جنگ آزادی میں اردو صحافت نے جو کردار ادا کیا ہے اسے بلاشبہ فراموش نہیں کیا جا سکتا، اردو صحافت اور اردو صحافیوں کی کاوشوں کا ہی ثمرہ تھا کہ آزادی کے متوالوں کو اپنے مقاصد میں کامیابی ملی اور انگریزوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اردو صحافیوں نے بلا تفریق مذہب و ملت ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور آج ہمارے ہاتھوں میں آزاد ہندوستان موجود ہے۔
لیکن نہایت ہی افسوس کا مقام یہ ہے کہ جس پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر تمام مذاہب کے صحافیوں نے ملک کے تقدس کے لیے متحد ہو کر لڑائی لڑتی تھی وہ آج فرقہ واریت اور انتشار کا شکار ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہندوستان دو اہم پڑاﺅسےگزراہےایک غدر 1857اور دوسرا جنگ آزادی 1947ان دونوں جنگوں میں ایک بات قدر مشترک یہ تھی کہ انگریزوں کو باہر کرو اور ملک کو آزاد کراﺅ۔کہیبھیمذہب،زبان،تہذیب وثقافت اورملک کےتقسیم کاخواب جنم لیتانظرنہیں آتاتھالیکن لمحۂ فکریہ یہ رہاکہ انگریزہندوستانی عوام کو مذہب اور زبان کی بھٹی پر چڑھا نے میں کامیاب ہوئے اور ہنوز آزاد ہندوستان میں بھی انگریزوں کے فارمولے ہی کامیاب ہیں۔
ملک میں صحافت کو چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے کیوں کہ ہمارے صحافیوں نے نامساعد حالات کے باوجود مغربی طاقتوں سے لوہا لیا۔یوں بھی صحافت کا اولین فریضہ ملک کی خدمت اور قومی یکجہتی کا تحفظ ہوتا ہے۔ ایک روشن ضمیر صحافی کا مقصد حیات ،اتحاد ملک و ملت ہوتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے مضامین اداریوں اور کالم کے ذریعے افراد اور قوم میں بیداری پیدا کرسکے اور اس کام میں ہندو ، مسلم اور سکھ سبھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
ہندوستان میں صحافت کا باضابطہ آغاز جیمس آگسٹس ہکی کے انگریزی اخبار ”ہکیز بنگالی گزٹ“ 1780کلکتہ سے ہوتا ہے ۔ دوسرے مقام پر بنگالی زبان کے اخبار ”بنگال گزٹ“ 1816کلکتہ کا قبضہ تھا جب کہ تیسرا مقام اردو کو حاصل تھا۔ ”جام جہاں نما“ مئی 1822فارسی میں شائع ہوا اس کے بعد اپریل 1823سے باضابطہ اردو میں شائع ہونے لگا۔ ”جام جہاں نما“ کے مالک ہری دت جب کہ مدیر منشی سدا سکھ تھے۔ اس طریقے سے اردو صحافت کے 193برس مکمل ہوچکے ہیں۔اردو کا پہلا اخبار اور اس کے مالک اور مدیر دونوں ہی غیر مسلم تھے اس بات سے یہ وضاحت ہو جاتی ہے کہ اردو مسلمان اور ہندی ہندﺅں سےمنسوب نہیں کی جاتی تھی۔اردوصحافت ہندوستان کاواحدوسیلۂ اظہارتھی جسکےذریعہ جنگ آزادی لڑی گئی۔اردواخباراتنےفوراًہی مقبولیت کی بلندیوں کوحاصل کیااورتمام زبانوں کےاخبارات پرفوقیت لےگئے۔اردو اخبارات کی مقبولیت کی وجہ یہ ہرگز نہیں تھی کہ اس زبان کے ترجمان مسلمان تھے بلکہ اس لیے تھی کہ اردو پڑھنے اور لکھنے والے تمام مذاہب کے لوگ تھے۔ 1823تا 1900تک شائع ہونے والے 25فیصد اخبارات کے مالکان غیر مسلم برادران تھے اور قارئین میں بھی تقریباً 60فیصد غیر مسلم شامل تھے۔
جو انگریزوں کو قطعی پسند نہیں آتا تھا اور ان کی ناراضگی کاسامنا اردو کے صحافیوں کو کرنا پڑتا تھا ۔ انگریزوں نے بے پناہ مظالم کیے اخبارات پر پابندی عائد کی گئی، ضمانتیں ضبط ہوئیں، مالکان اور مدیران کو زندان کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا، لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود بھی متحد ہوکر اردو کے تمام صحافیوں نے جنگ آزادی میں اپنا تعاون دیا۔ ہندوستان کی قومی یکجہتی اور آزادی کے پروانوں کی جد وجہد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انگریزوں نے اردو کو 1830میں سرکاری زبان کا درجہ دیا اور اردو صحافت کو مزید تقویت حاصل ہوئی ، 1835 میں اخبارات شائع کرنے کی سرکاری اجازت بھی مل گئی۔
اردو صحافت نے جنگ آزادی کی لڑائی لڑی اسی اردو صحافت کوآزادی کے بعد ایک محدود طبقے میں قید کر دیا گیا اور اردو کے رسائل و جرائدجمہوریت کے تحفظ میں لگ گئے۔ 1822سے لیکر عہد حاضر تک اردو صحافت میں غیر مسلموں کی خدمات سے انحراف نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دہلی اردو اخبار ، زمیندار، الہلال ، البلاغ، تہذیب الاخلاق، اودھ پنچ، ہمدرد اور اردوئے معلی کا نام لیا جائے گا تو ان سے کہیں زیادہ ان اخبارات کا نام لینا ہوگا جن کے مالکان غیر مسلم تھے۔ غیر مسلموں کے ذریعہ شائع ہورہے اخبارات نے آزادی کی لڑائی کے ساتھ ہی معاشرے میں پھیل رہی برائیوں کی بھی اصلاح کی جس کی اعلیٰ مثال ملک کے پہلے فارسی اخبار ”مرأة الاخبار“ سے ملتی ہے۔ اس اخبار کو راجہ رام موہن رائے نے 20،اپریل 1822میں کلکتہ سے جاری کیا تھا، جس نے معاشرے کی سمت و رفتار کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان کے پیرو اپنے مذہب کی اصل شکل وصورت پرقائم نہیں رہ سکے خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو۔عہد حاضر میں بھی بے پناہ برائیاں در آئی ہیں اسی طریقے سے ہندو مذہب میں کئی ایسی برائیاں تھیں اور ہیں جو انسانیت اور مذہب کے لیے شرمندگی کاباعث بنا کرتی ہیں۔ ان میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جانا، دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا، جہیز اورخصوصاً شوہر کے انتقال کے بعد عورت کو ستی کر ددینے کی رسم تو ایک بد نما داغ تھی۔ جس کے خلاف راجہ رام موہن رائے نے اپنے فارسی اخبار ’مرأة الاخبار‘ میں باضابطہ تحریک چلائی تاکہ اس درد ناک رسم جس میں بیوا عورتوں کو شوہر کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کسی ہندی کے اخبار میں اس تحریک کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا ، بات واضح ہے کہ ایک اردو زبان ہی تھی جس میں تمام مذاہب کے صحافی صحافت کر رہے تھے اور یہی دو زبانیں فارسی اور اردو خاص و عام میں پڑھی اور بولی جانے والی تھیں۔ ہندی کا کوئی وجود نہیں تھا انگریزی ، بنگالی اور اردو کے ہی اخبارات شائع ہوا کرتے تھے۔ مرا¿ة الاخبار نے جہاں کئی غیرر انسانی اور غیر مہذب رسوم کی مخالفت کی وہیں ملک کے تحفظ اور ہندوستانی عوام کی ترجمانی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
’جام جہاں نما‘ اپریل 1823اردو کا سب سے پہلا اور فارسی کا دوسرا اخبار تھا۔ ’جام جہاں نما ‘ فارسی اور مرأة الاخبار کی اشاعت میں بہت ہی کم وقفہ تھا۔ ’جام جہاں نما‘ صرف چار برس آٹھ ماہ جاری رہا اور 1828میں بند ہوگیا۔ اس اخبار میں خبریں رسمی ہوا کرتی تھیں مضامین انگریزوں کے زیادہ ہوتے تھے کیوں کہ یہ اخبار بنیادی طور پر انگریزوں کا حمایتی تھا ، سر ورق پر ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرکاری مہر ثبت ہوا کرتی تھی۔ ان تمام باتوں سے قطۂ نظر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اردو اور فارسی صحافت کا آغاز مسلمانوں نے نہیں بلکہ اردو کے دلدادہ راجہ رام موہن رائے، ہری دت اور منشی سدا سکھ نے ہی کیا تھا۔ ہماری اردو زبان اور اردو صحافت کی ترویج و اشاعت میں جتنا اہم کردار مسلمانوں کا ہے اس سے کہیں زیادہ غیر مسلم بھائیوں کا بھی ہے جس کا اعتراف جی ڈی چندا اپنے الفاظوں میں یوں کرتے ہیں:
”قدرت کے مخفی ہاتھوں نے پرانے ہندوستان کی جگہ جس نئے ہندوستان کی تعمیر کا منصوبہ بنایا اس میں اردو زبان اور اس سے وابستہ مشترک تہذیب کا بھی ہاتھ ہے۔ اس اردو زبان سے قومی دھارے کو رواں دواں کرنے میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوﺅںنےبھیحصہلیا۔انہوںنےاردوزبانکواپنیہیزبانکیحیثیتسےاپنایا۔اوراخبار’جام جہاں نما‘کی صورت میں ہریدتبن گواورمنشی سداسکھ نےاردوصحافت کولکتہ سےآغازکیا۔
اس حوالے کا مقصد کوئی ایسی جذباتی منطق پیش کرنا نہیں ہے کہ بنگال کے دو اہل ہنوذ نے یہ اخبار قومی یک جہتی کے لیے نکالاتھا۔ مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ لوگوں کے میل ملاپ سے پیدا ہونے اردو زبان کو مقبول اور مضبوط بنانے کے لیے آج سے 163برس پہلے بھی ہندو آگے بڑھ کر اسے استعمال کر رہے تھے۔“
(اردو صحافت: مسائل اور امکانات، مرتبہ ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ص266,67)
اس طریقے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اردو صحافت غیر مسلموں کا ثمرہ ہے اور اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ باغیانہ تیور کی بنیاد کسی نے رکھی ہے تو وہ تھے مولوی محمد باقر جنہوں نے مصلحت پسندی، مالی منفعت اور فرنگیوں کی جی حضوری کو بالائے طاق رکھ کر ہندوستانیوں کی حمایت کی اور جام شہادت نوش کی۔ مولوی محمد باقر نے دہلی سے 1837 میں ”دہلی اردو اخبار“ جاری کیا اور انقلاب برپا کردیا، فرنگیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی۔ اسی دلیری اور بے باکانہ صحافت کا نتیجہ تھا کہ اس اخبار کو تبدیلی نام کا ظلم بھی برداشت کرنا پڑا۔ دہلی اردو اخبار نے غدر 1857کو انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کو بیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
انگریزی حکومت نے 1830میں اخبارات شائع کرنے کی اجازت دی تھی لیکن 1857تک اردو اخبارات نے انگریزوں کی مکاریوں کے خلاف آواز بلند کردی جس کے طفیل میں انگریزوں نے اردو خبارات کا قلعہ قمع کرنے کی قسم کھائی، لیکن اردو صحافت کا سلسلہ جاری رہا اور مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم صحافی بھی شانہ بہ شانہ آزادی کی جنگ لڑتے رہے۔
بے شمار اخبارات منظر عام پر آئے جیسا کہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ تقریباً25فیصد اردو اخبارات غیر مسلم برادران کے تھے اور پڑھنے والوں میں بھی ان کی آدھی تعداد تھی۔ واضح رہے کہ 1823سے 1857تک اردو اخبارات کی تعداد 122تھی اور 1857میں 24پر محدود ہوگئی، جس کی واحد وجہ مولوی محمد باقر کی شہادت اور انگریزوں کے مظالم تھے۔ مولوی باقر کی شہادت بلاشبہ اردو صحافت کا ایک سیاہ ترین باب تھا لیکن ملک کے عظیم انسانوں نے ہار نہیں مانی اور 1900آتے آتے اردو اخبارات کی تعداد تقریباً چار سو بتائی جاتی ہے۔ اسی طریقے سے 1947میں اردو اخبارات تقریباً ساڑھے پانچ سو شائع ہو رہے تھے۔ جن میں درجنوں اخبارات غیر مسلم مالکان اور مدیران کی سرپرستی میں شائع ہو رہے تھے، یہاں تمام اخبارات کا ذکر تفصیل کے ساتھ تو ممکن نہیں البتہ چند اخبارات کا مختصراً تعارف پیش کرکے نام گنوانا مناسب سمجھتا ہوں۔
منشی ہر سکھ رائے اردو صحافت کے ایک منفرد صحافی گزرے ہیں جنہوں نے 1850میں ’کوہ نور‘ جاری کیا تھا اور قومی یک جہتی کی بنیاد رکھی یہ واحد اخبار تھا جس میں بطور مدیر ہندو، مسلم اور عیسائی نے ادارت کے فرائض انجام دیے ۔ اس اخبار کو راجاﺅںاورانگریزوں کی سرپرستی حاصل تھی جس کی وجہ سے اپنےعہدکا کثیر الاشاعت اخبار تھا۔ قرآن السعدین کو دہلی کالج کے پرنسپل اسپرنگر نے 1845میں جاری کیا تھا جس کا مقصد مغربی نظریات و خیالات کی تشہیر تھا۔ فوائد الناظرین دلی کالج کے استاذ ماسٹر رام چندر کا ہفت روزہ اخبار تھا جو 1845میں منظر عام پر آیا تھا، ماسٹر رام چندر نے ایک اور علمی و ادبی ماہنامہ ”محب ہند“ کے نام سے 1847میں جاری کیا تھا۔ یہ دونوں اخبار اور رسالہ کافی ضخیم تھا۔ ماسٹر رام چندر کا مقصد جدید علوم اور فلسفے سے عوام کو آشنا کرانا تھا۔ ”اودھ اخبار “ جسے منشی نول کشور نے 1859میں لکھنو¿ سے جاری کیا تھا، نول کشور کی خدمات اردو ادب اور صحافت میں نمایاں ہیں۔ مکند لال نے ”تاریخ بغاوت ہند“ 1859میں آگرہ سے شروع کیا تھا۔” شفیق ہند“ کو 1884 میں ہربخش نے جاری کیا ۔ پنڈت مکند رام نے ”اخبار عام“ 1850میں لاہور سے جاری کیا۔ یہ وہ چند اہم اخبارات ہیں جو 1857سے 1900تک شائع ہوئے۔
1900سے 1947تک تقریباً پانچ سواردو اخبارات تھے، لیکن تقسیم ہند کے المیہ نے کئی اہم اخبارات کو بھی تقسیم کر دیا ۔تقسیم کے اس بڑے المیے کے باوجود 19ویں ، 20ویں اور اکیسویں صدی میں بھی غیر مسلموں کا اہم کردار برقرار ہے۔ اگر ہم 20ویں صدی کے اہم اخبارات کی بات کریںتو ان میں دیا نارائن نگم نے نومبر 1903کو ماہنامہ ’زمانہ‘ کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی تھی جسے منشی شیو برت لال نے فروری 1903میں بریلی سے شروع کیا تھااور بعد میں کانپور دیانارائن نے منتقل کیا۔ دیا نارائن نگم نے کانپور سے ایک ہفت روزہ ”آزاد“ بھی 1912میں جاری کیا تھا۔ تقسیم کے الم ناک منظر نے اردو کے اخبارات کا بھی بٹوارہ کر دیا ، بیشتر اخبار تقسیم میں پاکستان کی میراث بن گئے لیکن ان اخبارات میں ایک اہم اخبار ”پرتاپ“ تھا جسے مہاشے نے یکم اپریل 1919میں لاہور سے جاری کیا تھا اور تقسیم کے بعد1948سے آج تک دہلی سے شائع ہو رہا ہے، یہ الگ بات ہے کہ محض خانہ پوری کی جا رہی ہے۔ یہ اخبار اپنے اداریوں کی وجہ س مقبول رہا ، فی الحال کے نریندر کے بعد ان کے بیٹے انیل نریندر پرتاپ کے مدیر ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اخبارات جو غیر مسلموں کی نگرانی میں شائع ہو رہے تھے ان میں ”ملاپ“ 13اپریل 1923کو لالہ خوشحال چند خورسند نے جاری کیا جو اب تک چل رہا ہے۔”تیج“ سوامی شردھانند نے1923میں دہلی سے جو اب تک جاری ہے، لالہ لاجپت رائے نے ’بندے ماترم‘ 1920لاہور سے، لالہ شام لال کپور نے ’کیسری‘ 1923لاہور سے، دیوان سنگھ مفتون نے ’ریاست‘ 1924دہلی سے،سادھو سنگھ ہمدرد نے ’اجیت ‘ لدھیانہ سے، لالہ نانک پندناز نے ’پربھات‘ 1943لاہور سے، جواہر لال نہرو نے لکھنو¿ سے ’قومی آواز‘ 1945میں ، جس کے مدیر حیات اللہ انصاری تھے۔ اجودھیا پرشاد نے ’خیر خلق خدا‘ اجمیر سے۔ بابو وینا ناتھ نے’ہندوستان‘ 24اگست1904میں لاہور سے۔شانتی نارائن بھٹناگر نے ’سوراجیہ‘ 1907الہٰ آباد سے ، سوامی پرکاش آنند نے ’بھیشم‘ لاہور سے، میلا رام وفا نے لاہور سے ’ویر بھارت‘۔ ملک راج صراف نے ’رنبیر‘ 24جون 1924جموں سے ان اخبارات میں ایک اہم اور بڑا اخبار ’ہند سمارچار‘ ہے جسے لالہ جگت نارائن نے جالدھر سے جاری کیا تھا اور انہیں اور ان کے بیٹے کو اپنی قربانی بھی دینی پڑی تھی، یہ اخبار اب بھی جاری ہے ۔
آزادی کے بعد جہاں اردو اخبارات کے مقاصد میں تبدیلی آئی اور وہ جمہوریت کی پاس داری میں جنگ کرنے لگے وہیں ان اردو اخبارات کو معیار، وقار ، مواقع اور تعصب کا بھی شکار ہونا پڑا۔ اردو کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں رہی جس کی وجہ سے اردو کی ریڈر شپ میں کافی کمی آئی اور اب اردو اخبارات کا کام حکومتوں کی چاپلوسیاں یا مسلمانوں کی حب الوطنی کو ثابت کرنا رہ گیا ہے۔ اردو اخبارات کی اشاعت میں کل بھی غیر مسلموں کا اہم کردار تھا اور آج بھی ہے، یہاں بھی مقاصد میں تبدیلی آئی ہے۔1857سے لیکر 1947تک ہندو برادران اردو میں صرف اس لیے اخبارات نکالا کرتے تھے کہ یہ زبان اخوت و بھائی چارگی کا پیکر اور آزادی کی آواز ہے ، وہاں معالی فوائد پیش نظر نہیں رکھے جاتے تھے مگر آج اردو کے ساتھ سودے بازی کی جا رہی ہے۔ ملک کے اہم کارپوریٹ نے اردو اخبارات کو اردو چینلوں کو گود لے لیا ہے کیوں کہ اردو کل بھی منافع کا سودہ تھی اور آج بھی ہے۔ طویل مدت کے بعد سہارا انڈیا پریوار کے مالک سبرت رائے نے 2اکتوبر 1991سے اردو اخبار ”راشٹریہ سہارا“ کا آغاز کیا اور دیکھتے دیکھتے ہفت روزہ عالمی سہارا، ماہنامہ بزم سہارا اور اردو چینل ’عالمی سمئے‘ کا بھی آغاز 16اکتوبر 2003کو کر دیا۔ اس اخبار نے بلاشبہ اردو کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیے جانے والے نظریات کو بھی کرارا جواب دیا۔ راشٹریہ سہارا کئی اردو والوں کے لیے سہارا ثابت ہوا کیوں کہ اس سے قبل اردو کے اخبارات میں ملازمین کا استحصال کیا جا رہا تھا ہزار دو ہزار کی تنخواہ پر ملازمین رکھے جاتے تھے لیکن سبرت رائے نے بڑی تنخواہوں پر ملازمین رکھے ۔ بطور گروپ ایڈیٹر عزیز برنی نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے راشٹریہ سہارا کوفروغ دیا اور یہ ملک کا واحد کثیرالاشاعت اخبار بن گیا۔ ملک کا دوسرا اہم اخبار’ انقلاب‘ ہے، جسے آزادی سے قبل 1938میں عبدالحمید انصاری نے شروع کیا تھا مگر مئی 2011سے جاگرن گروپ کے ماتحت شمالی ہندایڈیشن شائع ہو رہا ہے اور کافی مقبول ہے۔ غالباً 2010میں ہفت روزہ ”چوتھی دنیا“ شروع ہوا جس کے مالک کمل مرارکا ہیں اور چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتی ہیں۔
اس الیکٹرانک میڈیا کے دور میں غیر مسلم کارپوریٹ طبقے نے اردو چینل بھی شروع کیے ان میں’ ذی سلام ‘یکم فروری 2010میں شروع ہوا ۔’ ای ٹی وی اردو ‘ 15اگست 2001سے اردو خبریں اور پروگرام نشر کرنے لگا۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ اردو صحافت اور غیر مسلموں کا تعلق ایک روح اور دو جسم کا رہا ہے یہ الگ بات ہے کہ آج اردو صحافت اور صحافیوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے کیوں کہ اردو اب مسلمان بنادی گئی ہے اور ہندی ہندوﺅں تک محدود کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔اردو کے ساتھ سب سے بڑا متعصبانہ رویہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ اسے اسکولی سطح پر ختم کرکے روزگار سے رشتہ منقطع کردیا گیا، جس کی وجہ سے آج اردو کو غیر مسلم تو دور خود مسلمان بھی کمتر سمجھنے لگے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اردو کو فراموش کرکے ہندو مسلم اور سکھ سبھی اپنی تاریخ ، تہذیب وثقافت سے محروم ہو جائیں گے کیوں کہ اردو نے اپنا خون جگر سینچ کر آزادی کے خواب کو شرمندہ¿ تعبیر بنایا ہے اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو جلا بخشی ہے ۔

