۲)’’ہشت‘‘(کلیات ص ۱۵۰)’’ہے نہیں تو‘‘(کلیات ص ۱۸۱) ’’اللہ ہو کے باڑے میں‘‘(کلیات ص ۳۲۵) ’’بے لباس ہے‘‘(کلیات ص۲۵۱) ’’گنگا جی اور جمنا جی‘‘(کلیات ص ۳۴۳)’’تم کہاں جائوگے، ہم کہاں جائیں گے‘‘(کلیات ص ۱۰۹)یقینا جالب توجہ بن جاتی ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ ہمارے شاعر نے ہمیشہ تخلص کے استعمال کا التزام نہیں رکھا ہے اس کے یہاں غزل کے کسی درمیانی شعر میں بھی تخلص مل جاتا ہے، کہیں کہیں تخلص کی جگہ پورا نام بھی ہے، کہیں شاعرانہ خود ستائی والے شعر میں ’’میر جونؔ‘‘ بھی اور کہیں ’’میر جونی‘‘ بھی(کلیات ص۲۴۶) لیکن اس سے قطع نظر جہاں تک غزلوں کی انفرادی شان کا معاملہ ہے، وہ بھی کچھ کم نہیں مثلاً کہیں ’’نور جہاں، زیب النسا، شیریں و وامق اور عذرا‘‘ کی بدولت پوری غزل تلمیحی رنگ میں ڈوب گئی ہے(کلیات ص۳۵۱) تو کہیں ’’سلام‘‘ کی ردیف نے پوری غزل کو ’’سلامیہ غزل‘‘ میں ڈھال دیا ہے ؎
اپنا کمال تھا عجب اپنا زوال تھا عجب
اپنے کمال پر سلام، اپنے زوال پر سلام
ہجر سوال کے ہیں دن، ہجر جواب کے ہیں دن
اس کے جواب پر سلام ، اپنے سوال پر سلام
(کلیات ص ۱۶۵)
اور صرف اسی مرصع غزل پر بس نہیں بلکہ جونؔ ایلیا کے یہاں ایسی نہ جانے کتنی ہی مثالیں جلوہ گر ہیں ؎
زخم خوردہ بیقراری کو قرار آیا تو کیا
اب بہار آئی تو کیا اب بہار آیا تو کیا
(کلیات ص ۲۳۷)
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے
(کلیات ص۲۳۴)
اے اہل شہر میں تو دعا گو ئے شہر ہوں
لب پر مرے دعا ہے اثر کس کے پاس ہے(کلیات ص۱۶۱)
مزید بر آں انہوں نے ؎
’’بول رے جی اب ساجن جی کا مکھڑا ہے کس درپن کا
میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا
(کلیات ص۳۱۳)
تو ہے جن کی جان سجن، انہیں کی نہیں تجھ کو پہچان سجن
تجھ پر میری جان نچھاور اے میرے انجان سجن
(کلیات ص ۲۶۷)
جیسی گیت کے انداز کی جو غزلیں لکھی بھی، وہ اپنا دل کو بھا جانے والا پیارا پیارا سا رنگ و آہنگ رکھتی ہیں۔
بلا شبہ جونؔ ایلیا کے اسلوب غزل اور ان کے غزلیہ ڈکشن میں انفراد و اختصاص کے ایک نہیں انیک پہلو موجود ہیں، بہت طول طویل غزلیں، طویل بحر میں غزلیں، دو غزلے، مختصر بحر کی غزلیں اور طویل و منفرد ردیف سے سجی سجائی غزلیں ان کے کلام کی عروضی شان و شوکت پر دلالت کرتی ہیں۔ بالکل سادہ، بیساختہ اور بے تکلف بول چال کا انداز، لفظوں کی تکرار سے زور بیان کا کام لینے کی ہنر مندی، لفظوں کی ساخت میں دکنی انداز اور قدیم اردو کے لب و لہجہ سے شغف (کلیات ص ۳۴۷) فارسی طریقے سے جمع بنانے اور تراکیب لانے(کلیات ص ۳۴۰) کی متعدد خوبصورت مثالیں’’بھاریاں، جاریاں، خاریاں، سرکاریاں‘‘(کلیات ص ۱۷۶) کی شکل میںدیکھی جا سکتی ہیں۔ مختصر یہ کہ جونؔایلیا پر اس کے تعلی آمیز دعوے کے مطابق ’’اردو غزل‘‘ ختم ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، لیکن اپنے طنزیہ لہجہ میں ’’آدمی آدمی کو بھول گیا‘‘(کلیات ص ۳۱۳) جیسی بات کو ’’سب سے پر امن واقعہ‘‘ بتانے والے شاعر کے ’’خون(جگر) کی گلکاریاں‘‘اسے ایک نیا، انوکھا اور البیلا منظر و ماحول دینے میں کامیابی سے ہمکنار ضرور ہوئی ہیں۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

