فرحت عباس شاہ کی شاعری کو پڑھتے ہوئے سب سے پہلے جس چیز کا احساس ہوتا ہے، وہ محض درد کی فراوانی نہیں، بلکہ درد کو زبان دینے کا ان کا اصرار ہے۔ ان کے یہاں دل کی شکستگی ایک نجی واردات بن کر نہیں رہتی؛ وہ کبھی شہر کے انہدام میں ظاہر ہوتی ہے، کبھی خوف کے اجتماعی ماحول میں، کبھی طاقت کے غرور کے مقابل کھڑی ہوتی ہے، اور کبھی اس سوال میں بدل جاتی ہے کہ آخر انسان دوسرے انسان کے دکھ کو کس حد تک اپنا سکتا ہے۔ ان کی شاعری کی شناخت اس لیے صرف غزل کے مانوس مضامین، جذباتی اظہار یا غم کی دل نشیں لفظیات سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی بنتی ہے کہ وہ احساس کو ایک ایسے مقام پر لے آتے ہیں جہاں اس کی اخلاقی، سماجی اور فکری معنویت پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک ایسا متکلم سامنے آتا ہے جو دکھ سہتا بھی ہے، اس دکھ کی شہادت بھی دیتا ہے، اس کے خلاف احتجاج بھی کرتا ہے اور کبھی اسی دکھ کو اپنی شناخت کی بنیاد بنا لیتا ہے۔ یہ چاروں صورتیں بظاہر ایک ہی شعری مزاج کی توسیع معلوم ہوتی ہیں، لیکن ذرا ٹھہر کر دیکھا جائے تو ان کے درمیان ایسے اختلافات موجود ہیں جو فرحت عباس شاہ کی شاعری کو زیادہ پیچیدہ اور زیادہ معنی خیز بناتے ہیں۔کسی بڑے شاعر کی ادبی حیثیت کا تعین صرف اس کی مقبولیت، اس کے جذباتی اثر یا اس کے منتخب اشعار کی شہرت سے نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا شعری تجربہ زبان اور معنی کے نظام میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے، وہ کن حقیقتوں کو قابلِ دید بناتا ہے اور کن مقامات پر اس کا اپنا شعور اپنی ہی بنائی ہوئی حدود سے ٹکراتا ہے۔ فرحت عباس شاہ کے یہاں یہی امکان موجود ہے کہ ان کی شاعری کو درد کی ایک مسلسل داستان کے بجائے احساس کی تشکیل، اس کی تقسیم اور اس کے اختیار کی داستان کے طور پر پڑھا جائے۔ یہاں ’’احساس کی سیاست‘‘ سے مراد کسی سیاسی نظریے کی منظوم ترجمانی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ شعر میں کس کے دکھ کو اہمیت ملتی ہے، کون سا جسم خطرے کے حوالے کیا جاتا ہے، کس کی قربانی کو اخلاقی فریضہ بنا دیا جاتا ہے، کس کی آسودگی برقرار رہتی ہے اور کون اپنے مستقبل کے انتظار میں حال سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس زاویے سے فرحت عباس شاہ کی شاعری میں ایک ایسا شعری شعور دکھائی دیتا ہے جو محض رنج کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اس نظامِ احساس کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت بعض لوگوں کا دکھ اجتماعی مسئلہ بن جاتا ہے اور بعض لوگوں کی آسودگی ایک معمول کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔یہاں شاعر کے اپنے اشعار کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی ایک شعر کی معنویت اکثر اسی وقت پوری طرح کھلتی ہے جب اسے شاعر کے کسی دوسرے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے۔ مثال کے طور پر:
روگ کی جڑ تلک نہیں پہنچی
تیری تشخیص نامکمل ہے
اس شعر میں بیماری اور تشخیص کی لفظیات ایک پورا فکری نظام بناتی ہیں۔ ’’روگ‘‘ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں؛ سماجی اور اخلاقی سیاق میں یہ کسی ایسی خرابی کا استعارہ بھی بن سکتا ہے جو ظاہری علامات سے آگے، نظام کی جڑوں میں موجود ہو۔ ’’جڑ تلک نہیں پہنچی‘‘ میں ایک اہم حرکتی تصور پوشیدہ ہے: تشخیص ہوئی ضرور ہے، مگر اس نے سطح سے نیچے اترنے کی زحمت نہیں کی۔ یوں شعر کا اعتراض بیماری کے وجود پر نہیں، بیماری کو سمجھنے کے طریقے پر ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ تم نے کچھ دیکھا ہی نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ جو دیکھا ہے، اسے مکمل حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔ دوسرے مصرعے میں ’’تیری‘‘ کا استعمال اس تنقید کو عمومی بیان سے نکال کر براہِ راست مخاطبت میں بدل دیتا ہے۔ متکلم کسی مجرد نظریے سے اختلاف نہیں کرتا، وہ ایک ایسے مخاطب کو جواب دہ بناتا ہے جس کی تشخیص پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔لیکن اس شعر کی گہرائی صرف اس کے مفہوم میں نہیں، اس کے اپنے طریقۂ کار میں بھی ہے۔ شعر جڑ تک پہنچنے کا مطالبہ کرتا ہے، مگر خود اس جڑ کا نام نہیں لیتا۔ یہ عدمِ تعیین اس کی قوت بھی ہے اور اس کی حد بھی۔ قوت اس لیے کہ شعر ایک خاص بیماری یا ایک مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہتا؛ حد اس لیے کہ قاری کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ نامکمل تشخیص کس کی ہے اور اس کی اصل خرابی کیا ہے۔ اگر اس ابہام کو ہر ممکن مفہوم کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے تو شعر ایک جامع تنقیدی جملہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اسے کسی خاص سماجی صورتِ حال پر منطبق کیا جائے تو اس کے لیے اضافی فکری محنت درکار ہوگی۔ اس شعر کی اہمیت یہ ہے کہ یہ قاری کو علامات کی شناخت سے مطمئن نہیں ہونے دیتا۔ مگر اس کا بنیادی مطالبہ—جڑ تک پہنچنے کا مطالبہ—خود ہم سے بھی جواب طلب کرتا ہے: کیا ہم واقعی جڑ تک پہنچے ہیں، یا شعر کے معنی بیان کر کے اسی سطحی تشخیص کو دہرا رہے ہیں جس پر شعر اعتراض کرتا ہے؟یہی سوال فرحت عباس شاہ کے ان اشعار میں زیادہ ٹھوس سماجی صورت اختیار کرتا ہے:
بجلی سے کبھی روندا، تو پیٹرول سے مارا
حاکم نے ہمیں خوف کے ماحول سے مارا
مزدوری کو نکلے ہوئے مارے گئے گھٹ کر
گھر بیٹھے ہوئے شہریوں کو ہَول سے مارا
ہم لوگ چرندوں کی طرح نکلے تھے گھر سے
ظالم نے ہمیں بھیڑیوں کے غول سے مارا
ان اشعار کو یکجا پڑھنے سے ایک ایسی دنیا سامنے آتی ہے جہاں تشدد صرف کسی ایک حادثے یا کسی ایک قاتل کے عمل کا نام نہیں۔ پہلے شعر میں ’’بجلی‘‘ اور ’’پیٹرول‘‘ دو الگ مادی حوالوں کے طور پر آتے ہیں۔ ان کے ساتھ ’’روندا‘‘ اور ’’مارا‘‘ جیسے افعال کا استعمال جسم پر ہونے والے تشدد کو ایک ایسی کیفیت میں بدل دیتا ہے جس میں موت یا تباہی کے اسباب بدلتے رہتے ہیں، مگر انسان کی بے بسی برقرار رہتی ہے۔ ’’کبھی‘‘ اس تکرار کو وقتی حادثے سے آگے لے جاتا ہے: یہ ایک بار پیش آنے والا واقعہ نہیں، ایک مسلسل تجربہ ہے۔ پھر دوسرے مصرعے میں شاعر اس تشدد کو ’’خوف کے ماحول‘‘ سے جوڑ دیتا ہے۔ اب مارنے والا صرف کوئی مادی قوت نہیں؛ حاکم کی قوت ایک ایسے ماحول میں بھی کام کرتی ہے جو انسان کے ذہن، روزمرہ زندگی اور اجتماعی رویے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔یہاں ’’مارا‘‘ کی تکرار محض صوتی تاکید نہیں۔ پہلے مصرعے میں جسمانی تشدد کے مختلف وسیلوں کا ذکر ہے، دوسرے میں ماحول کو قاتل قوت بنا دیا گیا ہے۔ فعل وہی رہتا ہے، مگر اس کا فاعل اور طریقۂ عمل بدل جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے ذریعے شاعر یہ امکان پیدا کرتا ہے کہ ظلم کو صرف اس لمحے میں نہ دیکھا جائے جب جسم پر ضرب لگتی ہے؛ خوف کا ماحول بھی انسان کی زندگی کو اس طرح محدود کر سکتا ہے کہ وہ جسمانی حملے سے پہلے ہی اپنی آزادی کھونے لگے۔ تاہم ’’حاکم نے ہمیں‘‘ کی ترکیب اس وسیع تجربے کو ایک واضح سیاسی نسبت بھی دیتی ہے۔ شعر خوف کو بے چہرہ فضا نہیں رہنے دیتا، اس کے پیچھے اختیار رکھنے والی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ نسبت احتجاج کو قوت دیتی ہے، لیکن ساتھ ہی ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا خوف کا پورا نظام صرف حاکم کے ارادے سے قائم ہوتا ہے، یا اس میں وہ ادارے، سماجی عادتیں اور روزمرہ اطاعتیں بھی شریک ہوتی ہیں جن کے ذریعے خوف اپنی زندگی بڑھاتا ہے؟ شعر اپنے احتجاج کی تیزی میں اس پیچیدگی کو کھولتا نہیں، لیکن ’’ماحول‘‘ کا لفظ اسے ممکن ضرور بناتا ہے۔اگلے شعر میں یہ خوف طبقاتی اور معاشی صورت اختیار کرتا ہے:
مزدوری کو نکلے ہوئے مارے گئے گھٹ کر
گھر بیٹھے ہوئے شہریوں کو ہَول سے مارا
یہاں دو طرح کے شہری ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ جو ’’مزدوری کو نکلے‘‘ ہیں؛ ان کے لیے گھر سے باہر نکلنا کسی مجرد آزادی کا اظہار نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہے۔ دوسرا وہ جو ’’گھر بیٹھے‘‘ ہیں اور جن کی زندگی خوف کے حصار میں آ جاتی ہے۔ شعر کی اصل کاٹ اس بات میں ہے کہ دونوں گروہ بظاہر مختلف حالات میں ہیں، لیکن تشدد کی زد سے کوئی محفوظ نہیں۔ ایک کے جسم پر حملہ ہوتا ہے، دوسرے کے ذہن اور احساس پر خوف مسلط ہوتا ہے۔ ’’مزدوری‘‘ اور ’’شہریوں‘‘ کے درمیان بھی ایک معنی خیز فرق موجود ہے: مزدوری کرنے والے بھی شہری ہیں، مگر شعر کی زبان میں وہ پہلے اپنے معاشی کردار کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں، جب کہ گھر میں بیٹھے ہوئے لوگ ’’شہریوں‘‘ کی عمومی شناخت رکھتے ہیں۔ یہ فرق لازماً کسی شعوری طبقاتی تقسیم کا اعلان نہیں، لیکن شعر کی زبان میں اس کا اثر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص اپنی روزی کمانے نکلتا ہے اور اس کی معاشی مجبوری اسے خطرے کے حوالے کر دیتی ہے؛ دوسرا گھر میں رہ کر بھی خوف سے آزاد نہیں۔ اس طرح خطرہ صرف گلی یا سڑک پر موجود نہیں رہتا، وہ گھر کے اندر بھی داخل ہو جاتا ہےپہلے شعر میں ’’خوف کے ماحول‘‘ اور دوسرے میں ’’ہَول‘‘ کے درمیان بھی ایک فرق ہے۔ ماحول ایک اجتماعی اور نسبتاً پائیدار فضا کا نام ہے؛ ہَول اس فضا کا ذہنی اثر ہے، ایک ایسا خوف جو انسان کے اندر جا کر اسے گھیر لیتا ہے۔ شاعر یوں بیرونی تشدد سے داخلی دہشت تک ایک راستہ بناتا ہے۔ تاہم ’’مزدوری کو نکلے ہوئے مارے گئے گھٹ کر‘‘ کی ترکیب اپنی لفظی سطح پر قدرے پیچیدہ ہے۔ ’’گھٹ کر‘‘ کے معنی اور اس کا ’’مارے گئے‘‘ سے تعلق قاری کو ٹھہر کر پڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ترکیب شعر کے مجموعی مفہوم کو پوری طرح صاف نہیں ہونے دیتی، اور اس لیے اس مقام پر محض جذباتی تاثیر کو لفظی صحت اور معنوی وضاحت کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک مضبوط تنقیدی قرأت کو شعر کی قوت کے ساتھ اس کے لفظی ابہام کا اعتراف بھی کرنا چاہیے۔اب ان اشعار کو تیسرے شعر کے مقابل رکھیے:
ہم لوگ چرندوں کی طرح نکلے تھے گھر سے
ظالم نے ہمیں بھیڑیوں کے غول سے مارا
یہاں شاعر خوف کے نظام سے آگے بڑھ کر اخلاقی کرداروں کی ایک واضح تقسیم قائم کرتا ہے۔ ’’چرندوں‘‘ اور ’’بھیڑیوں‘‘ کا تقابل ایک ایسا حیوانی استعارہ ہے جس میں بے ضرری اور درندگی ایک دوسرے کے مقابل آتی ہیں۔ ’’نکلے تھے گھر سے‘‘ میں روزمرہ زندگی کا ایک سادہ عمل ہے؛ گھر سے نکلنا اپنے آپ میں کسی تصادم کا اعلان نہیں۔ اس کے مقابلے میں ’’بھیڑیوں کے غول‘‘ میں حملے کا امکان پہلے ہی موجود ہے۔ یوں شعر میں تشدد پیش آنے سے پہلے ہی اس کی اخلاقی تعبیر متعین ہو جاتی ہے۔ مظلوم اپنی طرف سے کسی جارحانہ ارادے کے حامل نہیں، جب کہ مخالف قوت کی شناخت ہی شکار کرنے والے غول سے کی گئی ہے۔اس استعارے کی قوت واضح ہے: یہ ظلم کو اخلاقی طور پر بے نقاب کرتا ہے اور قاری کو تشدد کے مقابل کھڑا ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ مگر اسی مقام پر شعر کی حد بھی سامنے آتی ہے۔ چرند اور بھیڑیے کی تقسیم انسانوں کے درمیان ایک صاف اخلاقی لکیر کھینچ دیتی ہے؛ یہ لکیر احتجاج کو مؤثر بناتی ہے، لیکن انسانی صورتِ حال کی پیچیدگی کو محدود بھی کر سکتی ہے۔ کیا ظلم کے تمام نظام اسی طرح ایک طرف بے ضرر انسانوں اور دوسری طرف درندہ صفت غول میں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ یا ظلم کی بعض صورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں خوف، مفاد، خاموشی اور اطاعت ایک دوسرے میں پیوست ہوتے ہیں؟ شعر کا مقصد شاید سماجی پیچیدگی کی مکمل نقشہ کشی نہیں بلکہ ایک بنیادی اخلاقی حقیقت کو نمایاں کرنا ہے؛ اس کے باوجود تنقید کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس حقیقت کو مؤثر بنانے کے لیے شاعر نے انسانی کرداروں کو کس قدر سادہ کر دیا ہے۔اسی احتجاجی شعور کی ایک مختلف صورت اس شعر میں ملتی ہے:
آپ طاقت کے نشے میں ہیں چُور
آپ کا آج اور مرا کل ہے
یہاں نہ چرند ہیں، نہ بھیڑیے، نہ کوئی براہِ راست جسمانی حملہ۔ اس کے باوجود طاقت اور محرومی کا رشتہ زیادہ پیچیدہ انداز میں سامنے آتا ہے۔ ’’طاقت کے نشے میں چُور‘‘ ایک مانوس محاوراتی ترکیب ہے، جس میں اختیار کو ایسی سرشاری کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کے شعور اور توازن کو متاثر کرتی ہے۔ مگر شعر کی اصل معنوی حرکت دوسرے مصرعے میں واقع ہوتی ہے: ’’آپ کا آج اور مرا کل ہے۔‘‘یہاں ’’آپ‘‘ اور ’’مرا‘‘ کے درمیان فرق صرف دو افراد کا فرق نہیں؛ یہ دو مختلف زمانوں کی تقسیم ہے۔ طاقت ور کے پاس آج ہے، یعنی موجودہ وقت میں فیصلہ کرنے، عمل کرنے اور اپنی خواہش کو حقیقت میں بدلنے کی قوت۔ متکلم کے حصے میں کل ہے، یعنی وہ وقت جس کا انتظار کیا جاتا ہے، جس کا وعدہ کیا جا سکتا ہے، لیکن جس پر ابھی اختیار نہیں۔ اس طرح مستقبل ایک امید ہونے کے ساتھ محرومی کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ طاقت ور حال میں رہتا ہے، محروم مستقبل کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ پہلے شعر میں ظلم کی شناخت درندگی سے ہوتی ہے، یہاں ظلم کی شناخت وقت کی غیر مساوی تقسیم سے ہوتی ہے۔ یہی فرق اس شعر کو ایک سادہ احتجاجی بیان سے زیادہ فکری اہمیت دیتا ہے۔لیکن ’’کل‘‘ کی معنویت صرف محرومی تک محدود نہیں۔ کل وہ وقت بھی ہے جو ابھی طاقت ور کے مکمل اختیار میں نہیں آیا۔ اس میں مستقبل پر حق جتانے اور موجودہ ترتیب کو بدلنے کا امکان بھی موجود ہے۔ شاعر اس امکان کو پوری طرح بیان نہیں کرتا، مگر ’’آج‘‘ اور ’’کل‘‘ کے تقابل میں اس کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعر کو پہلے شعر کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ ’’بھیڑیوں کے غول‘‘ والا شعر ظالم کی اخلاقی شناخت کو واضح کرتا ہے؛ ’’آپ کا آج اور مرا کل ہے‘‘ والا شعر طاقت کے نظام کو زمانی رشتے میں سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایک شعر میں دشمن کی شناخت نسبتاً آسان ہے، دوسرے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ کس کو حال میسر ہے اور کس کو انتظار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ فرحت عباس شاہ کے احتجاج کی قوت ان دونوں صورتوں میں ہے، مگر ان کی فکری پیچیدگی دوسرے شعر میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔یہی سوال جب شہر اور مکان کی تصویروں میں داخل ہوتا ہے تو اجتماعی انہدام اور ذاتی بے گھری کے درمیان ایک ایسا رشتہ بنتا ہے جسے یکساں سمجھنا درست نہیں ہوگا:
منہدم ہوچکا مکیں کب کا
اور مکاں بھی بس ایک دو پل ہے
اس شعر میں ’’مکیں‘‘ اور ’’مکاں‘‘ کے درمیان صوتی قربت کے ساتھ معنوی فاصلے کا کھیل ہے۔ مکیں وہ ہے جو مکان میں رہتا ہے؛ مکان وہ جگہ ہے جو اسے پناہ دیتی ہے۔ شاعر پہلے مکین کے انہدام کی بات کرتا ہے، پھر مکان کی بقا کو بھی چند لمحوں تک محدود کر دیتا ہے۔ یہاں انہدام کی ترتیب قابلِ توجہ ہے۔انسان پہلے ٹوٹ چکا ہے،اب اس کی رہائش گاہ بھی باقی نہیں رہنے والی یوں مکان کا زوال کسی الگ خارجی حادثے کے طور پر نہیں آتا؛ وہ اس داخلی شکست کا آخری مرحلہ بن جاتا ہے جو پہلے ہی مکین کے وجود میں واقع ہو چکی ہے۔”کب کا‘‘ وقت کے ایک ایسے فاصلے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں تباہی واقع ہو چکی، مگر اس کا ظاہری ثبوت شاید ابھی باقی ہے۔ اس کے برعکس ’’بس ایک دو پل‘‘ مستقبل کی نہایت مختصر مہلت ہے۔ ایک طرف ماضی میں مکمل ہو جانے والا انہدام، دوسری طرف مستقبل میں ہونے والی آخری شکست۔ شعر اپنے دو مصرعوں میں زمانے کی یہ ترتیب قائم کرتا ہے: انسان کا باطن پہلے منہدم ہوتا ہے، بیرونی دنیا اس کے بعد۔ مگر ’’مکیں‘‘ کا لفظ ایک اور امکان بھی پیدا کرتا ہے۔ کیا یہاں مکیں صرف انسان ہے، یا وہ داخلی سکون اور وجودی استحکام بھی ہے جس کے بغیر مکان محض دیواروں کا مجموعہ رہ جاتا ہے؟ شعر اس سوال کا فیصلہ نہیں کرتا، لیکن اس کی لفظی ساخت اسے ممکن بناتی ہے۔اس کے مقابل شہر کے انہدام کا یہ منظر دیکھیے:
وہ حال کر دیا گیا ہے شہر کا کہ اب
بھاگیں گے سائے بھی در و دیوار چھوڑ کر
یہاں ’’مکیں‘‘ اور ’’مکاں‘‘ کے رشتے سے آگے بڑھ کر شہر ایک اجتماعی وجود بن جاتا ہے۔ ’’در و دیوار‘‘ گھر کی مادی ساخت کی علامت ہیں، جب کہ ’’سائے‘‘ ان مکینوں کی غیر مستقیم موجودگی کا استعارہ ہیں جو شاید خود وہاں سے جا چکے ہوں، یا جن کی موجودگی صرف ان کے نشانوں میں باقی رہ گئی ہو۔ لیکن شاعر اس سے بھی آگے جاتا ہے: اب صرف انسان نہیں بھاگیں گے، سائے بھی بھاگیں گے۔ اس مبالغے میں شہر کی ویرانی کو ایک ایسی انتہا تک پہنچایا گیا ہے جہاں بے جان چیزوں سے وابستہ انسانی آثار بھی پناہ چھوڑنے پر مجبور ہیں "بھاگیں گے‘‘ مستقبل کا صیغہ ہے؛ گویا شہر کی تباہی ابھی مکمل نہیں ہوئی، لیکن اس کا انجام پہلے ہی متعین دکھائی دیتا ہے۔ ’’وہ حال کر دیا گیا ہے‘‘ میں کسی نامعلوم فاعل کی کارروائی موجود ہے، جب کہ ’’در و دیوار چھوڑ کر‘‘ میں پناہ کے آخری نشان بھی ترک کیے جا رہے ہیں۔ یہاں شاعر شہر کو عمارتوں کے مجموعے کے بجائے ایک ایسی جگہ کے طور پر پیش کرتا ہے جہاں انسان کی موجودگی، یادداشت اور تحفظ باہم مربوط ہیں۔ جب شہر تباہ ہوتا ہے تو صرف رہائش نہیں جاتی؛ ان تمام رشتوں کی بنیاد بھی ہل جاتی ہے جن کے ذریعے انسان کسی جگہ کو اپنا کہتا تاہم ’’منہدم ہوچکا مکیں‘‘ اور ’’بھاگیں گے سائے بھی‘‘ کو ایک ہی مفہوم کی تکرار نہیں سمجھنا چاہیے۔ پہلے شعر میں داخلی انہدام اور بیرونی مکان کی بقا کے آخری لمحے کا تعلق ہے؛ دوسرے میں اجتماعی تباہی کے باعث شہر کی علامتی زندگی بھی ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک میں انسان پہلے ٹوٹتا ہے، دوسرے میں شہر اتنا اجڑ چکا ہے کہ اس کے سائے بھی وہاں نہیں رہ سکیں گے۔ ان دونوں تصویروں میں فرحت عباس شاہ کا احساس ذاتی اور اجتماعی کے درمیان حرکت کرتا ہے، لیکن اس حرکت کی معنویت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب ہم یہ فرق قائم رکھیں کہ داخلی شکست ہمیشہ سیاسی تباہی کا دوسرا نام نہیں، اور شہر کا انہدام محض فرد کی تنہائی کا بڑا استعارہ بھی نہیں۔ دونوں تجربے ایک دوسرے کو روشن کر سکتے ہیں، مگر ایک دوسرے میں پوری طرح تحلیل نہیں ہو جاتے۔شاعر کے یہاں بے گھری کا تجربہ ایک اور صورت میں سامنے آتا ہے:
خاک اڑتی ہے ہم جدھر جائیں
یہ نہ ہو راستوں میں مر جائیں
پھر رہے ہیں ازل سے آوارہ
بے قراری گھٹے تو گھر جائیں
یوں بھلا چپ ہوا ہے کون کبھی
سانس جو لیں تو خود ہی ڈر جائیں
تیری سمتیں تری تلاش ہزار
ہم اکیلے کدھر کدھر جائیں
اُن کا دامن ہو اور فرحت جی
موتیوں کی طرح بکھر جائیں
اس غزل میں آوارگی صرف راستہ نہ ملنے کا نام نہیں؛ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں منزل کی تلاش، موت کا خوف، خاموشی کا جبر اور محبوب کی سمت کھنچاؤ ایک دوسرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پہلے شعر میں ’’خاک اڑتی ہے‘‘ کا منظر متکلم کی حرکت کو کسی واضح منزل سے محروم کر دیتا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، وہاں خاک ہے؛ گویا راستہ صرف جغرافیائی فاصلہ نہیں، بے ثباتی کی ایک مسلسل فضا بھی ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’’یہ نہ ہو‘‘ ایک احتیاط آمیز خوف پیدا کرتا ہے۔ متکلم یہ نہیں کہتا کہ وہ راستوں میں ضرور مر جائیں گے، بلکہ موت کے امکان سے خوف زدہ ہے۔ اس طرح سفر کے اندر ایک ایسی بے یقینی موجود ہے جو حرکت کو آزادی نہیں رہنے دیتی۔’’پھر رہے ہیں ازل سے آوارہ‘‘ میں زمانی وسعت اچانک بدل جاتی ہے۔ ’’ازل‘‘ اس آوارگی کو کسی حالیہ حادثے یا عارضی محرومی سے اٹھا کر ایک دائمی کیفیت میں بدل دیتا ہے۔ مگر اگلا مصرع اس دائمی آوارگی کے خاتمے کا امکان بھی پیش کرتا ہے: ’’بے قراری گھٹے تو گھر جائیں۔‘‘ گھر یہاں صرف ایک جگہ نہیں، بے قراری کے کم ہونے کی شرط بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا گھر ملنے سے بے قراری ختم ہوگی، یا بے قراری کے ختم ہونے پر ہی گھر جانا ممکن ہوگا؟ مصرعے کی نحوی ساخت دونوں امکانات کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے۔ یوں گھر منزل بھی ہے اور ایک داخلی کیفیت بھی جس کے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔اگلے شعر میں آوارگی کا مسئلہ اظہار اور خاموشی سے جڑ جاتا ہے:
یوں بھلا چپ ہوا ہے کون کبھی
سانس جو لیں تو خود ہی ڈر جائیں
یہاں خاموشی کسی شعوری انتخاب کا نام نہیں، خوف کے باعث پیدا ہونے والی ایسی حالت ہے جس میں سانس لینا بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ ’’چپ‘‘ اور ’’سانس‘‘ کے درمیان ایک اہم تضاد ہے: خاموشی کو عام طور پر بولنے کے ترک کرنے سے جوڑا جاتا ہے، مگر یہاں خوف اس حد تک پھیل گیا ہے کہ جسم کا بنیادی عمل بھی بے خوف نہیں رہتا۔ شعر اس طرح جبر کی ایک داخلی صورت دکھاتا ہے؛ باہر کا خوف انسان کے اندر داخل ہو کر اس کے اپنے وجود سے اس کا رشتہ بدل دیتا ہے۔ تاہم ’’یوں بھلا چپ ہوا ہے کون کبھی‘‘ میں سوالیہ لہجہ خاموشی کو غیر فطری اور ناقابلِ قبول قرار دیتا ہے، جب کہ دوسرے مصرعے میں یہی خاموشی خوف کی ناگزیر پیداوار بن جاتی ہے۔ شعر کے اندر احتجاج اور بے بسی ایک ساتھ موجود ہیں: متکلم خاموشی کو قبول نہیں کرتا، مگر سانس لینے کی آزادی بھی اس کے پاس نہیں۔
’’تیری سمتیں تری تلاش ہزار
ہم اکیلے کدھر کدھر جائیں‘‘
اس آوارگی کو محبوب کی تلاش سے جوڑتا ہے۔ ’’سمتیں‘‘ جمع ہے اور ’’تلاش‘‘ بھی ایک سے زیادہ امکانات کی طرف کھلتی ہے؛ لیکن اس کثرت کے مقابل ’’ہم اکیلے‘‘ کی ترکیب تنہائی کو اور شدید کر دیتی ہے۔ سمتیں بہت ہیں، مگر کسی سمت کا انتخاب آسان نہیں۔ یہاں مسئلہ راستوں کی کمی نہیں بلکہ ہر راستے میں موجود غیر یقینی ہے۔ یہ صورت پہلے شعر کے ’’جدھر جائیں‘‘ سے معنوی رشتہ رکھتی ہے، مگر دونوں کا تجربہ یکساں نہیں: پہلے شعر میں دنیا کی خاک اور موت کا اندیشہ ہے، یہاں محبوب کی تلاش نے سمتوں کو بے شمار کر دیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرحت عباس شاہ کی شاعری کی ایک اہم خصوصیت سامنے آتی ہے: ایک ہی لفظی دنیا مختلف جذباتی نظاموں میں داخل ہو کر نئے معنی پیدا کرتی ہے۔ آوارگی کبھی سماجی بے پناہی ہے، کبھی وجودی بے قراری اور کبھی محبوب کی تلاش کا عذاب۔آخری شعر میں اچانک لہجہ بدل جاتا ہے:
اُن کا دامن ہو اور فرحت جی
موتیوں کی طرح بکھر جائیں
یہاں ’’فرحت جی‘‘ کی خود مخاطبت اور ’’موتیوں‘‘ کی تشبیہ غزل کے سابقہ خوف اور بے قراری کے مقابل ایک نرم، تقریباً آرائشی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ پہلے اشعار میں خاک، موت، خوف اور تنہائی تھے؛ یہاں محبوب کا دامن اور موتیوں کا بکھرنا ہے۔ یہ تبدیلی غزل کو ایک ہی جذباتی سطح پر قائم رہنے نہیں دیتی۔ لیکن ’’بکھر جائیں‘‘ کی ترکیب کو صرف حسن اور قربت کی تصویر سمجھنا بھی کافی نہیں۔ بکھرنے میں انتشار کا مفہوم بھی موجود ہے، جب کہ موتی اپنی انفرادیت اور قدر کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ محبوب کے دامن میں موتیوں کی طرح بکھرنے کی خواہش، ایک طرف خود سپردگی کا تصور ہے، دوسری طرف اپنی ذات کو ایک خوب صورت منظر میں تبدیل کر دینے کا عمل بھی۔ یوں غزل کے اندر آوارگی اور محبوب کے دامن میں سمٹنے کی خواہش ایک دوسرے کے مقابل آتی ہیں۔ شاعر کو گھر بھی چاہیے، سمت بھی، خاموشی سے نجات بھی، اور آخرکار محبوب کی قربت میں بکھر جانے کی اجازت بھی۔ یہ سب خواہشیں ایک ہی متکلم میں جمع ہیں، مگر ان کے درمیان کوئی آسان مصالحت موجود نہیں۔یہاں ایک اہم تنقیدی سوال پیدا ہوتا ہے: جب شاعر کی آوارگی کو ’’ازل‘‘ تک پھیلا دیا جاتا ہے تو کیا اس کی وجہ کسی تاریخی یا سماجی صورتِ حال میں تلاش کی جا سکتی ہے، یا آوارگی ایک ایسی داخلی تقدیر بن جاتی ہے جس کی کوئی قابلِ شناخت وجہ نہیں؟ غزل اس سوال کو حل نہیں کرتی۔ اس کی قوت اس تجربے کی مسلسل تبدیلی میں ہے، مگر اس کی حد یہ ہے کہ مختلف نوعیت کے دکھ—سماجی بے پناہی، وجودی بے قراری اور عشقیہ محرومی—کبھی ایک ہی جذباتی لفظیات میں گھل مل جاتے ہیں۔ تنقید کا کام اس امتزاج کو غلط قرار دینا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس سے کون سے معنی پیدا ہوتے ہیں اور کون سے فرق دھندلا جاتے ہیں۔یہی مسئلہ فرحت عباس شاہ کے ہاں درد کی ملکیت اور درد سے پیدا ہونے والی شناخت کے سوال میں بھی نمایاں ہوتا ہے:
یہ دل، یہ اجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی
ہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے
اس شعر میں ’’دل‘‘، ’’چشمِ نم‘‘ اور ’’تنہائی‘‘ تین الگ سطحوں پر درد کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دل داخلی احساس کا مقام ہے، چشمِ نم اس احساس کا ظاہری نشان، اور تنہائی اس کیفیت کا سماجی یا وجودی ماحول۔ شاعر ان تینوں کو ایک ہی نحوی سلسلے میں رکھ کر درد کو محض باطن کی کیفیت نہیں رہنے دیتا؛ وہ جسم، اظہار اور تعلق کی دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ لیکن شعر کی اصل معنوی گرہ ’’مال درد‘‘ میں ہے۔ مال عام طور پر ایسی شے ہے جسے انسان اپنے پاس محفوظ رکھتا، جس سے اپنی ضرورت پوری کرتا یا جس کے ذریعے اپنی حیثیت قائم کرتا ہے۔ یہاں شاعر کے پاس جو کچھ ہے، وہ درد ہے۔ گویا محرومی کو بھی ملکیت کی زبان میں بیان کیا گیا ہے: متکلم کے پاس دنیا کی دوسری چیزیں نہیں، مگر اس کمی کو وہ ایک ایسے سرمایۂ احساس کے طور پر پیش کرتا ہے جو اسی کی ملکیت ہے۔یہ ترکیب ایک تلخ الٹ پھیر پیدا کرتی ہے۔ درد نقصان بھی ہے اور شناخت بھی؛ محرومی بھی ہے اور اس محرومی کے اظہار سے حاصل ہونے والی ایک طرح کی معنوی دولت بھی۔ اس لیے شعر کو محض غم کی شدت کا بیان سمجھنا اس کی پیچیدگی کو کم کر دے گا۔ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا متکلم درد سے نجات چاہتا ہے، یا درد ہی وہ شے ہے جس کے ذریعے وہ اپنی انفرادیت کو پہچانتا ہے؟ ’’ہمارے پاس تو جو بھی ہے‘‘ میں محرومی کی شدت ہے، لیکن ’’مال‘‘ کا انتخاب اس محرومی کو ایک مثبت شناخت میں بھی بدل دیتا ہے۔ شاعر کے پاس جو کچھ نہیں، اس کے مقابل وہ اپنے درد کو پیش کر سکتا ہے۔ اس سے شعر کی جذباتی قوت پیدا ہوتی ہے، مگر اسی مقام پر احساس کی سیاست کا ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: کیا درد صرف وہ تجربہ ہے جس سے انسان گزرتا ہے، یا وہ ایک ایسی شناخت بھی بن سکتا ہے جس کے ذریعے انسان دنیا میں اپنی جگہ متعین کرتا ہے؟اس سوال کو اگلا شعر مزید پیچیدہ بناتا ہے:
کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں
ہمارے پاس یہی کچھ مآل درد کا ہے
پہلے شعر میں درد متکلم کی اپنی ملکیت تھا؛ یہاں وہ کسی دوسرے کے دکھ سے تعلق قائم کرنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ’’مال‘‘ سے ’’مآل‘‘ تک کا لفظی سفر بھی قابلِ توجہ ہے۔ پہلے درد ایک سرمایہ تھا، اب اس کا حاصل یہ ہے کہ دوسروں کا درد بھی اپنا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یوں شاعر اپنی انفرادی شکستگی سے ایک اخلاقی امکان برآمد کرتا ہے: درد انسان کو دوسروں سے کاٹتا ہی نہیں، اسے دوسروں کے تجربے کے قریب بھی لا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے درد کی ملکیت ہمدردی کی صلاحیت میں بدلتی ہے۔لیکن ’’کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں‘‘ میں ایک باریک مسئلہ موجود ہے۔ کسی دوسرے کے درد کو اپنا سمجھنا قربت اور ہمدردی کی علامت ہے، مگر کیا اس عمل میں دوسرے کے درد کی انفرادیت محفوظ رہتی ہے؟ دوسرے کے دکھ کو اپنا سمجھنا اور دوسرے کے دکھ کو واقعی سننا دو مختلف باتیں ہیں۔ پہلی صورت میں ہم دوسرے کے تجربے سے اپنے احساس کی تصدیق حاصل کر سکتے ہیں؛ دوسری صورت میں ہمیں اس امکان کے لیے بھی تیار رہنا پڑتا ہے کہ دوسرے کا دکھ ہماری اپنی سمجھ سے مختلف ہو، اس کی ایسی جہتیں ہوں جنہیں ہم مکمل طور پر محسوس نہ کر سکیں۔ شعر کا متکلم ہمدردی کی ایک بلند اخلاقی صورت پیش کرتا ہے، لیکن اس کی زبان میں دوسرے کے درد کو اپنے دائرے میں لے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔ یہ شعر کی ناکامی نہیں، اس کے تصورِ ہمدردی کا وہ مقام ہے جہاں تنقید کو ٹھہرنا چاہیے۔اس کے بعد شاعر اپنے حسن کی تعبیر بھی اسی درد سے کرتا ہے:
کسی نے پوچھا کہ فرحت بہت حسین ہو تم
تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے
یہاں درد صرف ذاتی شناخت یا اخلاقی ہمدردی نہیں، جمالیاتی قدر کا سرچشمہ بھی بن جاتا ہے۔ سوال حسن کے بارے میں ہے، جواب درد کے بارے میں۔ عام طور پر حسن کو خوشی، توازن، شادابی یا دل کشی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، لیکن شعر اس رشتے کو الٹ دیتا ہے: جو جمال دکھائی دیتا ہے، وہ درد سے حاصل ہوا ہے۔ ’’مسکرا کے کہا‘‘ میں بھی ایک اہم تضاد ہے۔ جواب دینے والا شخص مسکرا رہا ہے، مگر اپنی مسکراہٹ کے حسن کو بھی درد کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ یوں درد ایک ایسی قوت بن جاتا ہے جو اپنے مخالف دکھائی دینے والے احساس—مسکراہٹ—کو بھی اپنے دائرے میں شامل کر لیتی ہے۔لیکن اگر درد ہر چیز کی تعبیر بن جائے، تو پھر اس سے باہر کیا رہ جاتا ہے؟ اگر دل کی کیفیت، دوسرے کے ساتھ تعلق اور حسن کی شناخت، سب درد کے حوالے سے سمجھے جائیں، تو درد ایک تجربہ ہونے کے بجائے دنیا کو دیکھنے کا واحد پیمانہ بننے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کا اپنا ایک دوسرا شعر پہلے تصور کو چیلنج کرتا ہے:
اب کون یہ سمجھائے تجھے اے مرے ناداں
یہ دنیا نہیں ہے دل غمناک پہ مبنی
یہاں فرحت عباس شاہ کے شعری شعور میں ایک بنیادی کشمکش سامنے آتی ہے۔ ایک طرف درد ان کے پاس موجود واحد مال ہے، دوسرے کا دکھ اپنا سمجھنے کا حاصل ہے، اور حسن کا سرچشمہ بھی؛ دوسری طرف وہ اعلان کرتے ہیں کہ دنیا دلِ غمناک پر مبنی نہیں۔ ان دونوں تصورات کو محض ایک دوسرے کی تردید سمجھ لینا جلد بازی ہوگی۔ پہلے اشعار یہ بتاتے ہیں کہ شاعر درد کو کس طرح محسوس کرتا ہے؛ یہ شعر اس امکان پر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پوری دنیا بھی اسی احساس کے اصول پر قائم ہے۔ درد انسانی تجربے کی حقیقت ہے، مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ درد ہی کائنات کی واحد حقیقت ہے۔اس فرق کے باوجود شعر کے لہجے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ’’اے مرے ناداں‘‘ میں متکلم اپنے مخاطب کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتا ہے جسے بنیادی حقیقت سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس خطاب میں شفقت بھی ہو سکتی ہے، تحقیر کا ہلکا سا امکان بھی، اور فکری برتری کا احساس بھی۔ شاعر درد کی مطلق حاکمیت کو رد کرتا ہے، لیکن یہ رد ایک قطعی لہجے میں سامنے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شاعر اپنے ہی سابقہ شعری تصور سے فاصلہ پیدا کر رہا ہے، یا کسی ایسے مخاطب کو جواب دے رہا ہے جو غم کو دنیا کی کلی حقیقت سمجھ بیٹھا ہے؟ شعر اس فرق کو پوری طرح واضح نہیں کرتا، مگر اس کی اہمیت یہی ہے کہ یہ درد کی شاعری کے اندر درد کی حد کا سوال پیدا کرتا ہے۔یہاں ’’احساس کی سیاست‘‘ اپنی سب سے پیچیدہ صورت میں سامنے آتی ہے۔ اگر شاعر کا درد اس کی شناخت ہے، تو اس شناخت سے باہر نکلنا آسان نہیں؛ لیکن اگر دنیا کو دلِ غمناک پر مبنی نہیں مانا جا سکتا، تو شاعر کو اپنے احساس کی مطلق حیثیت سے بھی دست بردار ہونا پڑے گا۔ یہ دست برداری درد سے انکار نہیں، بلکہ درد کے دعوے کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا عمل ہے۔ ایک بڑی شعری شخصیت کی اہمیت اسی وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب اس کے ہاں ایسے اشعار ملیں جو اس کے بنیادی مزاج کی توسیع بھی کرتے ہوں اور اسے اپنی حد پہچاننے پر مجبور بھی کرتے ہوں۔فرحت عباس شاہ کے یہاں اس کشمکش کا ایک اور پہلو وطن اور قربانی کے تصور میں سامنے آتا ہے:
یہ مرا ملک، مری دھرتی، مری ماں ہے اگر
گود انگاروں سے کیوں اس کی بھری رہتی ہے
مجھ سے قربانی پہ اصرار ہے جن لوگوں کو
ان کی کھیتی تو ہر اک رت میں ہری رہتی ہے
پہلے شعر میں وطن کو ’’ملک‘‘، ’’دھرتی‘‘ اور ’’ماں‘‘ کے تین حوالوں سے پہچانا گیا ہے۔ ’’ملک‘‘ سیاسی اور اجتماعی تعلق کا لفظ ہے، ’’دھرتی‘‘ زمین اور پیداواری زندگی کا حوالہ دیتی ہے، جب کہ ’’ماں‘‘ وطن کو جذباتی اور خاندانی رشتے میں بدل دیتی ہے۔ یہ تینوں لفظ ایک دوسرے کی معنویت کو بڑھاتے ہیں، مگر ان کے درمیان فرق بھی ہے۔ ملک ایک سیاسی وحدت ہے، دھرتی ایک مادی اور معاشی حقیقت، اور ماں ایک ایسا رشتہ جس میں محبت، وابستگی اور قربانی کے تصورات شامل ہوتے ہیں۔ شاعر ان تینوں کو یکجا کر کے وطن سے اپنے تعلق کو گہرا کرتا ہے، مگر اگلے مصرعے میں اسی تعلق کی بنیاد پر سوال اٹھاتا ہے: اگر یہ ماں ہے تو اس کی گود انگاروں سے کیوں بھری ہوئی ہے؟”گود‘‘ پناہ، پرورش اور تحفظ کی علامت ہے؛ ’’انگارے‘‘ اس کے برعکس جلنے، تکلیف اور تباہی کا استعارہ ہیں۔ دونوں الفاظ کا تصادم شعر کی اصل قوت پیدا کرتا ہے۔ جس جگہ کو تحفظ دینا چاہیے، وہی جگہ اذیت کا مقام بن گئی ہے۔ اس طرح وطن سے محبت کا اظہار ایک مطمئن قومی دعوے میں تبدیل نہیں ہوتا؛ محبت اپنے ہی رشتے سے سوال کرنے لگتی ہے۔ شاعر وطن سے دست بردار نہیں ہوتا، بلکہ اسی وابستگی کی بنیاد پر اس کی موجودہ حالت کو ناقابلِ قبول قرار دیتا ہے۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ یہاں احتجاج وطن دشمنی کے مقابل ایک وفادارانہ سوال کی صورت اختیار کرتا ہے: اگر یہ واقعی ہماری ماں ہے، تو اس کی گود میں آگ کیوں ہے؟دوسرے شعر میں سوال مزید واضح اور زیادہ سماجی ہو جاتا ہے:
مجھ سے قربانی پہ اصرار ہے جن لوگوں کو
ان کی کھیتی تو ہر اک رت میں ہری رہتی ہے
یہاں ’’مجھ سے‘‘ اور ’’ان کی‘‘ کے درمیان فرق محض دو ضمیروں کا فرق نہیں۔ ایک طرف وہ شخص ہے جس سے قربانی طلب کی جا رہی ہے؛ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شعر اس اخلاقی تضاد کو سامنے لاتا ہے کہ قربانی کی زبان بولنے والے خود اس کی قیمت ادا کرنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ’’کھیتی‘‘ معاشی آسودگی، وسائل اور تسلسل کی علامت ہے، جب کہ ’’ہر اک رت میں ہری‘‘ رہنے کا تصور اس آسودگی کو مستقل اور بے خلل بنا دیتا ہے۔ شاعر یہ نہیں کہتا کہ ان لوگوں کے پاس کبھی کوئی مشکل نہیں آتی؛ وہ ان کی کھیتی کی مسلسل ہریالی کو اپنی قربانی کے مطالبے کے مقابل رکھتا ہے۔ یوں ایک طرف قربانی کی عمومی اخلاقی زبان ہے، دوسری طرف اس قربانی کی غیر مساوی تقسیم۔یہاں احساس کی سیاست بالکل واضح ہو جاتی ہے: قربانی کا مطالبہ کرنے والے اور قربانی دینے والے ایک ہی سماجی مقام پر کھڑے نہیں۔ ایک کے لیے قربانی قومی یا اجتماعی فرض کی زبان میں پیش کی جا سکتی ہے، دوسرے کے لیے وہ جسم، گھر، روزگار یا مستقبل کی حقیقی قیمت بن جاتی ہے۔ وطن کو ماں کہنا اس تضاد کو ختم نہیں کرتا؛ بلکہ اس رشتے کی اخلاقی قوت کے باعث سوال اور شدید ہو جاتا ہے۔ اگر سب اس دھرتی کے فرزند ہیں تو اس کی آگ کسی ایک کی گود میں زیادہ کیوں ہے؟ اور اگر قربانی سب کا فرض ہے تو اس کی قیمت کچھ لوگ زیادہ کیوں ادا کرتے ہیں؟تاہم یہاں بھی شعر کی قوت کے ساتھ اس کی حد کا جائزہ ضروری ہے۔ ’’ان کی کھیتی تو ہر اک رت میں ہری رہتی ہے‘‘ ایک نہایت مؤثر تصویری استعارہ ہے، مگر اس کی اخلاقی تقسیم بہت صاف ہے: ایک طرف قربانی کا مطالبہ کرنے والے خوش حال لوگ، دوسری طرف قربانی کے بوجھ تلے دبے ہوئے متکلم کی صورت۔ اس تقسیم سے احتجاج میں کاٹ پیدا ہوتی ہے، لیکن ان لوگوں کی شناخت اور قربانی کے مختلف اسباب کی تفصیل شعر سے باہر رہ جاتی ہے۔ یہ کمی شعر کو بے معنی نہیں کرتی، کیونکہ شعر کا ہدف مکمل سماجی تجزیہ نہیں بلکہ اخلاقی تضاد کو نمایاں کرنا ہے۔ تاہم اگر ہم اس شعر کو پورے سیاسی شعور کا آخری بیان بنا دیں تو ہم اس کے استعارے کو اس کی حد سے آگے لے جائیں گے۔ شعر ایک ناانصافی کو پوری شدت سے محسوس کراتا ہے؛ اس ناانصافی کے مکمل نظام کو سمجھنے کے لیے مزید سوالات درکار ہیں۔اسی وطن اور اجتماعی وجود کے تناظر میں یہ شعر بھی اہم ہے:
لڑتی رہتی ہے ہمہ وقت مظالم کے خلاف
اس جزیرے پہ کوئی قوم جری رہتی ہے
یہاں ’’جزیرے‘‘ کا لفظ اجتماعی زندگی کو ایک محدود، الگ تھلگ اور شاید محصور جگہ میں تبدیل کرتا ہے۔ جزیرہ اپنی جغرافیائی ساخت میں چاروں طرف سے پانی سے گھرا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ ایک طرف اپنی الگ شناخت رکھتا ہے، دوسری طرف تنہائی اور محاصرے کا امکان بھی۔ اس جزیرے پر آباد قوم کی شناخت اس کے کسی تاریخی نام یا مادی قوت سے نہیں، بلکہ اس کے مسلسل مزاحم رہنے سے قائم ہوتی ہے۔ ’’لڑتی رہتی ہے‘‘ میں فعل کی تکرار نہیں، تسلسل کا مفہوم ہے: لڑائی کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس قوم کی موجودگی کا مستقل وصف ہے۔ ’’ہمہ وقت‘‘ اس تسلسل کو مزید قطعی بنا دیتا ہے، جب کہ ’’جری‘‘ اس مزاحمت کو اخلاقی قدر میں بدل دیتا ہے۔یہاں شاعر مظلومیت کو محض بے بسی کے طور پر پیش نہیں کرتا؛ اس میں جرات اور مزاحمت کا امکان بھی موجود ہے۔ لیکن ’’ہمہ وقت‘‘ کی ترکیب ایک سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر قوم کی شناخت مسلسل لڑنے سے قائم ہے، تو کیا اس کے وجود کا تصور مزاحمت سے باہر بھی ممکن ہے؟ کیا ایسی قوم کے لیے امن، تعمیر اور معمول کی زندگی بھی شناخت کا حصہ ہیں، یا اسے پہچاننے کے لیے ہمیشہ مظالم کے خلاف لڑتے رہنا ضروری ہے؟ شعر اس سوال کو واضح طور پر نہیں اٹھاتا، مگر ’’جری‘‘ اور ’’ہمہ وقت‘‘ کے امتزاج سے اس کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ مزاحمت کسی قوم کی قوت ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے اس کی واحد شناخت بنا دیا جائے تو اس کے دوسرے تجربات—محبت، سکون، تعمیر اور اختلاف—پس منظر میں چلے جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔یہ شعر وطن کو ماں کہنے اور قربانی کی غیر مساوی تقسیم پر اعتراض کرنے والے اشعار کے ساتھ پڑھا جائے تو ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ وہاں متکلم پوچھتا ہے کہ وطن کی گود انگاروں سے کیوں بھری ہے اور قربانی کا بوجھ کچھ لوگوں پر زیادہ کیوں ہے؛ یہاں قوم کی جرات کو اس کی مسلسل مزاحمت میں دیکھا گیا ہے۔ ایک طرف قربانی کے نظام پر تنقید ہے، دوسری طرف مزاحمت کی اخلاقی ستائش۔ یہ دونوں رویے لازماً متناقض نہیں، لیکن ان کے درمیان ایک نازک حد موجود ہے: مظالم کے خلاف لڑنا قابلِ قدر ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم سے متاثر ہونے والوں پر مسلسل قربانی کا مطالبہ بھی اسی قدر درست ہو جاتا ہے۔ اگر مزاحمت کو قومی جرات کی علامت بنایا جائے تو یہ سوال بھی زندہ رہنا چاہیے کہ مزاحمت کرنے والوں کو تحفظ، سکون اور زندگی کا حق کب اور کیسے ملے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرحت عباس شاہ کے شعری تصور کو اس کی اپنی اخلاقی بنیاد پر پرکھا جا سکتا ہے۔ان کی شاعری میں احتجاج صرف وطن یا سماجی تشدد کے موضوع تک محدود نہیں؛ وہ شعر اور زبان کے عمل میں بھی داخل ہوتا ہے:
بوقتِ شام، غزل کے ظہور پر حملہ
کیا گیا ہے مرے دل کے نور پر حملہ
یہاں غزل کا ظہور اور دل کا نور ایک دوسرے کے متوازی رکھے گئے ہیں۔ غزل کا ظہور تخلیق کا لمحہ ہے، جب کہ دل کا نور اس تخلیق کے داخلی سرچشمے کی علامت بن سکتا ہے۔ شاعر ان دونوں پر حملے کو ایک ہی واقعے کی دو صورتیں بناتا ہے۔ اس طرح تخلیقی عمل پر پابندی یا حملہ صرف ادبی آزادی کا مسئلہ نہیں رہتا؛ وہ انسان کے باطنی نور، اس کی حساسیت اور اس کی اظہار کی صلاحیت پر حملہ بن جاتا ہے۔ ’’بوقتِ شام‘‘ اس منظر کو ایک زمانی کیفیت بھی دیتا ہے۔ شام دن اور رات کے درمیان ایک عبوری وقت ہے؛ اس میں روشنی کم ہو رہی ہوتی ہے، لیکن رات مکمل طور پر نہیں اتری ہوتی۔ اس پس منظر میں غزل کے ظہور پر حملہ روشنی کے باقی ماندہ امکان کو ختم کرنے کی کوشش بھی محسوس ہوتا ہے۔مگر اس شعر میں ’’حملہ‘‘ کی تکرار سے پیدا ہونے والی شدت ایک سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا غزل اور دل کے نور پر ہونے والا حملہ ایک ہی نوعیت کا ہے، یا شاعر ان دونوں کو ایک ہی استعارتی سطح پر لا کر ان کے فرق کو مٹا دیتا ہے؟ اگر غزل تخلیقی اظہار کی صورت ہے تو اس پر حملہ ایک ادبی یا سیاسی پابندی ہو سکتا ہے؛ اگر دل کا نور انسانی حساسیت ہے تو اس پر حملہ کہیں زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ شعر ان دونوں کو ایک ہی اخلاقی دائرے میں رکھتا ہے، جس سے تخلیق کی اہمیت بڑھتی ہے، لیکن ان دونوں کے درمیان موجود فرق بھی کم نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہ فرق شعر کی تاثیر کو ختم نہیں کرتا، مگر اس کی معنوی ساخت کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔اگلے شعر میں احتجاج کا لہجہ مزید براہِ راست ہو جاتا ہے:
اٹھو اے زندہ ضمیرو چراغِ عجز جلاو
کرو اندھیرے میں لپٹے غرور پر حملہ
’’زندہ ضمیرو‘‘ کا خطاب ایک ایسی جماعت کو پکار رہا ہے جس کی شناخت ضمیر کی زندگی سے قائم ہوتی ہے۔ اس خطاب میں بیداری کی دعوت ہے، مگر ساتھ ہی مخاطبین کی اخلاقی درجہ بندی بھی موجود ہے: گویا وہ لوگ جو اٹھنے کے قابل ہیں، وہی زندہ ضمیر ہیں؛ خاموش رہنے والوں کا ضمیر شاید زندگی سے محروم ہو چکا ہے۔ ’’چراغِ عجز‘‘ کی ترکیب خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ عجز عام طور پر کمزوری، انکسار یا اپنی محدودیت کے اعتراف سے وابستہ ہے، جب کہ چراغ روشنی، رہنمائی اور آگہی کا استعارہ ہے۔ شاعر غرور کے مقابل عجز کو رکھتا ہے، مگر عجز کو بے عملی نہیں بناتا؛ اسے چراغ بنا کر ایک فعال اخلاقی قوت میں تبدیل کرتا ہے۔دوسرے مصرعے میں ’’اندھیرے میں لپٹے غرور‘‘ کی ترکیب غرور کو ایک ایسی قوت بناتی ہے جو اپنے گرد تاریکی کا حصار رکھتی ہے۔ اس کے مقابل ’’حملہ‘‘ کا لفظ آتا ہے، جو براہِ راست تصادم اور مزاحمت کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں ایک معنی خیز تضاد ہے: غرور کے مقابل عجز، اندھیرے کے مقابل چراغ، اور روشنی کے مقابل حملہ۔ شاعر اخلاقی انکسار کو مزاحمت کا وسیلہ بناتا ہے، لیکن اس کے لیے جنگی زبان استعمال کرتا ہے۔ اس سے احتجاج میں قوت پیدا ہوتی ہے، مگر ایک سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا غرور کے خلاف جدوجہد کا آخری مقصد اسے شکست دینا ہے، یا اس نظام کو بدلنا جس میں غرور کو اختیار حاصل ہوتا ہے؟ شعر کا لہجہ پہلے امکان کو زیادہ نمایاں کرتا ہے، جب کہ اس کا اخلاقی استعارہ دوسرے امکان کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔یہ سوال تیسرے شعر میں ایک مختلف صورت اختیار کرتا ہے:
کوئی کہے گا اگر بادشاہ ننگا ہے
یہ بات ہوگی تصور حضور پر حملہ
یہاں بادشاہ کے ننگا ہونے کا بیان محض جسمانی برہنگی کا حوالہ نہیں؛ یہ اقتدار کی اس علامتی ساخت کو بے نقاب کرتا ہے جو اپنے بارے میں ایک مخصوص تصور قائم رکھنا چاہتی ہے۔ بادشاہ کا لباس اس کی حیثیت، وقار اور اختیار کی علامت ہے؛ اس کے ننگا ہونے کا اعلان اس علامتی نظام کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔ شاعر کی توجہ اس بات پر ہے کہ حقیقت بیان کرنے کا عمل بھی اقتدار کے خلاف حملہ سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بادشاہ حقیقت میں کیا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔’’کوئی کہے گا اگر‘‘ میں ایک غیر یقینی یا مشروط کیفیت ہے۔ شاعر یہ نہیں کہتا کہ کوئی ضرور کہے گا، بلکہ اس امکان کو سامنے لاتا ہے کہ اگر کسی نے یہ حقیقت بیان کی تو اس پر حملے کا الزام لگ سکتا ہے۔ اس طرح شعر حقیقت اور اس کی تعبیر کے درمیان سیاسی رشتہ قائم کرتا ہے۔ اقتدار اپنی ذات کے بارے میں ایک تصور بناتا ہے، اور اس تصور کو چیلنج کرنا خود اقتدار پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ’’تصور حضور‘‘ کی ترکیب بھی اہم ہے، کیونکہ یہ بادشاہ کی جسمانی حقیقت اور اس کی قائم کردہ علامتی شبیہ کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔ جس چیز کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ شاید بادشاہ کا جسم نہیں بلکہ اس کی عظمت کا تصور ہے۔اس شعر کی قوت یہ ہے کہ وہ اقتدار کے سامنے سچ بولنے کے خطرے کو ایک مختصر صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ لیکن اس کی حد بھی اسی مقام پر ہے: اگر ہر سچ بولنے کو اقتدار کے تصور پر حملہ سمجھ لیا جائے تو حقیقت اور رائے کے درمیان فرق کیسے قائم ہوگا؟ شعر کا اشارہ واضح طور پر اس صورتِ حال کی طرف ہے جہاں اقتدار اپنی تنقید برداشت نہیں کرتا، مگر اس کی وسیع تر معنویت کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ضروری ہے کہ حقیقت کا انکشاف اور محض مخالفانہ الزام ایک چیز نہیں۔ شاعر کا احتجاج تبھی پوری قوت سے سمجھا جا سکتا ہے جب ہم اس بنیادی فرق کو قائم رکھیں۔ سچ بولنے کی آزادی کا دفاع کرنا، ہر بیان کو بلاامتیاز سچ تسلیم کر لینا نہیں ہے۔ان تینوں اشعار کو یکجا پڑھنے سے فرحت عباس شاہ کے یہاں احتجاج کی ایک مسلسل صورت سامنے آتی ہے۔ پہلے شعر میں غزل اور دل کے نور پر حملہ ہے، دوسرے میں زندہ ضمیروں کو غرور کے خلاف اٹھنے کی دعوت، اور تیسرے میں بادشاہ کی علامتی شبیہ کو حقیقت کے ذریعے چیلنج کرنے کا امکان۔ ان کے درمیان رشتہ یہ ہے کہ شاعر اظہار، اخلاقی بیداری اور سچ بولنے کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتا۔ لیکن ان کے لہجوں میں فرق بھی ہے: کہیں تخلیق کی حفاظت ہے، کہیں اخلاقی جدوجہد کی دعوت، اور کہیں حقیقت کے بیان کی سیاسی قیمت۔ اگر ان سب کو صرف ’’مزاحمت‘‘ کا نام دے کر ایک ہی خانے میں رکھ دیا جائے تو ان کے اندر موجود فکری فرق ضائع ہو جائیں گے۔ اصل تنقیدی کام یہ دکھانا ہے کہ شاعر کے لیے مزاحمت کبھی احساس کی حفاظت ہے، کبھی ضمیر کی بیداری اور کبھی اقتدار کی قائم کردہ شبیہ کو توڑنے کا عمل۔فرحت عباس شاہ کی شاعری میں احساس کے مسئلے کو محض جذباتی یا سماجی دائرے میں محدود رکھنا اس لیے بھی ممکن نہیں کہ ان کے بعض اشعار ادراک، حقیقت اور ظاہر و باطن کے تعلق کو موضوع بناتے ہیں:
ادراک بنا کوئی یقیں ہے نہ کوئی شک
ہے بارِ حقیقت اسی صد چاک پہ مبنی
ہر ظاہر و مخفی میں بھی ہے مخفی و ظاہر
سب پردہ و عریانی ہے پوشاک پہ مبنی
یہاں شاعر کا موضوع براہِ راست درد یا ظلم نہیں، بلکہ حقیقت تک رسائی کی شرط ہے۔ پہلے مصرعے میں ’’ادراک‘‘ کو یقین اور شک دونوں سے پہلے رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے بارے میں یقین یا شک قائم کرنے سے پہلے اسے سمجھنے یا محسوس کرنے کا کوئی عمل درکار ہے۔ انسان جس حقیقت کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، اس تک اس کی رسائی ادراک کے ذریعے ہوتی ہے؛ اس لیے ادراک کی ساخت کو سمجھے بغیر یقین اور شک کی بنیاد کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ’’بارِ حقیقت‘‘ اور ’’صد چاک‘‘ کی ترکیب اس فکری نکتے کو ایک جسمانی اور تصویری صورت دیتی ہے۔ حقیقت کا بوجھ کسی ایسی شے پر رکھا گیا ہے جو پہلے ہی سو جگہ سے پھٹی ہوئی ہے۔ اس تصویر میں ادراک کی کمزوری، حقیقت کی پیچیدگی اور انسانی تجربے کی شکستگی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔لیکن ’’صد چاک‘‘ کی ترکیب ایک سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ کیا حقیقت خود ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، یا اسے محسوس کرنے والا ادراک شکستہ ہے؟ شعر دونوں امکانات کے درمیان مکمل فیصلہ نہیں کرتا۔ اگر حقیقت ہی منتشر ہے تو انسان کے لیے اس کی وحدت تک پہنچنا دشوار ہے؛ اگر ادراک شکستہ ہے تو مسئلہ حقیقت کی ذات میں نہیں بلکہ اسے سمجھنے والے شعور میں ہے۔ اس ابہام سے شعر کی فکری وسعت بڑھتی ہے، مگر اس کا استدلال قطعی نہیں رہتا۔ شاعر حقیقت کو ایک واضح نظریاتی تعریف دینے کے بجائے ایک ایسی تصویری ساخت میں رکھتا ہے جہاں حقیقت اور ادراک کا رشتہ خود سوال بن جاتا ہے۔دوسرے شعر میں ظاہر اور مخفی کے درمیان روایتی تقسیم کو مزید پیچیدہ کیا گیا ہے:
ہر ظاہر و مخفی میں بھی ہے مخفی و ظاہر
سب پردہ و عریانی ہے پوشاک پہ مبنی
یہاں ’’ظاہر‘‘ اور ’’مخفی‘‘ کو دو متضاد خانوں میں نہیں رکھا گیا؛ شاعر کہتا ہے کہ ہر ظاہر میں مخفی بھی ہے اور ہر مخفی میں ظاہر بھی۔ یوں حقیقت کی کوئی ایسی سطح باقی نہیں رہتی جسے مکمل طور پر شفاف یا مکمل طور پر پوشیدہ قرار دیا جا سکے۔ جو کچھ دکھائی دیتا ہے، اس کے اندر بھی کوئی غیر ظاہر پہلو موجود ہے؛ اور جو کچھ پوشیدہ ہے، اس کے اندر بھی اظہار کا امکان ہے۔ یہ تصور ادراک کے بارے میں ایک اہم احتیاط پیدا کرتا ہے: جو دکھائی دے رہا ہے، وہ پوری حقیقت نہیں، اور جو دکھائی نہیں دے رہا، وہ لازماً حقیقت سے خارج بھی نہیں۔’’پردہ و عریانی‘‘ کا تقابل اس خیال کو ایک اور سطح پر لے جاتا ہے۔ پردہ چھپانے کا عمل ہے، عریانی ظاہر ہونے کی کیفیت؛ لیکن شاعر دونوں کو ’’پوشاک‘‘ سے وابستہ کر دیتا ہے۔ اس طرح لباس صرف چھپانے کا وسیلہ نہیں رہتا، بلکہ ظاہر ہونے کی صورت بھی بن جاتا ہے۔ عریانی بھی ایک خاص حالت میں سامنے آتی ہے، اور پردہ بھی کسی شے کو کسی نہ کسی انداز میں نمایاں کرتا ہے۔ اس ترکیب میں حقیقت اور اس کے ظہور کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق پیدا ہوتا ہے: ہم چیزوں کو براہِ راست نہیں دیکھتے، بلکہ کسی نہ کسی صورت، لباس، زبان یا زاویے کے ذریعے دیکھتے ہیں۔یہ فکری نکتہ فرحت عباس شاہ کی سماجی شاعری کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر ادراک مکمل نہیں، اگر ظاہر میں مخفی اور مخفی میں ظاہر موجود ہے، تو پھر کسی سماجی صورتِ حال کے بارے میں شاعر کا اپنا فیصلہ بھی ایک مخصوص زاویۂ نظر کا محتاج ہوگا۔ یہی بات ان کے احتجاجی اشعار کو تنقیدی طور پر پڑھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شاعر کا احتجاج صرف اس لیے درست ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس نے مظلوم اور ظالم کو کس طرح متعین کیا، کن لفظوں سے ان کی شناخت بنائی اور کن تجربات کو اپنے شعری منظر میں جگہ دی۔ ادراک کی پیچیدگی کا شعور شاعر کے اپنے احتجاج پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر ہر ظاہر میں کچھ مخفی ہے تو شاعر کے پیش کردہ اخلاقی منظر میں بھی کچھ ایسے پہلو ہو سکتے ہیں جنہیں اس کی پہلی قرأت فوراً سامنے نہیں لاتی۔یہاں ایک اہم بات سامنے آتی ہے: فرحت عباس شاہ کی شاعری کی فکری قوت صرف ان اشعار میں نہیں جو براہِ راست ظلم، خوف یا قربانی کی بات کرتے ہیں؛ وہ ان اشعار میں بھی ہے جو حقیقت کے ادراک کو غیر مکمل اور انسانی نظر کو محدود قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں شعری جہتوں کو الگ الگ رکھ کر پڑھنے سے شاعر کی تصویر آسان ہو جاتی ہے، مگر اس کی معنوی پیچیدگی کم ہو جاتی ہے۔ اگر شاعر ایک طرف ظالم اور مظلوم کی واضح تقسیم قائم کرتا ہے اور دوسری طرف ظاہر و مخفی کے باہمی تعلق کی بات کرتا ہے، تو ان دونوں کے درمیان ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا اس کا احتجاجی شعور بھی اپنے ادراک کی محدودیت کو تسلیم کرتا ہے، یا احتجاج کے لمحے میں اس کی زبان اتنی قطعی ہو جاتی ہے کہ وہ خود اپنے فلسفیانہ سوالات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے؟یہ سوال فرحت عباس شاہ کے فن کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی سنجیدہ قرأت کے حق میں ہے۔ بڑے شاعر کی شاعری میں مختلف لہجے، مختلف تجربے اور مختلف سطحوں کے ادراک جمع ہو سکتے ہیں۔ تنقید کا کام ان سب کو ایک ہی نظریاتی جملے میں سمیٹنا نہیں، بلکہ ان کے درمیان تعلق اور اختلاف کو سمجھنا ہے۔ اگر ایک شعر درد کو مال کہتا ہے، دوسرا درد کو دنیا کی بنیاد ماننے سے انکار کرتا ہے؛ اگر ایک شعر ظالم اور مظلوم کے درمیان اخلاقی لکیر کھینچتا ہے، دوسرا حقیقت کے ادراک کو نامکمل اور ظاہر و مخفی کے رشتے کو پیچیدہ قرار دیتا ہے، تو ان اشعار کے درمیان موجود کشمکش ہی شاعر کے شعری شعور کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کا راستہ ہے۔فرحت عباس شاہ کے یہاں احساس کی سیاست کا بنیادی سوال یہی ہے کہ احساس کس طرح حقیقت کو دیکھتا ہے، کس طرح اس کی تعبیر کرتا ہے اور کس طرح اس تعبیر کو اجتماعی معنی میں بدل دیتا ہے۔ ان کے احتجاجی اشعار میں درد ایک شہادت بن جاتا ہے؛ وہ بتاتا ہے کہ خوف صرف ذہنی کیفیت نہیں، ایک ایسا ماحول بھی ہے جو لوگوں کو گھروں میں محدود کرتا اور مزدوری کے لیے نکلنے والوں کو خطرے کے حوالے کرتا ہے۔ ان کے وطن سے متعلق اشعار میں محبت ایک غیر مشروط عقیدت نہیں رہتی، بلکہ اس سوال میں بدل جاتی ہے کہ قربانی کا بوجھ سب پر یکساں کیوں نہیں۔ ان کے شعری احتجاج میں سچ بولنا بادشاہ کی شبیہ پر حملہ بن جاتا ہے، کیونکہ اقتدار حقیقت سے زیادہ اپنے تصور کی حفاظت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اور ان کے ذاتی و وجودی اشعار میں درد کبھی شناخت کا سرمایہ، کبھی دوسرے کے دکھ تک پہنچنے کا وسیلہ، اور کبھی ایک ایسا پیمانہ بن جاتا ہے جس کی کلی حیثیت خود شاعر کے دوسرے شعر میں چیلنج ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کو محض درد کی شاعری کہنا ناکافی ہے۔ درد یہاں موضوع بھی ہے، زبان بھی، اخلاقی دعویٰ بھی اور ادراک کا مسئلہ بھی۔ لیکن ہر جگہ اس کی معنویت یکساں نہیں۔ کہیں درد انسان کو دوسرے انسان کے قریب لاتا ہے؛ کہیں وہ متکلم کی انفرادی شناخت کو قائم کرتا ہے؛ کہیں اس کے ذریعے سماجی ناانصافی کی تقسیم نمایاں ہوتی ہے؛ اور کہیں شاعر اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ دنیا کو صرف غم کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ اختلافات کسی ایک مرکزی نظریے میں پوری طرح حل نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان ایک ایسا تناؤ موجود ہے جسے برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اسی تناؤ سے شاعر کے احساس کی حقیقی پیچیدگی سامنے آتی ہے۔اس مقام پر ایک اور سوال بھی اہم ہو جاتا ہے: کیا درد کی زبان ہمیشہ مظلوم کو آواز دیتی ہے، یا کبھی وہ مظلوم کی شناخت کو درد تک محدود بھی کر دیتی ہے؟ جب شاعر کہتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ درد کا مال ہے، تو وہ محرومی کو زبان دیتا ہے؛ لیکن اگر اس شناخت کو آخری شناخت مان لیا جائے تو انسان کی زندگی کے دوسرے امکانات کہاں جائیں گے؟ جب قوم کو مسلسل مظالم کے خلاف لڑنے والی اور جری قرار دیا جاتا ہے تو اس کی مزاحمت کا اعتراف ہوتا ہے؛ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی قائم رہنا چاہیے کہ کیا قوم کا حق صرف لڑنا ہے یا اسے ایسی زندگی کا حق بھی حاصل ہے جس میں ہر وقت قربانی اور مزاحمت کی ضرورت نہ پڑے؟ جب وطن کو ماں کہا جاتا ہے تو محبت اور وفاداری کی قوت سامنے آتی ہے؛ لیکن اسی نسبت کے اندر سے قربانی کی غیر مساوی تقسیم پر سوال بھی اٹھتا ہے۔ اس طرح فرحت عباس شاہ کی شاعری کا احساس اپنی بہترین صورت میں محض درد کو مقدس نہیں بناتا، بلکہ درد کے اسباب، اس کی تقسیم اور اس کے نتائج پر سوال کرنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔تاہم اس شاعری کے بعض مقامات پر احتجاجی زبان اپنے اخلاقی نتیجے کو اتنی قطعیت سے پیش کرتی ہے کہ صورتِ حال کی پیچیدگی کم ہو جاتی ہے۔ ’’چرندوں‘‘ اور ’’بھیڑیوں‘‘ کا تقابل، ’’زندہ ضمیرو‘‘ کا خطاب اور غرور پر حملے کی دعوت اسی نوعیت کے شعری فیصلے ہیں۔ ان میں خطابت کی قوت ہے، لیکن خطابت کا یہی زور کبھی سوال کی جگہ جواب رکھ دیتا ہے۔ دوسری طرف ’’آپ کا آج اور مرا کل ہے‘‘، ’’ادراک بنا کوئی یقیں ہے نہ کوئی شک‘‘ اور ’’یہ دنیا نہیں ہے دل غمناک پہ مبنی‘‘ جیسے اشعار ایک زیادہ پیچیدہ فکری فضا پیدا کرتے ہیں، جہاں شاعر کا احساس کسی ایک اخلاقی یا جذباتی نتیجے پر فوراً نہیں پہنچتا۔ یہاں معنی اپنے اندر سوال رکھتے ہیں، اور قاری کو بھی ان سوالوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ان دونوں طرح کے اشعار کے درمیان فرق قائم رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ فرحت عباس شاہ کے فن کو نہ صرف اس کے احتجاجی لہجے سے پہچانا جائے اور نہ صرف اس کی فکری پیچیدگی سے۔ ان کی شاعری میں یہ دونوں امکانات موجود ہیں، مگر ہر شعر میں ان کا تناسب مختلف ہے۔ کہیں استعارہ فوری اخلاقی فیصلہ پیدا کرتا ہے، کہیں لفظوں کا باہمی رشتہ ایک ایسا سوال قائم کرتا ہے جس کا جواب شعر خود فراہم نہیں کرتا۔ کہیں درد کی تکرار تجربے کی شدت بڑھاتی ہے، کہیں وہ ایک ایسی شناخت کی صورت اختیار کرتی ہے جسے شاعر خود اپنے دوسرے شعر میں محدود کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی اختلافات اس بات کی دلیل ہیں کہ شاعر کی شاعری میں محض جذباتی اثر نہیں، تنقیدی قرأت کے لیے مواد بھی موجود ہے۔کسی بڑے شاعر کو سنجیدگی سے پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر شعر کو یکساں طور پر کامیاب قرار دے دیا جائے، اور نہ یہ کہ اس کے داخلی تضادات کو فوراً فکری کمزوری کا نام دے دیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تضادات کس نوعیت کے ہیں، کہاں وہ شعری تجربے کو وسعت دیتے ہیں اور کہاں زبان یا استعارے کی محدودیت سامنے لاتے ہیں۔ فرحت عباس شاہ کے یہاں درد کو شناخت کا سرمایہ بنانا اور اسی درد کو دنیا کی بنیاد ماننے سے انکار کرنا ایک ایسی کشمکش پیدا کرتا ہے جو شاعر کے تصورِ احساس کو زیادہ پیچیدہ بناتی ہے۔ اسی طرح مظلوم اور ظالم کے درمیان واضح لکیر کھینچنے والے اشعار اور ادراک کی نامکملی پر اصرار کرنے والے اشعار کے درمیان بھی ایک ایسا فاصلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس فاصلے کو سمجھنا ہی اس شاعری کے اندرونی نظام تک پہنچنے کا راستہ ہے۔اس قرأت میں فرحت عباس شاہ کی ادبی اہمیت کسی عمومی دعوے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ ان اشعار سے سامنے آتی ہے جو ایک دوسرے کو آسانی سے مکمل نہیں کرتے۔ ان کا درد جب اجتماعی تشدد کی صورت اختیار کرتا ہے تو سماجی ناانصافی کا سوال پیدا کرتا ہے؛ جب وہ ’’مال درد‘‘ بنتا ہے تو شناخت اور ملکیت کا سوال اٹھاتا ہے؛ جب وہ دوسرے کے درد کو اپنا سمجھنے میں ظاہر ہوتا ہے تو ہمدردی کی اخلاقیات سامنے آتی ہیں؛ اور جب شاعر کہتا ہے کہ دنیا دلِ غمناک پر مبنی نہیں تو وہ اپنے ہی احساس کی مطلق حیثیت کو محدود کرتا ہے۔ یہ سب ایک ہی شعری شعور کی مختلف جہتیں ہیں، مگر ان کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ ان اختلافات کو مٹا دینے سے شاعر کی تصویر زیادہ صاف ضرور ہو سکتی ہے، لیکن اس کا فن کم گہرا ہو جائے گا۔بالآخر فرحت عباس شاہ کی شاعری کو پڑھتے ہوئے سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ شعر کے اندر کون روتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس رونے کو زبان کون دیتا ہے، اس زبان میں کس کا دکھ شامل ہوتا ہے، کس کا دکھ مثال بن کر رہ جاتا ہے، اور کون اس احساس کے ذریعے دنیا پر اپنا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ شاعر جب درد کو اپنا مال کہتا ہے تو وہ اپنی شکستگی کو شناخت میں بدلتا ہے؛ جب کسی دوسرے کا درد اپنا سمجھتا ہے تو وہ اپنی ذات سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے؛ جب وطن کی گود میں انگارے دیکھتا ہے تو محبت کو سوال میں بدل دیتا ہے؛ اور جب دنیا کو دلِ غمناک پر مبنی ماننے سے انکار کرتا ہے تو اپنے احساس کی حد بھی متعین کرتا ہے۔ ان سب صورتوں میں احساس ایک سادہ، یک رخا کیفیت نہیں رہتا؛ وہ ایک ایسا عمل بن جاتا ہے جس میں شناخت، اخلاق، سماج اور ادراک ایک دوسرے سے الجھتے ہیں۔یہی ’’احساس کی سیاست‘‘ ہے: درد کی موجودگی سے زیادہ، اس بات کا سوال کہ درد کس طرح معنی حاصل کرتا ہے؛ ہمدردی کے دعوے سے زیادہ، اس بات کی جانچ کہ دوسرے کے دکھ کے لیے ہمارے اندر کتنی جگہ ہے؛ قربانی کی ستائش سے زیادہ، اس کے بوجھ کی غیر مساوی تقسیم پر اعتراض؛ اور احتجاج کی بلند آواز سے زیادہ، اس سوال پر اصرار کہ احتجاج اپنے ہی یقینوں کو کس حد تک پرکھ سکتا ہے۔ فرحت عباس شاہ کے بعض اشعار اپنے استعاراتی فیصلوں میں بہت قطعی ہیں، بعض میں خطابت سوال کی جگہ لے لیتی ہے، مگر ان کے دوسرے اشعار اسی قطیعت کو محدود کرنے اور ادراک کو پیچیدہ بنانے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔ ان کی شاعری کی تنقیدی اہمیت اسی وقت پوری طرح سامنے آتی ہے جب ہم اس کے روشن مقامات کے ساتھ اس کی داخلی کشمکش کو بھی پڑھیں۔بڑے شاعر کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے یہاں کوئی تضاد نہ ہو؛ یہ ہے کہ اس کے اشعار ہمیں ان تضادات کے سامنے ٹھہرنے پر مجبور کریں۔ فرحت عباس شاہ کی شاعری میں درد کی شدت اپنی جگہ، مگر اس سے زیادہ اہم وہ لمحے ہیں جب درد خود اپنے معنی پر سوال بن جاتا ہے۔ یہی لمحے قاری کو محض متاثر نہیں کرتے، اسے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اور شاید کسی زندہ شاعری کی سب سے بڑی آزمائش بھی یہی ہے کہ وہ اپنے قاری سے صرف آنسو نہ مانگے، اسے اپنے احساس، اپنے یقین اور اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی جرات بھی دے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

