Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نصابی موادنظم فہمی

نظیراکبرآبادی کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی- امتیاز احمد علیمی

by adbimiras اگست 21, 2020
by adbimiras اگست 21, 2020 0 comment

اردو ادب کے شعری منظرنامے پر نظیر اکبر آبادی کی بے نظیری اپنی جگہ مسلم ہے،یہ اور بات کہ نظیر کی شاعری ان کے ہم عصروں کو راس نہیں آئی انھیں عوامی اور بازاری شاعر سے زیادہ نہیں گردانا۔جبکہ نظیر کے حوالے سے یہ بات سب پر عیاں ہے کہ وہ زود گو اور برجستہ شاعر تھا۔ اسے شاعری میں اعلیٰ اور اسفل، معیاری اور غیر معیاری بول چال کی ادائیگی پر کامل عبور حاصل تھا وہ چاہتے تو پیچیدہ اور مبہم شاعری کرسکتے تھے،مفرس اور معرب زبان کا استعمال کرسکتے تھے،بعض مقامات پر نمونے کے طور پر اس کا اظہار بھی ہوا ہے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اس سے انحراف کیا۔ نظیر کی شاعری میں تصنعات کا دور دور تک گزر نہیں ہے ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی مکمل آئینہ دار ہے اس میں ہر طرح کی دلچسپی کا سامان موجود ہے۔واقعات نگاری، جذبات نگاری، جزئیات نگاری، سراپا نگاری، شخصی مرقعے، مذہبیات، اخلاقیات، عشقیہ، طنزیہ، شہر آشوب، کیا نہیں ہے! ہندوستانی تہذیب وثقافت کے جتنے پہلو آپ تلاش کرنا چاہیں وہ سب نظیر کی شاعری میں موجود ہیں، لہوو لعب،عیش وعشرت،سیر و تفریح، رنج و غم،حزن و ملال یا دل و دماغ کی بولتی تصویریں ہوں یا امیری، غریبی، مفلسی،لاچاری اورمجبوری کی داستانیں ہوں، معاشیات و اقتصادیات کے مسائل ہوں یا ہندوستانی موسمیات کا تذکرہ ہویا کچھ اور، سبھی اپنے تلازمات اور جزئیات کے ساتھ موجود ہیں،اس لیے کہا جاتا ہے نظیر اردو کا وہ واحد شاعر ہے جس نے اپنی شاعری کا مواد عربوں یا ایرانیوں سے مستعار لینے کے بجائے ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے لیا اور اپنے آس پاس کی عوامی زندگی،عوامی طرز بود و باش،ملکی و مقامی ماحول اور اس کی روایات کو شاعری کے قالب میں ڈھال کر ایک ایسے لب و لہجے کی بنیاد ڈالی جس کی نظیر پوری اردو شاعری میں مشکل سے ملے گی،عوامی لہجے میں عوامی زندگی کے مسائل ان کے داخلی و خارجی جذبات و احساسات،ان کے دکھ درد،ان کی مفلسی و فقیری،بے بسی و لاچاری اور سکھ دکھ میں برابر شریک ہو کر ان کا بھر پور اظہار کیا۔ یہی نہیں بلکہ نظیر نے اپنے آپ کو سماج کے اندر جذب کر کے اپنی انفرادیت کو ایک اجتماعی چیز بنا دیا،اس لیے ان کی شاعری میں زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں بچا جو موجود نہ ہو، نظیر نے زندگی کی تمام تصویریں چاہے وہ معیشت کی ہوں یا معاشرت کی،تہذیبی قدریں ہوں یا سماجی قدریں، مذہبی معاملات ہوں یا ملکی صورت حال، داخلی و خارجی احساسات ہوں یا تاثرات،امیر وغریب، شاہ وگدا، زاہد و رند،ہندو ومسلمان یا کوئی اور، نظیر نے سب کی تفریح کا سامان مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اس عہد کی تہذیبی اور سماجی صورت حال کا نقشہ جس طنزیہ پیرائے میں کھینچا ہے وہ اس عہد کے دوسرے شعرا میں نہیں ملتا۔ زبان سے نکلے ہوئے ہر فقرے میں ذاتی تجربہ اور گہرا مشاہدہ ہوتا ہے۔اس سلسلے میں ڈاکٹر فیلن کی اس رائے سے اتفاق کیا جا سکتا ہے جو اس نے نظیر اور ان کی شاعر ی کے حوالے سے دی ہے وہ ہے :

’’نہایت وسیع معنوں میں وہ اعلیٰ درجہ کا آزاد،اعلیٰ درجہ کا موجد،اعلیٰ درجہ کا حکیم،اور اعلیٰ درجہ کا حکیم دوست تھا۔اس کی ذکاوت کی رنگا رنگی ان مضامین رنگا رنگ سے ظاہر ہو تی ہے جن پر اس نے طبع آزمائی کی،جس قسم کے شاعرانہ خیالات اس نے ان معمولی چیزوں سے پیدا کیے ہیں جن پر اور ہندوستانی شاعروں نے لکھنا یا تو کسر شان سمجھا یا ان کو لکھنے کی قابلیت ہی نہ تھی۔انھیں کو ہندوستانی محققین نا واقفیت سے اس بات کا نہایت یقینی ثبوت خیال کرتے ہیں کہ وہ کوئی شاعر نہ تھا۔یہ حضرت فرماتے ہیں ’’اس نے اس قسم کی مبتذل چیزوں پر لکھا ہے۔ آٹا، دال، مکھی مچھر ‘‘اس کی طبیعت کی رنگا رنگی اور اس کی تخییل کی قوت علاوہ بریں اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے ایک ہی چیز کی مختلف نظموں میں مختلف پہلو سے مختلف تصویریں دکھائی ہیں۔ اس کا دیوان خاصا تصویروں کا ایوان ہے،جس میں ہندوستان کے رہنے والوں کے کھیل تماشے، عیش و تفریح،رنج و غم،دل ودماغ سب کی بولتی چالتی تصویریں نظر آسکتی ہیں۔‘‘ (ص46، کلیات نظیر،نظیر اکبر آبادی، مقدمہ از عبد المومن الفاروقی،کتابی دنیا،نئی دہلی ایڈیشن 2003 )

جس رنگ کی شاعری نظیر نے پیش کی ہے آج کے شعرا کے لیے ہی نہیں، بلکہ ہر دور کے شعرا کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔آج کے شعرا کے یہاں نظیر کی سی شاعری کا امکان بہت کم نظر آتا ہے کیونکہ نظیر نے جس موضوع پر بھی نظم کہی ہے ان موضوعات پر اتنی تفصیل اور شرح وبسط کے سا تھ نظمیں کسی اور شاعر کے یہاں نظر نہیں آتیں، مثال میں نظیر کی وہ نظمیں پیش کی جا سکتی ہیں جو اس نے موسم برسات کے حوالے سے کہی ہیں ان نظموں میں 23 بندوں پر مشتمل ’برسات کا تماشا‘ 74بندوں پر مشتمل ’برسات کی بہاریں‘16 بندوں پر مشتمل ’برسات اور پھسلن‘ 11 بندوں پر مشتمل ’برسات کی امس‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ساری نظمیں مخمس میں ہیں۔ ان کے مطالعے سے برسات کے حوالے سے شاید ہی کوئی پہلو بچا ہو جو بیان سے رہ گیا ہو۔نظم ’برسات کی بہاریں‘ میں نظیر نے اپنی قوت متخیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے برسات میں ہونے والے ہر عمل اور ہر منظر کی عکاسی اس طرح کی ہے کہ اس کی پوری تصویرآنکھوں کے آگے پھر جاتی ہے۔ اس میں کھیتوں میں سبزہ اور ہریالی، پھول پتے، کانٹے، بدلیاں، پھوار، تیتر، بٹیر، فاختہ، قمریاں، پپیہے، بگلے، ہُدہُد، مینڈھک کے اچھلنے، موروں کے ناچنے اور جھولا جھولنے سے لے کر گیت گانے تک ہر چیز کو انتہائی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ وہ ہندوستان کے دریا،پہاڑ اور مناظر قدرت سے صرف خیالی طور پر لطف اندوز نہیں ہوتے اور نہ ہی خیالی بہاروں کا سماں باندھتے ہیں بلکہ وہ ہندوستان کی برسات کی بہاریں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس کو نظم کرتے ہیں جس میں تشبیہات واستعارات اور اس کی مثالیں خالص ہندوستانی ہیں اس نظم سے صرف دو بند ملاحظہ کیجیے:

ہیں اس ہوا میں کیا کیابرسات کی بہاریں

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں

بوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریں

ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں

جھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں

پڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیں

گلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

نظیر کی اس طرح کی نظمیں خالص مشرقی مزاج کی نظمیں ہیں جوشاعر کے خالص ہندوستانی ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں ایسی نظموں میں مناظر فطرت کی دلفریبیاں، سوسائٹی اور معاشرے کے مشاغل،موسم کے تغیر سے روز مرہ کی زندگی میں رو نما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں کا سچا مرقع نظر آتا ہے۔نظیر نے اپنی شاعری میں جن حقائق کا ذکر کیا ہے وہ حقائق ہمارے تجربات کا حصہ ہیں وہ ماورائی یا تخیلاتی نہیں ہیں بلکہ ان سب کا تعلق زمینی حقائق سے ہے جہاں ہم اپنے شب و روز گزارتے ہیں۔ وہ سب ہمارے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں یہی نظیر کی شاعری کی انفرادیت بھی ہے اور اس کی شناخت بھی، کہ وہ شاعری کو صرف تخیلاتی،تصوراتی، یا ماورائی نہیں گردانتے بلکہ یہ تصور دیا کہ شاعری کا تعلق زمینی حقائق سے ہے اور زمینی حقائق کے بیان میں نظیر کو اولیت کا درجہ دیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ایسی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جو ہماری روز مرہ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں مثلاً جب وہ نظم ’بنجارا‘ میں یہ کہتے ہیں:

کیا شکر مصری،قند گری،کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے

کیا راکھ منقا،سونٹھ،مرچ،کیا کیسر لونگ سپاری ہے

تو ہمیں کوئی حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ ہم ان اشیا کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں اور ہم ان سے مانوس بھی ہیں۔یہی نہیں بلکہ اس نظم کو نظیر نے تمثیل بناکر دنیا کی بے ثباتی اور نا پائداری کو انتہائی سلاست و سادگی اور روانی سے پیش کیا اور در پردہ اس بات کا اظہار کیاہے کہ دنیا کی رنگینی،جاہ و حشمت،مال و متاع،دولت و ثروت، عزت و شوکت، ٹھاٹ باٹ اور اپنے پرائے سب کچھ فانی ہیں۔ یہ بظاہر ایک عام سی نظم ہے لیکن نظیر نے اس میں اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ پیش کیا ہے جس میں تصوف اور معرفت کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے اس میں دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ بہت لطیف پیرائے میں کھینچا ہے یہ پوری نظم ایک واعظانہ اور ناصحانہ انداز کی ہے جس میں تمثیل کے لیے بنجارے اور اس کی زندگی کے تلازمے کا استعمال کیا گیا ہے، معنوی اعتبار سے یہ ایک بلند پایہ نظم ہے یہ بند ملاحظہ ہو:

ٹک حرص و ہو ا کو چھوڑ میاں،مت دیس بدیس پھرے مارا

قزّاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ

کیا بدھیا، بھینسا، بیل، شترکیا گوئی پلّا سر بھارا

کیا گیہوں، چانول، موٹھ مٹر،کیا آگ دھواں کیا انگارا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لادچلے گا بنجارا

نظیر کی شاعری اس عہد کے لیے ایک نئی قوت اور نیا امکان لے کر ابھری اور وہ یہ تھا کہ نظیر نے ہمارے کلاسکی شعرا کے بندھے ٹکے موضوعات اور اسالیب سے ہٹ کر ایک نئی روش اختیار کی جس کی نظیر کے باغی ذہن نے ان روایات سے انحراف کیا اور ایسے ایسے موضوعات پر شاعری کی جن پر ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان موضوعات پر اتنی اچھی اور موزوں شاعری کی جا سکتی ہے۔ تل کے لڈو،سنگترا، نارنگی، خربوزے، پنکھا، پنکھیا، کورا برتن، ککڑی، تربوز، بٹوا، حنا، مہندی، مکھی اور مچھرجیسے موضوعات پر بھی اچھی اور موزوں شاعری نظیر نے کر کے دکھائی ہے اور پوری سچائی اور حقیقت پسندی کے ساتھ اس کا اظہار کرکے تمام اصناف سخن میں اپنی انفرادیت اور ہمہ گیریت کا لوہا منوایا، اور فارسی شاعری کے تصورات، مفروضات، اور روایات و اسالیب کی جگہ خالص ہندوستانی تصورات اور روایات کو ایک نئے اسلوب میں ڈھالااور اپنی شاعری کا مواد اپنے ملک اور معاشرے سے لیا،دور ازکار تشبیہات و استعارات اور رموز و علائم کی جگہ معلوم اور مانوس صنائع بدائع کو جگہ دی اور ایسی شاعری کی جو ہمارے ملک کی پیدا وار معلوم ہوتی ہے۔ جس چیز یا جس واقعے کا ذکر کرتے ہیں وہ اس کی ہو بہو تصویر کھینچ دیتے ہیں مثلاً مسدس میں’آگرے کی تیراکی‘ کا یہ بندملاحظہ ہو:

جب پیرنے کی رت میں دلدار پیرتے ہیں

عاشق بھی ساتھ ان کے غمخوار پیرتے ہیں

بھولے سیانے نادان ہشیار پیرتے ہیں

پیر و جوان لڑکے عیّار پیرتے ہیں

ادنیٰ غریب و مفلس زردار پیرتے ہیں

اس آگرے میں کیا کیا اے یار پیرتے ہیں

اس نظم کے ذریعے نظیر نے شہرآگرہ کے مشہور ومعروف مقامات کا ذکر کرنے کے ساتھ دریا کی مختلف کیفیتوں،پانی کی مختلف ہیئتوں کو بھی بیان کیا ہے۔یہ مقامی رنگ و آہنگ سے آمیز ایک مصورانہ نظم ہے نظیر نے اس نظم میں آگرے میں دریا کے کنارے جو خاص خاص اور مشہور مقامات تھے جن کا تعلق تیراکوں سے تھا ان کا ذکر کرکے ایک تاریخی اور تہذیبی دستاویز فراہم کی ہے۔ یہا ں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے نظیر کی جتنی بھی نظمیں ہیں خواہ ان کا تعلق مناظر قدرت سے ہو یا اخلاقیات اور فلسفے سے، ظریفانہ نظمیں ہوں یا مذہبی معتقدات سے متعلق،یا ہندو مسلم شخصیات اور تقریبات سے متعلق ہوں جب تک اس کی مکمل قرأت نہیں کی جائے گی تب تک اس سے بہت زیادہ لطف اندوز نہیں ہوا جا سکتا اور نہ ہی اس کے فنی، فکری اور لسانی پہلوؤں کو کسی ایک مضمون میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ بہر کیف ان باتوں سے قطع نظر نظیر نے اپنی شاعری میں عوامی رنگ اور سماج کے دبے کچلے اور نچلے طبقے کے لوگوں کی زندگی کے مسائل کو تلاش کر کے پیش کیا ہے جن میں ہندوستانی عناصر کی جھلکیاں حد درجہ نمایاں ہیں۔اس حوالے سے سید محمدمحمود رضوی مخمور اکبرآبادی کی یہ رائے بھی قابل توجہ ہے جو انھوں نے ’روح نظیر ‘ کے مقدمے میں نظیر کی شخصیت اور اس کی شاعری کے سلسلے میں دی ہے:

’’وہ (نظیر) ہندوؤں کی معاشرت کے بھی اتنے ہی بڑے ماہر ہیں جتنے مسلمانوں کے،بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ ہندو شعرا میں ایسے بہت کم نکلیں گے جو ہندو معاشرت دانی میں نظیر کا مقابلہ کر سکیں۔ان کی نگاہ کی وسعت انھیں ہر طبقے کی حالت سے بخوبی واقف رکھتی ہے کچھ ہندو مسلمانوں ہی پر منحصر نہیں ہندوستان کی ہر قوم کی معاشرت کا ان کو یکساں علم و تجربہ ہے۔امرا کے طریقِ زندگی، ان کے روز مرہ کے مشاغل، ان کی دلچسپیوں اور تفریحوں کے اسباب، متوسط طبقے کی طرز معاشرت، غربا کے عادات واطوار،عام شہریوں کے لہو ولعب،شہر کے مختلف پیشہ وروں کے چال چلن، ہنود کے تیوہار، مسلم اور ہندو خواتین کے رسم و رواج،خانگی زندگی کی کیفیت، صوفی اور فقرا کے خصائل، آزادوں اور بد معاشوں، تماش بینوں کی بد وضعی، پھکڑوں کی عریانی، میلے ٹھیلوں کی رنگ رلیاں، ان کے علاوہ اور بہت سی باتیں، غرض معاشرت کے جتنے کوائف ہیں سب کا کچھ نہ کچھ ذکر ان کے یہاں موجود ہے۔‘‘ (روح نظیر، از مخمور اکبر آبادی، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، دوسرا ایڈیشن، 2003، ص17)

نظیر کی شاعری کا زمانہ وہ ہے جب ہندوستان کی ہندو مسلم دونوں قومیں با ہم متحد تھیں۔ ہندو مسلمانوں کے اور مسلمان ہندوؤں کے مختلف تہواروں، میلوں، ٹھیلوں، تماشوں، اور ایک دوسرے کی سماجی رسموں میں زندہ دلی کے ساتھ شرکت کرتے تھے،ایسے ہی ماحول میں نظیر کی شاعری پروان چڑھی اور یہی ماحول، یہی کیفیت، اور یہی رنگ و آہنگ نظیر کی شاعری پر چھایا رہا،اسی لیے نظیر کی شاعری کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی شاعری یک رخی ہونے کے بجائے کثیر الجہات ہے اور اس کی کثیر الجہتی یہ ہے کہ اس نے اگر ایک طرف مسلمانوں کے تہواروں میں عید اور شب برات پر نظمیں کہی ہیں تو دوسری طرف ہندوؤں کے تہواروں میں ہولی، دیوالی، بسنت اور راکھی پر بھی اظہار خیال کیا ہے، اس نے جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ، مدح پنجتن، اور حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃاللہ علیہ سے متعلق اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے تو وہیں اہل ہنود کی مقدس ہستیوں میں شری کرشن، گرونانک، کنھیا جی کی راس، جنم کنھیا جی، ہَر کی تعریف میں، درگا جی کے درشن، بھیرو جی کی تعریف، مہا دیو کا بیاہ، اور بلدیو جی پر بھی خوبصورت نظمیں کہی ہیں۔ اسی لیے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے اس کے کلام سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور اسے اپنا شاعر تسلیم کرلیا۔ اس طرح نظیر کے کلام میں قدیم ہندو طرز معاشرت، ہندو دیومالا،ہندو رسم و رواج،ہندو فلسفہ،اور ہندو نجوم وغیرہ کا پایاجانا اس بات پر دال ہے کہ نظیر بلا شبہ ان سے واقف تھے کیونکہ با ر با ر ان کے کلام میں اس کے حوالے ملتے ہیں مثلاً اس نے کرشن کنھیا کی جن متعدد صفات کو گنوایا ہے وہ ذیل کے بند سے واضح ہوتا ہے:

پھر آیا واں اک وقت ایسا جو آئے گرب میں من موہن

گوپال منوہر مرلی دھر سیکشن کشورن کنول نین

گھنشیام مراری بنواری گردھاری سندر سیام برن

پربھوناتھ بہاری کان الا سُکھدائی جگ کے دکھ بھنجن

جب ساعت پر گھٹ ہونے کی واں آئی کٹ دھریّا کی

اب آگے بات جنم کی ہے جے بولو کشن کنھیا کی

اس طرح کشن کنھیا کے متعدداوصاف گنانے کے بعدجب وہ مسلم پیشوا اور رہنما حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے روضے پر حاضری دیتا ہے تو ان کی مدح سرائی میں اس طرح رطب اللسان ہوتا ہے کہ ایک ایک شعر ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف میں عقیدت و ستائش کا ایک بحر ذخار نظر آتا ہے:

ہیں دوجہاں کے سلطاں حضرت سلیم چشتی

عالم کے دین و ایماں حضرت سلیم چشتی

سر دفتر مسلماں حضرت سلیم چشتی

مقبول خاص یزداں حضرت سلیم چشتی

سردار ملک و عرفاں حضرت سلیم چشتی

نظیر نے تہواروں کا ذکر بھی انتہائی موثر انداز میں کیا ہے ہندو تہواروں میں ہولی،دیوالی،بسنت اورراکھی کا ذکر اور مسلم تہواروں میں عید،بقرعید،اور شب برأت کا ذکر تفصیل سے کیا ہے جن میں ہندو تہوار خالص ہندوستانی ہیں۔ ہولی پر اتنی نظمیں شایدہی کسی ہندو شاعر نے کہی ہوں۔یہ ایسا تہوار ہے جو پورے ہندوستان میں علاقائی رسم و رواج کے مطابق منایا جاتا ہے۔ ان تمام نظموں میں ’ہولی کی بہاریں‘ زیادہ بہتر ہے اس لیے کہ مترنم بحروں میں موسم اور ہولی کے جملہ متعلقات کی ایسی مصوری کی گئی ہے کہ اس کو پڑھ کر نظیر کی شخصیت اور اس کی فنی مہارت کا قائل ہونا پڑتا ہے:

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

پریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

خم شیشے جام جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گلرو رنگ بھرے

کچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرے

دل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرے

کچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منھ چنگ بھرے

کچھ گھنگرو تال چھنکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

اس کے علاوہ اہل اسلام کی نظر میں ’شب برأت‘ کی اہمیت کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے اس میں کون سے اعمال کیے جاتے ہیں عقیدے اور عقیدت دونوں سے ہم سبھی واقف ہیں، لیکن اس کی اہمیت اور افادیت نظیر کی زبانی سنیے:

کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برأت

چلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب برأت

زندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب برأت

مردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برأت

لگتی ہے سب کے دل کو غرض پیاری شب برأت

 

عالم کے بیچ جس گھڑی آتی ہے شب برأت

کیا کیا ظہور نور دکھاتی ہے شب برأت

روشن ہیں دل جنھوں کے عبادت کے نور سے

ان کو تمام رات جگاتی ہے شب برأت

خالق کی بندگی کرو اور نیکیوں کے دم

یہ بات ہر کسی کو سناتی ہے شب برأت

مذکورہ بالا نظموں کے مطالعے کے بعد یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ نظیر کی شاعری میں حقیقتاً ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اپنے تمام آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ نظیر نے ہندوستانی تہذیب کی باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ کیا اور اسے اپنی شاعری میں اس طر ح بیان کیا کہ قاری کے سامنے ہندوستانی تہذیب و معاشرت اور اس کے تمام متعلقات از خود روشن ہو جاتے ہیں۔ تہذیبی سطح پر دیکھا جائے تو اصل ہندوستان نظیر کی شاعری میں ہی بستا ہے۔ اس نے اپنی شاعری کے ذریعے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا ایک ایسا آئینہ پیش کر دیا ہے جو رہتی دنیا تک ان کی شاعری کے پڑھنے والوں کو اپنے دور کی حقیقت سے روشناس کراتی رہے گی۔میں اپنی گفتگو کا اختتام مجنوں گورکھپوری کے ان الفاظ پر کرتا ہوں :

’’نظیر خالص ہندوستانی شاعر تھے،ہندوستان کی زندگی،ہندوستان کے رسوم و روایات ان کی شاعری کے لازمی عناصر ہیں۔ وہ اپنے گرد وپیش کے عام واقعات کے ساتھ سچی موانست رکھتے ہیں اور انھیں سے اپنی شاعری کے لیے مواد حاصل کرتے ہیں۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جن کا کلام پڑھ کر ہندوستان کے حالات کی عام معاشرت اور یہاں کے رسم و رواج کے متعلق معلومات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ (نظیر شناسی،مرتبین مرزا اکبر علی بیگ، محمد علی اثر،ناشر،ادارہ شعر و حکمت،حیدر آباد،1987، ص 111)

 

Imtiyaz Ahmad Aleemi

Jamia Millia Islamia, New Delhi – 110025

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں۔
تہذیبنظیرہندوستانی تہذیب
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غلام باغ(روایت سے انحراف کی انوکھی جہت)-سفینہ بیگم
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں